پانچویں سالگرہ ایک صفحہ کتنی دیر میں ۔ ۔ ۔

زین

لائبریرین
صفحہ نمبر 66

گزشتہ زمانہ مین تالیف و تصنیف کا کام اکثر اون لوگونکے قبضہ مین رہتا تھا جو کوئی پیشہ بھی کرتے تھے۔ گفرڈاڈیٹر کوارٹرالی جو انشا پروازی کی مشکلات سے واقف تھا کہتا ہے کہ ایک گھنٹہ مضمون نگاری مین صرف کرنا تمام دن کی کتب بینی سے بہتر ہے ۔ اٹلی مین بھی جو عالم گزرے وہ کوئی نہ کوئی کام ضرور کرتے تھے اور اکثر تجار ۔مدیر ۔ مقنن اور سپاہی ہوتے تھے۔ ویلنی جو تاریخ فلورنس کا مصنف ہے ایک سوداگر تھا۔ ڈینٹی ۔ پٹیراک اور یوکمشیو یہہ سب کچھ نہ کچھ کام کرتے تھے ۔ ڈینٹی انتظام مملکت حاصل کرنے کے پہلے عطاری اور دواسازی کرتا تھا۔ گلیلیو ۔ گلیوینی اور فرینی طبابت کرتے تھے۔ ایرسٹو کو جیسی نظم مین دلچسپی ہوتی تھی ویسی ہی کاروبار مین بھی اوسکا جی لگتا تھا۔ باپ کی موت کے بعد اوسکو اپنے چھوٹے بھائیون اور بہنون کی پرورش کے واسطے جائداد کا بندوبست کرنا پڑا جو کہ اوسنے نہایت حسن انتظام اور ہوشیاری سے انجام دیا۔ ڈیوک آف قریرا نے اوسکی یہہ قابلیت دیکھکر روم مین انصرام امور صعب و دشوار کے لیئے بھیجا اور بعد کو کوہستانی اضلاع کا جہان کے لوگ مفسدہ پرواز اور شریر تھے حکمران مقرر کیا اور اوسنے بھی اپنی لیاقت اور قابلیت سے وہانکی حالت کو عمدگی اور شایستگی کے ساتھ مبدل کردیا یہانتک کہ ملک کے بد معاش بھی اوسکی عزت کرتے۔ اتفاقآ اوسکو ایک مرتبہ چند مجرمون نے پہاڑ کے درمیان گھیر کر قید کرلیا لیکن جب ایرسٹو نے اپنا نام ان لوگون پر ظاہر کیا تو اوسکو بحفاظت اوس مقام تک پہونچادیا جہان کہ اوسنے خواہش کی تھی۔ اور دوسرے ملکونمین بھی یہی حال ہے کہ لوگ کوئی نہ کوئی پیشہ کرتے ہیں۔ ویٹسل جو رایٹس آف نیشن کا مصنف ہے اول درجہ کا سوداگرتھا۔ ریپیلیس ایک طبیب تھا اور اسکیلر جراحی کرتا تھا۔ کرونٹس۔ لوپ ڈی ڈیگا ۔ کالڈریم ۔ کمایونس ۔ ڈیسکارڈس ۔ ماپریٹس۔ لاروپ مسکالٹڈ۔
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
صفحہ : 71

Tadbeer_page_0075.jpg

 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ 71

اور معاملات ملکی مین بہت بڑی قا بلیت حاصل کی اور کتابین تصنیف کین۔ خاصکر اوسکو علوم کے مشکل اور دقیق مسائل کے حل کرنے مین بہت دل چسپی ہوتی تھی۔ سر جارج لیوس کے مساحیرین کی نسبت بھی اسی قسم کی تمثیل منسوب کیجاتی ہے۔ کہ اون مدبرین کو بھی جب پبلک کے کامونسے فرصت ملتی تھی تو علوم کی کتابین دیکھتے تھے۔ مسٹر گلیدسٹن بھی اپنی فرصت کے وقت ہومر کی کتاب کا حاشیہ چھپوانیکے واسطے تصنیف کرنا اور قرنی کی کتاب رومن اسٹیٹ کا ترجمہ کرتا تھا۔ مسٹر دس رائیلی اور لارڈ رسل بھی تاریخ اور سوانح عمری کے بہت بڑے شائق تھے۔ لارڈ لٹن جو فی الحقیقت ایک بہت بڑا مدبر تھا لیکن علوم انشا و ادب وغیرہ کا مشغلہ بھی اوسکی زندگی کا جزو اعظم تھا جسطرح آدمی کو جسمانی صحت قائم رکھنے کے لیئے محنت کی ضرورت ہے اوسیطرح دماغی قوت درست رکھنے کے لیئے بھی اوس سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ محنت نہین بلکہ حد سے زیادہ محنت کرنی باعث نقصان اور ضرر ہے۔ ناامیدی کے کام اور عاجز کرنے والے افعال مضرت رسان ہوتے ہین۔

ہونہار کام فرحت بخش ہوتے ہین اور جب عمدگی اور خوش اسلوبی سے عمل مین لائے جاتے ہین تو اونسے فرحت و مسرت کے اسباب حاصل ہوتے ہین۔

دماغی کام سب اعتدال سے کیا جاے تو بہ نسبت کسی اور دوسرے کام کےکچھ بھی پریشانی نہین ہوتی اور جب باقاعدہ عمل درآمد ہو تو اس سے جسمانی صحت و تندرستی متصور ہے۔ اور صرف کھانا پینا سو رہنا اور کاہلی مین زندگی بسر کرنا بہت بڑے مضرت اور نقصان کا باعث ہے۔ لیکن حد سے زیادہ محنت کرنا بہت بُرا طریقہ ہے۔ اور خاصکر جسے بہت نقصان ہوتا ہے جبکہ آدمی تھک جاتا ہے۔ جسقدر کہ محنت سے تکلیف نہین ہوتی اوس سے زیادہ تھک جانے سے نقصان ہوتا ہے۔ جسطرح بالو اور سنگریزونکی بکثرت رگڑ ونسے کسی کل کے پرزے خراب
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ 72

ہو جاتے ہین اوسیطرح زندگی سے جسم مین ضعف و نقاہت طاری ہو جاتی ہے۔ پس حد سے زیادہ محنت کرنا اور تھک جانا دونونکی نہایت خبرداری سے نگہبانی کرنی چاہیے۔ کیونکہ حد سے زیادہ دماغی محنت سخت مشکل کام ہے اور یہہ عقل قدرتی طور پر مضر اور مہلک ہے جو شخص کو دماغ سے ۔۔۔۔۔ اور کام ۔۔۔۔۔۔ اوسکے خیالات پریشان ۔۔۔۔۔۔ ہو جاتے ہین۔ جسطرح کوئی پہلوان اپنے طاقت سے زیادہ داؤن پیچ مین محنت کر کے ۔۔۔۔۔۔۔۔ و جوارح کو کمزور سُست اور بیکار کر ڈالے۔
**************************​

(مترجم) فے الحقیقت بغیر محنت و کوشش تو دنیا مین کوئی کام نہین ہو سکتا ہے اور نہ عزت و شہرت حاصل ہو سکتی ہے۔ قدرت کا منشاٗ ہے کہ انسان دنیا مین رہکر محنت و مشقت کرے۔ اپنے آرام و آسایش اور ناموری کے اسباب مہیا کرے لیکن اسکے حصول مین اوس وقت تک کامیابی بالکل غیر ممکن ہے جب تک کوشش و جانفشانی نہ کیجاے۔ محنت کے بعد اوسکا ثمرہ ملتا ہے۔ تکلیف کے بعد راحت کا مزہ معلوم ہوتا ہے۔ دنیا مین جن لوگون نے شہرت حاصل کی ہے اونکی سوانح عمری سے ظاہر ہوتا ہے کہ اونھین بڑی بڑی مشکلون کا سامنا کرنا پڑا ہے محنت اور جان کھپی کے بعد یہہ نعمت حاصل ہوئی ہے۔ پس دنیا مین جن لوگونکو یہہ شوق ہے کہ عزت و ناموری حاصل کرین تو جس قاعدہ طریقہ سے یہہ ممکن الحصول ہے اوس سے گریز نکرین۔ یعنی کاہل اور بیکار نہ بیٹھے رہین بلکہ محنت و کوشش کی پابندی اپنے اوپر لازم و فرض سمجھین۔

نامی کوئی بغیر مشقت نہین ہوا
سو بار جب عقیق کٹا تب نگین ہوا​
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ 73

پانچوان باب

دلیرے

دنیا مین وہ مرد و عرت نہایت قابل قدر و تعریف ہی جو دلیر ہین۔ اس جگہ لفظ دلیر سے وہ لوگ نہین مردونمین جو اپنی جسمانی طاقت مین پہل وان کا مقابلہ کرتے ہین بلکہ اون اشخاص سے مطلب ہے جو با ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کسی کام مین کوشش و محنت کرتے ہین راستبازی اور ۔۔۔۔۔۔۔ فرائض مین ۔۔۔۔۔ کے ۔۔۔۔۔ ثابت قدم رہتے ہین۔ پس یہہ دلیری زیادہ تر قابل وقعت ہے بہ نسبت اوس عزت کے جو جسمانی شجاعت کے ذریعہ سے حاسل کیجاے۔

یہہ اخلاقی دلیری ہے جس سے مرد و عورت کے اعلی مرتبہ کی شناخت ہوتی ہے۔ یہی انجام و فرایض۔ راستبازی۔ منصف مزاجی۔ ایمانداری۔ وغیرہ اختیار کرنکی ہمت اور ترکیب حرص و طمع کی جرات۔ اگر کوئی مرد و عورت ان اوصاف سے مبرا ۔۔۔۔۔۔ یہہ اطمینان ۔۔۔۔۔ کیا جا سکتا کہ اوسمین کسی دوسرے قسم کی عمدگی بھی ہو۔

تواریخ سے ثابت ہے کہ مصائب و مشکلات کو جھیلکر ہماری قومی ۔۔۔۔ کے وہی ۔۔۔۔ باعث ہین جو دلیر و جانباز۔ عالی حوسلہ صاحب ایجاد و فن دوست اور ۔۔۔۔۔ ہین بڑے جفاکش تھے۔ کسی قسم کا اصول یا کوئی فعل راستی ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بہتر 72 برس کی ۔۔۔۔۔ بمقام اتہنس سقراط اسوجہ سے مجرم قرار پایا کہ اور زہر کا پیالہ ۔۔۔۔ کا حکم دیا گیا اوسکے اعلی ۔۔۔۔۔۔ کی بہت اشاعت ہو گئی جو اوس زمانہ کے تعصب ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ بالکل مخالف تھے۔ سقراط کے اوپر یہہ الزام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ 74

اوسنے نوجوانان اتہنس کے دلونمین یہہ خیالات پیدا کر کے کہ وہ اپنے ملکی دیوتاؤنکی پرستش سے باز رہین غارت کر ڈالا۔ لیکن اوسنے صرف اپنے فیصلہ کرنیوالونکے ظلم کا دلیری سے مقابلہ نہین کیا بلکہ اوس گروہ کے سامنے بھی ثابت قدم رہا جو اوسکے اقوال کو سمجھ نہ سکتے تھے۔ وہ مرتے دم تک اپنے اس اصول پر قائم رہا کہ روح غیر فانی ہے۔

اوسنے اپنے اخیر وقت مین جو الفاظ فیصلہ کرنیوالونسے مخاطب ہو کر کہے ذیل مین درج کئے جاتے ہین۔ "وہ وقت آ گیا کہ مین دنیا کو ترک کر دون۔ اگرچہ آپ لوگ زندہ رہینگے لیکن یہہ بات بجز علام الغیوب کے کوئی نہین جانتا کہ عقبٰی مین کسکا حال اچھا ہو گا۔"

اکثر لوگ ایجاد مذہب کیوجہ سے قتل کئے گئے ہین۔ بردنو روم مین اسوجہ سے زندہ جلا دیا گیا کہ اوسنے اپنے سچے فلسفہ کو جو اوس زمانہ کی غلط فہمی سے لغو خیال کیا جاتا تھا مشہور و مروج کر دیا۔ جب عدالت کے ججون نے اوسے موت کا حکم سنایا تو وہ بلا پس و پیش کہنے لگا۔ "کہ آپ لوگونکو میرے موت کے حکم سنانے مین بہت زیادہ دہشت معلوم ہوتی ہے بہ نسبت اسکے کہ جتنی مجھے منظور کرنےمین ہونی چاہیے۔

ککہیلو جو علم طبیعات کا جاننے والا تھا اور جسنے زمین کی حرکت آفتاب کے گرد ثابت کر کے لوگونکو اپنے اصول تعلیم کیئے اسوجہہ سے پیشواے دین نے اوسے ستر 70 برس کی عمر مین ملزوم قرار دیکر روم مین طلب کیا ور اوسپر الحاد کا فتویٰ جاری کر کے قید کیا اگرچہ محبس مین اوسے زیادہ اذیت نہین دی گئی لیکن وفات کے بعد اوسکی البتہ سزا کیگئی یعنی پیشواے دین نے اوسکی لاش کو قبر مین دفن کرنے کی اجازت نہین دی۔

راجر جیکن کو جو ایک پارسا تھا اسوجہ سے سزا ہوئی کہ وہ فلسفہ عملی کی کتب بینی کیا کرتا اور سحر کا الزام اسوجہ سے عائد کیا گیا کہ اوسے علم کیمیا مین مداخلت تھی۔ اوسکی کل تحریرین جرم مین داخل کی گئین اور وہ قید کیا گیا جہان اوسے اپنی بقیہ زندگی کے
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ 75

دس برس بسر کرنے پڑے جہانتک کہ اسی حالت مین اوسنے دنیا سے کوچ کیا۔

آلہئم جو انگریزی فلسفہ تصورات کا ماہر تھا پیشوای مذہب نے جلا وطن کر دیا جسکی خبر گیری ۔۔۔۔۔۔۔۔ جرمنی کرتا تھا۔ نیوٹن نے چونکہ اجرام فلکی و ارضی کی قوت کشش کو ظاہر کیا اسوجہ سے اوسپر یہہ الزام قائم کیا گیا کہ اوسنے خدا کی قدرتونکو معزول ٹھرا دیا اور اسیطرح قرنلکن بھی ملزم ٹھرایا گیا کہ اوسنے بجلی کی ماہیت دریافت کر کے ظاہر کیا۔

استیوڑا کو بھی یہودیون نے اپنے مذہب سے اوسکے فلسفانہ خیالات کی وجہ سے جو اوسوقت مذہب کے مخالف سمجھے جاتے تھے خارج کر دیا اور اخیر مین اوسے ایک قاتل نے قتل کر ڈالا لیکن وہ تادم مرگ مفلسی و بیچارگی حالتمین بھی اپنے اصول پر قائم رہا۔

ڈسکارٹس کے فلسفہ پر یہہ اعتراض کیا گیا کہ اوس سے لامذہبی پھیلتی ہے۔ اور لاگ کے اصول سے یہہ عقیدہ ظاہر ہوتا ہے کہ جسم سے روح علٰحدہ نہین ہو سکتی۔ ڈاکٹر بلکن۔ مسٹر سجوک اسوجہ سے گنہگار ٹھرائے گئے کہ اونھون نے علوم ارضی مین واقفیت حاصل کی تھی۔ کوئی شخص ایسا نہین گزرا جسنے علم نجوم و علم طبیعات مین ورک حاصل کیا ہو اور اونکو متعصت و کوتہ اندیش آدمیون نے مورد طعن و تشنیع نکیا ہو۔ پس ان اختلافات اور اعتراضات سے بشرطیکہ وہ ایمانداری اور راستبازی پر مبنی ہون ہمکو تحمل و استقلال کا سبق حاصل کرنا چاہیے۔

فلاطون کا مقولہ ہے کہ دنیا مثل ایک رسالہ کے ہے جسے خدا نے انسان کو عطا کیا ہے اور اوسکو اسطرح پڑہے کہ اسلی مطالب ظاہر ہون ایک عالی دماغ شخص خدا کی طاقت۔ دانشمندی۔ اور نیکی کا نتیجہ نکالے گا۔

اکثر عورتون مین بھی مردونکی برابر دلیری کی صفت پائی جاتی ہے جس طرح اتی اسکو کہ اوسکے کل جوڑ بند ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے گئے لیکن اوسکے مُنہ سے آواز تک نہ نکلی اور وہ اپنی اذیت و مصیبت کو نہایت اطمینان سے دیکھتی رہی۔
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ 76

بانسٹھر اور ڈلے کے مانند جو چیزین اسکے کہ اپنی حالت پر آہ و زاری و ۔۔۔۔۔۔۔ کرئے کشادہ پیشانی ایکدوسریکو خیر باد کہکر مرنے پر تیار ہو گئے اور اخیر وقت مین یہہ کہا "کہ ہم خدا کے فضل سے ۔۔۔۔۔۔۔ وہ روشنی چھوڑے جاتے ہین جو قیامت تک نہوسکیگی۔

میری ؤاٹر جو ایک خاص فرقہ نصرنی کی عورتونمین سے تھی اسوجہ سے پھانسی دیتئی کہ وہ وعظ کہتی تھی لیکن وہ اپنے گرد و پیس کے لوگونکو مکاطب کر کے بے تکلف موت کے تختہ پر چڑھ گئی ار اپنے تئین جلادونکے حوالہ کر کے اطمینان و بشاشت کے ساتھ جان دی۔

سر تیانس نور کی دلیری بھی کچھہ کم نہین ہے کہ اوسنے بخوشی اپنی موت قبول کی لیکن اپنی قوت ایمانی کے خلاف بیان کرنا گوارا نکیا۔ جب مور اپنے اصول پر قائم رہنیکا آخری فیسلہ بھی کر چکا تو یہہ معلوم ہوا کہ گویا اوسنے کوئی فتح حاصل کر لی اور اپنے داماد روپر کیطرف مخاطب ہو کر کہا "مین خدا کا شکر کرتا ہون کہ مجھے کامیابی ہوئی۔" ڈیوک آف نارفوک نے اوسی خطرہ سے آگاہ کیا اور کہا کہ مور شہزادہ سے مقابلہ کرنا بہت خطرناک امر ہے۔ ہملوگونکا غصہ دوسرونکی موت کا سبب ہوتا ہے۔ لیکن مور نے جواب دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مین اور آپ مین صرف یہی تفاوت ہے کہ مین آج مرونگا اور آپ کل مرینگے۔" اکثر لوگونکے ساتھہ یہہ اتفاق ہوا ہے کہ خطرات اور مشکلات کے وقت مین اونکو اپنی زوجہ سے تسلی و تشفی حاصل ہوئی لیکن مور اس سے بھی محروم رہا۔ قید کی حالت میں البتہ اوسے اپنی بی بی کی صحبت تھوڑے دن تک نصیب ہوئی۔ لیکن اوسکی بی بی نے یہہ خیال کیا کہ کوئی وجہ معقول نہین ہے کہ اوسکا شوہر مقید رہے درانحالیکہ وہ بادشاہ کا حکم قبول کر لینے کے بعد آزادی حاصل کر سکتا ہے اور اپنے گھر عیش و عشرت کے ساتھہ زندگی بسر کرنیکا اختیار ہے۔ پس ایکدن اوسنے اپنے شوہر سے کہا مجھے نہایت تعجب ہے کہ تم ہمیشہ عقلمند خیال کئے جاتے تھے اور اب بیوقوفونکے مانند اس ناپاک جگہہ محبوس ہو تو کیا وجہ ہے کہ تم پیشواے دین کا حکم تسلیم کر کے آزادی نہین حاصل کرتے
 
Top