ایک شاعر کے دو متضاد اشعار

محمداحمد

لائبریرین
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہت عجیب و غریب بنایا ہے ۔ یہ بہ یک وقت متضاد خیالات میں گھرا رہتا ہے ۔ اس میں نیکی اور بدی ایک ساتھ قیام پذیر رہتی ہے اور یہ اکثر اُمید و نا اُمیدی کے مابین کہیں بہتا نظر آتا ہے۔ مجھے آج جناب پیرزادہ قاسم کے دو اشعار ایک ساتھ یاد آئے جو دیکھا جائے تو ایک دوسرے کے بالکل متضاد ہیں۔ لیکن انسانی زندگی اسی مد و جزر کا نام ہے۔

اشعار یہ ہیں۔

اسیر کب یہ قفس ساتھ لے کے اُڑتے ہیں
رہے جو طاقتِ پرواز پر میں رہنے دو


عجب نہ تھا کہ قفس ساتھ لے کے اُڑ جاتے
تڑپنا چاہیے تھا، پھڑپھڑانا چاہیے تھا

اب میں یہ سو چ رہا ہوں کہ شاعر نے ان میں سے پہلے کون سا شعر کہا ہوگا۔ اور کیا شاعر کو خود بھی اس بات کا احساس ہوگا کہ اس کے یہ دو اشعار بالکل ایک دوسرے کے متضاد ہیں؟
 
ہا ہا۔ کیا ضرور تھا کہ جس وقت ہم آپ کا مراسلہ پڑھ کر پسندیدہ پر کلک کرتے عین اسی وقت آپ ہمیں ٹیگ کرتے؟

خوش رہیے۔

اس موضوع پر بغیر ہوم ورک کچھ کہنا مشکل ہے۔ اچھا نکتہ نکالا ہے۔ گھر پہنچ کر کچھ سوچیں گے۔
 

فرحت کیانی

لائبریرین
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہت عجیب و غریب بنایا ہے ۔ یہ بہ یک وقت متضاد خیالات میں گھرا رہتا ہے ۔ اس میں نیکی اور بدی ایک ساتھ قیام پذیر رہتی ہے اور یہ اکثر اُمید و نا اُمیدی کے مابین کہیں بہتا نظر آتا ہے۔ مجھے آج جناب پیرزادہ قاسم کے دو اشعار ایک ساتھ یاد آئے جو دیکھا جائے تو ایک دوسرے کے بالکل متضاد ہیں۔ لیکن انسانی زندگی اسی مد و جزر کا نام ہے۔

اشعار یہ ہیں۔

اسیر کب یہ قفس ساتھ لے کے اُڑتے ہیں
رہے جو طاقتِ پرواز پر میں رہنے دو


عجب نہ تھا کہ قفس ساتھ لے کے اُڑ جاتے
تڑپنا چاہیے تھا، پھڑپھڑانا چاہیے تھا

اب میں یہ سو چ رہا ہوں کہ شاعر نے ان میں سے پہلے کون سا شعر کہا ہوگا۔ اور کیا شاعر کو خود بھی اس بات کا احساس ہوگا کہ اس کے یہ دو اشعار بالکل ایک دوسرے کے متضاد ہیں؟
واہ۔ کیا دور کی کوڑی لائے ہیں احمد۔ یہ تو درست ہے کہ انسان مختلف اوقات و حالات میں اپنی ہی اکثر ایسی سوچوں کے متضاد سوچتا/کرتا ہے جو کبھی اسے انمٹ حقیقت لگا کرتی تھیں۔ شاید یہ انسانی فطرت کا خاصہ ہے۔
اور یہ بات تو بہت ہی دل چسپ ہے کہ شاعر نے ایک ہی تھیم اور ایک سے الفاظ میں دو متضاد خیالات کو پیش کیا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ کوئی پیرزادہ قاسم صاحب سے اس بارے میں کچھ گفتگو کر سکے۔
 
دلچسپ موضوع ہے۔
اور بہت دفعہ ایسا مشاہدہ سے گزرا۔ اس کا تعلق کیفیت کے ساتھ ہی ہے۔
فی الحال تو ذہن میں نہیں آ رہا۔ جیسے ہی کوئی مثال ملی، یہاں ضرور پیش کروں گا۔
 

محمداحمد

لائبریرین
ہا ہا۔ کیا ضرور تھا کہ جس وقت ہم آپ کا مراسلہ پڑھ کر پسندیدہ پر کلک کرتے عین اسی وقت آپ ہمیں ٹیگ کرتے؟

خوش رہیے۔

:in-love:

اس موضوع پر بغیر ہوم ورک کچھ کہنا مشکل ہے۔ اچھا نکتہ نکالا ہے۔ گھر پہنچ کر کچھ سوچیں گے۔

حالانکہ آپ کو بچپن سے سمجھایا جا رہا ہے کہ ہوم ورک مکمل رکھا کریں۔ :p
 

محمداحمد

لائبریرین
واہ۔ کیا دور کی کوڑی لائے ہیں احمد۔
:)
یہ تو درست ہے کہ انسان مختلف اوقات و حالات میں اپنی ہی اکثر ایسی سوچوں کے متضاد سوچتا/کرتا ہے جو کبھی اسے انمٹ حقیقت لگا کرتی تھیں۔
بالکل!

بقول امجد اسلام امجد:

دل بھی کیا چیز ہے اب پا کے اُسے سوچتا ہوں
کیا اسی واسطے چھانے تھے بیابان بہت

شاید یہ انسانی فطرت کا خاصہ ہے۔

یہ تو ہے۔

اور یہ بات تو بہت ہی دل چسپ ہے کہ شاعر نے ایک ہی تھیم اور ایک سے الفاظ میں دو متضاد خیالات کو پیش کیا ہے۔

بلاشبہ دونوں اشعار کا اسلوب ایک ہی ہے۔

کیا ہی اچھا ہو کہ کوئی پیرزادہ قاسم صاحب سے اس بارے میں کچھ گفتگو کر سکے۔

رہتے تو ہم بھی کراچی میں ہیں لیکن کیا کیجے کہ ہمیں کراچی میں رہنے کا وقت ہی نہیں ملتا۔ :)

سو انتظار کرتے ہیں کہ کوئی اور دوست اس کام کا بیڑہ اُٹھائے۔ :)
 

محمداحمد

لائبریرین
بقول غالب
عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا
اور بقول غالب ہی
کہتے ہیں جس کو عشق، خلل ہے دماغ کا

خوب :)

اور اس کی تطبیق کچھ اس طرح ہو سکتی ہے کہ جب تک دماغ میں خلل نہ ہو تب تک آپ زیست کا مزہ نہیں پا سکتے۔ :)
 

نمرہ

محفلین
شعرا کو اجازت نہیں ہوتی کچھ بھی کہنے کی؟ اور پھر وہی بات کہ انسان مختلف خیالات کی زد میں رہتا ہے ہر وقت۔ کبھی کوئی خیال کھینچ لیتا ہے، کبھی کوئی۔
 
مٹا دے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہے
کہ دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے


خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

ڈاکٹر علامہ اقبالؒ
 

جاسمن

مدیر
بہت اچھا اور منفرد موضوع چُنا ہے احمد بھائی آپ نے۔
میں نے بھی شاید ایک ہی مضمون کے دو متضاد پہلو دیکھے ہیں کسی شاعر کی شاعری میں لیکن یاد نہیں۔
بہرحال یہ بھی حقیقت ہے جو فرحت نے کہی کہ
1۔ ایک انسان زندگی کے ایک دور میں جو نظریہ رکھتا ہے، کسی اور دور میں اس سے بالکل متضاد خیال پہ یقین کرنے لگتا ہے۔
2۔لیکن ایسا بھی ہوتا ہے کہ بیک وقت دو مختلف کیفیات اور محسوسات کا شکار ہوجاتا ہے۔
میرا خیال ہے کہ ہم سب ہی ان دونوں کا تجربہ رکھتے ہیں۔
اور میرا ایک تجربہ ہے کہ اکثر(احتیاطا اکثر لکھ رہی ہوں) ہم انسان کم یا زیادہ اپنے اندر تضادات رکھتے ہیں۔
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہت عجیب و غریب بنایا ہے ۔ یہ بہ یک وقت متضاد خیالات میں گھرا رہتا ہے ۔ اس میں نیکی اور بدی ایک ساتھ قیام پذیر رہتی ہے اور یہ اکثر اُمید و نا اُمیدی کے مابین کہیں بہتا نظر آتا ہے۔ مجھے آج جناب پیرزادہ قاسم کے دو اشعار ایک ساتھ یاد آئے جو دیکھا جائے تو ایک دوسرے کے بالکل متضاد ہیں۔ لیکن انسانی زندگی اسی مد و جزر کا نام ہے۔

اشعار یہ ہیں۔

اسیر کب یہ قفس ساتھ لے کے اُڑتے ہیں
رہے جو طاقتِ پرواز پر میں رہنے دو


عجب نہ تھا کہ قفس ساتھ لے کے اُڑ جاتے
تڑپنا چاہیے تھا، پھڑپھڑانا چاہیے تھا

اب میں یہ سو چ رہا ہوں کہ شاعر نے ان میں سے پہلے کون سا شعر کہا ہوگا۔ اور کیا شاعر کو خود بھی اس بات کا احساس ہوگا کہ اس کے یہ دو اشعار بالکل ایک دوسرے کے متضاد ہیں؟
یعنی آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ صاحب کلام نے یو ٹرن کب اور کیوں لیا؟ :)
 

یاسر شاہ

محفلین
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہت عجیب و غریب بنایا ہے ۔ یہ بہ یک وقت متضاد خیالات میں گھرا رہتا ہے ۔ اس میں نیکی اور بدی ایک ساتھ قیام پذیر رہتی ہے اور یہ اکثر اُمید و نا اُمیدی کے مابین کہیں بہتا نظر آتا ہے۔ مجھے آج جناب پیرزادہ قاسم کے دو اشعار ایک ساتھ یاد آئے جو دیکھا جائے تو ایک دوسرے کے بالکل متضاد ہیں۔ لیکن انسانی زندگی اسی مد و جزر کا نام ہے۔

اشعار یہ ہیں۔

اسیر کب یہ قفس ساتھ لے کے اُڑتے ہیں
رہے جو طاقتِ پرواز پر میں رہنے دو


عجب نہ تھا کہ قفس ساتھ لے کے اُڑ جاتے
تڑپنا چاہیے تھا، پھڑپھڑانا چاہیے تھا

اب میں یہ سو چ رہا ہوں کہ شاعر نے ان میں سے پہلے کون سا شعر کہا ہوگا۔ اور کیا شاعر کو خود بھی اس بات کا احساس ہوگا کہ اس کے یہ دو اشعار بالکل ایک دوسرے کے متضاد ہیں؟

عجیب ! یہ تضادات تو خیر دو مختلف کیفیا ت کے آئینہ دار ہیں -

درج ذیل علامہ اقبال کے مبنی بر تضاد اشعار ان کے فکری ارتقاء کے عکّاس ہیں :

سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا



چین و عرب ہمارا ہندوستاں ہمارا
مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا


اور

ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے



اس کے علاوہ ڈاکٹر گیان چند کی "ابتدائی کلام اقبال " کے عنوان سے ایک ضخیم کتاب میرے پاس ہے جس میں اقبال مرحوم کے متروک اشعار بھی شامل کئے گئے ہیں -جنھیں پڑھ کر بھی اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنی فکری اصلاح و ارتقاء پر خاصی توجہ کی ہے -
 

یاسر شاہ

محفلین
مٹا دے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہے
کہ دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے


خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

ڈاکٹر علامہ اقبالؒ


السلام علیکم چودھری صاحب !

یہ اشعار متضاد نہیں -پہلے میں محنت کا بیان ہے دوسرے میں نتیجے کا -خودی سے شاعر مشرق ایک الگ مراد لیتے تھے -ان سے پہلے یہ واقعی خود کو مٹا دینے کے برخلاف مستعمل تھا -اقبال مرحوم نے اس لفظ میں ایک نئی روح پھونک دی اور مراد اس سے وہ "بقا" لی جو "فنا فی اللہ "کا حاصل ہے -

حدیث میں بھی ارشاد ہے :من تواضع لله رفعه الله
 
Top