ٹرین سے درخواست ہے:
ٹھہرئیے ہوش میں آلوں تو چلی جائیے گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنی تقدیر بنالوں تو چلی جائیے گا
 
آخری تدوین:

یاسر شاہ

محفلین
ثابت تو یہ ہوتا ہے پہلے آپ ،پہلے آپ سے :
میں اگر بیٹھ نہ پایا تو کوئی بات نہیں
پہلے میں ان کو بٹھا لوں تو چلی جائیے گا
 

الف عین

لائبریرین
حیرت ہے کہ ثمرین کو بھی شعر و شاعری سے لگاؤ ہے، اس بیچاری کو تو کچن سے ہی فرصت نہیں ملتی
خدا بخشے ثمرین کے والد کو، میرے والد کے شاگرد تھے۔ ادب کے جراثیم کچھ اڑ کر ان کو لگ گئے ہوں گے اور ثمرین تک بھی کچھ پہنچ گئے ہوں گے
 
خدا بخشے ثمرین کے والد کو، میرے والد کے شاگرد تھے۔ ادب کے جراثیم کچھ اڑ کر ان کو لگ گئے ہوں گے اور ثمرین تک بھی کچھ پہنچ گئے ہوں گے
ڈٹ جائیں شعروسخن کی دنیا میں اگر والدین سے علم و ہنر کی تڑپ اور طلب ملی ہو ،علمِ ادب سے محبت و مودت کا جذبہ ودیعت ہوا ہو، الفاظ کی حرمت کا احساس منتقل ہوا ہو تو ڈٹ جائیں ثمرین بی بی شعر وسخن کی دنیا میں اور اچھی اچھی اچھی اچھی باتوں سے بھردیں اُردُو کے خوبصورت ، دلکش اور دلآرا ادب کو اور محفل کی اِس لڑی کے اِن اُجلے ،صاف ستھرے اور نکھرے نکھرے صفحات کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
آخری تدوین:
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی۔۔۔!
لہٰذا ہمیں چاہیے اپنے بچوں کو کمپیوٹر کی اِس جدیدایجاد سے یوں رُوشناس کرائیں کہ کل جب ہم اُنھیں اس پر کام کرتا دیکھیں تو دل باغ با غ ہوجائے ۔وہ ہماری خوبصورت روایات کے حافظ بھی ہوں محافظ بھی، اور مجھے یقین ہے ایسا ہوگا،ان شا ء اللہ العزیزالحکیم الرحیم ، ایسا ہی ہوگا۔
 
آخری تدوین:
رہیں نہ رہیں ہم مہکا کریں گے ، بن کے کلی ، بن کے صبا ،باغِ وفا میں:
اور اُردُو محفل ہماری وفاؤں اور نیک تمناؤں کا سدابہار باغ ہی تو ہے ۔ علم اور فن وہنر سے ہماری محبت ، وفاؤں اور نیک تمناؤں کا خوبصورت ، دلکش اور سدا بہار باغ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کل جب ہم نہیں ہوں گے تو بھی مہکاکریں گے بن کے کلی ، بن کے صبا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خوش رنگ اداسے ، باغِ وفا میں۔
 
آخری تدوین:
زہے نصیب عطا کی جو درد کی سوغات۔۔۔۔۔
کیفی اعظمی یاد آگئے ۔جدید شاعری کی عظیم شاہراہ کا وہ بھی ایک وقیع سنگِ میل ہیں جس پر عقیدت سے نظر کیے بغیرشاہراہ کا عبور کرنا دشوار ہے ورنہ کہنا پڑے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ غم ’عظیم‘ ہے جس غم کے ذمہ دار ہوتم!
 
آخری تدوین:

عظیم

محفلین
خدا بخشے ثمرین کے والد کو، میرے والد کے شاگرد تھے۔ ادب کے جراثیم کچھ اڑ کر ان کو لگ گئے ہوں گے اور ثمرین تک بھی کچھ پہنچ گئے ہوں گے
سب بہن بھائی تو شعر و سخن کے شوقین نہیں، ضرور ثمرین اپنے والد صاحب کے زیادہ قریب رہی ہو گی۔ اسی لیے شاید اس کا رجحان اس طرف ہے
 
صابن سے بار بار ہاتھ دھونا اب بھی مفید ہے:
آشوبِ چشم کی وبا پھیلی ہے ۔ خدا سب کو محفوظ رکھے ۔احتیاط سے کام لیا جائے تو یہ وبا بے اثر اور بے ضرر ہوسکتی ہے۔ کورونا کے زمانے میں باربار ہاتھ دھونے کی تلقین کی جاتی تھی تاکہ آنکھ ،کان ، ناک ،ہونٹ وغیرہ پر سلسلاہٹ ہو تو بہلانے میں انفیکشن کا خطرہ نہ رہے ۔ اب بھی یہی کیجیے ۔ صابن سے بار بار ہاتھ دھوئیں اورآنکھوں یا آس پاس سل سلا ہٹ ہو تو جہاں تک ممکن ہونوٹس نہ لیں اور لیں توہاتھ جراثیم سے پاک رکھیں تاکہ انفیکشن کا اندیشہ نہ رہے۔
 
آخری تدوین:
ضرور یہی کرنا چاہیے:
اور ہاں آنکھوں میں کھٹک محسوس ہوتو اِسے بھی اول اول اِگنور کردیں اور جہاں تک ممکن ہو یہی کریں۔اِس کھٹک پر بے کھٹکے ردِ عمل دینے سے یہی کھٹک بے کھٹکے وادیٔ آشوب ِ چشم میں لے جاتی ہے۔جب تک یہ بلا فضا میں ہےکراچی والے عرقِ گلاب کے قطروں سے آنکھیں پُر نم رکھیں۔
 
آخری تدوین:

سیما علی

لائبریرین
ضرور یہی کرنا چاہیے:
اور ہاں آنکھوں میں کھٹک محسوس ہوتو اِسے بھی اول اول اِگنور کردیں اور جہاں تک ممکن ہو یہی کریں۔اِس کھٹک پر بے کھٹکے ردِ عمل دینے سے یہی کھٹک بے کھٹکے وادیٔ آشوب ِ چشم میں لے جاتی ہے۔جب تک یہ بلا فضا میں ہےکراچی والے عرقِ گلاب کے قطروں سے آنکھیں پُر نم رکھیں۔
غریب کی آنکھ تو بغیر عرق گلاب بھی پرنم ہے ۔۔۔۔اور ہم کو امجد صاحب یاد آگئے ۔۔۔۔۔
کسی کی آنکھ جو پر نم نہیں ہے
نہ سمجھو یہ کہ اس کو غم نہیں ہے
سوادِ درد میں تنہا کھڑا ہوں
پلٹ جاؤں مگر موسم نہیں ہے
سمجھ میں کچھ نہیں آتا کسی کی
اگرچہ گفتگو مبہم نہیں ہے
سلگتا کیوں نہیں تاریک جنگل
طلب کی لو اگر مدھم نہیں ہے
یہ بستی ہے ستم پروردگاں کی
یہاں کوئی کسی سے کم نہیں ہے
کنارا دوسرا دریا کا جیسے
وہ ساتھی ہے مگر محرم نہیں ہے
دلوں کی روشنی بجھنے نہ دینا
وجودِ تیرگی محکم نہیں ہے
میں تم کو چاہ کر پچھتا رہا ہوں
کوئی اس زخم کا مرہم نہیں ہے

جو کوئی سن سکے امجد تو دنیا
بجز اک باز گشتِ غم نہیں ہے​
 
Top