این ٹی ایس اور گاپوچی گم گم

شوقؔ بہرائچی کا وہ معروف شعر تو آپ نے سنا ہی ہو گا:
برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی الو کافی تھا
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجامِ گلستاں کیا ہو گا​
وطنِ عزیز کی حالتِ زار پر اس شعر کو چسپاں کرتے ہوئے بھی ہمیں عرصہ بیت گیا ہے مگر مجال ہے جو کسی الو کے کان پر جوں تک رینگی ہو۔ بلکہ حق تو یہ ہے کہ ایک ایک شاخ پہ الوؤں کی کئی کئی رہائشی سکیمیں وجود میں آ گئی ہیں جن کے لیے جوئیں کم پڑ گئی ہیں۔
تازہ ترین خبر یہ ہے کہ نیشنل ٹیسٹنگ سروس یعنی این ٹی ایس (NTS) کے سی ای او جناب ڈاکٹر ہارون رشید ستارۂِ امتیاز کی پی ایچ ڈی کی ڈگری 72 فیصد نقل پر مبنی ثابت ہوئی ہے۔ ایچ ای سی کی تحقیقات کے مطابق موصوف نے 2004ء میں ہمدرد یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرنے والے ایک سکالر رفیق الرحمٰن کے مقالے پر ہاتھ صاف کیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب پاکستان کی کامسیٹس یونیورسٹی میں بھی ایک کلیدی عہدے پر فائز ہیں۔
اب نکتہ یہ ہے کہ ہمیں ذاتی طور پر علامہ موصوف یا ان کی ڈگری سے کوئی کد نہیں۔ اگر وزیرِ اعظم پاکستان پارلیمانِ مقدس میں جھوٹ بول سکتا ہے، صدرِ پاکستان سراپا ممنون ہو سکتا ہے، قبلہ رحمٰن ملک علامہ قرار دیے جا سکتے ہیں، ہمارے آدم خور بھائی رحمۃ اللعالمینﷺ کے نام پر چندہ حاصل کر سکتے ہیں، مسٹر ٹین پرسنٹ ملک چلا سکتا ہے تو ایک نقل سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ علامہ ہارون اگر چاہیں تو کلاسیکی فارسی محاورے 'نقلِ کفر کفر نباشد' سے بھی مدد لے سکتے ہیں اور کہہ سکتے ہیں کہ فقط نقل کر لینے سے ان کا مقالہ رفیق الرحمٰن کے مقالے جیسا نہیں ہو جاتا۔ دیکھا گیا ہے کہ ایسے دلائل ہمارے ہاں بہت مقبول ہوتے ہیں اور ایسے دانشور دن دگنی نہ سہی، رات چوگنی ترقی ضرور کرتے ہیں۔
ہمیں تو صرف اس بات کا دکھ ہے کہ ہم جیسے چھوٹے موٹے ایمان فروشوں کی روزی پر ان حضرت نے لات مار دی ہے۔ محاورے میں گنجائش نہیں ورنہ حقیقت یہ ہے کہ عام لات نہیں بلکہ فلائنگ کک رسید فرمائی ہے۔ ہماری مراد این ٹی ایس کے بڑھتے ہوئے علمی اور امتحانی معیار سے ہے۔ ہمیں ڈاکٹر ہارون سے فقط یہ کہنا ہے کہ غزالاں تم تو واقف ہو۔ یعنی بندہ پرور، آپ تو جانتے ہیں اور آپ سے بہتر کون جانتا ہے کہ یونیورسٹی سے ڈگری لے لینے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آپ پڑھے لکھے بھی ہیں۔ اب اگر آپ ہی ہم سے الٹے سیدھے سوالات پوچھنے لگ جائیں تو ہم کہاں قسمت آزمانے جائیں؟
محکمۂِ تعلیم، پنجاب میں اساتذہ کی بھرتیوں کے لیے ہونے والے حالیہ امتحانات این ٹی ایس نے لیے ہیں۔ اس پر عوام کی جانب سے کچھ اس قسم کا ردِ عمل سامنے آیا ہے:
zbWBsao.jpg
آپ شاید سوچ رہے ہوں کہ یہ سب باتیں تو این ٹی ایس کے بارے میں ہیں۔ وہ گاپوچی گم گم والی بات تو ہوئی ہی نہیں۔ لیکن اگر آپ کو صبر کرنے کی عادت ہوتی تو آج ملک اس حال کو نہ پہنچتا۔ خیر، یہ قصہ بھی آپ کے پریس کانفرنس کرنے سے پہلے ہم آپ کو سنا دیتے ہیں۔ لیکن یہ بات ذہن میں رکھیے کہ اس قصے کا این ٹی ایس اور ملازمت کے حصول وغیرہ سے کوئی تعلق نہیں۔ محبِ وطن پاکستانی ہونے کے ناتے اسے صرف اور صرف لطیفہ سمجھنا آپ کا اور پوری قوم کا فرض ہے۔
ایک امیدوار انٹرویو بورڈ کے سامنے بیٹھا تھا۔
گھنٹہ بھر کے انٹرویو کے بعد جب اس نے تمام سوالات کے صحیح جوابات دے دیے تھے، اسے اپنی کامیابی یقینی نظر آنے لگی تھی۔
اچانک میز کے اس پار بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا:
"میں آپ سے ایک آخری سوال پوچھنا چاہتا ہوں جس کے بعد آپ جا سکیں گے۔ سوال یہ ہے کہ گاپوچی گم گم کا مطلب کیا ہے؟"
امیدوار کی سٹی گم ہو گئی۔ وہ سر نہوڑا کے غور و فکر میں مصروف ہو گیا۔
کافی دیر کے بعد اس نے سر اٹھایا اور ٹھنڈی سانس بھر کر کہا:
"جناب، اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ مجھے نوکری نہیں دینا چاہتے۔"
اس کے بعد وہ اٹھا، کرسی کے دائیں جانب سے نکلا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔ بھوتنی کا۔ ہاہاہاہاہا!
 
آخری تدوین:

ہادیہ

محفلین
مجھے تو اس تحریر کی ہی سمجھ نہیں آئی:eek:
یہ کیا ہے؟:cautious:
اس بار 97٪ لوگ اس ٹیسٹ میں فیل ہوئے ہیں۔بدتمیزوں نے پیپر ایسے بنائے ہوئے تھے جیسے ہم نے جنرل نالج میں پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے ایک نہیں بلکہ ہر ہر سبجیکٹ میں ماہر ہیں۔واقعی الو--------------------- :(:sad4::beating:
اچھا بھلا دماغ کہیں اور کیا تھا پھر سے غم تازہ کروادیا:crying3:
 

نور وجدان

لائبریرین
میں تو پاس ہوگئ تھی بنا تیاری کے ۔۔میرے گھر سرٹیفییکٹ بھی آیا این ٹی ایس کا پاس ہونے کا۔۔۔۔۔ سو پیپر بنا تیاری کے اچھا ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ پچھلے سال کی بات ہے ۔ ۔۔ میرے مارکس 60 پرسنٹ سے اوپر تھے یعنی کے 69 تھے اور دوسرے میں قدرے کم تھے یعنی 61 ۔۔ دو پوسٹز کے لیے پیپر دیے تھے ایک 14 گریڈ کی اور ایک 16 گریڈ کی ۔۔ مگر انٹرویو کے لیے گئی نہیں ۔۔۔۔۔دل نہیں کیا تھا
 

ہادیہ

محفلین
میں تو پاس ہوگئ تھی بنا تیاری کے ۔۔میرے گھر سرٹیفییکٹ بھی آیا این ٹی ایس کا پاس ہونے کا۔۔۔۔۔ سو پیپر بنا تیاری کے اچھا ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ پچھلے سال کی بات ہے ۔ ۔۔ میرے مارکس 60 پرسنٹ سے اوپر تھے یعنی کے 69 تھے
آپ کی جاب ہوگئی ؟
پچھلے سال بہت زیادہ سٹوڈنٹس پاس ہوئے تھے۔اور موسٹلی لوگوں کو جاب دے دی تھی۔
اس بار 2 غلط کام کیے ہیں۔ایک تو یہ کہ پاسنگ مارکس 50 کردیئے اور دوسرا یہ کیا کہ آپ کے سبجیکٹ سے ریلیٹڈ صرف 15٪ ہوگا باقی سارا پیپر جنرل اور باقی مضامین کے متعلق تھا۔ اور بائیو ،کیمسٹری کا جنرل نالج جو پوچھا تھا وہ سب F.S.Cاور B.S.C والوں سے تھا۔ اب جو اپلائی کرنےوالے تھے وہ سب اپنے اپنے ایک سبجیکٹ میں ماہر ہوسکتے ہیں لازمی نہیں ہر مضمون میں ہوں۔
اور اردو کے جو سوال پوچھے ہوئے تھے موسٹلی سٹوڈنٹس وہیں حال میں ہی بولنے لگ گئے ،سب کہہ رہے تھے ایسے لگ رہا جیسے ایم-اے اردو کا پیپر دے رہے ہوں:(
 

نور وجدان

لائبریرین
آپ کی جاب ہوگئی ؟
پچھلے سال بہت زیادہ سٹوڈنٹس پاس ہوئے تھے۔اور موسٹلی لوگوں کو جاب دے دی تھی۔
اس بار 2 غلط کام کیے ہیں۔ایک تو یہ کہ پاسنگ مارکس 50 کردیئے اور دوسرا یہ کیا کہ آپ کے سبجیکٹ سے ریلیٹڈ صرف 15٪ ہوگا باقی سارا پیپر جنرل اور باقی مضامین کے متعلق تھا۔ اور بائیو ،کیمسٹری کا جنرل نالج جو پوچھا تھا وہ سب F.S.Cاور B.S.C والوں سے تھا۔ اب جو اپلائی کرنےوالے تھے وہ سب اپنے اپنے ایک سبجیکٹ میں ماہر ہوسکتے ہیں لازمی نہیں ہر مضمون میں ہوں۔
اور اردو کے جو سوال پوچھے ہوئے تھے موسٹلی سٹوڈنٹس وہیں حال میں ہی بولنے لگ گئے ،سب کہہ رہے تھے ایسے لگ رہا جیسے ایم-اے اردو کا پیپر دے رہے ہوں:(
میرا بھی ایسا ہی پیپر تھا اس میں اردو نہیں تھی صرف ۔۔آئی ٹی ۔۔۔ تاریخ ۔۔ حالات حاضرہ ۔۔جغرافیہ ۔۔۔ سائنس ۔۔یعنی بائیو کیمسڑی فزکس۔۔۔ باقی سبجیکٹ کی بھی یہی ریٹشو تھی ۔۔میں جب انٹرویو ہی نہیں دینے گئی تو باقی مراحل کیا ۔۔ میں نے بس پاس ہونے کی بات کی ہے بنا پڑھے ، بنا محنت کیے پاس ہو جاؤ جو ٹینشن لیتے ہیں وہ رہ جاتے ہیں ۔۔ سارا نروز کا کھیل ہے
 

ہادیہ

محفلین
میرا بھی ایسا ہی پیپر تھا اس میں اردو نہیں تھی صرف ۔۔آئی ٹی ۔۔۔ تاریخ ۔۔ حالات حاضرہ ۔۔جغرافیہ ۔۔۔ سائنس ۔۔یعنی بائیو کیمسڑی فزکس۔۔۔ باقی سبجیکٹ کی بھی یہی ریٹشو تھی ۔۔میں جب انٹرویو ہی نہیں دینے گئی تو باقی مراحل کیا ۔۔ میں نے بس پاس ہونے کی بات کی ہے بنا پڑھے ، بنا محنت کیے پاس ہو جاؤ جو ٹینشن لیتے ہیں وہ رہ جاتے ہیں ۔۔ سارا نروز کا کھیل ہے
ہوتے سب سبجیکٹس ہی ہیں سسٹر۔
اب یہی سننے میں آیا ہے کہ اپریل میں دوبارہ کہہ رہے ہیں لینا ہے۔کیونکہ یہ جانتےہیں اس بار زیادتی انہوں نے کی ہے۔باقی تو پھر اللہ ہی حافظ ہے
 

نور وجدان

لائبریرین
ہوتے سب سبجیکٹس ہی ہیں سسٹر۔
اب یہی سننے میں آیا ہے کہ اپریل میں دوبارہ کہہ رہے ہیں لینا ہے۔کیونکہ یہ جانتےہیں اس بار زیادتی انہوں نے کی ہے۔باقی تو پھر اللہ ہی حافظ ہے
سی ایس ایس کے بعد بڑے امتحانات کے لیے دوستوں نے مجبور کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ایف پی ایس کی سائیٹ پر بہت سے آتے مگر ایک دو دفعہ دے کر پاس ہوکے چھوڑ دیے ۔۔اللہ اللہ خیر صلی ۔۔۔ دل ہی ٹوٹ گیا ہے بس ۔۔۔۔۔اب تو کسی گورنمنٹ سیکٹر کی جاب نہیں کرنی اس لیے انٹرویو نہیں دیا ۔۔۔۔اب نا پی ایم ایس نا کوئی اور امتحان ۔ بھاڑ میں گئی حکومت ۔۔پیسے اکٹھے کرتی ہے اور اور تو اور سی ایس ایس میں پیپر نقل کرکے حل کرواتی ۔۔۔۔ بڑے بڑے کیسز پکڑے گئے ۔۔۔ہم تو دل جلے ہیں
 

نایاب

لائبریرین
واہہہہہہہہ بہت خوب تحریر
بلا شک مزاح کا لبادہ خوب اوڑھاتے ہیں سنجیدہ سے موضوعات کو
دعا تو یہر پل یہی کہ اللہ کرے " الوؤں " سے جان چھوٹ جائے میری سوہنی دھرتی کی ۔۔۔
لیکن کہیں نہ کہیں میں بھی ایسا " الو " بن بیٹھا ویران کر رہا ہوں گلستان کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت دعائیں
 

ہادیہ

محفلین
واہہہہہہہہ بہت خوب تحریر
بلا شک مزاح کا لبادہ خوب اوڑھاتے ہیں سنجیدہ سے موضوعات کو
دعا تو یہر پل یہی کہ اللہ کرے " الوؤں " سے جان چھوٹ جائے میری سوہنی دھرتی کی ۔۔۔
لیکن کہیں نہ کہیں میں بھی ایسا " الو " بن بیٹھا ویران کر رہا ہوں گلستان کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت دعائیں
بھیا جی الو ایک نہیں ہے نا:(
 

جاسمن

مدیر
بہت خوبصورت تحریر۔
حقیقتِ حال۔
خوبصورت آغاز و انجام لئے۔۔۔۔
لیکن ۔۔۔۔۔صورتِ حال بہت تکلیف دہ ہے۔ آخر این ٹی ایس کے ٹیسٹ کی ضرورت ہی کیوں ہے؟
یہ لوگ اپنا تعلیمی اور امتحانی نظام کیوں نہیں درست کرتے؟
 

جاسمن

مدیر
واہہہہہہہہ بہت خوب تحریر
بلا شک مزاح کا لبادہ خوب اوڑھاتے ہیں سنجیدہ سے موضوعات کو
دعا تو یہر پل یہی کہ اللہ کرے " الوؤں " سے جان چھوٹ جائے میری سوہنی دھرتی کی ۔۔۔
لیکن کہیں نہ کہیں میں بھی ایسا " الو " بن بیٹھا ویران کر رہا ہوں گلستان کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت دعائیں
آپ نے درست کہا۔۔۔کہیں نہ کہیں میں بھی۔۔۔۔۔آہ!
 
Top