اس سلسلے کا مقصد کسی طرح سے بھی شعرا کے درمیان مقابلہ نہیں۔

آج میں ایک سلسلہ شروع کرنے جا رہا ہو جس میں
(ہم قافیہ و ہم ردیف) اشعار، غزلیں اور نظمیں پیش کی جائیں گی ۔
آپ دوستوں کے پاس بھی اگر اس طرح کا ادبی ذخیرہ موجود ہے تو اس سلسلہ میں شامل کریں۔
 
ہم قافیہ و ہم ردیف
....
منیر نیازی
چمن میں رنگ بہار اترا تو میں نے دیکھا
نظر سے دل کا غبار اترا تو میں نے دیکھا

میں نیم شب آسماں کی وسعت کو دیکھتا تھا
زمیں پہ وہ حسن زار اترا تو میں نے دیکھا

گلی کے باہر تمام منظر بدل گئے تھے
جو سایۂ کوئے یار اترا تو میں نے دیکھا

خمار مے میں وہ چہرہ کچھ اور لگ رہا تھا
دم سحر جب خمار اترا تو میں نے دیکھا

اک اور دریا کا سامنا تھا منیرؔ مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طاہر فراز
سکون دل میں وہ بن کے جب انتشار اترا تو میں نے دیکھا
نہ دیکھتا پر لہو میں وہ بار بار اترا تو میں نے دیکھا

نہ آنسوؤں ہی میں وہ چمک تھی نہ دل کی دھڑکن میں وہ کسک تھی
سحر کے ہوتے ہی نشۂ ہجر یار اترا تو میں نے دیکھا

اداس آنکھوں سے تک رہا تھا مجھے وہ چھوٹا ہوا کنارا
شکستہ کشتی سے جب میں دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

جو برف آنکھوں میں جم چکی تھی وہ دھیرے دھیرے پگھل رہی تھی
جب آئنے میں وہ میرا آینہ دار اترا تو میں نے دیکھا

تھے جتنے وہم و گمان وہ سب نئی حقیقت میں ڈھل چکے تھے
اک آدمی پر کلام پروردگار اترا تو میں نے دیکھا

نہ جانے کب سے سسک رہا تھا قریب آتے جھجک رہا تھا
مکاں کی دہلیز سے وہ جب اشک بار اترا تو میں نے دیکھا

خیال جاناں تری بدولت فرازؔ ہے کتنا خوبصورت
دماغ و دل سے حقیقتوں کا غبار اترا تو میں نے دیکھا
 

نور وجدان

لائبریرین
ہم قافیہ و ہم ردیف
....
منیر نیازی
چمن میں رنگ بہار اترا تو میں نے دیکھا
نظر سے دل کا غبار اترا تو میں نے دیکھا

میں نیم شب آسماں کی وسعت کو دیکھتا تھا
زمیں پہ وہ حسن زار اترا تو میں نے دیکھا

گلی کے باہر تمام منظر بدل گئے تھے
جو سایۂ کوئے یار اترا تو میں نے دیکھا

خمار مے میں وہ چہرہ کچھ اور لگ رہا تھا
دم سحر جب خمار اترا تو میں نے دیکھا

اک اور دریا کا سامنا تھا منیرؔ مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طاہر فراز
سکون دل میں وہ بن کے جب انتشار اترا تو میں نے دیکھا
نہ دیکھتا پر لہو میں وہ بار بار اترا تو میں نے دیکھا

نہ آنسوؤں ہی میں وہ چمک تھی نہ دل کی دھڑکن میں وہ کسک تھی
سحر کے ہوتے ہی نشۂ ہجر یار اترا تو میں نے دیکھا

اداس آنکھوں سے تک رہا تھا مجھے وہ چھوٹا ہوا کنارا
شکستہ کشتی سے جب میں دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

جو برف آنکھوں میں جم چکی تھی وہ دھیرے دھیرے پگھل رہی تھی
جب آئنے میں وہ میرا آینہ دار اترا تو میں نے دیکھا

تھے جتنے وہم و گمان وہ سب نئی حقیقت میں ڈھل چکے تھے
اک آدمی پر کلام پروردگار اترا تو میں نے دیکھا

نہ جانے کب سے سسک رہا تھا قریب آتے جھجک رہا تھا
مکاں کی دہلیز سے وہ جب اشک بار اترا تو میں نے دیکھا

خیال جاناں تری بدولت فرازؔ ہے کتنا خوبصورت
دماغ و دل سے حقیقتوں کا غبار اترا تو میں نے دیکھا
یہاں پر آپ نے ایک ہی زمین میں موجود غزلوں کو پوسٹ کرنا ہے ، ان دونوں کی بحر یکساں نہیں ہے
 

سید عاطف علی

لائبریرین
Top