ایک چھوٹے سے دل نے غم ہزار پالے ہیں

احمد وصال

محفلین
ایک چھوٹے سے دل نے غم ہزار پالے ہیں
درد، یاد اور ہجرت مستقل حوالے ہیں

جو بنے زمیں پر ہیں عکس ہیں کیا اندر کے؟
لوگ ہیں حسیں لیکن سائے کالے کالے ہیں

غیر لوگوں سے میرا نہ گلہ نہ شکوہ ہے
کانٹے میرے رستے میں تُم نے یار ڈالے ہیں

خُود ہی اپنا دشمن ہوں ، قابلِ ملامت ہوں
سانپ آستینوں میں کب کِسی نے پالے ہیں

کس کا میں یقیں کرلوں، جھوٹے مان لو کس کو
سینکڑوں بہانے اور سب کے سب نرالے ہیں

ماں فَسُردہ بیٹھی ہے ، موت کا سا عَالَم ہے
گھونسلے میں بچّوں نے جب سے پَر نکالے ہیں

مان بیٹھے ہیں سب سچ تیرے سارے وعدوں کو
یار جانتا ہے نا! سادہ ، گاؤں والے ہیں

انتظار کی لذّت اب یہاں کسے معلوم
در کھلے رکھے لیکن دستکوں پہ تالے ہیں

اس کی ہم رکابی کے یہ نشان ہیں احمد
چاک چاک دامن اور پاؤں زخمی، چھالے ہیں
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
بہت خوب! احمد وصال صاحب! اچھی تخلیقی کاوش ہے ۔ ایک نظر بس ان اشعار کو دیکھ لیجئے ۔ کچھ درستی چاہتے ہیں ۔

غیر لوگوں سے میرا نہ گلہ نہ شکوہ ہے
کانٹے میرے رستے میں تُم نے یار ڈالے ہیں
نہ کو دو حرفی استعمال نہ کریں ۔
کس کا میں یقیں کرلوں، جھوٹے مان لو کس کو
سینکڑوں بہانے اور سب کے سب نرالے ہیں
جھوٹا مان لوں کس کو ۔۔ درست ہوگا
مان بیٹھے ہیں سب سچ تیرے سارے وعدوں کو
یار جانتا ہے نا! سادہ ، گاؤں والے ہیں
پہلا مصرع لفظ کے درمیاں میں ٹوٹ رہا ہے ۔ روانی نہیں ہے ۔
س کی ہم رکابی کے یہ نشان ہیں احمد
چاک چاک دامن اور پاؤں زخمی، چھالے ہیں
اگر آپ ہم رکاب تھے تو پھر پاؤں کے زخم اور چھالے چہ معنی!؟ بات نہیں بن رہی ۔
 
Top