اگر کسی نے ہنسا تو اسے پا کستان بھیج دیا جائےگا

فہد اشرف

محفلین
ویسے ڈاکٹر اقبال نے کس پیرائے میں کہا تھا ۔
عجم ہنوز نداند رموز دیں ورنہ
زدیوبند حسین احمد ایں چہ بوالعجبیست؟
مصطفی برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ او ندسیدی تمام بو لہبیست ۔
یہ محض سوال ہے۔شاید میری یادداشت ڈھلتی عمر اور کچھ آلام روز و شب کی نذر ہو رہی ہے ؟ اسے کچھ اور نہ سمجھا جاوے۔
آپ نے بیچ کا ایک شعر چھوڑ دیا ورنہ جواب اسی میں موجود تھا۔
سرود بر سر منبر کہ ملت از وطن است
چہ بے خبر ز مقام محمد عربی است
 

جاسم محمد

محفلین
مولا نا آزاد یاد آرہے ہیں لیجئے استاد محترم الف عین مدظلہ کا پیش کردہ خطبہ کا لنک پیش کر رہا ہوں ابوالکلام آزاد - جامع مسجد دہلی میں مولانا آزاد کی تقریر
خوشی خوشی دھاگہ کھولا کہ وہاں جا کر مناظرہ کروں گا تو سامنے بڑا سا قفل منہ چڑا رہا تھا۔ 7 سال بعد بھی محفل کی۔۔۔
کافی نازک صورت حال ہے۔
 

فلسفی

محفلین
بس یہی تو طاق نسیان کی زینت ہوگیا تھا ۔ جزاک اللہ
عاطف بھائی یہ نظم کس بنیاد پر لکھی گئی تھی؟ کیا علامہ نے مولانا سے گفتگو کرنے اور ان کا موقف سمجھنے کے بعد اپنی رائے کا اظہار کیا تھا یا فقط خبر کی بنیاد پر؟ (جہاں تک میری ناقص معلومات ہیں اس دور میں بھی بہت سی غلط فہمیاں ہی تھیں جو بہت سے تنازعات کا پیش خیمہ بنیں) قطع نظر اس نظم کے، میں اس میں دلچسپی رکھتا ہوں کہ کبھی مولانا اور علامہ صاحب کی کوئی تفصیلی نشست ہوئی؟ اگر ہوئی تو مہربانی کر کے اس کا احوال ضرور شئیر کیجیے۔ فقط طالبعلمانہ تجسس کی بنیاد پر گذارش کر رہا ہوں۔
 

فاخر

محفلین
ویسے ڈاکٹر اقبال نے کس پیرائے میں کہا تھا ۔
عجم ہنوز نداند رموز دیں ورنہ
زدیوبند حسین احمد ایں چہ بوالعجبیست؟
مصطفی برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ او ندسیدی تمام بو لہبیست ۔
یہ محض سوال ہے۔شاید میری یادداشت ڈھلتی عمر اور کچھ آلام روز و شب کی نذر ہو رہی ہے ؟ اسے کچھ اور نہ سمجھا جاوے۔

لیجئے مکمل اقتباس پیش کرتا ہوں ۔ کب کیسےاور کیا ہوا؟
اس میں اقبال کی تندی گفتار کا جواب ’’اقبال سہیل‘‘ نے دیا ہے۔
متحدہ قومیت اسلام اور حسین احمد مدنی ؒ ...

۸/جنوری ۱۹۳۸/ کی شب میں صدر بازار دہلی کے ایک جلسے میں مولانا مدنی نے تقریر فرمائی، جس کا بڑا حصہ ۹/جنوری کے روزنامہ ”تیج“ اور ”انصاری“ دہلی میں شائع ہوا، اس جلسے میں روزنامہ ”الامان“ (اس کے مدیر مولانا مظہرالدین شیرکوٹی فاضل دیوبند تھے، جو پکے مسلم لیگی تھے) کا رپورٹر بھی موجود تھا، اس نے اپنے حساب سے اس تقریر کی رپورٹنگ کی اوراس کے بعداسے ”الامان“ میں شائع کردیاگیا، پھر اس سے ”زمیندار“ اور ”انقلاب“ لاہورنے بھی نقل کیا اور یہ جملہ مولانا سے منسوب کردیا کہ انھوں نے مسلمانوں کو یہ مشورہ دیا ہے کہ چوں کہ اس زمانے میں قومیں اوطان سے بنتی ہیں، مذہب سے نہیں؛ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی قومیت کی بنیاد وطن کو بنائیں۔
اُدھر علامہ اقبال، جو اپنے وقت کے بے مثال اسلامی شاعر اور مفکر تھے اور وہ بھی ایک عرصے تک قومی نظریے کی حمایت میں لکھتے، بولتے اور اس کی ہم نوائی کرتے رہے تھے، ان کی مشہور نظم ”ہمالیہ“ اور ”ترانہٴ ہندی“ اسی دور کی یادگار ہیں؛ مگر جب انھوں نے یورپ کا دورہ کیا اور وہاں کی تہذیب، طریقہٴ زندگی، سیاسی نظریات وافکار کا مشاہدہ کرنے کے بعد وہاں سے واپس ہوئے، تو ان کا سیاسی نقطئہ خیال بدل چکا تھا، انھوں نے واپسی کے بعد قومی راہ نماؤں کو خطوط لکھے، اخبارات میں اپنے مضامین شائع کروائے اور مسلمانوں کو دوقومی نظریے پر ابھارنا شروع کردیا اور چوں کہ اس وقت مسلم لیگ کا اساسی نظریہ یہی تھا؛ اس لیے علامہ اقبال اسی کی حمایت وموافقت میں جٹ گئے، انھوں نے سب سے پہلے ۱۹۳۰/ کے آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ الٰہ آباد میں خطبہٴ صدارت پیش کرتے ہوئے شمال مغربی ہندوستان کی علیحدگی کی تجویز پیش کی اوراسے وطن کی معاشرتی مشکلات اور ہندومسلم منافرتوں کا حل بتلایا، اس کے بعد ان کے افکار کی ساری توانائی اور تخیلات کی تمام تر بلند پروازیاں اسی خیال کو تقویت پہنچانے اور قوم پرست علما اور لیڈران پر پھبتیاں کسنے میں صرف ہوئیں۔
”الامان“ کے واسطے سے نقل شدہ خبر جب علامہ موصوف کو پہنچی، جو ان کے نظریے کے سخت خلاف تھی، تو انھوں نے مولانا حسین احمدمدنی پر سخت تنقید کی :
عجم ہنوز نہ داند رموزِ دیں ورنہ
زدیوبند حسین احمد ای چہ بوالعجبی ست؟
سرود برسرِ منبر کہ ملت از وطن ست
چہ بے خبر زمقامِ محمدِ عربی ست
بہ مصطفی بہ رساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ او نہ رسیدی تمام بو لہبی ست
علامہ اقبال کے یہ اشعار روزنامہ ”احسان“ میں شائع ہوئے، اس کے بعد پورے ملک میں ہنگامہ، بے چینی اور خلش کا ماحول پیدا ہوگیا، جہاں علامہ اقبال کے حامیین مولانا مدنی کے خلاف زبان درازی وقلم درازی پر اتر آئے، وہیں خود حضرت کے متوسلین کی طرف سے بھی جوابِ آں غزل کے طور پر تحریروں اور بیانات کا اک سلسلہٴ دراز شروع ہوگیا، جو کسی آن تھمنے کا نام نہ لیتا تھا، مولانا کی طرف سے وضاحتی بیان بھی شائع ہوا، جس میںآ پ نے اپنی جانب منسوب کیے گئے جملے کی تردید کی تھی، اسی کے بعداعظم گڑھ کے مشہور شاعر اقبال سہیل نے بھی علامہ اقبال کے خلاف انہی کی بحر میں ایک لمبی اور تیز وتند نظم کہی تھی:
’’کسے کہ خردہ گرفت بر حسین احمد
زبانِ او عجمی وکلام در عربی ست
کہ گفت برسرِ منبر کہ ملت از وطن است
دروغ گوئی وایراد، ایں چہ بوالعجبی ست
درست گفت محدث کہ قوم از وطن ست
کہ مستفاد زفرمودئہ خدا ونبی ست
زبانِ طعن کشودی وایں نہ دانستی
کہ فرقِ ملت وقوم از لطائفِ ادبی ست
تفاوتے ست فراواں میانِ ملت وقوم
یکے زکیش ودگر کشوری ست یا نسبی ست
خداے گفت بہ قرآں ”لکل قوم ہاد“
مگر بہ نکتہ کجا پے بَرد کسے کہ غبی ست
بہ قومِ خویش خطابِ پیمبراں بہ نگر
پُر از حکایتِ ”یاقوم“ مصحفِ عربی ست
رموزِ حکمتِ ایماں زفلسفی جستن
تلاشِ لذتِ عرفاں زبادئہ عنبی ست
بہ دیوبند درآ گر نجات می طلبی
کہ دیوِ نفس سلحشورو دانشِ تو صبی ست
بہ گیر راہِ حسین احمد گر خدا خواہی
کہ نائب ست نبی را وہم ز آلِ نبی ست‘‘

خوش قسمتی سے ایک دردمند اور باشعور وذی فہم مسلمان (جو عالمِ دین بھی تھے اور ادیب وصحافی بھی) جنھوں نے مصلحتاً اپنا نام طالوت (اصل نام عبدالرشید نسیم) رکھ لیا تھا، حقیقت حال دریافت کرنے کے لیے حضرت مدنی کی خدمت میں ایک خط لکھا، جس کا حضرت مدنی نے جواب دیا اور اپنی تقریر کا مدعا بہ وضاحت بیان کیا، پھر انھوں نے ان کے خط کا اقتباس علامہ اقبال کی خدمت میں ارسال کیا، جس کو دیکھنے کے بعد علامہ موصوف نے اپنا تبصرہ واپس لے لیا اور فرمایا کہ: ”میں اس بات کا اعلان ضروری سمجھتا ہوں کہ مجھ کو مولانا کے اس اعتراف کے بعد کسی قسم کا کوئی حق ان پر اعتراض کرنے کا نہیں رہتا․․․ مولانا کی حمیت دینی کے احترام میں میں ان کے کسی عقیدت مند سے پیچھے نہیں ہوں“۔(۸)
علامہ اقبال کا یہ اعتراف نامہ ”احسان“ کے علاوہ ۵/مارچ ۱۹۳۸/ کو روزنامہ ”مدینہ“ بجنور میں بھی شائع ہوا تھا، خیر! علامہ اقبال نے تو اپنی بات واپس لے لی؛ مگر ان کا وہ قطعہ ”ارمغانِ حجاز“ کے ترتیب کاروں نے نہ معلوم کن مصلحتوں کے تحت چھاپ دیا اور اب تک یہ سلسلہٴ زبوں جاری ہے؛ حالاں کہ علامہ کے بعض دوستوں اورماہرین اقبالیات کی یہ راے تھی کہ اگر وہ ان کی زندگی میں چھپتی، تو یہ اشعار اس میں شامل نہ کیے جاتے، خواجہ عبدالوحید لکھتے ہیں:
”ارمغانِ حجاز“ اگر حضرت علامہ کی زندگی میں چھپتی، تو یہ نظم اس میں شامل نہ ہوتی“۔(۹)
ڈاکٹر عبدالسلام خورشید نے بھی ”سرگزشت اقبال“ میں تحریرکیا ہے:
”اگر وہ ”ارمغانِ حجاز“ کی ترتیب اپنی زندگی میں کرتے، تو شاید وہ تین اشعار درج نہ کرتے، جن میں مولانا حسین احمد مدنی پر چوٹ کی گئی تھی“۔(۱۰)
ماہرِ اقبالیات وشارحِ کلیاتِ اقبال پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:
”حقیقتِ حال سے واقف ہونے کے بعد علامہ نے اپنا اعتراض واپس لے لیا تھا اور وہ اشعار محض اس وجہ سے ”ارمغانِ حجاز“ میں راہ پاگئے کہ اس اعتراف کے محض تین ہفتوں کے بعد علامہ وفات پاگئے اور انھیں یہ ہدایت دینے کا موقع نہ مل سکا کہ ان اشعار کو ”ارمغانِ حجاز“ میں شامل نہ کیاجائے، اگر کوئی ایسی صورت پیدا ہوجائے کہ ”ارمغانِ حجاز“ میں اس نظم کے ساتھ یہ صراحت کردی جائے کہ حقیقتِ حال سے آگاہ ہوجانے کے بعد علامہ مرحوم نے ان اشعار کو کالعدم قرار دے دیا تھا، تو بہت اچھا ہو؛ کیوں کہ اس تصریح کی بہ دولت قارئین حضرتِ اقدس کے خلاف سوءِ ظن سے محفوظ ہوجائیں گے“۔(۱۱)
مولانا حکیم فضل الرحمن سواتی نے بھی حافظ شیراز اور مسٹرمحمدعلی جناح کے تعلق سے علامہ موصوف کے ایرادات سے رجوع کی تفصیلات تحریر کرتے ہوئے یہی بات لکھی ہے۔‘‘
( مولانا حسین احمد مدنی ‘‘ نام کے فیس بک پیج سے نقل کیا ہے ،اس میں دارالعلوم دیوبند ویب سائٹ کا حوالہ دیا گیا ہے۔)
 
مدیر کی آخری تدوین:

فاخر

محفلین
۸/جنوری ۱۹۳۸/ کی شب میں صدر بازار دہلی کے ایک جلسے میں مولانا مدنی نے تقریر فرمائی، جس کا بڑا حصہ ۹/جنوری کے روزنامہ ”تیج“ اور ”انصاری“ دہلی میں شائع ہوا، اس جلسے میں روزنامہ ”الامان“ (اس کے مدیر مولانا مظہرالدین شیرکوٹی فاضل دیوبند تھے، جو پکے مسلم لیگی تھے) کا رپورٹر بھی موجود تھا، اس نے اپنے حساب سے اس تقریر کی رپورٹنگ کی اوراس کے بعداسے ”الامان“ میں شائع کردیاگیا، پھر اس سے ”زمیندار“ اور ”انقلاب“ لاہورنے بھی نقل کیا اور یہ جملہ مولانا سے منسوب کردیا کہ انھوں نے مسلمانوں کو یہ مشورہ دیا ہے کہ چوں کہ اس زمانے میں قومیں اوطان سے بنتی ہیں، مذہب سے نہیں؛ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی قومیت کی بنیاد وطن کو بنائیں۔

ملاحظہ فرمائیں ! یہی ہے وہ چورن جس نے اقبال کو مولانا مدنی کے خلاف مشتعل کیا تھا۔ فلسفی @ سیدعاطف
صرف ایک غلط رپورٹنگ نے کیا کیا گل کھلادیا۔ میں اقبالؔ کا نہ ممدوح ہوں اور نہ ہی میں اقبالؔ کا ناقد۔ مدح و نقد کے لیے معیار ہونا چاہیے اور میں اس لائق نہیں ہوں کہ :’اقبال کی ستایش کروں یا پھر تنقید کروں‘‘ ۔
 

سید عاطف علی

لائبریرین
کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جو نظریہ قومیت کا اقبال نے ابتدا میں اختیار کیا ( ترانہ ہندی والا) اور پھر آفاقی قومی نظریہ ( چین و عرب والا ) والے میں منقلب کیا، اس موخر الذکر قومی نظریہ سے پھر رجوع کر لیا ؟
اقبال کا باقی کلام ( بانگ درا کے محض ابتدائی رنگ کو چھوڑ کر) بال جبریل ضرب کلیم ارمغان زبور پیام وغیرہ اس کی شہادت دیتا ہے ؟
 

فاخر

محفلین
کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جو نظریہ قومیت کا اقبال نے ابتدا میں اختیار کیا ( ترانہ ہندی والا) اور پھر آفاقی قومی نظریہ ( چین و عرب والا ) والے میں منقلب کیا، اس موخر الذکر قومی نظریہ سے پھر رجوع کر لیا ؟
اقبال کا باقی کلام ( بانگ درا کے محض ابتدائی رنگ کو چھوڑ کر) بال جبریل ضرب کلیم ارمغان زبور پیام وغیرہ اس کی شہادت دیتا ہے ؟
معاف کیجئے گا ! میں نے آج تک اقبال کی کلیات کو چھوا تک بھی نہیں،ممکن ہے کہ ہمارے لیے کلیات اقبالؔ ’’شجرہ ممنوعہ‘‘ ہو ۔ ہمیں تو فقط ’’لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری ‘‘ اور ’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘‘ ہی یاد ہے اس کے علاوہ آج تک اقبال کو پڑھنے کی ہمیں توفیق نہیں ملی ۔ جب کلیات پڑھنے کا شرف حاصل ہوگا تو پھر اپنی رائے بھی رکھیں گے۔
 

جاسم محمد

محفلین
کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جو نظریہ قومیت کا اقبال نے ابتدا میں اختیار کیا ( ترانہ ہندی والا) اور پھر آفاقی قومی نظریہ ( چین و عرب والا ) والے میں منقلب کیا، اس موخر الذکر قومی نظریہ سے پھر رجوع کر لیا ؟
اقبال کا باقی کلام ( بانگ درا کے محض ابتدائی رنگ کو چھوڑ کر) بال جبریل ضرب کلیم ارمغان زبور پیام وغیرہ اس کی شہادت دیتا ہے ؟
افتخاررحمانی فاخر نے تاریخی اعتبار سے صحیح معلومات فراہم کی ہیں۔ اقبال ولایت روانگی سے قبل ہندوستان ہمارا اور واپسی پر دو قومی نظریہ ہمارا کے مداح بن چکے تھے۔
اور اب ویسے بھی مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد اس نظریہ کی کوئی عملی حیثیت باقی نہیں رہی ہے۔
مولانا ابو الکلام آزاد اور دیگر علما ہند جنہوں نے دو قومی نظریہ کی مخالفت کی تھی بعدی النظرمیں درست ثابت ہو گئے۔
 
’’ویسے بابا فرید گنج شکر علیہ الرحمہ کی سرائیکی شاعری اور بلہے شاہ وغیرہ کا پنجابی کلام نصرت فتح علی خان کی زبانی سنتا رہتا ہوں۔ تو اس وقت سمجھ میں آتی ہے کہ نصرت فتح علی خان کیا گارہے ہیں،ورنہ ان کے علاوہ کوئی پنجابی گائے یا پڑھے یا لکھے کچھ بھی سمجھ میں نہیں آتا( باستثنائے آنجناب) ۔ بلکہ بسا اوقات تو الجھن بھی ہونے لگتی ہے۔
اچھا تو ہم یہاں تک پہنچے تھے، کہ درمیان میں ایک مجاہد آزادی کا ذکر آ گیا ۔
تو نصرت مرحوم کے الفاظ ہی خاص کر آپ کو کیوں سمجھ آ جاتے ہیں، آپ نے کبھی سوچا ؟
 
اور اب ویسے بھی مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد اس نظریہ کی کوئی عملی حیثیت باقی نہیں رہی ہے۔
ابو الکلام آزاد اور دیگر علما ہند جنہوں نے دو قومی نظریہ کی مخالفت کی تھی بعدی النظرمیں درست ثابت ہو گئے۔
حضور یہ آپ پھر سے ایک پرانی لُچ تلنے لے آئے ہیں۔:)
دو قومی نظریہ اپنی جگہ مکمل برقرار ہے۔ البتہ آپ و ہمنوا اپنے وجود کو ایک قومی نظریے کے حوالے کرنا چاہتے ہیں تو بصد شوق۔ سانوں کوئی اعتراض نہیں۔ :)
 

جاسم محمد

محفلین
دو قومی نظریہ اپنی جگہ مکمل برقرار ہے۔
غور سے پڑھیں۔ میں نے دو قومی نظریہ کی عملی حیثیت پربات ہے۔ اِن تھیوری نظریات تو کبھی ختم نہیں ہو سکتے۔
اور اب ویسے بھی مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد اس نظریہ کی کوئی عملی حیثیت باقی نہیں رہی ہے۔
 

فاخر

محفلین
و نصرت مرحوم کے الفاظ ہی خاص کر آپ کو کیوں سمجھ آ جاتے ہیں، آپ نے کبھی سوچا ؟
بہت سوچا اور اس پر غور کیاہے مجھے جو چیز محسوس ہوئی وہ یہ کہ:’وہ جن لوگوں کا کلام پڑھتے ہیں (گاتے ہیں) ان لوگوں کے وقت میں یہ’’سرحد‘‘ نہیں تھی ۔ اور پھر ان جیسے لوگوں کی کوئی سرحد بھی نہیں ہوتی ان کا مذہب عشق الٰہی ہوا کرتاہے۔ جیسے بابا فرید گنج شکر ،حضرت نظام الدین اولیاء ،شہباز قلندر وغیرہ۔ وہ ان لوگوں کا کلام گاتے ہیں اس لیے دل ان کے کلام پر فریفتہ ہوجاتا ہے۔ ویسے نصرت فتح علی خان کے والد مرحوم فتح علی خان صاحب اور ان کے والد محترم مشرقی پنجاب موجودہ بھارتی پنجاب کے تھے جو تقسیم میں اُدھر چلے گئے تھے اور فیصل آباد میں سکونت اختیار کی تھی۔
 

فلسفی

محفلین
ایک واقعہ کسی کتاب میں پڑھا تھا حوالہ یاد نہیں لیکن الفاظ کچھ کچھ یاد ہیں۔ محترم افتخاررحمانی فاخر صاحب آپ کا لب و لہجہ دیکھ کر بے اختیار یاد آگیا۔

"دارلعلوم دیوبند کا وفد بشمول مدنی صاحب رحمہ اللہ کے علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ سے ملنے آیا۔ مقصد یہ تھا کہ ان کو کانگریس کی حمایت پر اور مسلم لیگ سے دستبرداری پر قائل کیا جاسکے۔ مدلل گفتگو کے بعد بھی جب علامہ صاحب قائل نہ ہوسکے تو وفد میں سے ایک صاحب فرمانے لگے کہ علامہ صاحب دیکھیے آپ کے مسلم لیگی نوجوان، مولانا مدنی کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں، ان کے بارے میں جو زبان استعمال کی جاتی ہے وہ کسی دشمن کے بارے میں بھی استعمال نہیں کی جاتی۔ وغیرہ وغیرہ۔ علامہ صاحب نے اطمینان سے ساری بات سننے کے بعد فرمایا کہ حضرات! یہ کالج یونیورسٹی کے طلبا ہیں۔ ان کی دینی تربیت ویسی نہیں ہوئی جیسے ہمارے مدارس میں ادب اور احترم کے حوالے سے کی جاتی ہے۔ لہذا ان سے تو اس بدتہذیبی کی توقع کسی حد تک کی جاسکتی ہے لیکن مجھے آپ بتائیے کہ آپ کے مدارس کے طلبہ نے میرے بارے میں جو لب ولہجہ استعمال کیا ہے وہ مدارس اور مدارس کی تربیت کے شایان شان ہے؟ اس پر وفد خاموش ہو گیا۔"

پاکستان ہی میں دو طرح کے دینی طبقات سے واسطہ پڑ چکا ہے۔ ایک وہ جو حضرت تھانوی رحمہ اللہ سے زیادہ عقیدت رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک مولانا مدنی رحمہ اللہ کا طرز عمل درست نہیں تھا۔ البتہ مولانا مدنی رحمہ اللہ کہ بارے میں کم از کم دینی حلقوں میں زبان درازی سننے میں نہیں آئی۔ دوسرا حلقہ وہ ہے جو حضرت مدنی صاحب رحمہ اللہ سے عقیدت رکھتا ہے۔ ان کے نزدیک مسلم لیگ کا طرز عمل درست نہیں تھا۔ یہ دینی حلقہ ملسم لیگ بشمول قائد اعظم کو جن القبات سے نوازتے ہیں، اس کا بیان کرنا مناسب نہیں ۔۔ اس سیاسی اختلاف کا شتر گربہ بنا کر جس طرح سے دونوں اطرف کے اکابرین کی کردار کشی کی گئی ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔

حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ جو لوگ دین کی بنیاد پر پاکستان کے قیام کے حامی ہیں۔ اور وطن پرستی کو برا سمجھتے ہیں وہی لوگ آج "سب سے پہلے پاکستان" کا نعرہ بلند کرتے ہیں۔ منافقت کی انتہا ہے کہ جب کشمیر یا فلسطین کے مسلمانوں کے کرب اور درد کی بات کی جائے تو کہتے ہیں کہ ہم نے ٹھیکہ لے رکھا ہے مسلمانوں کا ۔۔۔ لیکن جب اپنے مفاد کی بات ہو تو "پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ"۔

میرے نزدیک اس وقت کے سیاسی اختلاف کو غلط رنگ دیا گیا۔ دونوں اطراف کے اکابرین کی نیت پر شک کرنا مناسب نہیں۔ دونوں اطرف کے لوگوں نے اپنے تئیں مسلمانان ہند کے لیے بہتر ہی سوچا تھا۔ لیکن ہوا وہی جو اللہ پاک کو منظور تھا۔ اب ستر سال بعد ہم جیسے کج فہم اگر اٹھ کر کسی ایک فرد پر اعتراض کریں تو وہ انتہائی نامناسب ہے۔

اقبال مرحوم ہوں یا مولانا مدنی دونوں ہی انسان تھے۔ لیکن میرے نزدیک دونوں کی نیت پر شک نہیں کیا جاسکتا۔ ہم برصغیر کی اکابرین کی بات کر رہے ہیں جبکہ ایسے بدبخت بھی دنیا میں موجود ہیں جو اپنی "جہالت" کی دھاک بٹھانے کے لیے صحابہ اکرام رضوان اللہ اجمعین کے آپسی اختلاف پر بھی زبان درازی کرنے باز نہیں آتے۔ مجھے اپنے استاد کی وہ بات ابھی تک یاد ہے جب میں نے صحابہ اکرام رضوان اللہ اجمعین کے ایک اختلاف کے متعلق سوال کیا تو استاد جی نے فرمایا "اپنی زبانوں کو لگام دو"۔ یہ نہ ہو کہ ایمان سے جاتے رہو۔ لہذا پسند نا پسند اپنی جگہ لیکن اکابرین کے بارے میں احتیاط ہی بہتر ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو سمجھ عطا کرے۔ آمین۔
 
آخری تدوین:

جاسم محمد

محفلین
میرے نزدیک اس وقت کے سیاسی اختلاف کو غلط رنگ دیا گیا۔ دونوں اطراف کے اکابرین کی نیت پر شک کرنا مناسب نہیں۔ دونوں اطرف کے لوگوں نے اپنے تئیں مسلمانان ہند کے لیے بہتر ہی سوچا تھا۔
جہاں تک میرا تاریخ کا مطالعہ ہے۔ اس وقت ہندوستان کے مسلم لیڈران اس کشمکش کا شکار تھے کہ انگریز کے جانے کے بعد مسلم اقلیت کا مستقبل کیا ہوگا۔ اس خطرہ کے پیش نظر جو مختلف نظریات سامنے آئے ان میں دو قومی نظریہ، اکھنڈ بھارت، اسلامی ریاست کا قیام سر فہرست رہے۔ اسی دوران میں خلافت تحریک، ریشمی رومال تحریک، تحریک پاکستان، تحریک آزادی ہند ساتھ ساتھ چل رہی تھیں۔
اکثر علما ہند بشمول مولانا ابو الکلام آزاد کا خیال تھا کہ مسلمانوں کیلئے قومیت کی بنیاد پر ایک الگ ملک کا مطالبہ وسیع و عریض ہندوستان میں پھیلی ہوئی مسلم اقلیت کیلئے سود مند نہیں رہے گا۔ بلکہ مولانا صاحب نے تو 1946 میں مشرقی پاکستان ٹوٹ جانے اور باقی رہ جانے والے مغربی پاکستان سے متعلق پیش گوئی بھی کردی تھی جو حرف با حرف پوری ہوئی۔
The confidence of East Pakistan will not erode as long as Jinnah and Liaquat Ali are alive. But after them any small incident will create resentment and disaffection. I feel that it will not be possible for East Pakistan to stay with West Pakistan for any considerable period of time. There is nothing common between the two regions except that they call themselves Muslims. But the fact of being Muslim has never created durable political unity anywhere in the world. The Arab world is before us; they subscribe to a common religion, a common civilisation and culture and speak a common language.
In fact they acknowledge even territorial unity. But there is no political unity among them. Their systems of government are different and they are often engaged in mutual recrimination and hostility. On the other hand, the language, customs and way of life of East Pakistan are totally different from West Pakistan. The moment the creative warmth of Pakistan cools down, the contradictions will emerge and will acquire assertive overtones. These will be fuelled by the clash of interests of international powers and consequently both wings will separate.
After the separation of East Pakistan, whenever it happens, West Pakistan will become the battleground of regional contradictions and disputes. The assertion of sub-national identities of Punjab, Sind, Frontier and Balochistan will open the doors for outside interference. It will not be long before the international powers use the diverse elements of Pakistani political leadership to break the country on the lines of Balkan and Arab states. Maybe at that stage we will ask ourselves, what have we gained and what have we lost.
The real issue is economic development and progress, it certainly is not religion. Muslim business leaders have doubts about their own ability and competitive spirit. They are so used to official patronage and favours that they fear new freedom and liberty. They advocate the two-nation theory to conceal their fears and want to have a Muslim state where they have the monopoly to control the economy without any competition from competent rivals. It will be interesting to watch how long they can keep this deception alive.

Maulana Abul Kalam Azad: The Man Who Knew The Future Of Pakistan Before Its Creation, Books and Documents, Shorish Kashmiri, Matbooat Chattan, Lahore, New Age Islam
آج پاکستان کو جن سیاسی، معاشی، معاشرتی، نظریاتی مسائل کا سامنا ہے۔ اس کا نظارہ مولانا ابوالکلام آزاد کی سیاسی بصیرت 73 سال قبل کرچکی تھی۔
اقبال اور جناح کی نیک نیتی پر شک نہیں۔ البتہ بعدی النظر میں زمینی حقائق مولانا صاحب کے ساتھ پائے گئے۔ اور یوں ان کو تاریخ میں ہمیشہ کیلئے امر کر گئے۔
 

شکیب

محفلین
لیجئے مکمل اقتباس پیش کرتا ہوں ۔ کب کیسےاور کیا ہوا؟
اس میں اقبال کی تندی گفتار کا جواب ’’اقبال سہیل‘‘ نے دیا ہے۔
متحدہ قومیت اسلام اور حسین احمد مدنی ؒ ...

۸/جنوری ۱۹۳۸/ کی شب میں صدر بازار دہلی کے ایک جلسے میں مولانا مدنی نے تقریر فرمائی، جس کا بڑا حصہ ۹/جنوری کے روزنامہ ”تیج“ اور ”انصاری“ دہلی میں شائع ہوا، اس جلسے میں روزنامہ ”الامان“ (اس کے مدیر مولانا مظہرالدین شیرکوٹی فاضل دیوبند تھے، جو پکے مسلم لیگی تھے) کا رپورٹر بھی موجود تھا، اس نے اپنے حساب سے اس تقریر کی رپورٹنگ کی اوراس کے بعداسے ”الامان“ میں شائع کردیاگیا، پھر اس سے ”زمیندار“ اور ”انقلاب“ لاہورنے بھی نقل کیا اور یہ جملہ مولانا سے منسوب کردیا کہ انھوں نے مسلمانوں کو یہ مشورہ دیا ہے کہ چوں کہ اس زمانے میں قومیں اوطان سے بنتی ہیں، مذہب سے نہیں؛ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی قومیت کی بنیاد وطن کو بنائیں۔
اُدھر علامہ اقبال، جو اپنے وقت کے بے مثال اسلامی شاعر اور مفکر تھے اور وہ بھی ایک عرصے تک قومی نظریے کی حمایت میں لکھتے، بولتے اور اس کی ہم نوائی کرتے رہے تھے، ان کی مشہور نظم ”ہمالیہ“ اور ”ترانہٴ ہندی“ اسی دور کی یادگار ہیں؛ مگر جب انھوں نے یورپ کا دورہ کیا اور وہاں کی تہذیب، طریقہٴ زندگی، سیاسی نظریات وافکار کا مشاہدہ کرنے کے بعد وہاں سے واپس ہوئے، تو ان کا سیاسی نقطئہ خیال بدل چکا تھا، انھوں نے واپسی کے بعد قومی راہ نماؤں کو خطوط لکھے، اخبارات میں اپنے مضامین شائع کروائے اور مسلمانوں کو دوقومی نظریے پر ابھارنا شروع کردیا اور چوں کہ اس وقت مسلم لیگ کا اساسی نظریہ یہی تھا؛ اس لیے علامہ اقبال اسی کی حمایت وموافقت میں جٹ گئے، انھوں نے سب سے پہلے ۱۹۳۰/ کے آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ الٰہ آباد میں خطبہٴ صدارت پیش کرتے ہوئے شمال مغربی ہندوستان کی علیحدگی کی تجویز پیش کی اوراسے وطن کی معاشرتی مشکلات اور ہندومسلم منافرتوں کا حل بتلایا، اس کے بعد ان کے افکار کی ساری توانائی اور تخیلات کی تمام تر بلند پروازیاں اسی خیال کو تقویت پہنچانے اور قوم پرست علما اور لیڈران پر پھبتیاں کسنے میں صرف ہوئیں۔
”الامان“ کے واسطے سے نقل شدہ خبر جب علامہ موصوف کو پہنچی، جو ان کے نظریے کے سخت خلاف تھی، تو انھوں نے مولانا حسین احمدمدنی پر سخت تنقید کی :
عجم ہنوز نہ داند رموزِ دیں ورنہ
زدیوبند حسین احمد ای چہ بوالعجبی ست؟
سرود برسرِ منبر کہ ملت از وطن ست
چہ بے خبر زمقامِ محمدِ عربی ست
بہ مصطفی بہ رساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ او نہ رسیدی تمام بو لہبی ست
علامہ اقبال کے یہ اشعار روزنامہ ”احسان“ میں شائع ہوئے، اس کے بعد پورے ملک میں ہنگامہ، بے چینی اور خلش کا ماحول پیدا ہوگیا، جہاں علامہ اقبال کے حامیین مولانا مدنی کے خلاف زبان درازی وقلم درازی پر اتر آئے، وہیں خود حضرت کے متوسلین کی طرف سے بھی جوابِ آں غزل کے طور پر تحریروں اور بیانات کا اک سلسلہٴ دراز شروع ہوگیا، جو کسی آن تھمنے کا نام نہ لیتا تھا، مولانا کی طرف سے وضاحتی بیان بھی شائع ہوا، جس میںآ پ نے اپنی جانب منسوب کیے گئے جملے کی تردید کی تھی، اسی کے بعداعظم گڑھ کے مشہور شاعر اقبال سہیل نے بھی علامہ اقبال کے خلاف انہی کی بحر میں ایک لمبی اور تیز وتند نظم کہی تھی:
’’کسے کہ خردہ گرفت بر حسین احمد
زبانِ او عجمی وکلام در عربی ست
کہ گفت برسرِ منبر کہ ملت از وطن است
دروغ گوئی وایراد، ایں چہ بوالعجبی ست
درست گفت محدث کہ قوم از وطن ست
کہ مستفاد زفرمودئہ خدا ونبی ست
زبانِ طعن کشودی وایں نہ دانستی
کہ فرقِ ملت وقوم از لطائفِ ادبی ست
تفاوتے ست فراواں میانِ ملت وقوم
یکے زکیش ودگر کشوری ست یا نسبی ست
خداے گفت بہ قرآں ”لکل قوم ہاد“
مگر بہ نکتہ کجا پے بَرد کسے کہ غبی ست
بہ قومِ خویش خطابِ پیمبراں بہ نگر
پُر از حکایتِ ”یاقوم“ مصحفِ عربی ست
رموزِ حکمتِ ایماں زفلسفی جستن
تلاشِ لذتِ عرفاں زبادئہ عنبی ست
بہ دیوبند درآ گر نجات می طلبی
کہ دیوِ نفس سلحشورو دانشِ تو صبی ست
بہ گیر راہِ حسین احمد گر خدا خواہی
کہ نائب ست نبی را وہم ز آلِ نبی ست‘‘

خوش قسمتی سے ایک دردمند اور باشعور وذی فہم مسلمان (جو عالمِ دین بھی تھے اور ادیب وصحافی بھی) جنھوں نے مصلحتاً اپنا نام طالوت (اصل نام عبدالرشید نسیم) رکھ لیا تھا، حقیقت حال دریافت کرنے کے لیے حضرت مدنی کی خدمت میں ایک خط لکھا، جس کا حضرت مدنی نے جواب دیا اور اپنی تقریر کا مدعا بہ وضاحت بیان کیا، پھر انھوں نے ان کے خط کا اقتباس علامہ اقبال کی خدمت میں ارسال کیا، جس کو دیکھنے کے بعد علامہ موصوف نے اپنا تبصرہ واپس لے لیا اور فرمایا کہ: ”میں اس بات کا اعلان ضروری سمجھتا ہوں کہ مجھ کو مولانا کے اس اعتراف کے بعد کسی قسم کا کوئی حق ان پر اعتراض کرنے کا نہیں رہتا․․․ مولانا کی حمیت دینی کے احترام میں میں ان کے کسی عقیدت مند سے پیچھے نہیں ہوں“۔(۸)
علامہ اقبال کا یہ اعتراف نامہ ”احسان“ کے علاوہ ۵/مارچ ۱۹۳۸/ کو روزنامہ ”مدینہ“ بجنور میں بھی شائع ہوا تھا، خیر! علامہ اقبال نے تو اپنی بات واپس لے لی؛ مگر ان کا وہ قطعہ ”ارمغانِ حجاز“ کے ترتیب کاروں نے نہ معلوم کن مصلحتوں کے تحت چھاپ دیا اور اب تک یہ سلسلہٴ زبوں جاری ہے؛ حالاں کہ علامہ کے بعض دوستوں اورماہرین اقبالیات کی یہ راے تھی کہ اگر وہ ان کی زندگی میں چھپتی، تو یہ اشعار اس میں شامل نہ کیے جاتے، خواجہ عبدالوحید لکھتے ہیں:
”ارمغانِ حجاز“ اگر حضرت علامہ کی زندگی میں چھپتی، تو یہ نظم اس میں شامل نہ ہوتی“۔(۹)
ڈاکٹر عبدالسلام خورشید نے بھی ”سرگزشت اقبال“ میں تحریرکیا ہے:
”اگر وہ ”ارمغانِ حجاز“ کی ترتیب اپنی زندگی میں کرتے، تو شاید وہ تین اشعار درج نہ کرتے، جن میں مولانا حسین احمد مدنی پر چوٹ کی گئی تھی“۔(۱۰)
ماہرِ اقبالیات وشارحِ کلیاتِ اقبال پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:
”حقیقتِ حال سے واقف ہونے کے بعد علامہ نے اپنا اعتراض واپس لے لیا تھا اور وہ اشعار محض اس وجہ سے ”ارمغانِ حجاز“ میں راہ پاگئے کہ اس اعتراف کے محض تین ہفتوں کے بعد علامہ وفات پاگئے اور انھیں یہ ہدایت دینے کا موقع نہ مل سکا کہ ان اشعار کو ”ارمغانِ حجاز“ میں شامل نہ کیاجائے، اگر کوئی ایسی صورت پیدا ہوجائے کہ ”ارمغانِ حجاز“ میں اس نظم کے ساتھ یہ صراحت کردی جائے کہ حقیقتِ حال سے آگاہ ہوجانے کے بعد علامہ مرحوم نے ان اشعار کو کالعدم قرار دے دیا تھا، تو بہت اچھا ہو؛ کیوں کہ اس تصریح کی بہ دولت قارئین حضرتِ اقدس کے خلاف سوءِ ظن سے محفوظ ہوجائیں گے“۔(۱۱)
مولانا حکیم فضل الرحمن سواتی نے بھی حافظ شیراز اور مسٹرمحمدعلی جناح کے تعلق سے علامہ موصوف کے ایرادات سے رجوع کی تفصیلات تحریر کرتے ہوئے یہی بات لکھی ہے۔‘‘
( مولانا حسین احمد مدنی ‘‘ نام کے فیس بک پیج سے نقل کیا ہے ،اس میں دارالعلوم دیوبند ویب سائٹ کا حوالہ دیا گیا ہے۔)
کچھ حصہ چھوٹ گیا ہے، وہ بھی درج کر رہا ہوں۔ بحوالہ حضرت شیخ الاسلام کی تصانیف تجزیہ و تعارف

ماہرِ اقبالیات وشارحِ کلیاتِ اقبال پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:

”حقیقتِ حال سے واقف ہونے کے بعد علامہ نے اپنا اعتراض واپس لے لیا تھا اور وہ اشعار محض اس وجہ سے ”ارمغانِ حجاز“ میں راہ پاگئے کہ اس اعتراف کے محض تین ہفتوں کے بعد علامہ وفات پاگئے اور انھیں یہ ہدایت دینے کا موقع نہ مل سکا کہ ان اشعار کو ”ارمغانِ حجاز“ میں شامل نہ کیاجائے، اگر کوئی ایسی صورت پیدا ہوجائے کہ ”ارمغانِ حجاز“ میں اس نظم کے ساتھ یہ صراحت کردی جائے کہ حقیقتِ حال سے آگاہ ہوجانے کے بعد علامہ مرحوم نے ان اشعار کو کالعدم قرار دے دیا تھا، تو بہت اچھا ہو؛ کیوں کہ اس تصریح کی بہ دولت قارئین حضرتِ اقدس کے خلاف سوءِ ظن سے محفوظ ہوجائیں گے“۔(۱۱)

مولانا حکیم فضل الرحمن سواتی نے بھی حافظ شیراز اور مسٹرمحمدعلی جناح کے تعلق سے علامہ موصوف کے ایرادات سے رجوع کی تفصیلات تحریر کرتے ہوئے یہی بات لکھی ہے۔(۱۲)

برسرِ مطلب:

حضرت مدنی کا رسالہ ”متحدہ قومیت اور اسلام“ اسی پس منظر میں تحریر کیاگیا ہے، حضرت نے اس بحث کے خاتمے کے بعد ارادہ کیا کہ اپنے نظریے کو واضح اور مدلل طور پر علامہ موصوف کے سامنے پیش کردیں؛ تاکہ ان کے دل سے شبہات واشکالات کا کانٹا بھی نکل جائے اور انھیں اپنے ان تسامحات کا بھی ادراک ہوجائے، جو ان سے قوم اورملت کی تشریح کے دوران سرزد ہوئے، کہ ناگاہ علامہ کے سانحہٴ ارتحال کا حادثہٴ جاں کاہ رونما ہوگیااور آپ کے عزم وارادے پر اوس پڑگیا، آپ نے رسالے کے آغاز میں لکھا ہے:

”بالآخر جب کہ میں قومیت کی لفظی بحث کے اختتام پر پہنچ کر مقصد اصلی سے نقاب اٹھانا چاہتا تھا، ناگاہ جناب ڈاکٹر صاحب مرحوم ومغفور کے وصال کی خبر شائع ہوگئی، اس ناساز اور دل گداز خبر نے خرمنِ خیالات وعزائم افکار پر صاعقہ کا کام کیا، طبیعت بالکل بجھ گئی اور عزائم فسخ ہوگئے، تحریر شدہ اوراق کو طاقِ نسیاں کے سپرد کردینا ہی انسب معلوم ہوا“۔(۱۳)

مگر جن لوگوں نے اس بحث کو دیکھا اور سنا تھا، انھیں اس سے غیرمعمولی دلچسپی تھی اور وہ یہ چاہتے تھے کہ حضرت مدنی کی مفصل تحریر سامنے آئے؛ تاکہ صورتِ مسئلہ بے غبار ہوکر اطمینانِ قلب کا باعث ہو؛ اس وجہ سے آپ نے اس تعلق سے اپنی لکھی ہوئی تحریروں کو یک جا کرکے چھاپنے کی اجازت دے دی۔

یہ کتاب متعلقہ مسئلے پر انتہائی مدلل اور محقق ہے، آپ نے پہلے تو قوم، ملت اور امت پر امہاتِ کتب لغت کی روشنی میں پُرمغز گفتگو کی ہے اور ان کے ادبی لطائف کو آشکار کیا ہے، اس کے بعد نبی پاک کے طرزِ عمل سے متحدہ قومیت کے تصور کو ثابت کیا ہے، اس سلسلے میں آپ نے اس معاہدے کو بنیادِ تحریر بنایا ہے، جو آپ نے مدینہ پہنچنے کے بعد وہاں کے قبائل یہود سے کیے تھے، آپ نے اس کی چند دفعات کا ذکر کیا ہے، جن میں صراحت ہے کہ ہرمذہب کا ماننے والا مذہبی امور میں تو اپنے اپنے مذہب کا ہی پابند ہوگا؛ مگر ملکی، سیاسی اور جنگی امور میں سب ایک اور متحد ہوں گے اور ایک دوسرے کے حلیف، اس سلسلے میں آپ نے جمعیة علماے ہند کے اجلاس منعقدہ پشاور دسمبر ۱۹۲۷/ میں پیش کردہ حضرت علامہ شاہ کشمیری کے خطبہ صدارت سے بھی استدلال کیا ہے، جس میں انھوں نے بھی میثاقِ مدینہ کو متحدہ قومیت کی اساس قرار دیا تھا، اسی طرح گول میز کانفرنس نومبر ۱۹۳۰/ میں کی گئی رئیس الاحرار مولانا محمد علی جوہر کی اس معرکہ آرا تقریر کا بھی حوالہ دیا ہے، جس میں انھوں نے کہاتھاکہ مذہب کے معاملے میں میں اوّل، دوم اور آخر مسلمان ہوں اور سواے مسلمان کے کچھ بھی نہیں اور جن امور کا تعلق ہندوستان سے، اس کی آزادی سے اور اس کی فلاح وبہبود سے ہے، تو ان میں میں اوّل ہندوستانی ہوں، دوم ہندوستانی ہوں اور آخر ہندوستانی ہوں اور ہندوستانی کے سوا کچھ نہیں، اسی طرح سرسید مرحوم کی مختلف تحریریں بھی استشہاداً پیش کی ہیں، آپ نے انگریز مفکرین کی تحریروں کی روشنی میں یہ واضح کیاہے کہ متحدہ قومیت کے نظریے سے اختلاف اور دوقومی نظریے کی بانگ بلند کرنا، یہ انگریزی تدبیر اور چال بازی کا نتیجہ تھا۔

یہ رسالہ گو ایک خاص پس منظر میں لکھا گیاتھا؛ مگر آج دو قومی نظریوں اور اسلامیت کی بنیاد پر حاصل کیاگیا خطہٴ زمین تمام تر غیراسلامی اعمال کی آماج گاہ بن چکا ہے اور وہاں بسنے والی اسلامی نسل کا لمحہ لمحہ ہلاکتوں، بربادیوں اور بیش از بیش خطرات کے مایا جال میں گھرا ہوا ہے ۔
 

فلسفی

محفلین
یہ رسالہ گو ایک خاص پس منظر میں لکھا گیاتھا؛ مگر آج دو قومی نظریوں اور اسلامیت کی بنیاد پر حاصل کیاگیا خطہٴ زمین تمام تر غیراسلامی اعمال کی آماج گاہ بن چکا ہے اور وہاں بسنے والی اسلامی نسل کا لمحہ لمحہ ہلاکتوں، بربادیوں اور بیش از بیش خطرات کے مایا جال میں گھرا ہوا ہے
محترم ان الفاظ کی شاید ضرورت نہیں تھی۔ پاکستان کو چھوڑ آپ کوئی ایسا خطہ بتا دیجیے جہاں غیر اسلامی اعمال نہ ہوتے ہوں۔ جب مجموعی صورتحال ہی ایسی ہے تو پاکستان کی تخصیص کیوں؟ کم از کم گجرات جیسے واقعات اور آج کل مودی سرکار کے زیر عتاب مسلمانوں جیسی حالت تو نہیں۔ یہ ویسے بھی ایک بحث طلب موضوع ہے۔ جن حضرات کو لگتا ہے وہ ہندوستان میں خوش ہیں، تو وہ وہاں خوش رہیں ان کی رائے کا احترام، لیکن اس اختلاف کی بنیاد پر مزید اختلافات کو ہوا دینے کا کیا فائدہ؟ اچھا وہاں بھی بہت کچھ ہوتا ہو گا، اچھا یہاں بھی بہت کچھ ہے۔ بس جو جہاں ہے اللہ پاک اس کی جان مال عزت آبرو کی حفاظت فرمائے آمین
 

فاخر

محفلین
یہ رسالہ گو ایک خاص پس منظر میں لکھا گیاتھا؛ مگر آج دو قومی نظریوں اور اسلامیت کی بنیاد پر حاصل کیاگیا خطہٴ زمین تمام تر غیراسلامی اعمال کی آماج گاہ بن چکا ہے اور وہاں بسنے والی اسلامی نسل کا لمحہ لمحہ ہلاکتوں، بربادیوں اور بیش از بیش خطرات کے مایا جال میں گھرا ہوا ہے ۔
اس پر میں اعتراض کرسکتاہوں ؛کیوں کہ:’ آپ نے ایک ایسی شق کو منتخب کیاہے جو کہ اس وقت مناسب نہیں ہیں‘۔ ہمارے اس محفل میں جتنے بھی کرم فرما ہیں ان میں 99فیصدی افراد اسی خطہ سے تعلق رکھتے ہیں جس خطہ کا آپ نے ذکر کیا ہے۔ یہ تمام افراد جانتے ہیں کہ بلہے شاہ کی زمین قصور میں ’’بند حویلی‘‘ میں کیا ہوتا رہا تھا،( جس کی فائل ہی غائب کردی گئی) ہیرا منڈی میں کیا ہوتا ہے ۔ یہ کوئی بتانے کی چیز نہیں ہے ۔ لیکن تکلیف اس وقت ہوتی ہے کہ جب مذہب اسلام کے نام پر حاصل کردہ سرزمین میں ایسے ایسے گناہ واقع ہوں جن پر گزشتہ قوموں پر عذابِ الٰہی نازل ہوا ہے۔ رہی بات ہندوستان یا پھر دیگر خطہ غیر بلادِ اسلامیہ کی تو پھر یہاں کے کہنے ہی کیا؟ اب تو مشرقی روایات کے دلدادہ معاشرہ (ہندوستان) میں ہم جنس پرستی جواز کی صورت اختیار کرگئی ہے۔ ’لاحول ولا قوۃ‘
 
مدیر کی آخری تدوین:

شکیب

محفلین
محترم ان الفاظ کی شاید ضرورت نہیں تھی۔ پاکستان کو چھوڑ آپ کوئی ایسا خطہ بتا دیجیے جہاں غیر اسلامی اعمال نہ ہوتے ہوں۔ جب مجموعی صورتحال ہی ایسی ہے تو پاکستان کی تخصیص کیوں؟ کم از کم گجرات جیسے واقعات اور آج کل مودی سرکار کے زیر عتاب مسلمانوں جیسی حالت تو نہیں۔ یہ ویسے بھی ایک بحث طلب موضوع ہے۔ جن حضرات کو لگتا ہے وہ ہندوستان میں خوش ہیں، تو وہ وہاں خوش رہیں ان کی رائے کا احترام، لیکن اس اختلاف کی بنیاد پر مزید اختلافات کو ہوا دینے کا کیا فائدہ؟ اچھا وہاں بھی بہت کچھ ہوتا ہو گا، اچھا یہاں بھی بہت کچھ ہے۔ بس جو جہاں ہے اللہ پاک اس کی جان مال عزت آبرو کی حفاظت فرمائے آمین
میں نے بس پوری بات نقل کر دی ہے۔ مذکورہ اقتباس سے میں بھی اتفاق نہیں رکھتا۔

رہی بات دو قوموں والی، تو میرے مطالعے نے مجھے اس نتیجے پر پہنچایا ہے کہ (اِس زمانے میں) دونوں ہی جانب والے ایک دوسرے کے موقف کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ایک جملہ شاید کچھ حد تک آپ کی غلط فہمی دور کر دے:

ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارے حدود کیا ہیں، ہم انضمام کبھی نہیں کریں گے ہم اتحاد و اشتراک کے قائل ہیں انضمام کے نہیں، اور یہ جو احساس و شعور ہے کہ کس حد تک ہم ساتھ دیں گے اور کن حدود کے آگے ہم ایک انچ نہیں بڑھیں گے یہ بغیر علماء کی قیادت کے سنبھالا نہیں جا سکتا۔ (خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی دامت برکاتہم)

یہ بھی اس لیے کہہ دیا کیونکہ میں آپ کو اپنی ہی طرح معتدل مزاج سمجھتا ہوں۔ دوسروں کو لڑنے دیں۔
بلکہ کہیں تو ہم دونوں مل کر ایک دوسرے سے اپنے اپنے نظریات انباکس میں شیئر کر کے کسی نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ :)
 
Top