اختر شیرانی اُن کو بُلائیں اور وہ نہ آئیں تو کیا کریں؟ - اختر شیرانی

کاشفی

محفلین
غزل
:idontknow:
اُن کو بُلائیں اور وہ نہ آئیں تو کیا کریں؟
بےکار جائیں اپنی دعائیں تو کیا کریں ؟

اِک زہرہ وش ہے آنکھ کے پردوں میں جلوہ گر
نظروں میں آسماں نہ سمائیں تو کیا کریں؟

مانا کہ سب کے سامنے ملنے سے ہے حجاب
لیکن وہ خواب میں بھی نہ آئیں تو کیا کریں؟

ہم لاکھ قسمیں کھائیں نہ ملنے کی سب غلط
وہ دُور ہی سے دل کو لُبھائیں تو کیا کریں؟

بدقسمتوں کا ، یاد نہ کرنے پہ ہے یہ حال
اللہ ، گر وہ یاد نہ آئیں تو کیا کریں؟

ناصح، ہماری توبہ میں کچھ شک نہیں مگر
شانہ ہلائیں آ کے گھٹائیں تو کیا کریں؟

میخانہ دُور ، راستہ تاریک ، ہم مریض
منہ پھیر دیں اُدھر جو ہوائیں تو کیا کریں؟

راتوں کے دل میں یاد بسائیں کسی کی ہم!
اخترحرم میں وہ نہ بلائیں تو کیا کریں؟

(اختر شیرانی)
 

مغزل

محفلین
ناصح، ہماری توبہ میں کچھ شک نہیں مگر
شانہ ہلائیں آ کے گھٹائیں تو کیا کریں؟

آہا آہا ، کیا تیور ہیں ، کیا زبان ہے واہ

بہت خوب جناب کاشفی ، بہت خوب ، کیا حسنِ انتخاب ہے واہ
 
Top