ایسی محبت کرتی تھی وہ مجھ سے

شمشاد

لائبریرین
نومبر کے ابتدائی ایام تھے، رات کے گیارہ بجے کا وقت تھا اور ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ میں ٹیرس پر بیٹھا کتاب پڑھنے میں مشغول تھا۔ بارش کی ہلکی ہلکی بوندیں ایک عجیب قسم کی موسیقی پیدا کر رہی تھیں۔اور میں کتاب اور اس قدرتی موسیقی میں مدہوش تھا۔ کتاب کافی دلچسپ تھی اور مجھے پڑھتے ہوئے غالباً ایک گھنٹے سے زیادہ کا وقت گزر چکا تھا۔ دفعتہً مجھے چائے کی طلب محسوس ہوئی۔ میں نے کتاب کو وہیں رکھا اور باورچی خانے میں چائے بنانے چلا گیا۔ چائے بنانے میں کوئی دس منٹ لگے ہوں گے، جب واپس آیا تو اس کی دو دفعہ کال آ چکی تھی۔ میں ابھی سیل فون دیکھ ہی رہا تھا کہ پھر اس کی کال آ گئی۔

ہیلو، میں نے کہا۔

اس نے کہا "کہاں تھے تم، میں کب سے فون کر رہی ہوں۔

چائے بنانے گیا تھا، وہ بنا کر لایا ہوں۔ تبھی تمہاری کال آئی۔

اچھا تو اکیلے اکیلے چائے پی جا رہی ہے۔ اس نے کہا۔

اس کے بعد وہ ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگی اور میں ہوں ہاں میں اسے جواب دیتا رہا۔ اور ساتھ ساتھ چائے کے سِپ بھی لیتا رہا۔

اس کی باتیں بہت دلچسپ ہوتی تھیں، دل چاہتا کہ بس اُس کی سُنتے رہو۔

پھر اچانک کہنے لگی کہ چائے نہیں پی رہے ہو، میں نے بتایا کہ تمہاری باتیں سنتے سنتے چائے ختم ہو گئی۔

کہنے لگی پتہ ہے تم نے 17 سپ لیے ہیں۔

ایسی محبت کرتی تھی وہ مجھ سے۔
 
Top