ایک اور مسئلہ

میرے خیال میں باپ نے اس کی ساکھ اور رعب داب دیکهہ کر اپنی بیٹی اس کے حوالے کی یہاں بیٹی کی سوچ پڑها ہوتا اٹهتی بهیٹتی پسندیدگی اور مشغلے اس کی فطرت اس کہانی میں ضروری نہیں سارے کردار عورت کے کمزور ہو مرد بهی کمزوری رکهتے ہیں
یہ حوصلہ عورت کی فطرت طے کرتا ہے وہ پہلی مار سے حوصلہ ہار بهیٹی اگر بغاوت کرتی اب بغاوت کئ طرح کے ہوسکتے ہیں یا ان مار کی وجوہات کا جواب دلائل سے دیتی اسے اپنی مردانگی اسی کی نگاہ سے دیتی تو نوبت نہ آتی اعتدال نہیں رکهی اس نے

یہی ہے فرق کہہ رشتہ اونچے خاندان سے کرو یا اس میں دو تو سوچ میں فرق ہوتا ہے

وجوہات بہت سارے ہیں ہاں بچوں کی غلطی پر سختی سے تنبیہ اور تهوڑی بہت مار جائز سمجهتے ہیں
 

ام اویس

محفلین
میرے خیال میں باپ نے اس کی ساکھ اور رعب داب دیکهہ کر اپنی بیٹی اس کے حوالے کی یہاں بیٹی کی سوچ پڑها ہوتا اٹهتی بهیٹتی پسندیدگی اور مشغلے اس کی فطرت اس کہانی میں ضروری نہیں سارے کردار عورت کے کمزور ہو مرد بهی کمزوری رکهتے ہیں
یہ حوصلہ عورت کی فطرت طے کرتا ہے وہ پہلی مار سے حوصلہ ہار بهیٹی اگر بغاوت کرتی اب بغاوت کئ طرح کے ہوسکتے ہیں یا ان مار کی وجوہات کا جواب دلائل سے دیتی اسے اپنی مردانگی اسی کی نگاہ سے دیتی تو نوبت نہ آتی اعتدال نہیں رکهی اس نے

یہی ہے فرق کہہ رشتہ اونچے خاندان سے کرو یا اس میں دو تو سوچ میں فرق ہوتا ہے

وجوہات بہت سارے ہیں ہاں بچوں کی غلطی پر سختی سے تنبیہ اور تهوڑی بہت مار جائز سمجهتے ہیں
ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں اچھے بھی اور برے بھی ۔ کچھ لوگوں کی ساری زندگی اپنے جوڑے سے نہیں بنتی اور کبھی حالات بھی ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں علیحدگی بھی نہیں ہو پاتی ساری عمر یونہی ساتھ رہ کر لڑتے جھگڑتے تکلیف میں گزر جاتی ہے ۔
شوہر اگر ایک بار بیوی پر ہاتھ اٹھا لے تو پھر اس کا ہاتھ نہیں رُکتا ۔ اس لیے لڑائی جھگڑے کو کبھی اس حد تک بڑھانا نہیں چاہیے ۔
 

زیک

مسافر
میرے خیال میں باپ نے اس کی ساکھ اور رعب داب دیکهہ کر اپنی بیٹی اس کے حوالے کی یہاں بیٹی کی سوچ پڑها ہوتا اٹهتی بهیٹتی پسندیدگی اور مشغلے اس کی فطرت اس کہانی میں ضروری نہیں سارے کردار عورت کے کمزور ہو مرد بهی کمزوری رکهتے ہیں
یہ حوصلہ عورت کی فطرت طے کرتا ہے وہ پہلی مار سے حوصلہ ہار بهیٹی اگر بغاوت کرتی اب بغاوت کئ طرح کے ہوسکتے ہیں یا ان مار کی وجوہات کا جواب دلائل سے دیتی اسے اپنی مردانگی اسی کی نگاہ سے دیتی تو نوبت نہ آتی اعتدال نہیں رکهی اس نے

یہی ہے فرق کہہ رشتہ اونچے خاندان سے کرو یا اس میں دو تو سوچ میں فرق ہوتا ہے

وجوہات بہت سارے ہیں ہاں بچوں کی غلطی پر سختی سے تنبیہ اور تهوڑی بہت مار جائز سمجهتے ہیں
مار کھانے کے بعد کیا دلائل؟
 

زیک

مسافر
نہ تو میں مارتا ہوں اور نہ اس کے حق میں ہوں۔
رہی بات اصرار کی تو وجہ یہ ہے کہ جو لکھا ہے قرآن و حدیث میں اسکے کی غلط توجیحات دی جارہی ہیں۔ مارنا جائز ہے اسلام میں تو ہے۔ اس میں بحث کیا ہے۔
جو دلائل قرآن و حدیث سے اس کے خلاف دیئے گئے ان میں بھی مارنے کی اجازت دی ہے بعض شرائط کے ساتھ۔
میرے خیال میں اس پر علماء کو defensive ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
یعنی apologia کی بجائے loud and proud
 

فاخر رضا

محفلین
یعنی apologia کی بجائے loud and proud
میرے خیال میں اسلام جب تک آدھا پونا نافذ ہوگا تب تک بہت سارے احکامات ظلم دکھائی دیں گے اور انہیں ہضم کرنا مشکل ہوگا. جب سماجی انصاف، تعلیم و تربیت، قانون کا نفاذ اور لوگوں کا مزاج ایک ہی سسٹم (چاہے وہ اسلامی ہو یا کوئی اور) کے مطابق ہونگے تب ہم ان کو صحیح سے analyse کر سکیں گے
یہ آدھا تیتر آدھا بٹیر والا سسٹم ہمیشہ کنفیوژن ہی پیدا کرے گا
 
مسئلے کا حل یہ ہے کہ ایسا ہاتھ ہی توڑ دیا جائے. :cool: درجن بھر ہاتھ ٹوٹ جائیں گے تو شاید ان کو غیرت آ جائے ورنہ یہ تو صدیوں سے روز مرہ کا معمول ہے مردوں کا. کسی نہ کسی خطے میں روز یا شاید ہر وقت کوئی نہ کوئی عورت تو شوہر کے ہاتھوں پٹتی ہو گی.

مریم بیوی کو وحشی ہو کر مارپیٹ کرنا کسی بھی طرح مہذب عمل نہیں ہے ۔ بیوی تو پھر بیوی ہے لونڈی غلام پر ظلم قابل مذمت بات ہے ۔ البتہ ہر رشتے کی اپنی ڈائنیمکس ہوتی ہیں ۔ کچھ رشتوں میں مار پٹائی کے باوجود رشتوں میں فرق نہیں پڑتا جبکہ کچھ رشتوں میں چہرے پڑھ کر چلنا پڑتا ہے اور بیویاں ، بہنیں ، بیٹیاں یہ تو زندگی کی زینت اس کا حسن ہوتی ہیں یہ تو پیار ، مان اور محبت سے ہی ایسی مطیع ہو جاتی ہیں کہ جھگڑنے مارنے کی نوبت ہی نہیں آتی ۔ ویسے بھی میاں بیوی کے رشتے میں مارپیٹ معمول ہو جائے تو اس سے کہیں بہتر علیحدگی ہی ہے ۔
 
Top