اُس کے آنے کی کوئی لے کے خبر آیا ہے

فاخر

محفلین
غزل
بغرض اصلاح
فاخر

مصرعہ طرح :
پھر وہی جلوۂ جانانہ نظر آیا ہے
صاحب طرح حضرت مولانا عامر عثمانی مدیر ماہنامہ تجلی، دیوبند

پھر وہی جلوۂ جانانہ نظر آیا ہے
یعنی وہ دلبر و تمثالِ شرر آیا ہے

بارہا دل پہ ہوا کرتی ہے میرے دستک
اُس کے آنے کی کوئی لے کے خبر آیا ہے

قتل ہونے کو میں تیار ہوں اب تو بخدا
آنے بھی دو اسے، آئے، وہ اگر آیا ہے

قابلِ دید ہے ہمت مرے قاتل کی بھی
قتل کرنے کو وہ بے خوف و خطر آیا ہے

یہ گماں تھا، مرا امروز کہ تیغ و خنجر
لے کے ہر چیز، وُہ بھی زود اثر آیا ہے

وائے افسوس کہ وہ کر نہ سکا قتل مجھے
کیوں کہ قاتل ہی مرا نقص ہنر آیا ہے

تو نے عامرؔ کی زمیں میں جو غزل لکھّی ہے
اس لئے شعر ترا خوب نکھر آیا ہے


یہ میری وه پہلی کاوش ہے جو ایک هی نشست میں مکمل هوئی ہے۔
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
پھر وہی جلوۂ جانانہ نظر آیا ہے
یعنی وہ دلبر و تمثالِ شرر آیا ہے
تمثال شرر اچھی ترکیب نہیں لگی
بارہا دل پہ ہوا کرتی ہے میرے دستک
اُس کے آنے کی کوئی لے کے خبر آیا ہے
درست
قتل ہونے کو میں تیار ہوں اب تو بخدا
آنے بھی دو اسے، آئے، وہ اگر آیا ہے
دوسرا مصرع مزید رواں ہو سکتا ہے جیسے
اس کو آنے دو وہ آ جائے، اگر ...
قابلِ دید ہے ہمت مرے قاتل کی بھی
قتل کرنے کو وہ بے خوف و خطر آیا ہے
درست
یہ گماں تھا، مرا امروز کہ تیغ و خنجر
لے کے ہر چیز، وُہ بھی زود اثر آیا ہے
درست نہیں ہوا، الفاظ اور ان کی ترتیب قابل قبول نہیں ۔ تیغ و خنجر کو دوسرے مصرعے میں ہی لانے کی کوشش کریں، 'وہ بھی' کو 'وبی' بننا بھی اچھا نہیں
وائے افسوس کہ وہ کر نہ سکا قتل مجھے
کیوں کہ قاتل ہی مرا نقص ہنر آیا ہے
واضح نہیں ہو سکا
تو نے عامرؔ کی زمیں میں جو غزل لکھّی ہے
اس لئے شعر ترا خوب نکھر آیا ہے


یہ میری وه پہلی کاوش ہے جو ایک هی نشست میں مکمل هوئی ہے۔
درست
 
Top