اپنا تو شناسا نہیں اس شہر میں کوئی ... باقی احمد پوری

الشفاء

لائبریرین
-
اپنا تو شناسا نہیں اس شہر میں کوئی
جُھوٹا بھی دلاسا نہیں اس شہر میں کوئی
-
ہر شخص لیے پھرتا ہے مشکیزۂ بے آب
جیسے کہ پیاسا نہیں اس شہر میں کوئی
-
تھک ہار کے بیٹھیں گے کہاں تیرے مسافر
سایہ تو ذرا سا نہیں اس شہر میں کوئی
-
ہر چہرہ ہے دُکھ درد کی بے انت کہانی
پڑھنے کو خلاصہ نہیں اس شہر میں کوئی
-
یہ لوگ یزیدوں کی طرح ظُلم نہ کرتے
احمدؐ کا نواسا نہیں اس شہر میں کوئی
-
اک تُو ہے جسے دیکھنے آتا ہے زمانہ
اب اور تو خاصہ نہیں اس شہر میں کوئی
-
لگتا ہے فقیروں کی ابھی قدر ہے باقیؔ
ٹُوٹا ہوا کاسہ نہیں اس شہر میں کوئی
-----​
باقی احمد پوری​
 

طارق شاہ

محفلین
خوش آمدید اور اس اچھی پیشکش پر داد !
امید ہے آپ کی آمد اور شرکت سے اچھی اچھی غزلیں پڑھنے کو ملیں گی
 

سید زبیر

محفلین
یہ لوگ یزیدوں کی طرح ظلم نہ کرتے
احمد کا نواسہ نہیں اس شہر میں کوئی
سبحان اللہ ۔۔۔۔۔ بہت عمدہ انتخاب ۔۔۔۔۔ جزاک اللہ
 

کاشفی

محفلین
ہر چہرہ ہے دُکھ درد کی بے انت کہانی
پڑھنے کو خلاصہ نہیں اس شہر میں کوئی
بہت ہی عمدہ ۔ بہت خوب شراکت ہے۔۔جیتی رہیئے۔۔خوش رہیئے۔۔
 

الشفاء

لائبریرین
ہر چہرہ ہے دُکھ درد کی بے انت کہانی
پڑھنے کو خلاصہ نہیں اس شہر میں کوئی
بہت ہی عمدہ ۔ بہت خوب شراکت ہے۔۔جیتی رہیئے۔۔خوش رہیئے۔۔

بہت شکریہ کاشفی صاحب۔۔۔
اپنے اس بھائی کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھئے گا۔۔۔
 

باباجی

محفلین
واہ بہت عمدہ کلام

اک تُو ہے جسے دیکھنے آتا ہے زمانہ
اب اور تو خاصہ نہیں اس شہر میں کوئی
 
Top