ایک خواہش ہے جو ابھی آنکھ کی تحویل میں ہے ۔۔۔صائمہ ملک

محمد بلال اعظم نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 22, 2012

  1. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,219
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    ایک خواہش ہے جو ابھی آنکھ کی تحویل میں ہے​
    میں وہ سپنا ہوں کہ جو جسم کی تشکیل میں ہے​
    میں نہ حوا ہوں نہ مریم ہوں نہ میں آسیہ ہوں​
    اور اُس پہ کہ مرا ذِکر بھی انجیل میں ہے​
    میں نے خود پردے کی حرمت کو نہ افضل جانا​
    ہاتھ اپنا ہی مری ذات کی تذلیل میں ہے​
    خال و خد کر بھی چکا میرے نمایاں لیکن​
    وہ مصور ابھی تصویر کی تفصیل میں ہے​
    میں تجھے تجھ سے زیادہ بھی کبھی چاہوں گی​
    اور اک پیار کا دریا میری زنبیل میں ہے​
    اس لئے بھی نہ ہواؤں سے بجھی ہے اب تک​
    میری آنکھوں کا لہو وقت کی قندیل میں ہے​
    (صائمہ ملک)​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2

اس صفحے کی تشہیر