عدیم ہاشمی اُڑ کر کبُوتر ایک سرِ بام آ گیا۔ عدیم ہاشمی

شیزان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 8, 2013

  1. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool
    اُڑ کر کبُوتر ایک سرِ بام آ گیا
    مجھ کو یہی لگا ترا پیغام آ گیا
    میں گِن رہا تھا آج پُرانی محبتیں
    ہونٹوں پہ آج پھر سے ترا نام آ گیا
    رکھا تھا ہاتھ نبض پہ چُھونے کے واسطے
    اُس نے یہ کہہ دیا ، مجھے آرام آ گیا
    احساں کا ڈھنگ ڈھونڈتے پھرتے رہے عزیز
    جو یار تھا عدیم، مرے کام آ گیا
    وہ اِک نظر عدیم جو بیمار کر گئی
    اُس اِک نظر ہی سے مجھے آرام آ گیا
    نذرِ مصحفی
    عدیم ہاشمی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر