جاسمن

مدیر
IMG-20181010-_WA0035.jpg
 

جاسمن

مدیر
بہاولپور میں چوک شہزادی،جامعہ مسجد کے قریب آپ انھیں روز کھڑا ہوا دیکھ سکتے ہیں۔ یہ چوہے مار دوا بیچتے ہیں۔
اس بڑھاپے میں کھڑے ہو کے ایک چھوٹے سے ذریعہ سے روزی کمانا بہت بڑی عظمت ہے۔
20181229-163433.jpg
 

جاسمن

مدیر
اگر آپ کی جیب اجازت دے تو بنا مقصد کے بھی ایسے لوگوں سے خریداری کر لینی چاہیے۔چاہے بعد میں آپ وہ چیز کسی کو دے دیں۔
 
ایک تصویر ایک کہانی

news-1546663518-4180.jpg

اس خاتون کا نام پروین ہے جو کہ ملتان کی رہائشی ہے سنگھ پورہ ریلوے کے ایک پلاٹ میں سبزی و دیگر اشیا کے لئے ٹوکریاں بناتی ہے اس نے بتایا کہ وہ پوری فیملی ایک جھگی میں رہتے ہیں اور درختوں کی ٹہنی سے ٹوکریاں بناتے ہیں ٹوکریاں بنا کر وہ لوکو شاپ جمعہ بازار اور اتوار بازار میں جا کر ٹوکریاں فروخت کرتی ہیں۔ اس نے بتایا کہ یہ کام لاہور میں کامیاب نہیں رہا اب ایک دو روز میں واپس چلے جائیں گے۔ ٹھیکیدار درختوں کی ٹہنیاں لا کر دیتا ہے اس کو بھی پیسے دینے ہوتے ہیں اور پوری فیملی کا خرچہ بھی چلانا ہے جو کہ مشکل ہو گیا ہے۔ ٹوکری دو سو روپے میں فروخت کرتے ہیں مگر خریدار سو روپے بمشکل دیتا ہے محنت کرکے بھی مزدوری پوری نہیں مل رہی۔ مہنگائی زیادہ ہے اجرت کم ملتی ہے اس لئے اپنے شہر ملتان واپس جا رہے ہیں۔
 

محمد وارث

لائبریرین
اللہ جنت نصیب کرے نانی اماں مرحومہ کو، ان کی سنائی ایک کہانی یاد آ گئی جو وہ مدتوں پہلے کبھی ہمارے بچپن میں سنایا کرتی تھیں (ان کو فوت ہوئے بھی تیس پینتیس سال ہو گئے)، کہانی سیالکوٹ کی "مذمت" میں ہوتی تھی کہ پنجاب کے کسی دور دراز کے علاقے سے ایک ہندو نے اپنے ماں باپ کو اسی طرح دو پلڑوں میں اٹھایا اور عزم کیا کہ انہیں کشمیر میں کسی مندر کی زیارت کروائے گا (سیالکوٹ کو گیٹ وے ٹو کشمیر کہا جاتا ہے)۔ اس نے ہفتوں تک اسی طرح اپنے بوڑھے ماں باپ کو اٹھا کر پا پیادہ سفر کیا لیکن جب کشمیر کے قریب پہنچا تو انہیں پٹخ دیا اور کہا کہ اب مجھ سے نہیں اٹھایا جاتا۔ اس کے والد نے پوچھا بیٹا یہ کونسی جگہ ہے تو اُس نے کہا سیالکوٹ۔ والد بولا کہ بیٹا تیرا کوئی قصور نہیں، یہ جگہ ہی ایسی ہے! :)
 
احترامات رنگوں کے مفہوم کیسے پہچانے جائیں جیسے پیار اور محبت کی سرخ لال گلاب سمجھاجاتا ہے اس طرح پیلا جدائی کا یہ دوسرے رنگ ادب کی زبان میں محبت کی زبان میں کیسے سمجهیں جائیں
 

محمداحمد

لائبریرین
اللہ جنت نصیب کرے نانی اماں مرحومہ کو، ان کی سنائی ایک کہانی یاد آ گئی جو وہ مدتوں پہلے کبھی ہمارے بچپن میں سنایا کرتی تھیں (ان کو فوت ہوئے بھی تیس پینتیس سال ہو گئے)، کہانی سیالکوٹ کی "مذمت" میں ہوتی تھی کہ پنجاب کے کسی دور دراز کے علاقے سے ایک ہندو نے اپنے ماں باپ کو اسی طرح دو پلڑوں میں اٹھایا اور عزم کیا کہ انہیں کشمیر میں کسی مندر کی زیارت کروائے گا (سیالکوٹ کو گیٹ وے ٹو کشمیر کہا جاتا ہے)۔ اس نے ہفتوں تک اسی طرح اپنے بوڑھے ماں باپ کو اٹھا کر پا پیادہ سفر کیا لیکن جب کشمیر کے قریب پہنچا تو انہیں پٹخ دیا اور کہا کہ اب مجھ سے نہیں اٹھایا جاتا۔ اس کے والد نے پوچھا بیٹا یہ کونسی جگہ ہے تو اُس نے کہا سیالکوٹ۔ والد بولا کہ بیٹا تیرا کوئی قصور نہیں، یہ جگہ ہی ایسی ہے! :)

یہ حکایت ہم نے بھی سنی ہے اسی طرح! :)
 
احترامات رنگوں کے مفہوم کیسے پہچانے جائیں جیسے پیار اور محبت کی سرخ لال گلاب سمجھاجاتا ہے اس طرح پیلا جدائی کا یہ دوسرے رنگ ادب کی زبان میں محبت کی زبان میں کیسے سمجهیں جائیں
الفاظ کے معنی ، مفہوم اور احساسات کی پہچان یا سمجھنے کے لیے آپ لکھنے سے زیادہ اپنے مطالعہ پر توجہ دیں ۔ان شاء اللہ آپ کی یہ خامی بہت جلد دور ہو جائے گی ۔
 

محمداحمد

لائبریرین
الفاظ کے معنی ، مفہوم اور احساسات کی پہچان یا سمجھنے کے لیے آپ لکھنے سے زیادہ اپنے مطالعہ پر توجہ دیں ۔ان شاء اللہ آپ کی یہ خامی بہت جلد دور ہو جائے گی ۔

اور ریڈیو سُنیں یا ٹی وی دیکھیں ، ایسے چینلز جہاں اچھی اردو بولی جاتی ہو۔ تاکہ اردوسننا اور بولنا بھی آسان ہو جائے۔
 
Top