ایک علامتی افسانہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ از ش زاد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔let you see

ش زاد

محفلین
LET YOU SEE......



نہیں دیکھنی مُجھے کوئی تصویر۔۔! سُن لیا آپ نے
لیکن یہ بات تو دیکھنے سے شروع ہوئی تھی جب اُس نے کہا تھا کہ زندگی جی کر دیکھو،
یہ ان دیکھا احساس ہمیشہ میرے ساتھ رہتا ہے کہ وہ مُجھے دیکھ رہا ہے۔
وہ میرے اندر بھی مُجھے دیکھ رہا ہے اور باہر بھی ۔ اس نے پہلی بار مُجھے کب دیکھا تھا؟
ہاں یاد آیا۔۔۔۔ جب میں "پونی ٹیلز"باندھے گُلابی فراک پہنے سائکلنگ کیا کرتی تھی۔ تو وہ مُجھے دیکھا کرتا تھا!
میں اس وقت بہت چھوٹی تھی شائید چھ برس کی ۔ اس کی خاموش نگاہیں مُجھ سے کُچھ کہنا چاہتی تھیں۔
ایک دِن وہ اچانک غائب ہوگیا، اور اپنی آنکھیں میرے تعاقب میں چھوڑ گیا۔ وہ آنکھیں دِن بھر مرا پیچھا کرتیں!
سکول میں سائکلِنگ کرتے ہوئے، مرے کمرے میں ہر جگہ!
میں سوچتی کہ وہ کون ہے؟ اور اسکی آنکھیں کیوں میرا پیچھا کرتی ہیں! وہ میری ہر ہر حرکت اپنے حافظے میں نقش کررہاتھا۔
دِن گُزرتے رہے! میں وقت کی سیڑھیاں چڑھتی رہی ،آنکھیں تعاقُب کرتی رہیں۔
جب میں نے لڑکپن سے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھاتو میرے دیکھتے ہی دیکھتے وہ آنکھیں لفظ بُننے لگیں!
Uc۔۔۔یہ وہ پہلا لفظ تھا جو میںنے اُن آنکھوں میں پڑھا تھا۔میں نے ڈرتے ڈرتے پُوچھا تھا یہ ۔۔۔۔ uc کیا ہے؟
اور وہ آنکھیں مُسکرانے لگیں ، جلد ہی مُجھے اپنی نادانی کا احساس ہو گیا ۔
کہ آنکھیں بولتی نہیںہیںا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر ہمارے درمیان لفظ لفظ باتیں ہونے لگیں۔روزانہ رات ہم گھنٹوں باتیں کرتے۔
ایک دِن وہ آنکھیں میرے اندر اُتر گئیں۔ شائد اُنھوں نے میرے اندیکھے احساس کو محسوس کر لیا!
پھر وہ آنکھیں آواز بن کر بولنے لگیں، اُس آواز نے لفظوں کو معنی بخشے، ہونے کا احساس اُجاگر کِیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جذبوں میں جان ڈالی ۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
مرے بچپن سے مری جوانی تک اس نے مجھے دیکھا ہے ، وہ مجھے اندر تک جانتا ہے!
وہ کہتا ہے ، مُجھے اس سے مُحبت ہے! کیا مجھے اس سے مُحبت ہے؟
وہ مرے لئے ان دیکھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن خدا بھی تو اندیکھا ہے!
وہ خُدا تو نہیں ہے ۔۔۔۔ تو وہ کون ہے! کیا وہ خُدا جیسا ہے؟
خُدا تو سراپا محبت ہے۔۔۔۔۔۔! اور وہ ؟
وہ کہتا ہے کہ وہ مجھے اپنی ایک جھلک دیکھائے گا۔ کیا اسکی ایک جھلک میری اندیکھی محبت کے طور سینا کو بھی جلا دیگی؟
لیکن میں تو اسے نہیں دیکھنا چاہتی۔ وہ مُجھے اپنا آپ کیوں دیکھانا چاہتا ہے؟
لیکن اس کی ایک جھلک دیکھ لینے میں حرج ہی کیا ہے؟
وہ خُدا تو نہیں ہے تو پھر ایک جھلک ہی کیوں؟
وہ مُجھے اپنے ساتھ کیوں لے جانا چاہتا ہے؟
میں تو اسکے ساتھ نہیں جانا چاہتی!۔
تو پھرمیں نے اسے کیوں کہا تھا کہ مُجھے اپنے ساتھ لے جائیں؟
میں نے اسے کہا تھا ، کیا آپ میرے تکمیل کر پائیں گے؟
پر وہ تو مُجھے مِٹا رہا ہے ۔۔۔ ختم کررہا ہے ۔
وہ کہتا ہے کہ ہمارے مِٹ جا نے میں ہی ہماری تکمیل ہے۔
کیا ہماری تکمیل ہو جائیگی؟
وہ کہتا ہے کہ وہ بالکل میرے جیسا ہے ، لیکن میں تو ادھوری ہوں۔
نامکمل!
لیکن میں نے تو اسے اپنے اندر بھرپور اور مکمل تراشا ہے۔
کیا وہ بھی تو خود کو مجھ میں تلاش کررہا ہے؟
کیا بھی تکمیل چاہتا ہے!؟
کِتنا مُشکل ہو تا ہے کِسی کو مکمل کرنا،
انسان خود کتنا ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے !!!!
اب مُجھے کون سمیٹے گا؟
اُسے کون مُکمل کرے گا۔ ؟؟؟
میں نے اس دیوتا سمان کو اپنے تصور کے سنگھاسن پر بیٹھا کر اسکی پوجا کی ہے!
کیا وقت اسے کبھی مرے رو برو لائے گا؟
کیا میں اسکی ایک جھلک جھیل پائوں گی؟
اگر کبھی ایسا ہوا تو وہ دیوتا سمان، سچ مُچ کا دیوتا ہی رہیگا؟
نہیں دیکھنی مُجھے کوئی تصویر ۔۔۔۔ سُن لِیا آپ نے


ش زاد​
 

مغزل

محفلین
نثر اچھی ہے جناب ۔ علامتی پن کہیں نظر نہیں آیا ہاں بیانیہ انداز ہے، افسانے کے بنیادی لواز م موجود نہیں کہ جس کی بنا پر اسے افسانہ قراردیا جائے۔
اچھی کوشش پر مبارکباد ، اختلاف رائے کی معذرت ، کرشن ، بیدی ، انتظار حسین، منشا یاد، عصمت اور عینی کو پڑھیں تاکہ افسانے کی ساخت پر عبور حاصل ہوسکے۔
والسلام
 

ش زاد

محفلین
نثر اچھی ہے جناب ۔ علامتی پن کہیں نظر نہیں آیا ہاں بیانیہ انداز ہے، افسانے کے بنیادی لواز م موجود نہیں کہ جس کی بنا پر اسے افسانہ قراردیا جائے۔
اچھی کوشش پر مبارکباد ، اختلاف رائے کی معذرت ، کرشن ، بیدی ، انتظار حسین، منشا یاد، عصمت اور عینی کو پڑھیں تاکہ افسانے کی ساخت پر عبور حاصل ہوسکے۔
والسلام
مغل بھائی شکریہ
آپ کی رائے قابلِ احترام ہے
کسی کی بھی رائے کا احترام کرنا ضروری ہے اُس سے اتفاق کرنا نہیں۔۔
آپ کا ایک بار پھر شکریہ
 

الف عین

لائبریرین
علامتی تو نہیں ، بہر حال افسانہ تو ہے۔ محمود نہ جانے کیوں افسانہ ماننے پر راضی نہیں۔ اگرچہ کوئی بہت عمدہ تحریر نہیں۔ اچھی خاصی ہے، بغیر لاگ لپٹی کے۔۔
 

مغزل

محفلین
علامتی تو نہیں ، بہر حال افسانہ تو ہے۔ محمود نہ جانے کیوں افسانہ ماننے پر راضی نہیں۔ اگرچہ کوئی بہت عمدہ تحریر نہیں۔ اچھی خاصی ہے، بغیر لاگ لپٹی کے۔۔

بابا جانی نہ افسانے کے لوازم میں سے چہرہ ہے ، نہ وحدتِ تاثر، نہ نصف النہار ۔۔۔۔ تو افسانہ کیسے ہوگیا ، یہ مکالمات پر مبنی تحریر ہے اور وہ بھی کمزور مکالموں پر۔ یوں بھی میرے رائے اس بات پر علاقہ نہیں رکھتی کہ آپ اور دیگر صاحبانِ فن اس نثر پارے پر کیا رائے رکھتے ہیں میں نے ابھی تک جو سیکھا اور جو پڑھا ہے اس کے تحت یہ افسانہ نہیں ہاں یہ ممکن ہے کہ میں مزید اس صنف کے بار ے میں‌جان سکوں تو اپنی اس جہالت پر مبنی رائے سے انحراف کرسکوں۔
 

ش زاد

محفلین
بابا جانی نہ افسانے کے لوازم میں سے چہرہ ہے ، نہ وحدتِ تاثر، نہ نصف النہار ۔۔۔۔ تو افسانہ کیسے ہوگیا ، یہ مکالمات پر مبنی تحریر ہے اور وہ بھی کمزور مکالموں پر۔ یوں بھی میرے رائے اس بات پر علاقہ نہیں رکھتی کہ آپ اور دیگر صاحبانِ فن اس نثر پارے پر کیا رائے رکھتے ہیں میں نے ابھی تک جو سیکھا اور جو پڑھا ہے اس کے تحت یہ افسانہ نہیں ہاں یہ ممکن ہے کہ میں مزید اس صنف کے بار ے میں‌جان سکوں تو اپنی اس جہالت پر مبنی رائے سے انحراف کرسکوں۔
چلئے حضور اسی بہانے ہمیں بھی کچھ سیکھنے کو ملے گا ۔۔۔ اس لیے اس بحث کو آگے چلنا چاہئے
 
محترم شین زاد صاحب کےکافی افسانے پڑھے ہیں خصوصا عالمی افسانے میلے میں بھی ان کے افسانے نظر سے گزرے ہیں ۔بہت عمدہ لکھتے ہیں۔ سلامت رہیں
 
Top