اُسوہ صحابیات ( رضی اللہ تعالی عنہن)

تانیہ

محفلین
السلام علیکم پیارے ساتھیو!
کچھ دن پہلے ایک بہت پیاری کتاب صحابیات رضی اللہ تعالی عنہن کے بارے میں پڑھنے کو ملی جسکی تحریر و ترتیب
جناب مولانا سعید انصاری صاحب اور جناب مولانا عبدالسلام ندوی صاحب نے کی ہے
یہ کتاب مستند حوالوں سے ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن، بنات طاہرات رضی اللہ تعالی عنہن اور اکابر صحابیات رضی اللہ تعالی عنہن کے مفصل سوانح حیات، انکے مذہبی، علمی اور اخلاقی کارناموں کی پوری تفصیل اور صحابیات رضی اللہ تعالی عنہن کی پاکیزہ و مجاہداہ زندگی کا مکمل اسوہ حسنہ ہے
مسلمان عورتیں زمانہ کے نئے حالات سے بدل رہی ہیں انکے سامنے سعادتمند خواتین کا کوئی اسوہ موجود نہیں اسلیئے انکا راہ سے ہٹنا دو راز عقل نہیں، لیکن اگر ہماری خواتین اس کتاب کو اپنی زندگی کا نمونہ بنائیں تو انہیں معلوم ہو گا کہ دینداری، خدا ترسی، پاکیزگی، عفت اور اصلاح و تقویٰ کے ساتھ وہ دنیا کو کیونکر نباہ سکتی ہیں اور دنیا و آخرت دونوں کی نیکیوں کو اپنے آنچل میں کیسے سمیٹ سکتی ہیں،
میں نے اس کتاب کو ہمارے بہت محترم ساتھی حافظ زوہیب احمد صاحب جو اپنی اردو کی خدمات کے لیے کسی تعارف کے محتاج نہیں کے اردو انسائیکلو پیڈیا کے لیے ٹائپ کیا اور میں چاہونگی کہ میں اپنے یہاں تمام موجود ساتھیوں سے بھی شیئر کروں ، امید ہے آپ سبکو بھی اس میں صحابیات رضی اللہ تعالی عنہن کی زندگی کے بارے میں تمام تحاریر پڑھنے کے بعد اتنا ہی مزا آئے گا ، ہمت بندھے گی ، ایمان تازہ ہو گا اور خوشی ہو گی جیسا کہ میں اسکو پڑھنے کے بعد محسوس کرتی ہوں ۔۔۔۔
23j0krt.gif

(میں اس کتاب میں موجود تمام صحابیات رضی اللہ تعالی عنہن کو ایک ایک موضوع سے اسی لڑی میں شیئر کرونگی تا کہ تمام ساتھی دلجمعی سے پڑھ سکیں اور مستفید ہوں)
 

تانیہ

محفلین
حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ
نام و نسب:۔
خدیجہ نام، ام ہند کنیت، طاہرہ لقب، سلسلہ نسب یہ ہے۔ خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزی بن قصی، قصی پر پہنچ کر انکا خاندان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان سے مل جاتاہے۔ والدہ کا نام فاطمہ بنت زائدہ تھا، اور لوری بن غالب کے دوسرے بیٹے عامر کی اولاد تھیں۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے والد اپنے قبیلے میں نہایت معزز شخص تھے۔ مکہ آکر اقامت کی، عبد الدارین ابن قصیٰ کے جوان کے ابن عم تھے، حلیف بنے اور یہیں فاطمہ بنت زائدہ سے شادی کی، جن کے بطن سے عام الفیل سے 15 سال قبل حضرت خدیجہ اللہ تعالی عنہ پیدا ہوئیں،(طبقات ابن سعدج8و) سنِ شعور کو پہنچیں تو اپنے پاکیزہ اخلاق کی بنا پر طاہرہ(اصابہ ج8ص60) کے لقب سے مشہور ہوئیں،
نکاح:۔
باپ نے ان صفات کا لحاظ رکھ کر شادی کے لیے ورقہ بن نوفل کو جو برادر زادہ اور تورات و انجیل کے بہت بڑے عالم تھے، منتخب کیا، لیکن پھر کسی وجہ سے یہ نسبت نہ ہو سکی اور ابوہالہ بن بناش تمیمی سے نکاح ہو گیا۔(استیعاب ج2ص378) ابوہالہ کے بعد عتیق بن عابد مخزومی کے عقد نکاح میں آئیں، اسی زمانہ میں حرب الفجار چھڑی، جس میں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے باپ لڑائی کے لیے نکلے اور مارے گئے(طبقات ج8صفحہ9) یہ عام الفیل سے 20 سال بعد کا واقعہ ہے۔(ایضاًص81ج1ق1)
تجارت:۔
باپ اور شوہر کے مرنے سے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کو سخت دقت واقع ہوئی، ذریعہ معاش تجارت تھی جسکا کوئی نگران نہ تھا تاہم اپنے اعزہ کو مال تجارت دیکر بھیجتی تھیں، ایک وقت مال کی روانگی کا وقت آیا تو ابو طالب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ تمکو خدیجہ( رضی اللہ تعالی عنہ) سے جا کر ملنا چاہیے، انکا مال شام جائے گا۔ بہتر ہےکہ تم بھی ساتھ لے جاتے، میرے پاس روپیہ نہیں ورنہ میں خود تمھارے لیے سرمایہ مہیا کر دیتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شہرت"امین" کے لقب سے تمام مکہ میں تھی اور آپکے حسن معاملت، راست بازی، صدق و دیانت اور پاکیزہ اخلاقی کا چرچا عام تھا، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کو اس گفتگو کی خبر ملی تو فورا پیغام بھیجا کہ"آپ میرا مال تجارت لیکر شام جائیں، جو معاوضہ اوروں کو دیتی ہوں آپکو اسکا مضاعف دونگی۔"آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرمالیا اور مالِ تجارت لیکر میسرہ(غلام خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ) کے ہمراہ بصری تشریف لے گئے، اس سال کا نفع سال ہائے گزشتہ کے نفع سے مضاعف تھا،(طبقات ج اق اص81) حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد نکاح میں آتی ہیں:۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کی دولت و ثروت اور شریفانہ اخلاق نے تمام قریش کو اپنا گرویدہ بنا لیاتھا، اور ہر شخص ان سے نکاح کا خواہاں تھا، لیکن کارکنان قضاوقدر کی نگاہ انتخاب کسی اور پر پڑچکی تھی، آنحضرت مال تجارت لیکر شام سے واپس آئے تو حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ نے شادی کا پیغام بھیجا، نفیسہ بنت مینہ(یعلی بن امیہ کی ہمشیر) اس خدمت پر مقرر ہوئی،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منظور فرمایا،(ایضاً ص84) اور شادی کی تاریخ مقرر ہو گئی، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے والد اگرچہ وفات پا چکے تھے تاہم انکے چچا عمروبن اسد زندہ تھے، عرب میں عورتوں کو یہ آزادی حاصل تھی کہ شادی بیاہ کے متعلق خود گفتگو کر سکتی تھیں، اسی بناء پر حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ نے چچا کے ہوتے ہوئے خود براہ راست تمام مراتب طے کئے، تاریخ معین پر ابوطالب اور تمام رؤسائے خاندان جن میں حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ بھی تھے، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے مکان پر آئے، حضرت خدیجہ نے بھی اپنے خاندان کے چند بزرگوں کو جمع کیا تھا، ابوطالب نے خطبہ نکاح پڑھا۔ عمروبن اسد کے مشورہ سے 500 طلائی درہم مہر قرار پایا اور خدیجہ طاہرہ رضی اللہ تعالی عنہ حرم نبوت ہو کر ام المومنین نے شرف سے ممتاز ہوئیں، اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پچیس سال کے تھے اور حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کی عمر چالیس برس کی تھی۔ یہ بعثت سے پندرہ سال قبل کا واقعہ ہے،(اصابہ ج8ص60)
اسلام:۔
پندرہ برس کے بعد جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پیغمبر ہوئے اور فرائض نبوت کو ادا کرنا چاہا تو سب سے پہلے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ پیغام سنایا وہ سننے سے پہلے مومن تھیں، کیونکہ ان سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدق دعویٰ کا کوئی شخص فیصلہ نہیں کر سکتا تھا، صحیح بخاری باب بدۤالوحی میں یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ مذکور ہے اور وہ یہ ہے، "حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتدا رویائے صادقہ سے ہوئی آپ جو کچھ خواب میں دیکھتے تھے سپیدۂ۔۔۔۔۔ صبح کی طرح نمودار ہو جاتا تھا، اسکے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم خلوت گزیں ہو گئے، چنانچہ کھانے پینے کا سامان لیکر غار حرا تشریف لے جاتے اور وہاں تخث یعنی عبادت کرتے تھے۔ جب سامان ہو چکتا تو پھر خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس تشریف لاتے اور پھر واپس جا کے مراقبہ میں مصروف ہوتے یہاں تک کہ ایکدن فرشتہ غیب نظر آیا کہ آپ سے کہہ رہا ہے پڑھ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں پڑھا لکھا نہیں، اس نے زور سے دبایا، پھر مجھکو چھوڑ دیا، اور کہا پڑھ تو میں نے پھر کہا کہ میں پڑھا لکھا نہیں پھر اس نے دوبارہ زور سے دبایا اور چھوڑ دیا اور کہا پڑھ پھر میں نے کہا میں پڑھا لکھا نہیں اسی طرح تیسری دفعہ دبا کر کہا کہ پڑھ اس خدا کا نام جس نے کائنات کو پیدا کیا۔ جس نے آدمی کو گوشت کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ پڑھ تیرا خدا کریم ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے تو جلال الہی سے لبریز تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا مجھکو کپڑا اڑھاؤ، مجھکو کپڑا اڑھاؤ، لوگوں نے کپڑا اڑھایا تو ہیبت کم ہوئی پھر حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ سے تمام واقعہ بیان کیا اور کہا"مجھکو ڈر ہے" حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم متردد نہ ہوں، خدا آپکا ساتھ نہ چھوڑے گا، کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، بےکسوں اور فقیروں کے معاون رہتے ہیں، مہمان نوازی اور مصائب میں حق کی حمایت کرتے ہیں پھر وہ آپکو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو مذہباً نصرانی تھے عبرانی زبان جانتے تھے اور عبرانی زبان میں انجیل لکھا کرتے تھے، اب وہ بوڑھے اور نابینا ہو گئے تھے۔ خدیجہ نے کہا اپنے بھتیجے(آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم) کی باتیں سنو، بولے ابن الاخ تو نے کیا دیکھا؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعہ کی کیفیت بیان کی تو کہا یہ وہی ناموس ہے جو موسی پر اترا تھا۔ کاش مجھ میں اس وقت قوت ہوتی اور زندہ رہتا جب آپکی قوم آپکو شہر بدر کرے گی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا یہ لوگ مجھے نکال دینگے؟ ورقہ نے جواب دیا ہاں جو کچھ آپ پر نازل ہوا جب کسی پر نازل ہوتا ہے تو دنیا اسکی دشمن ہو جاتی ہے اور اگر اس وقت تک میں زندہ رہا تو تمھاری وزنی مدد کرونگا۔ اسکے بعد ورقہ کا بہت جلد انتقال ہو گیا اور وحی کچھ دنوں کے لیے رک گئی،(صحیح بخاری ج اص2، 3 ) اس وقت تک نماز پنجگانہ فرض نہ تھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نوافل پڑھا کرتے تھے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ بھی آپکے ساتھ نوافل میں شرکت کرتی تھیں، ابن سعد کہتے ہیں(طبقات ج8ص10) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ ایک عرصہ تک خفیہ طور پر نماز پڑھا کیئے۔ عفیف کندی سامان خریدنے کے لیے مکہ آئے، اور حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر میں فروکش ہوئے، صبح کے وقت ایکدن کعبہ کی طرف نظر تھی۔ دیکھا کہ ایک نوجوان آیا اور آسمان کی طرف قبلہ رُخ کھڑا ہو گیا۔ پھر ایک لڑکا اسکے داہنی طرف کھڑا ہوا، پھر ایک عورت دونوں کے پیچھے کھڑی ہوئی، نماز پڑھ کر یہ لوگ چلے گئے، تو عفیف نے حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا کہ کوئی عظیم الشان واقعہ پیش آنے والا ہے، حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے جوابدیا، ہاں، پھر کہا جانتے ہو یہ نوجوان کون ہے؟ یہ میرا بھتیجا محمد ہے، یہ دوسرا بھتیجا علی ہے اور یہ محمد کی بیوی(خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ) ہے، میرے بھتیجے کا خیال ہے کہ اسکا مذہب پروردگار عالم کا مذہب ہے اور جو کچھ کرتا ہے اسکے حکم سے کرتا ہے، دنیا میں جہاں تک مجھکو علم ہے اس خیال کے صرف یہی تین شخص ہیں،(ایضاً ص 10، 11) عقیلی اس روایت کو ضعیف سمجھتے ہیں، لیکن ہمارے نزدیک اسکے ضعیف ہونے کی کوئی وجہ نہیں، درایت کے لحاظ سے اس میں کوئی خرابی نہیں، روایت کی حیثیت سے اسکے ثبوت کے متعدد طریق ہیں محدث ابن سعد نے اسکو نقل کیا ہے، بغوی، ابویعلی اور نسائی نے اسکو اپنی کتابوں میں جگہ دی ہے، حاکم، ابن حثیمہ، ابن مندہ اور صاحبِ غیلانیات نے اسے مقبول مانا ہے۔ اور سب سے بڑھکر یہ کہ اسکو امام بخاری نے اپنی تاریخ میں درج کیا ہے اور اسکو صحیح کہا ہے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ نے صرف نبوت کی تصدیق ہی نہیں کی بلکہ آغاز اسلام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی معین و مددگار ثابت ہوئیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو چند سال تک کفار مکہ اذیت دیتے ہوئے ہچکچاتے تھے۔ اس میں بڑی حد تک حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کا اثر کام کر رہا تھا، اوپرگزرچکا ہے۔ کہ آغاز نبوت میں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ الفاظ نکلے کہ"مجھکو ڈر ہے" تو انہوں نے کہا"آپ متردد نہ ہوں، خدا آپکا ساتھ نہ چھوڑے گا" دعوت اسلام کے سلسلے میں جب مشرکین نے آپکو طرح طرح کی اذیتیں پہنچائیں تو ضحرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ نے آپکو تسلی اور تشفی دی، استیعاب میں ہے،(طبقات ج 2ص740) "آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکین کی تردید یا تکذیب سے جو کچھ صدمہ پہنچتا، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آکر ختم ہو جاتا تھا کیونکہ وہ آپکی باتوں کی تصدیق کرتی تھیں اور مشرکین کے معاملہ کو آپکے سامنے ہلکا کر کے پیش کرتی تھیں،" سن 7 نبوی میں جب قریش نے اسلام کو تباہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ تو یہ تدبیر سوچی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپکے خاندان کو ایک گھاٹی میں محصور کیا جائے، چنانچہ ابوطالب مجبور ہو کر تمام خاندان ہاشم کے ساتھ شعب ابوطالب میں پناہ گزین ہوئے، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ بھی ساتھ آئیں، سیرت ابن ہشام میں ہے۔(سیرت ابن ہشام ج اص192) "اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شعب ابوطالب میں تھیں،" تین سال تک بنو ہاشم نے اس حصار میں بسر کی یہ زمانہ ایسا سخت گزرا کہ طلح کے پتے کھا کھا کر رہتے تھے تاہم اس زمانہ میں بھی حجرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے اثر سے کبھی کبھی کھانا پہنچ جاتا تھا۔ چنانچہ ایک دن حکیم بن حزام نے جو حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کا بھتیجا تھا۔ تھوڑے سے گیہوں اپنے غلام کے ہاتھ حضرے خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس بھیجے، راہ میں ابوجہل نے دیکھ لیا، اتفاق سے ابوالبختری کہیں سے آ گیا، وہ اگرچہ کافر تھا، لیکن اسکو رحم آیا، ابوجہل سے کہا ایک شخص اپنی پھوپھی کو کھانے کے لیے کچھ بھیجتا ہے تو کیوں روکتا ہے،(ایضاً)
وفات:۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ نکاح کے بعد 25 برس تک زندہ رہیں اور 11 رمضان سن 10 نبوی(ہجرت سے تین سال قبل(بخاری ج اص ا55)) انتقال کیا، اس وقت انکی عمر 64 سال 6 ماہ کی تھی، چنانچہ نماز جنازہ اس وقت تک مشروع نہیں ہوئی تھی۔ اسلیئے انکی لاش اسی طرح دفن کر دی گئی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود انکی قبر میں اترے، اور اپنی سب سے بڑی غمگسار کو داعی اجل کے سپرد کیا، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کی قبر حجون میں ہے،(طبقات ابن سعد ج8ص11) اور زیارت گاہ خلائق ہے، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات سے تاریخ اسلام میں ایک جدید دور شروع ہوا۔ یہی زمانہ ہے جو اسلام کا سخت ترین زمانہ ہے۔ اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس سال کو عام الحزن(سال غم) فرمایا کرتے تھے کیونکہ انکے اٹھ جانے کے بعد قریش کو کسی شخص کا پاس نہیں رہ گیا تھا، اور وہ نہایت بےرحمی و بیباکی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ستاتے تھے، اسی زمانہ میں آپ اہل مکہ سے ناامید ہو کر طائف تشریف لے گئے۔
اولاد:۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے بہت سی اولاد ہوئی، ابوہالہ سے جو انکے پہلے شوہر تھے، دو لڑکے پیدا ہوئے، جنکے نام ہالہ و ہند تھے، دوسرے شوہر یعنی عتیق سے ایک لڑکی پیدا ہوئی، اسکا نام بھی ہند تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے چھ اولادیں پیدا ہوئیں، دو صاحبزادے جو بچپن میں انتقال کر گئے اور چار صاحبزادیاں! نام حسب ذیل ہیں،(زرقانی جلد 3ص221) (1)حضرت قاسم رضی اللہ تعالی عنہ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے بڑے بیٹے تھے، انہی کے نام پر آپ ابو القاسم کنیت کرتے تھے، صغر سنی میں مکہ میں انتقال کیا، اس وقت پیروں چلنے لگے تھے،(2) حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی صاحبزادی تھیں، (3) حضرت عبد اللہ نے بہت کم عمر پائی، چونکہ زمانہ نبوت میں پیدا ہوئے تھے، اس لیے طیب اور طاہر کے لقب سے مشہور ہوئے(4) حضرت رقیہ (5)حضرت ام کلثوم (6)حضرت فاطمہ زہرا، اس سب میں ایک ایک سال کا چھٹاپا بڑاپا تھا، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ اپنی اولاد کو بہت چاہتی تھیں، اور چونکہ دنیا نے بھی ساتھ دیا یعنی صاحب ثروت تھیں، اس لیے عقبہ کی لونڈی سلمہ کو بچوں کی پرورش پر مقرر کیا تھا، وہ انکو کھلاتی و دودھ پلاتی تھیں، ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہما میں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کو بعض خاص خصوصیتیں حاصل ہیں، وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی بیوی ہیں، وہ جب عقد نکاح میں آئیں تو انکی عمر چالیس برس کے قریب تھی، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انکی زندگی میں دوسری شادی نہیں کی، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام اولاد انہی سے پیدا ہوئی۔
فضائل و مناقب:۔
ام المومنین حضرت خدیجہ طاہرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی عظمت و فضیلت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب فرض نبوت ادا کرنا چاہا تو فضائے عالم سے ایک آواز بھی آپکی تائید میں نہ اٹھی، کوہ حرا، وادی عرفات، جبل فاران غرض تمام جزیرة العرب آپکی آواز پر پیکر تصویر بنا ہوا تھا، لیکن اس عالمگیر خاموشی میں صرف ایک آواز تھی جو فضائے مکہ میں تموج پیدا کر رہی تھی، یہ آواز حضرت خدیجہ طاہرہ رضی اللہ تعالی عنہ کے قلب مبارک سے بلند ہوئی تھی، جو اس ظلمت کدہ کفر و ضلالت میں نور الہی کا دوسرا تجلی گاہ تھا، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ وہ مقدس خاتون ہیں، جنہوں نے نبوت سے پہلے بت پرستی ترک کر دی تھی، چنانچہ مسند ابن حنبل میں روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا،"بخدا میں کبھی لات و عزی کی پرستش نہ کرونگا"انہوں نے جواب دیا کہ لات کو جانے دیجیئے، عزی کو جانے دیجیئے، یعنی انکا ذکر نہ کیجیئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کو انکی ذات سے جو تقویت تھی وہ سیرت بنوی کے ایک ایک صفحہ سے نمایاں ہے، ابن ہشام میں ہے،"وہ اسلام کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی مشیر کار تھیں۔" آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے انکو جو محبت تھی، وہ اس سے ظاہر ہے کہ باوجود اس تمول اور دولت و ثروت کے جو انکو حاصل تھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت خود کرتی تھیں، چنانچہ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ برتن میں کچھ لا رہی ہیں۔ آپ انکو خدا کا اور میرا سلام پہنچا دیجیئے،(صحیح بخاری ج اص539) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ سے سخت محبت تھی، لیکن وہ مکہ میں غلام کی حیثیت سے رہتے تھے، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ نے انکو آزاد کرایا، اور اب وہ کسی دنیاوی رئیس کے خادم ہونے کی بجائے شہنشاہ رسالت(صلی اللہ علیہ وسلم) کے غلام تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ سے بےپناہ محبت تھی آپ نے انکی زندگی تک دوسری شادی نہیں کی، انکی وفات کے بعد آپکا معمول تھا کہ جب گھر میں کوئی جانور ذبح ہوتا تو آپ ڈھونڈ ڈھونڈ کر انکی سہیلیوں کے پاس گوشت بھجواتے تھے، حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ گو میں نے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کو نہیں دیکھا، لیکن مجھکو جس قدر ان پہ رشک آتا تھا کسی اور پر نہیں آتا تھا، جسکی وجہ یہ تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ انکا ذکر کیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ میں نے اس پر آپکو رنجیدہ کیا، لیکن آپ نے فرمایا کہ خدا نے مجھکو انکی محبت دی ہے،(صحیح مسلم ج2ص333،) ایک دفعہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے انتقال کے بعد انکی بہن ہالہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے آئیں اور استیذان کے قاعدے سے اندر آنے کی اجازت مانگی، انکی آواز حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ سے ملتی تھی آپکے کانوں میں آواز پڑی تو حضرت خدیجہ یاد آ گئیں اور آپ جھجھک اٹھے، اور فرمایا"کہ ہالہ ہونگی۔" حضرت عائشہ بھی موجود تھیں انکو نہایت رشک ہوا، بولیں کہ "آپ کیا ایک بڑھیا کی یاد کیا کرتے ہیں، جو مر چکیں، اور خدا نے ان سے اچھی بیویاں آپکو دیں،" صحیح بخاری میں یہ روایت یہیں تک ہے، لیکن استیعاب میں ہے کہ اسکے جواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ"ہرگز نہیں جب لوگوں نے میری تکذیب کی تو انہوں نے تصدیق کی، جب لوگ کافر تھے تو وہ اسلام لائیں، جب میرا کوئی نہ تھا تو انہوں نے میری مدد کی، اور میری اولاد ان ہی سے ہوئی۔" حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے مناقب میں بہت سی حدیثیں مروی ہیں، صحیح بخاری و مسلم میں ہے، "عورتوں میں بہترین مریم بنت عمران ہے اور پھر عورتوں میں بہترین خدیجہ بنت خویلد ہیں" ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، خدیجہ آئیں تو فرمایا۔ "انکو جنت میں ایک ایسا گھر ملنے کی بشارت سنا دیجیئے جو موتی کا ہو گا اور جس میں شوروغل اور محنت و مشقت نہ ہو گی،"
 

تانیہ

محفلین
حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ
نام و نسب:۔
سودہ نام تھا، قبیلہ عامر بن لوی سے تھیں، جو قریش کا ایک نامور قبیلہ تھا، سلسلہ نسب یہ ہے، سودہ بنت زمعہ بن قیس بن عبد شمس بن عبدودبن نصربن مالک بن حسل بن عامر ابن لوی، ما کا نام شموس تھا، یہ مدینہ کے خاندان بنو نجار سے تھیں، انکا پورا نام و نسب یہ ہے، سشموس بنت قیس بن زیدبن عمرو بن لبید بن فراش بن عامر بن غنم بن عدی بن النجا۔
نکاح:۔
سکران رضی اللہ تعالی عنہ بن عمرو سے جو انکے والس کے ابن عم تھے، شادی ہوئی،
قبول اسلام:۔
ابتدائے نبوت میں مشرف بہ اسلام ہوئیں، انکے ساتھ انکے شوہر بھی اسلام لائے۔ اس بنا پر انکو قدیم السلام ہونے کا شرف حاصل ہے، حبشہ کی پہلی ہجرت کے وقت تک حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ اور انکے شوہر مکہ ہی میں مقیم رہے، لیکن جب مشرکین کے ظلم و ستم کی کوئی انتہا نہ رہی اور مہاجرین کی ایک بڑی جماعت ہجرت کے لیے آمادہ ہوئی تو ان میں حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ اور انکےشوہر بھی شامل ہو گئے۔
کئی برس حبشہ میں رہ کر مکہ کو واپس آئیں، اور سکران رضی اللہ تعالی عنہ نے کچھ دن کے بعد وفات پائی۔
حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ حرم نبوت بنتی ہیں:۔
حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ کو تمام ازواج مطہرات میں یہ فضیلت حاصل ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے بعد سب سے پہلے وہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد نکاح میں آئیں، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے انتقال سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نہایت پریشان و غمگین تھے، یہ حالت دیکھ کر خولہ رضی اللہ تعالی عنہ بنت حکیم (عثمان بن مظعون کی بیوی) نے عرض کی کہ آپ کو ایک مونس و رفیق کی ضرورت ہے، آپ نے فرمایا ہاں، گھر بار بال بچوں کا انتظام سب خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ

کے متعلق تھا، آپکے ایماء سے وہ حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ کے والد کے پاس گئیں، اور جاہلیت کے طریقہ پر اسلام کیا، انعم صباحا، پھر نکاح کا پیغام سنایا، انہوں نے کہا ہاں محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) شریف کفو ہیں، لیکن سودہ رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی تو دریافت کرو، غرض سب مراتب طے ہو گئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود تشریف لے گئے اور سودہ رضی اللہ تعالی عنہ کے والد نے نکاح پڑھایا، چار سو درہم مہر قرار پایا، نکاح کے بعد عبداللہ بن زمع(حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ کے بھائی) جو اس وقت کافر تھے، آئے اور انکو یہ حال معلوم ہوا تو سر پر خاک ڈال لی کہ کیا غضب ہو گیا، چنانچہ اسلام لانے کے بعد اپنی اس حماقت و نادانی پر ہمیشہ انکو افسوس آتا تھا،(زرقانی ج3ص261)
حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ کا نکاح رمضان سن دس نبوی میں ہوا، اور چونکہ انکے اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کے نکاح کا زمانہ قریب قریب ہے، اسلیئے مؤرخین میں اختلاف ہے کہ کس کو تقدم حاصل ہے، ابن اسحاق کی روایت ہے کہ سودہ رضی اللہ تعالی عنہ کو تقدم ہے اور عبداللہ بن محمد بن عقیل حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کو مقدم سمجھتے ہیں۔(طبقات ابن سعد ج8ص36۔37۔38۔39وزرقانی ج3ص360)
بعض روائتوں میں ہے کہ حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے پہلے شوہر کی زندگی میں ایک خواب دیکھا تھا، ان سے بیان کیا تو بولے کہ شائد میری موت کا زمانہ قریب ہے، اور تمھارا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو گا، چنانچہ یہ خواب حرف بہ حرف پورا ہوا،(زرقانی ج3ص260وطبقات ابن سعدج8ص38،39۔)
عام حالات:۔
نبوت کے تیرہویں سال جب آپ نے مدینہ منورہ میں ہجرت کی تو حضرت زیدرضی اللہ تعالی عنہ بن حارثہ کو مکہ بھیجا کہ حجرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ وغیرہ کو لیکر آئیں، چنانچہ وہ اور حضرت فاطمہ زہرارضی اللہ تعالی عنہ حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ کے ہمراہ مدینہ آئیں،
سن دس ہجری میں جب آنحجرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا تو حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ بھی ساتھ تھیں، چونکہ وہ بلند و بالا و فربہ اندام تھیں اور اس وجہ سے تیزی کے ساتھ چل پھر نہیں

سکتی تھیں۔ اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی کہ اور لوگوں کے مزدلفہ سے روانہ ہونے کے قبل انکو چلا جانا چاہیے، کیونکہ انکو بھیڑ بھاڑ میں چلنے سے تکلیف ہو گی،(صحیح بخارج1ص228)
وفات:۔
ایک دفعہ ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہما آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھیں، انہوں نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! ہم میں سے سب سے پہلے کون مرے گا، فرمایا کہ جسکا ہاتھ سب سے بڑا ہے، لوگوں نے ظاہرہ معنی سمجھے، ہاتھ ناپے گئے تو سب سے بڑا ہاتھ حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ کا تھا،(طبقات ج8ص37)لیکن جب سب سے پہلے حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہ کا انتقال ہوا۔ تو معلوم ہوا کہ ہاتھ کی بڑائی سے آپ کا مقصد سخاوت و فیاضی تھی، بہرحال واقدی نے حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ کا سال وفات 54 ہجری بتایا ہے،(طبقات ابن سعدج8ص37،39) لیکن ثقات کی روایت یہ ہے کہ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے اخیر زمانہ خلافت میں انتقال کیا۔(اسدالغابہ واستیعاب و خلاصہ تہذیب حالات سودہ رضی اللہ تعالی عنہ)
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے سن 23 ہجری میں وفات پائی ہے اس لیے حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات کا سال 22 ہجری ہو گا خمیس میں یہی روایت ہےاور سب س ےزیادہ صحیح ہے،(زرقانی ج3ص262) اور اسکو امام بخاری، ذہبی، جزری ابن عبدالبر اور خزرجی نے اختیار کیا ہے۔
اولاد:۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی اولاد نہیں ہوئی، پہلے شوہر(حضرت سکران رضی اللہ تعالی عنہ) نے ایک لڑکا یادگار چھوڑا تھا، جسکا نام عبدالرحمن تھا، انہوں نے جنگ جلولاء (فارس) میں شہادت حاصل کی۔(زرقانی ج2ص260)
حلیہ:۔
ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہما میں حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ سے زیادہ کوئی بلند بالا نہ تھا، حضرت عائشہ کا قول ہے کہ جس نے انکو دیکھ لیا، اس سے وہ چھپ نہیں سکتی تھیں۔(صحیح بخاری ج3ص707) زرقانی میں ہے کہ انکا ڈیل لانبا تھا،(زرقانی ض3ص459۔)
فضل و کمال:۔
حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ سے صرف پانچ حدیثیں مروی ہیں، جن میں سے بخاری میں صرف ایک ہے، صحابہ رضی اللہ تعالی عنہما میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ ، ابن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ اور یحی بن عبدالرحمن(بن اسعد بن زرارہ) نے ان سے روایت کی ہے،
اخلاق:۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں۔(طبقات ج8ص37)
"سودہ کے علاوہ کسی عورت کو دیکھ کر مجھے یہ خیال نہیں ہوا کہ اسکے قالب میں میری روح ہوتی۔"
اطاعت و فرمانبرداری میں وہ تمام ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہما سے ممتاز تھیں، آپ نے حجة الوداع کے موقع پر ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہما کو مخاطب کر کے فرمایا تھا۔ کہ میرے بعد گھر میں بیٹھنا،(زرقانی ج3ص291) چنانچہ حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اس حکم پر اس شدت سے عمل کیا کہ پھر کبھی حج کے لیے نہ نکلیں، فرماتی تھیں کہ میں حج و عمرہ دونوں کر چکی ہوں، اور اب خدا کے حکم کے مطابق گھر میں بیٹھونگی،(طبقات ج 8ص38)
سخاوت و فیاضی بھی انکا ایک اور نمایاں وصف تھا، اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کے سوا وہ اس وصف میں بھی سب سے ممتاز تھیں، ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے انکی خدمت میں ایک تھیلی بھیجی، لانے والے سے پوچھا، اس میں کیا ہے؟ بولا درہم، بولیں کھجور کی طرح تھیلی میں درہم بھیجے جاتے ہیں۔ یہ کہکر اسی وقت سبکو تقسیم کر دیا،(اصابہ ج 8 ص 118) وہ طائف کی کھالیں بناتی تھیں اور اس سے جو آمدنی ہوتی تھی، اسکو نہایت آزادی کے ساتھ نیک کاموں میں صرف کرتی تھیں،(ایضاً ص 65 حالات خیسہ)
ایثار میں بھی وہ ممتاز حیثیت رکھتی تھیں، وہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ آگے پیچھے نکاح میں آئیں تھیں لیکن چونکہ انکا سن بہت زیادہ تھا۔ اس لیے جب بوڑھی ہو گئیں تو انکو سوءظن ہوا کہ شاید آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم طلاق دے دیں، اور شرف صحبت سے محروم ہو جائیں، اس بنا پر انہوں نے اپنی باری حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کو دے دی اور انہوں نے خوشی سے قبول کر لی،( صحیح بخاری و مسلم(کتاب النکاح جواز ہبتہ نوبہتا لصرنتہا)
مزاج تیز تھا، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ انکی بےحد معترف تھیں، لیکن کہتی ہیں کہ وہ بہت جلد غصہ سے بھڑک اٹھتی تھیں، ایک مرتبہ قضائے حاجت کے لیے صحرا کو جا رہی تھیں، راستے میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ مل گئے، چونکہ حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ کا قد نمایاں تھا، انہوں نے پہچان لیا، حضرت عمر کو ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہما کا باہر نکلنا ناگوار تھا اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پردہ کی تحریک کر چکے تھے، اس لیے بولے سودہ رضی اللہ تعالی عنہ تمکو ہم نے پہچان لیا۔ حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ کو سخت ناگوار ہوا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچیں اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی شکایت کی، اسی واقعہ کے بعد آیتِ حجاب نازل ہوئی۔(صحیح بخاری ج1ص26)
باایں ہمہ ظرافت اس قدر تھی کہ کبھی کبھی اس انداز سے چلتی تھیں، کہ آپ ہنس پڑتے تھے ایک مرتبہ کہنے لگیں کہ کل رات کو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تھی، آپ نے (اس قدر دیر تک) رکوع کیا کہ مجھکو نکسیر پھوٹنے کا شبہہ ہو گیا، اس لیے میں دیر تک ناک پکڑے رہی، آپ اس جملہ کو سن کر مسکرا اٹھے،(سعدج8ص37)
دجال سے بہت ڈرتی تھیں، ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آ رہی تھیں دونوں نے مذاق کے لہجہ میں کہا تم نے کچھ سنا؟ بولیں کیا؟ کہا دجال نے خروج کیا، حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ یہ سنکر گھبرا گئیں، ایک خیمہ جس میں کچھ آدمی آگ سلگا رہے تھے، قریب تھا، فورا اسکے اندر داخل ہو گئیں، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہ ہنستی ہوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچیں، اور آپکو اس مذاق کی خبر کی، آپ تشریف لائے اور خیمہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر فرمایا کہ ابھی دجال نہیں نکلا ہے، یہ سن کر حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ باہر آئیں۔ تو مکڑی کا جالا بدن میں لگا ہوا تھا، اسکو باہر آ کر صاف کیا،(اصابہ ج8ص65)
میرے نزدیک یہ روایت مشکوک اور سنداً ضعیف ہے۔
 

تانیہ

محفلین
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا
نام و نسب:۔
عائشہ نام، صدیقہ اور حمیرا لقب، ام عبداللہ کنیت، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی صاحبزادی ہیں۔ ماں کا نام زینب تھا، ام رومان کنیت تھی اور قبیلہ غنم بن مالک سے تھیں،
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بعثت کے بار سال بعد شوال کے مہینہ میں پیدا ہوئیں، صدیق اکبر کا کاشانہ وہ برج سعادت تھا، جہاں خورشید اسلام کی شعاعیں سب سے پہلے پرتوفگن ہوئیں، اس بنا پر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا اسلام کی ان برگزیدہ شخصیتوں میں ہیں، جن کے کانوں نے کبھی کفروشرک کی آواز نہیں سنی، خود حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب سے میں نے اپنے والدین کو پہچانا انکو مسلمان پایا،[بخاری ج1ص252]
حضرت عائشہ کو وائل کی بیوی نے دودھ پلایا، وائل کی کنیت ابو الفقیعس تھی، وائل کے بھائی افلح، حضرت عائشہ کےرضاعی چچا کبھی کبھی ان سے ملنے آیا کرتے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے وہ انکے سامنے آتی تھیں،[ایضاً ص320] رضاعی بھائی بھی کبھی کبھی ملنے آیا کرتا تھا،[ایضاًص361]
نکاح:۔
تمام ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن میں یہ شرف صرف حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو حاصل ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کنواری بیوی تھیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے وہ جبیر بن مطعم کے صاحبزادے سے منسوب ہوئی تھیں، لیکن جب حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کے انتقال کے بعد خولہ رضی اللہ تعالی عنہا بنت حکیم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لیکر ام رومان سے کہا، اور انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ سے ذکر کیا، تو چونکہ یہ ایک قسم کی وعدہ خلافی تھی، بولے کہ جبیر بن مطعم سے وعدہ کر چکا ہوں، لیکن مطعم نے خود اس بنا پر انکار کر دیا کہ اگر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا انکے گھر گئیں تو تو گھر میں اسلام کا قدم آ جائے گا،
بحرحال حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے خولہ کے ذریعہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عقد کر دیا، پانچ سو درہم مہر قرار پایا، یہ سن دس نبوی کا واقعہ ہے، اس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا چھ برس کی تھیں،
یہ نکاح اسلام کی سادگی کی حقیقی تصویر تھا، عطیہ رضی اللہ تعالی عنہا اسکا واقعہ اس طرح بیان کرتی ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا لڑکیوں کے ساتھ کھیل رہی تھیں، انکی انّا آئی اور انکو لے گئی، حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے آکت نکاح پڑھا دیا، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا خود کہتی ہیں کہ "جب میرا نکاح ہوا تو مجھکو کچھ خبر تک نہ ہوئی جب میری والدہ نے باہر نکلنے میں روک ٹوک شروع کی، تب میں سمجھی کہ میرا نکاح ہو گیا، اسکے بعد میری بعد میری والدہ نے مجھے سمجھا بھی دیا"[طبقات ابن سعدج8ص40]
نکاح کے بعد مکہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام تین سال تک رہا، سن تیرہ نبوی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ ساتھ تھے۔ اور اہل وعیال کو دشمنوں کے نرغہ میں چھوڑ آئے تھے جب مدینہ میں اطمینان ہوا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے عبداللہ بن اریقط کو بھیجا کہ ام رومان رضی اللہ تعالی عنہا، اسماء رضی اللہ تعالی عنہا اور عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو لے آئیں، مدینہ میں آکر حضرت عائشہ سخت بخار میں مبتلاہوئیں، اشتداد مرض سے سر کے بال جھڑ گئے،[صحیح بخاری، باب الہجرة]صحت ہوئی تو ام رومان کو رسم عروسی ادا کرنے کا خیال آیا، اس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی عمر نو سال کی تھی، سہیلیوں کے ساتھ جھولا جھول رہی تھیں کہ ام رومان نے آواز دی، انکو اس واقعہ کی خبر تک نہ تھی، ماں کے پاس آئیں، انہوں نے منہ دھویا بال درست کیئے گھر میں لے گئیں انصار کی عورتیں انتظار میں تھیں، یہ گھر میں داخل ہوئیں تو سب نے مبارکباد دی، تھوڑی دیر کے بعد خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے،[صحیح بخاری تزویج عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا و سیرة النبی مجلد2]شوال میں نکاح ہوا تھا اور شوال ہی میں یہ رسم ادا کی گئی،
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے نکاح سے عرب کے بعض بیہودہ خیالات میں اصلاح ہوئی(1)عرب منہ بولے بھائی کی لڑکی سے شادی نہیں کرتے تھے، اسی بنا پر جب خولہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ سے آنحضرت صلی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ ظاہر کیا، تو انہوں نے حیرت سے کہا"کیا یہ جائز ہے؟ عائشہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بھتیجی ہے" لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ انت اخ فی السلام تم تو صرف مذہبی بھائی ہو(2)اہل عرب شوال میں شادی نہیں کرتے تھے، زمانہ قدیم میں اس مہینہ میں طاعون آیا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی شادی اور رخصتی دونوں شوال میں ہوئیں،
عام حالات:۔
غزوات میں سے صرف غزوہ احد میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی شرکت کا پتہ چلتا ہے صحیح بخاری میں حجرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے منقول ہے کہ"میں نے عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا اور ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا کو دیکھا کہ مشک بھر بھر کر لاتی تھیں اور زخمیوں کو پانی پلاتی تھیں[بخاری ج2ص581]
غزوہ بنی مصطلق میں کہ سن پانچ ہجری کا واقعہ ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا آپکے ساتھ تھیں، واپسی میں انکا ہار کہیں گر گیا، پورے قافلے کو اترنا پڑا، نماز کا وقت آیا تو پانی نہ ملا، تمام صحابہ پریشان تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی اور تیمم کی آیت نازل ہوئی، اس اجازت سے تمام لوگ خوش ہوئے، اسید بن حفیر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا،"اے آلِ ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ! تم لوگوں کے لیے سرمایہ برکت ہو،"
اسی لڑائی میں واقعہ افک پیش آیا۔ یعنی منافقین نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا پر تہمت لگائی احادیث اور سیر کی کتابوں میں اس واقعہ کو نہایت تفصیل کے ساتھ نقل کیاہے، لیکن جس واقعہ کی نسبت قرآن مجید میں مذکور ہے، کہ سننے کے ساتھ لوگوں نے یہ کیوں نہیں کہدیا کہ"بالکل افترا ہے"اسکو تفصیل کے ساتھ لکھنے کی چنداں ضرورت نہیں۔
سن نو ہجری میں تحریم اور ایلاء و تخییر کا واقعہ پیش آیا اور واقعہ تحریم کی تفصیل حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا کے حالات میں آئے گی۔ البتہ واقعہ ایلاء کی تفصیل اس مقام پر کی جاتی ہے،
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زاہدانہ زندگی بسر فرماتے تھے۔ دو دو مہینے گھر میں آگ نہیں جلتی تھی، آئے دن فاقے ہوتے رہتے تھے، ازواج مطہرات گو شرف صحبت کی برکت سے تمام انبائے جسم سے ممتاز ہو گئیں تھیں۔ تاہم بشریت بالکل معدوم نہیں ہو سکتی تھی، خصوصاً وہ دیکھتی تھیں کہ فتوحات اسلام کا دائرہ بڑھتا جاتا ہے۔ اور غنیمت کا سرمایہ اس قدر پہنچ گیا ہے کہ اسکا ادنی حصہ بھی انکی راحت و آرام کے لیے کافی ہو سکتا ہے، ان واقعات کا اقتضا تھا کہ انکے صبر قناعت کا جام لبریز ہو جاتا۔
ایک مرتبہ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ تعالی عنہما خدمت نبوی میں حاضر ہوئے، دیکھا کہ بیچ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ادھر ادھر بیویاں بیٹھی ہیں، اور توسیع نفقہ کا تقاضا ہے، دونوں اپنی صاحبزادیوں کی تنبیہہ پر آمادہ ہو گئے، لیکن انہوں نے عرض کی کہ ہم آئندہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو زائد مصارف کی تکلیف نہ دینگے۔
دیگر ازواج اپن مطالبہ پر قائم رہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سکون خاطر میں یہ چیز اس قدر خلل انداز ہوئی، کہ آپ نے عہد فرمایا کہ ایک مہینہ تک ازواج مطہرات سے نہ ملیں گے اتفاق یہ کہ اسی زمانہ میں آپ گھوڑے سے گر پڑے اور ساق مبارک پر زخم آیا آپ نے بالا خانے پر تنہا نشینی اختیار کی، واقعات کے قرینہ سے لوگوں نے یہ خیال کیا کہ آپ نے تمام ازواج کو طلاق دے دی؟ تو آپ نے فرمایا"نہیں" یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ اللہ اکبر پکار اٹھے،
جب ایلاء کی مدت یعنی ایک مہینہ گزر چکا تو آپ بالا خانہ سے اتر آئے، سب سے پہلے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس تشریف لائے، وہ ایک ایک دن گنتی تھیں، بولیں" یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) آپ نے ایک مہینہ کے لیے عہد فرمایا تھا، ابھی تو انتیس ہی دن ہوئے ہیں،" ارشاد ہوا"مہینہ کبھی انتیس کا بھی ہوتا ہے۔"
اسکے بعد آیت تخییر نازل ہوئی، اس آیت کی رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ ازواج مطہرات کو مطلع فرما دیں کہ دو چیزیں تمہارے سامنے ہیں، دنیا اور آخرت، اگر تم دنیا چاہتی ہو تو آؤ میں تمکو رخصتی جوڑے دیکر عزت و احترام کے ساتھ رخصت کر دوں، اور اگر تم خدا اور رسول اور ابدی راحٹ کی طلبگار ہو تو خدا نے نیکوکاروں کے لیے بڑا اجر مہیا کر رکھا ہے، چونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا ان تمام معاملات میں پیش پیش تھیں، آپ نے انکو ارشاد الہی سے مطلع فرمایا، انہوں نے کہا"میں سب کچھ چھوڑ کر خدا اور سول کو لیتی ہوں،" تمام ازواج مطہرات نے بھی یہی جوابدیا،[صحیح بخاری(جلد2ص793)و صحیح مسلم الایلاء]
ربیع الاول سن گیارہ ہجری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی، تیرہ دن علیل رہے، جن میں آٹھ دن حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے حجرہ میں اقامت فرمائی، خلق عمیم کی بنا پر ازواج مطہرات سے صاف طور پر اجازت نہیں طلب کی بلکہ پوچھا کہ کل میں کس کے گھر رہونگا؟دوسرا دن(دوشنبہ) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے ہاں قیام فرمانے کا تھا، ازواج مطہرات نے مرضی اقدس سمجھ کر عرض کی کہ آپ جہاں چاہیں قیام فرمائیں، ضعف اس قدر زیادہ ہو گیا تھا کہ چلا نہیں جاتا تھا، حضرت علی وحضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہما دونوں بازو تھام کر بمشکل حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے حجرہ میں لائے،
وفات سے پانچ روز پہلے(جمعرات کو) آپکو یاد آیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس کچھ اشرفیاں رکھوائی تھیں، دریافت فرمایا،"عائشہ !وہ اشرفیاں کہاں ہیں؟ کیا محمد خدا سے بدگمان ہو کر ملے گا، جاؤ انکو خدا کی راہ میں خیرات کر دو،"[مسندابن حنبل ج6ص49]
جس دن وفات ہوئی(یعنی دو شنبہ کے روز) بظاہر طبیعت کو سکون تھا لیکن دن جیسے جیسے چڑھتا جاتا تھا، آپ پر غشی طاری ہوتی تھی، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ آپ جب تندرست تھے تو فرمایا کرتے تھے کہ پیغمبروں کو اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ خواہ موت کو قبول کریں یا حیات دنیا کو ترجیح دیں۔ اس حالت میں اکثر آپکی زبان سے یہ الفاظ ادا ہوتے رہے مع الذین انعم اللہ علیھم اور کبھی یہ فرماتے اللہم فی الرفیق الاعلی وہ سمجھ گئیں کہ اب صرف رفاقت الہی مطلوب ہے۔
وفات سے ذرا پہلے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے صاحبزادے عبدالرحمن رضی اللہ تعالی عنہ خدمت اقدس میں آئے، آپ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے سینہ پر سر ٹیک کر لیٹے تھے، عبدالرحمن رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاتھ میں مسواک تھی، مسواک کی طرف نظر جما کر دیکھا، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سمجھیں کہ آپ مسواک کرنا چاہتے ہیں، عبدالرحمن رضی اللہ تعالی عنہ سے مسواک لیکر دانتوں سے نرم کی، اور خدمت اقدس میں پیش کی، آپ نے بالکل تندرستوں کی طرح مسواک کی، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فخریہ یہ کہا کرتی تھیں کہ"تمام بیویوں میں مجھی کو یہ شرف حاصل ہوا کہ آخر وقت میں بھی میرا جھوٹا آپ نے منہ میں لگایا۔"
اب وفات کا وقت قریب آ رہا تھا، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا آپکو سنبھالے بیٹھی تھیں کہ دفعتہً بدن کا بوجھ معلوم ہوا، دیکھا تو آنکھیں پھٹ کر چھت سے لگ گئیں تھیں اور روح پاک صلی اللہ علیہ وسلم عالم اقدس میں پرواز کر گئی تھی، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے سراقدس تکیہ پر رکھ دیا اور رونے لگیں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے ابواب مناقب کا سب سے زریں باب یہ ہے کہ انکے حجرہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مدفن بننا نصیب ہوا، اور نعش مبارک اسی حجرہ کے ایک گوشہ میں سپردخاک کی گئی۔ چونکہ ازواج مطہرات کے لیے خدا نے دوسری شادی ممنوع قرار د ی تھی اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے 48 سال بیوگی کی حالت میں بسر کیئے، اس زمانہ میں انکی زندگی کا مقصد واحد قرآن و حدیث کی تعلیم تھا، جسکا ذکر آئندہ آئے گا، آنحضرت صلی اللہ ولیہ وسلم کی وفات کے دو برس بعد سن تیرہ ہجری میں ابوبکررضی اللہ تعالی عنہ نے انتقال فرمایا اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے یہ سایہ شفقت بھی باقی نہ رہا۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ خلیفہ ہوئے، انہوں نے جس قدر حضرت عائشہ کی دلجوئی کی وہ خود اسطرح بیان فرماتی ہیں۔"ابن خطاب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مجھ پر بڑے بڑے احسانات کیئے،[مستدرک حاکم ج4ص78]حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے تمام ازواج مطہرات کے لیے دس دس ہزار سالانہ وظیفہ مقرر فرمایا تھا، لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے لیے وظیفہ بارہ ہزار تھا، جسکی وجہ یہ تھی کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب تھیں،[مستدرک]
حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے واقعہ شہادت میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا مکہ میں مقیم تھیں، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہما نے مدینہ جا کر انکو واقعات سے آگاہ کیا تو دعوت اصلاح کے لیے بصرہ گئیں اور وہاں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے جنگ پیش آئی، جو جنگ جمل کے نام سے مشہور ہے، جمل اونٹ کو کہتے ہیں، چونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا ایک اونٹ پر سوار تھیں، اور اس نے اس معرکہ میں بڑی اہمیت حاصل کی تھی، اسلیئے یہ جنگ بھی اسی کی نسبت سے مشہور ہو گئی، یہ جنگ اگرچہ بالکل اتفاقی طور پر پیش آ گئی تھی تاہم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو ہمیشہ اسکا افسوس رہا۔
بخاری میں ہے کہ وفات کے وقت انہوں نے وصیت کی کہ"مجھے روضہ نبوی میں آپکے ساتھ دفن نہ کرنا، بلکہ بقیع میں ازواج کے ساتھ دفن کرنا، کیونکہ میں نے آپکے بعد ایک جرم[کتاب الجنائز و مستدرک حاکم جلد4ص8] کیا ہے" ابن سعد میں ہے کہ وہ جب یہ آیت پڑھتی تھیں وَقَرنَ فِی بُیُوتِکُنَ"اے پیغمبر کی بیویو! اپنے گھروں میں وقار کے ساتھ بیٹھو۔" تو اس قدر روتی تھیں کہ آنچل تر ہو جاتا تھا،[طبقات ابن سعد ص59جزثانی]
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ اٹھارہ برس اور زندہ رہیں اور یہ تمام زمانہ سکون اور خاموشی میں گزرا،
وفات:۔
امیر معاویہ کا اخیر زمانہ خلافت تھا کہ رمضان سن اٹھاون ہجری میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے رحلت فرمائی، اس وقت سرسٹھ برس کا سن تھا، اور وصیت کےمطابق جنت البقیع میں رات کے وقت مدفون ہوئیں، قاسم بن محمد، عبداللہ بن عبدالرحمن، عبداللہ بن ابی عتیق، عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہم نے قبر میں اتارا، اس وقت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہا ، مروان بن حکم کی طرف سے مدینہ کے حاکم تھے، اس لیے انہوں نے نماز جنازہ پڑھائی،
اولاد:۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے کوئی اولاد نہیں ہوئی، ابن الاعرابی نے لکھا ہے کہ ایک ناتمام بچہ ساقط ہوا تھا، اسکا نام عبداللہ تھا، اور اسی کے نام پر انہوں نے کنیت رکھی تھی، لیکن یہ قطعاً غلط ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی کنیت ام عبداللہ انکے بھانجے عبداللہ بن زبیر کے تعلق سے تھی، جنکو انہوں نے متبنی بنایا تھا،
حلیہ:۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا خوش رو اور صاحب جمال تھیں، رنگ سرخ و سفید تھا،
فضل و کمال:۔
علمی حیثیت سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو نہ صرف عورتوں پر نہ صرف دوسری امہات المومنین پر، نہ صرف خاص خاص سحابیوں پر بلکہ باستثنائے چند تمام صحابہ پر فوقیت حاصل تھی، جامع ترمذی میں حضرت ابوموسی اشعری سے روایت ہے،
"ہمکو کبھی کوئی ایسی مشکل بات پیش نہیں آئی جسکو ہم نے عائشہ سے پوچھا ہو اور انکے پاس اس سے متعلق کچھ معلومات نہ ملے ہوں،"
امام زہری جو سرخیل تابعین تھے، فرماتے ہیں،
"عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا تمام لوگوں میں سب سے زیادہ عالمہ تھیں، بڑے بڑے اکابر صحابہ ان سے پوچھا کرتے تھے،[طبقات ابن سعدجزو2قسم2ص26]
عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کا قول ہے،
"قرآن، فرائض، حلال و حرام، فقہ و شاعری، طب، عرب کی تاریخ اور نسب کا عالم عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے بڑھکر کسی کو نہیں دیکھا،"
امام زہری کی ایک شہادت ہے،
"اگر تمام مردوں کا اور امہات المومنین کا علم ایک جگہ جمع کیا جائے تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کا علم وسیع تر ہو گا۔"
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کا شمار مجتہدین صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم میں ہے، اور اس حیثیت سے وہ قس قدر بلند ہیں کہ بےتکلف انکا نام حضرت عمر، حضرت علی، عبداللہ بن مسعود اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہم کے ساتھ لیا جا سکتا ہے، وہ حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہم کے زمانہ میں فتوے دیتی تھیں، اور اکابر صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم پر انہوں نے جو دقیق اعتراضات کیئے ہیں انکو علامہ سیوطی نے ایک رسالہ میں جمع کر دیا ہے، اس رسالہ کا نام عین الاصابہ فی ما استدرکتہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا علی الصحابہ ہے،
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کثرین صحابہ میں داخل ہیں، ان سے 2210 حدیثیں مروی ہیں، جن میں 174 حدیثوں پہ شیخین نے اتفاق کیا ہے، امام بخاری نے منفرداً ان سے 54 حدیثیں روایت کی ہیں، 6 حدیثوں میں امام مسلم منفرد ہیں، بعض لوگوں کا قول ہے کہ امام شرعیہ میں سے ایک چوتھائی ان سے منقعول ہے،
علم کلام کے متعدد مسائل انکی زبان سے ادا ہوئے ہیں، چنانچہ رویت باری، علم غیب، عصمت انبیاء، معراج، ترتیب خلافت اور سماع موتیٰ وغیرہ کے متعلق انہوں نے جو خیالات ظاہر کیئے ہیں، انصاف یہ ہے کہ ان میں انکی وقت نظر کا پلہ بھاری نظر آتا ہے،
علم اسرارالدین کے متعلق بھی ان سے بہت سے مسائل مروی ہیں، چنانچہ قرآن مجید کی ترتیب نزول، مدینہ میں کامیابی اسلام کے اسباب، غسل جمعہ، نماز قصر کی علت، صوم عاشورہ کا سبب ، ہجرت کے معنی کی انہوں نے خاص تشریحیں کی ہیں،
طب کے متعلق وہی عام معلومات تھیں، جو گھر کی عورتوں کو عام طور پر ہوتی ہیں۔
البتہ تاریخ عرب میں وہ اپنا جواب نہیں رکھتی تھیں، عرب جاہلیت کے حالات انکے رسم و رواج، انکے انساب اور انکی طرز معاشرت کے متعلق انہوں نے بعض ایسی باتیں بیان کیں ہیں، جو دوسری جگہ نہیں مل سکتیں، اسلامی تاریخ کے متعلق بھی بعض اہم واقعات ان سے منقول ہیں مثلاً آغازِ وحی کی کیفیت، ہجرت کے واقعات، واقعہ افک، نزول قرآن اور اسکی ترتیب، نماز کی صورتیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الموت کے حالات، غزوہ بدر، احد، خندق، قریظہ کے واقعات، غزوہ ذات الرقاع میں نماز خوف کی کیفیت، فتح مکہ میں عورتوں کی بیعت، حجة الوداع کے ضروری حالات، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و عادات، خلافت صدیقی، حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا اور ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن کا دعوی میراث، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا ملال خاطر اور پھر بیعت کے تمام مفصل حالات ان ہی کے ذریعہ سے معلوم ہوئے ہیں۔
ادبی حیثیت سے وہ نہایت شیریں کلام اور فصیح اللسان تھیں، ترمذی میں موسی ابن طلحہ کا قول نقل کیا ہے،
"میں نے عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے زیادہ کسی کو فصیح اللسان نہیں دیکھا۔"[مستدرک حاکم ج4ص11]
اگرچہ احادیث میں روایت بالمعنی کا عام طور پر رواج ہے، اور روایت باللفظ کم اور نہایت کم ہوتی ہے تاہم جہاں حضرت عائشہ کے اصل الفاظ محفوظ رہ گئے ہیں، پوری حدیث میں جان پڑ گئی ہے، مثلاً آغاز وحی کے سلسلہ میں فرماتی ہیں،
"آپ جو خواب دیکھتے تھے سپیدۂ سحر کی طرح نمودار ہو جاتا تھا،"
آپ پر جب وحی کی کیفیت طاری ہوتی، تو جبیں مبارک پر عرق آ جاتا تھا اسکو اسطرح ادا کرتی ہیں،
"پیشانی پر موتی ڈھلکتے تھے، "
واقعہ افک میں انہیں راتوں کو نیند نہیں آتی تھی، اسکو اسطرح بیان فرماتی ہیں،
"میں نے سرمۂ خواب نہیں لگایا،"
صحیح بخاری میں انکے ذریعہ سے ام زرع کا جو قصہ مذکور ہے، وہ جان ادب ہے اور اہل ادب نے اسکی مفصل شرحیں اور حاشیے لکھے ہیں،
خطابت کے لحاظ سے بھی حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہما کے سوا تمام صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم میں ممتاز تھیں جنگ جمل میں انہوں نے جو تقریریں کی ہیں، وہ جوش اور زور کے لحاظ سے اپنا جواب نہیں رکھتیں، ایک تقریر میں فرماتی ہیں،
"لوگو! خاموش، تم پر میرا مادری حق ہے، مجھے نصحیت کی عزت حاصل ہے، سوا اس شخص کے جو خدا کا فرمانبردار نہیں ہے، مجھکو کوئی الزام نہیں دے سکتا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینہ پہ سر رکھے ہوئے وفات پائی ہے، میں آپکی محبوب ترین بیوی ہوں خدا نے مجھکو دوسروں سے ہر طرح محفوظ رکھا اور میری ذات سے مومن و منافق میں تمیز ہوئی اور میرے ہی سبب تم پر خدا نے تیمم کا حکم نازل فرمایا،
پھر میرا باپ دنیا میں تیسرا مسلمان ہے اور غار حرا میں دو کا دوسرا تھا اور پہلا شخص تھا جو صدیق کے لقب سے مخاطب ہوا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے خوش ہو کر اور اسکو طوق خلافت پہنا کر وفات پائی اسکے بعد جب مذہب اسلام کی رسی ہلنے ڈلنے لگی تو میرا ہی باپ تھا جس نے اسکے دونوں سرے تھام لیے، جس نے نفاق کی باگ روک دی، جس نے ارتداد کا سرچشمہ خشک کر دیا، جس نے یہودیوں کی آتش افروزی سرد کی، تم لوگ اس وقت آنکھیں بند کیے غدر و فتنہ کے منتظر تھے اور شوروغوغا پر گوش برآواز تھے۔ اس نے شگاف کو برابر کیا، بیکارکو درست کیا، گرتوں کو سنبھالا، دلوں کی مدفون بیماریوں کو دور کیا، جو پانی سے سیراب ہو چکے تھے، انکو تھان تک پہنچادیا، جو پیاسے تھے انکو گھاٹ پر لے آیا، اور جو ایک بار پانی پی چکے تھے انکو دوبارہ پانی پلایا جب وہ نفاق کا سر کچل چکا، اور اہل شرک کے لیے آتشِ جنگ مشتعل کر چکا اور تمہارے سامان کی گٹھڑی کو ڈوری سے باندھ چکا تو خدا نے اسے اٹھا لیا۔،
ہاں میں سوال کا نشانہ بن گئی ہوں کہ کیوں فوج لیکر نکلی؟ میرا مقصد اس سے گناہ کی تلاش اور فتنہ کی جستجو نہیں ہے، جسکو میں پامال کرنا چاہتی ہوں، جو کچھ کہہ رہی ہوں سچائی اور انصاف کے ساتھ تنبہہ اور اتمامِ حجت کے لیے۔"[عقد الفرید باب، الخطیب وذکرواقعۂ جمل ص14]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا گو شعر نہیں کہتی تھیں، تاہم شاعرانہ مذاق اس قدر عمدہ پایا تھا کہ حضرت حسان ابن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ جو عرب کے مسلم الثبوت شاعر تھے، انکی خدمت میں اشعار سنانے کے لیے حاضر ہوئے تھے، امام بخاری نے ادب میں المفرد میں لکھا ہےکہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو کعب بن مالک کا پورا قصیدہ یاد تھا، اس قصیدہ میں کم وبیش چالیس اشعار تھے، کعب کے علاوہ انکو دیگر جاہلیت اور اسلامی شعراء کے اشعار بھی بکثرت یاد تھے، جنکو وہ مناسب موقعوں پر پڑھا کرتی تھیں چنانچہ وہ احادیث کی کتابوں میں منقول ہیں،
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نہ صرف ان علوم کی ماہر تھیں، بلکہ دوسروں کو بھی ماہر بنا دیتی تھیں، چنانچہ انکے دامن تربیت میں جو لوگ پرورش پاکر نکلے، اگرچہ انکی تعداد دو سو کے قریب ہے لیکن ان میں جنکو زیادہ قرب و اختصاص حاصل تھا، وہ حسب ذیل ہیں،
عروہ بن زبیر، قاسم بن محمد، ابو سلمہ بن عبدالرحمان، مسروق، عمرة، صفیہ بنت شیبہ، عائشہ بنت طلحہ، معاوة عدویہ،
اخلاق عادات:۔
اخلاقی حیثیت سے بھی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بلند مرتبہ رکھتی تھیں، وہ نہایت قانع تھیں، غیبت سے احتراز کرتی تھیں، احسان کم قبول کرتیں، اگرچہ خود ستائی ناپسند تھی تاہم خود دار تھیں، شجاعت و دلیری بھی انکا خاص جوہر تھا،
انکا سب سے نمایاں وصف جودوسخا تھا، حضرت عبداللہ بن زبیر فرمایا کرتے تھے کہ میں نے ان سے زیادہ سخی کسی کو نہیں دیکھا، ایک مرتبہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے انکی خدمت میں لاکھ درہم بھیجے تو شام ہوتے ہوتے سب خیرات کر دیئے اور اپنے لیے کچھ نہ رکھا، اتفاق سے اس دن روزہ رکھا تھا، لونڈی نے عرض کی کہ افطار کے لیے کچھ نہیں ہے، فرمایا پہلے سے کیوں نہ یاد دلایا،[مستدرک حاکم ج4ص13]
ایک دفعہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ جو انکے متبنی فرزند تھے انکی فیاضی دیکھ کر گھبرا گئے اور کہا کہ اب انکا ہاتھ روکنا چاہیے، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو معلوم ہوا تو سخت برہم ہوئیں اور قسم کھائی کہ ان سے بات نہ کرینگی، چنانچہ ابن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ مدت تک معتوب رہے اور بڑی دقت سے انکا غصہ فرو ہوا،[صحیح بخاری باب مناقب قریش]
نہایت خاشع، متضرع اور عبادت گزار تھیں، چاشت کی نماز برابر پڑھتیں، فرماتی تھیں کہ اگر میرا باپ بھی قبر سے اٹھ آئے، اور مجھکو منع کرے تب بھی باز نہ آؤں گی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ راتوں کو اٹھ کر تہجد کی نماز ادا کرتی تھیں اور اسکی اس قدر پابند تھیں، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جب کبھی یہ نماز قضا ہو جاتی تو نماز فجر سے پہلے اٹھ کر اسکو پڑھ لیتی تھیں، رمضان میں تراویح کا خاص اہتمام کرتی تھیں، ذکوان انکا غلام امامت کرتا اور وہ مقتدی ہوتیں۔
اکثر روزے رکھا کرتی تھیں، حج کی بھی شدت سے پابند تھیں اور ہر سال اس فرض کو ادا کرتی تھیں، غلاموں پر شفقت کرتیں، اور انکو خرید کر آزاد کرتی تھیں، انکے آزادک ردہ غلاموں کی تعداد 67 ہے،[شرح بلوغ المرام کتاب العتق]
 

تانیہ

محفلین
حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا
نام و نسب:۔
حفصہ نام، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی صاحبزادی تھیں، سلسلہ نسب یہ ہے،(حفصہ بنت عمررضی اللہ تعالی عنہ بن خطاب بن نفیل بن عبدالعزی بن رباع بن عبداللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن لوی بن فہر بن مالک)والدہ کا نام زینب بنت مظعون تھا، جو مشہور صحابی حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ بن مظعون کی ہمشیرہ تھیں، اور خود بھی صحابیہ تھیں، حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ حقیقی بھائی بہن ہیں۔ حضرت حفصہ بعثت نبوی سے پانچ سالقبل پیدا ہوئیں، اس وقت قریش خانہ کعبہ کی تعمیر میں مصروف تھے،
نکاح:۔
پہلا نکاح حنیس بن حذافہ سے ہوا۔ جو خاندان بنو سہم سے تھے،
اسلام:۔
ماں باپ اور شوہر کے ساتھ مسلمان ہوئیں،
ہجرت اور نکاح ثانی:۔
شوہر کے ساتھ مدینہ کو ہجرت کی، غزوہ بدر میں خنیس رضی اللہ تعالی عنہ نے زخم کھائے اور واپس آ کر انہی زخموں کی وجہ سے شہادت پائی، عدت کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا کے نکاح کی فکر ہوئی، اسی زمانہ میں حضرت رقیہ رضی اللہ تعالی عنہا کا انتقال ہو چکا تھا، اسی بنا پر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سب سے پہلے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ سے ملےاور ان سے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا کے نکاح کی خواہش ظاہر کی، انہوں نے کہا میں اس پر غور کرونگا، چند دنوں کے بعد ملاقات ہوئی، تو انہوں نے صاف انکار کیا، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے مایوس ہو کر حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ سے ذکر کیا انہوں نے خاموشی اختیار کی، حضرت عمررضی اللہ تعالی عنہ کو انکی بےالتفاتی سے رنج ہوا، اسکے بعد خود رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا سے نکاح کی خواہش کی، نکاح ہو گیا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے ملے اور کہا کہ جب تم نے مجھ سے حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا کے نکاح کی خواہش ظاہر کی اور میں خاموش رہا، تو تمکو ناگوار گزرا، لیکن میں نے اسی بنا پر کچھ جواب نہیں دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکا ذکر کیا تھا اور میں انکا راز فاش نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان سے نکاح کا قصد نہ ہوتا تو میں اسکے لیے آمادہ تھا،[صحیح بخاری ج2ص571واصابہ ج8ص51]
وفات:۔
حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا نے شعبان سن پنتالیس ہجری میں مدینہ میں انتقال کیا، یہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت کا زمانہ تھا۔ مروان نے جو اس وقت مدینہ کا گورنر تھا، نماز جنازہ پڑھائی اور کچھ دور تک جنازہ کو کندھا دیا، اسکے بعد ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ جنازہ کو قبر تک لے گئے، انکے بھائی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ اور انکے لڑکوں عاصم، سالم ، عبداللہ ، حمزہ نے قبر میں اتارا،
حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا کے سن وفات میں اختلاف ہے، ایک روایت ہے کہ جمادی الاول سن 41 ہجری میں وفات پائی، اس وقت انکا سن 59 سال کا تھا۔ لیکن اگر سن وفات 45 ہجری قرار دیا جائے۔ تو انکی عمر 63 سال کی ہو گی، ایک روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت میں انتقال کیا، یہ روایت اس بنا پر پیدا ہو گئی کہ وہب نے ابن مالک سے روایت کی ہے کہ جس سال افریقہ فتح ہوا، حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا نے اسی سال وفات پائی اور افریقہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت میں سن 27 ہجری میں فتح ہوا۔ لیکن یہ سخت غلطی ہے۔ افریقہ دو مرتبہ فتح ہوا۔ اس دوسری فتح کا فخر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو حاصل ہے، جنہوں نے امیر معاویہ کے عہد میں حملہ کیا تھا۔ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا نے وفات کے وقت حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو بلا کر وصیت کی اور غابہ میں جو جائیداد تھی جسے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ انکی نگرانی میں دے گئے تھے، اسکو صدقہ کر کے وقف کر دیا،[زرقانی ج3ص271]
اولاد:۔
کوئی اولاد نہیں چھوڑی،
فضل و کمال:۔
البتہ معنوی یادگاریں بہت سی ہیں، اور وہ ہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ(ابن عبداللہ) صفیہ بنت ابو عبیدرضی اللہ تعالی عنہ(زوجہ عبداللہ) حارثہ بن وہب، مطلب ابی وادعہ، ام مبشر انصاریہ، عبداللہ بن صفوان بن امیہ، عبدالرحمن بن حارث بن ہشام،[ایضاً]
حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا سے ساٹھ حدیثیں منقول ہیں، [ایضاً] جو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے سنی تھیں،
تفقہ فی الدین کے لیے واقعہ ذیل کافی ہے، ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ اصحاب بدرو حدیبیہ جہنم میں داخل نہ ہونگے، حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا نے اعتراض کیا کہ خدا تو فرماتا ہے "تم میں سے ہر شخص وارد جہنم ہو گا"آپ نے فرمایا ہاں لیکن یہ بھی تو ہے۔"پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دینگے اور ظالموں کو اس پر زانووں پر گرا ہوا چھوڑ دینگے"[مسند ابن حنبل ج6ص285]
اسی شوق کا اثر تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو انکی تعلیم کی فکر رہتی تھی، حضرت شفا رضی اللہ تعالی عنہا کو چیونٹی کے کاٹے کا منتر آتا تھا، ایکدن وہ گھر میں آئیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا کو منتر سکھلا دو،[ایضاً ص281]
اخلاق:۔
"وہ(یعنی حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا) صائم النہار اور قائم الیل ہیں۔"[اصابہ ج8ص52]
دوسری روایت میں ہے۔
"انتقال کے وقت تک صائم رہیں۔"
اختلاف سے سخت نفرت کرتی تھیں، جنگ صفین کے بعد جب تحکیم کا واقعہ پیش آیا تو انکے بھائی عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ اسکو فتنہ سمجھکر خانہ نشین رہنا چاہتے تھے، لیکن حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا کہ گو اس شرکت میں تمھارا کوئی فائدہ نہیں، تاہم تمہیں شریک رہنا چاہیے، کیونکہ لوگوں کو تمھاری رائے کا انتظار ہو گا، اور ممکن ہے کہ تمھاری عزلت گزینی ان میں اختلاف پیدا کر دے۔[صحیح بخاری ج2ص589]
دجال سے بہت ڈرتی تھیں، مدینہ میں ابن صیاد نامی ایک شخص تھا، دجال کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو علامتیں بتائی تھیں، اس میں بہت سی موجود تھیں، اس سے اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے ایکدن راہ میں ملاقات ہو گئی، انہوں نے اسکو بہت سخت سست کہا، اس پر وہ اس قدر پھولا کہ راستہ بند ہو گیا، ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اسکو مارنا شروع کیا حضرت حفصہ کو خبر ہوئی تو بولیں، تمکو اس سے کیا غرض، تمہیں معلوم نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دجال کے خروج کا محرک اسکا غصہ ہوگا،[مسند ج6ص283ومسلم کتاب الفتن ذکر ابن صیاد]
حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا مے مزاج میں ذرا تیزی تھی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی کبھی دوبدو گفتگو کرتیں، اور برابر کا جواب دیتی تھیں، چنانچہ صحیح بخاری میں خود حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے منقول ہے کہ "ہم لوگ جاہلیت میں عورت کو ذرہ برابر بھی وقعت نہ دیتے تھے، اسلام نے انکو درجہ دیا، اور قرآن میں انکے متعلق آیتیں اتریں، تو انکی قدرومنزلت معلوم ہوئی، ایکدن میری بیوی نے کسی معاملہ میں مجھکو رائے دی، میں نے کہا،"تمکو رائے و مشورہ سے کیا واسطہ" بولیں،" ابن خطاب تمکو ذرا سی بات کی بھی برداشت نہیں حالانکہ تمھاری بیٹی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو برابر کا جواب دیتی ہے، یہاں تک کہ آپ دن بھر رنجیدہ رہتے ہیں،"میں اٹھا اور حفصہ کے پاس آیا، میں نے کہا"بیٹی میں نے سنا ہے تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو برابر کا جواب دیتی ہو"بولیں"ہاں ہم ایسا کرتے ہیں "میں نے کہا خبردار میں تمہیں عذاب الہی سے ڈراتا ہوں،تم اس عورت(حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ) کی ریس نہ کرو جسکو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی وجہ سے اپنے حسن پر ناز ہے،[بخاری ج2ص کتاب التفسیروفتح الباری ج8ص504]
ترمذی میں ہے کہ ایک دفعہ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا رو رہی تھیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور رونے کی وجہ پوچھی، انہوں نے کہا کہ مجھکو حفصہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا ہے کہ"تم یہودی کی بیٹی ہو"آپ نے فرمایا حفصہ (رضی اللہ تعالی عنہا)خدا سے ڈرو، پھر حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا سے ارشاد ہوا"تم نبی کی بیٹی ہو۔ تمھارا چاچاپیغمبر ہے اور پیغمبر کے نکاح میں ہو، حفصہ (رضی اللہ تعالی عنہا) تم پر کس بات میں فخر کر سکتی ہے۔"[ترمذی بال فضل ازواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم]
ایک بار حضرت عائشہ اور حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہما نے حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا سے کہا کہ"ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک تم سے زیادہ معزز ہیں، ہم آپکی بیوی بھی ہیں اور چچا زاد بہن بھی، حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا کو ناگوار گزرا، انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی، آپ نے فرمایا تم نے یہ کیوں نہیں کہا، کہ تم مجھ سے زیادہ کیونکر معزز ہو سکتی ہو، میرے شوہر محمد صلی اللہ علیہ وسلم، میرے باپ ہارون علیہ السلام اور میرے چچا موسی علیہ السلام ہیں۔"
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کی اور حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی بیٹی تھیں جو تقریب نبوی میں دوش بدوش تھے، اس بنا پر حضرت عائشہ و حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہما بھی دیگر ازواج کے مقابلہ میں باہم ایک تھیں۔ چنانچہ واقعہ تحریم جو سن نو ہجری میں پیش آیا تھا، اسی قسم کے اتفاق کا نتیجہ تھا، ایک دفعہ کئی دن تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس معمول سے زیادہ بیٹھے، جسکی وجہ یہ تھی کہ حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس کہیں سے شہد آ گیا تھا، انہوں نے آپکو پیش کیا آپکو شہد بہت مرغوب تھا۔ آپ نے نوش فرمایا، اس میں وقت مقررہ سے دیر ہو گئی، حجرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو رشک ہواحضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمارے اور تمھارے گھر میں آئیں تو کہنا کہ آپکے منہ سے مغافیر کی بو آتی ہے،[مغافیر کی بو کا اظہار کرنا کوئی جھوٹ بات نہ تھی مغافیر کے پھولوں میں اگر کسی قسم کی کرختگی ہو تو تعجب کی بات نہیں](مغافیر کے پھولوں سے شہد کی مکھیاں رس چوتی ہیں) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا لی کہ میں سہد نہ کھاؤں گا۔ اس پر قرآن مجید کی یہ آیت اتری،[صحیح بخاری ج2ص29]
"اے پیغمبر اپنی بیویوں کی خوشی کے لیے تم خدا کی حلال کی ہوئی چیز کو حرام کیوں کرتے ہو؟"
کبھی کبھی (حضرت حفصہ و حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہما) میں باہم رشک و رقابت کا اظہار ہو جایا کرتا تھا،
ایک مرتبہ حضرت عائشہ و حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہما دونوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھیں، رسول صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راتوں کو عائشہ کے اونٹ پر چلتے تھے اور ان سے باتیں کرتے تھے، ایکدن حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے کہا کہ آج رات کو تم میرے اونٹ پر اور میں تمھارے اونٹ پر سوار ہوں تا کہ مختلف مناظر دیکھنے میں آئیں، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا راضی ہو گئیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے اونٹ کے پاس آئے جس پر حفصہ سوار تھیں جب منزل پر پہنچے اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے آپکو نہیں پایا تو اپنے پاؤں کو اذخر(ایک گھاس ہے) کے درمیان لٹکا کر کہنے لگیں،"خداوندا! کسی بچھو یا سانپ کو متعین کر جو مجھے ڈس جائے۔"[صحیح بخاری(وسیرة النبی جلد دوم)یہ حضرت حفصہ سے رقابت کا اظہار نہیں بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت سفر جسکو حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کے ساتھ پسند کرتے تھے اس سے محرومی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پسندیدگی کی بجائے حضرت حفصہ کو حضور کی مرضی کے خلاف اونٹ پر بٹھانا تھا۔ از صحیح امداد اللہ انور]
 

شمشاد

لائبریرین
بہت شکریہ تانیہ، بہت اچھا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔

میں نے ایک جگہ پڑھا تھا کہ جب حضرت حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا بیوہ ہوئیں، اور ادھر حضرت رقیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا انتقال ہو چکا تھا، تو حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اپنی بیٹی کے رشتے کی بات کی۔ بعد ازاں حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، (مفہوم) حفصہ کو وہ ملے گا جو عثمان سے بہتر ہے اور عثمان کو وہ ملے گا جو حفصہ سے بہتر ہے۔

اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دوسری بیٹی کا نکاح حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ سے کر دیا اور حضرت حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں۔
 

قیصرانی

لائبریرین
السلام علیکم پیارے ساتھیو!
کچھ دن پہلے ایک بہت پیاری کتاب صحابیات رضی اللہ تعالی عنہن کے بارے میں پڑھنے کو ملی جسکی تحریر و ترتیب
جناب مولانا سعید انصاری صاحب اور جناب مولانا عبدالسلام ندوی صاحب نے کی ہے
یہ کتاب مستند حوالوں سے ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن، بنات طاہرات رضی اللہ تعالی عنہن اور اکابر صحابیات رضی اللہ تعالی عنہن کے مفصل سوانح حیات، انکے مذہبی، علمی اور اخلاقی کارناموں کی پوری تفصیل اور صحابیات رضی اللہ تعالی عنہن کی پاکیزہ و مجاہداہ زندگی کا مکمل اسوہ حسنہ ہے
مسلمان عورتیں زمانہ کے نئے حالات سے بدل رہی ہیں انکے سامنے سعادتمند خواتین کا کوئی اسوہ موجود نہیں اسلیئے انکا راہ سے ہٹنا دو راز عقل نہیں، لیکن اگر ہماری خواتین اس کتاب کو اپنی زندگی کا نمونہ بنائیں تو انہیں معلوم ہو گا کہ دینداری، خدا ترسی، پاکیزگی، عفت اور اصلاح و تقویٰ کے ساتھ وہ دنیا کو کیونکر نباہ سکتی ہیں اور دنیا و آخرت دونوں کی نیکیوں کو اپنے آنچل میں کیسے سمیٹ سکتی ہیں،
میں نے اس کتاب کو ہمارے بہت محترم ساتھی حافظ زوہیب احمد صاحب جو اپنی اردو کی خدمات کے لیے کسی تعارف کے محتاج نہیں کے اردو انسائیکلو پیڈیا کے لیے ٹائپ کیا اور میں چاہونگی کہ میں اپنے یہاں تمام موجود ساتھیوں سے بھی شیئر کروں ، امید ہے آپ سبکو بھی اس میں صحابیات رضی اللہ تعالی عنہن کی زندگی کے بارے میں تمام تحاریر پڑھنے کے بعد اتنا ہی مزا آئے گا ، ہمت بندھے گی ، ایمان تازہ ہو گا اور خوشی ہو گی جیسا کہ میں اسکو پڑھنے کے بعد محسوس کرتی ہوں ۔۔۔ ۔
23j0krt.gif

(میں اس کتاب میں موجود تمام صحابیات رضی اللہ تعالی عنہن کو ایک ایک موضوع سے اسی لڑی میں شیئر کرونگی تا کہ تمام ساتھی دلجمعی سے پڑھ سکیں اور مستفید ہوں)
چونکہ آپ پوری کتاب شئیر کرنا چاہ رہی ہیں تو یہ بتائیے گا کہ اس کتاب کے کاپی رائٹ کی کیا پوزیشن ہے
 

قیصرانی

لائبریرین
یہ بات بھی وضاحت طلب ہے کہ
نکاح:۔
باپ نے ان صفات کا لحاظ رکھ کر شادی کے لیے ورقہ بن نوفل کو جو برادر زادہ اور تورات و انجیل کے بہت بڑے عالم تھے، منتخب کیا، لیکن پھر کسی وجہ سے یہ نسبت نہ ہو سکی اور ابوہالہ بن بناش تمیمی سے نکاح ہو گیا۔(استیعاب ج2ص37​
8)
ابوہالہ کے بعد عتیق بن عابد مخزومی کے عقد نکاح میں آئیں، اسی زمانہ میں حرب الفجار چھڑی، جس میں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے باپ لڑائی کے لیے نکلے اور مارے گئے(طبقات ج8صفحہ9) یہ عام الفیل سے 20 سال بعد کا واقعہ ہے۔(ایضاًص81ج1ق1)​
یہاں نکاح سے مراد شادی ہی ہے؟ کیونکہ نکاح کو اسلامی نکتہ نظر سے ایک مخصوص اصطلاح مانا جاتا ہے
 

قیصرانی

لائبریرین
شمشاد بھائی، اگر یہ کتاب کافی بڑی ہے تو براہ کرم ہمارے تبصرہ جات ایک اور دھاگے میں منتقل کر دیجئے تاکہ تسلسل برقرار رہے
 
یہ بات بھی وضاحت طلب ہے کہ

یہاں نکاح سے مراد شادی ہی ہے؟ کیونکہ نکاح کو اسلامی نکتہ نظر سے ایک مخصوص اصطلاح مانا جاتا ہے
جاہلیت میں بھی نکاح کا لفظ مستعمل تھا جیسے ہمارے ہاں بیاہ کو غیراسلامی لفظ نہیں سمجھا جاتا۔
 

تانیہ

محفلین
حضرت زینب ام المساکین رضی اللہ تعالی عنہا
زینب نام تھا، سلسلہ نسب یہ ہے، زینب بنت خزیمہ بن عبداللہ بن عمر بن عبد مناف بن ہلال بن عامر بن صعصعہ، چونکہ فقراء و مساکین کو بہایت فیاضی کے ساتھ کھانا کھلایا کرتی تھیں، اسلیے ام المساکین کی کنیت کے ساتھ مشہور ہو گئیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے عبداللہ بھی حجش رضی اللہ تعالی عنہ کے نکاح میں تھیں، عبداللہ بن حجش رضی اللہ تعالی عنہ نے جنگ احد میں شہادت پائی اور آنحضرت صلی اللہ ولیہ وسلم نے اسی سال ان سے نکاح کر لیا،نکاح کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صرف دو تین مہینے رہ نہیں پائی تھیں کہ انکا انتقال ہو گیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کے بعد صرف یہی ایک بی بی تھیں جنہوں نے وفات پائی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود نماز جنازہ پڑھائی، اور جنتہ البقیع میں دفن ہوئیں، وفات کے وقت انکی عمر 30 سال کی تھی۔[اصابہ ج8ص94،95(و سیرة النبی جلد دوم)]​
 

تانیہ

محفلین
حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا
نام و نسب:۔
ہند نام، ام سلمہ کنیت، قریش کے خاندان مخزوم سے ہیں، سلسلہ نسب یہ ہے ہند بنت ابی امیہ سہیل بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم، والدہ بنو فراص سے تھیں اور انکا سلسلہ نسب یہ ہے، عاتکہ بنت عامر بن ربیعہ بن مالک بن جذیمہ بن علقمہ بن جذل الطعان ابن فراس بن غنم بن مالک بن کنانہ،
ابو امیہ(حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے والد) مکہ کے مشہور مخیر اور فیاض تھے، سفر میں جاتے تو تمام قافلہ والوں کی کفالت خود کرتے تھے اسی لیے زاد الراکب کے لقب سے مشہور تھے۔[اصابہ ج8ص240] حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے انہی کی آغوش تربیت میں نہایت نازونعمت سے پرورش پائی۔
نکاح:۔
عبداللہ بن عبدالاسد سے جو زیادہ تر ابوسملہ رضی اللہ تعالی عنہ کے نام سے مشہور ہیں، اور جو ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کے چچا زاد بھائی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی تھے، نکاح ہوا،
اسلام:۔
آغاز نبوت میں اپنے شوہر کے ساتھ ایمان لائیں،
ہجرت حبشہ:۔
اور ان ہی کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کی، حبشہ میں کچھ زمانہ تک قیام کر کے مکہ واپس آئیں اور یہاں سے مدینہ ہجرت کی، ہجرت میں انکو یہ فضیلت حاصل ہے کہ اہل سیر کے نزدیک وہ پہلی عورت ہیں جو ہجرت کر کے مدینہ آئیں۔
ہجرت مدینہ:۔
ہجرت کا واقعہ نہایت عبرت انگیز ہے، حضرت ام سملہ رضی اللہ تعالی عنہا اپنے شوہر کے ہمراہ ہجرت کرنا چاہتی تھیں(انکا بچہ سلمہ بھی ساتھ تھا)لیکن (حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے) قبیلہ نے مزاحمت کی تھی، اس لیے حضرت ابو سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ انکو چھوڑ کر مدینہ چلے گئے تھے، اور یہ اپنے گھر واپس آ گئیں تھیں(ادھر سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کو ابو سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کے خاندان والے حضرت ام سملہ رضی اللہ تعالی عنہا سے چھین لے گئے) اس لیے ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو اور بھی تکلیف تھی، چنانچہ روزانہ گھبرا کر گھر سے نکل جاتیں اور ابطح میں بیٹھ کر رویا کرتیں۔ سات آٹھ دن تک یہی حالت رہی اور خاندان کے لوگوں کو احساس تک نہ ہوا۔ ایکدن ابطح سے انکے خاندان کا ایک شخص نکلا اور ام شلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو روتے دیکھا تو اسکا دل بھر آیا گھر آکر لوگوں سے کہا کہ" اس غریب پر ظلم کیوں کرتے ہو، اسکو جانے دو اور اسکا بچہ اسکے حوالے کردو،" روانگی کی اجازت ملی تو بچے کو گود میں لیکر اونٹ پر سوار ہو گئیں اور مدینہ کا راستہ لیا، چونکہ وہ بالکل تنہا تھیں، یعنی کوئی مرد ساتھ نہ تھا، تنعیم میں عثمان بن طلحہ(کلید بردار کعبہ) کی نظر پڑی، بولا"کدھر کا قصد ہے؟"کہا"مدینے کا"پوچھا کوئی ساتھ بھی ہے، کہا"خدا اور یہ بچہ،" عثمان نے کہا"یہ نہیں ہو سکتا تم تنہا کبھی نہیں جا سکتیں"یہ کہکر اونٹ کی مہار پکڑی اور مدینہ کی طرف روانہ ہوا، راستہ میں جب کہیں ٹھہرتا تو اونٹ کو بٹھا کر کسی درخت کے نیچے چلا جاتا، اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا اتر پڑتیں، روانگی کا وقت آتا تو اونٹ پر کجادہ رکھ کر پرے ہٹ جاتا اور ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے کہتا کہ"سوار ہو جاؤ"حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے ایسا شریف آدمی کبھی نہیں دیکھا، غرض مختلف منزلوں پر قیام کرتا ہوا۔ مدینہ لایا، قبا کی آبادی پر نظر پڑی تو بولا"اب تم اپنے شوہر کے پاس چلی جاؤ، وہ یہیں مقیم ہیں" یہ ادھر روانہ ہوئیں، اور عثمان نے مکہ کا راستہ لیا،[زرقانی ج3ص272،273]
قبا پہنچیں تو لوگ انکا حال پوچھتے تھے اور جب یہ اپنے باپ کا نام بتاتیں تو انکو یقین نہیں آتا تھا(یہ حیرت انکے تنہا سفر کرنے پر تھی، شرفا کی عورتیں اسطرح باہر نکلنے کی جرأت نہیں کرتی تھیں) اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا مجبوراً خاموش ہوتی تھیں، لیکن جب کچھ لوگ حج کے ارادہ سے مکہ روانہ ہوئے اور انہوں نے اپنے گھر رقعہ بھجوایا تو اس وقت لوگوں کو یقین ہوا کہ وہ واقعی ابوامیہ کی بیٹی ہیں، ابو امیہ قریش کے چونکہ نہایت مشہور اور معزز شخص تھے، اسلیےحضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا بڑی وقعت کی نگاہ سے دیکھی گئیں۔[مسند ابن حنبل ج6ص307]
وفات ابوسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ، نکاح ثانی اور خانگی حالات:۔
کچھ زمانہ تک شوہر کا ساتھ رہا، حضرت ابوسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ بڑے شہہ سوار تھے، بدر اور احد میں شریک ہوئے، غزوہ احد میں چند زخم کھائے، جنکے صدمہ سے جانبر نہ ہو سکے، جمادی الثانی سن چار ہجری میں انکا زخم پھٹا اور اسی صدمہ سے وفات پائی۔[زرقانی ج3ص273] حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچیں اور وفات کی خبر سنائی، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود انکےمکان پر تشریف لائے، گھر میں کہرام مچا تھا، حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کہتی تھیں،" ہائے غربت میں یہ کیسی موت ہوئی" آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"صبر کرو، انکی مغفرت کی دعا مانگو، اور یہ کہو کہ خداوندا! ان سے بہتر انکا جانشین عطا کر" اسکے بعد ابو سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کی لاش پر تشریف لائےاور جنازہ کی نماز نہایت اہتمام کے ساتھ پڑھائی گئی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نو تکبیریں کہیں، لوگوں نے نماز کے بعد پوچھا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپکو سہو تو نہیں ہوا؟ فرمایا یہ ہزار تکبیروں کے مستحق تھے، وفات کے وقت ابوسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کی آنکھیں کھلی رہ گئی تھیں، آنحضرت
صلی اللہ علیہ وسلم نے خود دست مبارک سے آنکھیں بند کیں، اور انکی مغفرت کی دعا مانگی،
ابوسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات کے بعد ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا حاملہ تھیں، وضع حمل کے بعد عدت گزر گئی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے نکاح کا پیغام دیا، لیکن حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے انکار کر دیا، انکے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام لیکر پہنچے، حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا مجھے چند عذر ہیں(1)میں سخت غیور ہوں۔(2)صاحب عیال ہوں(3) میرا سن زیادہ ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان زخمتوں کو گوارہ فرمایا، حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو اب عذر کیا ہو سکتا تھا؟
اپنے لڑکے سے (جنکا نام عمر تھا) کہا اٹھو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا نکاح کراؤ۔[سنن نسائی ص511] شوال سن چار ہجری کی اخیر تاریخوں میں یہ تقریب انجام پائی، حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو حضرت ابو سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کی موت سے جو شدید صدمہ ہوا تھا، خداوند تعالی نے اسکو ابدی مسرت میں تبدیل کر دیا، سنن ابن ماجہ میں ہے،
"جب ابوسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ نے وفات پائی تو میں نے وہ حدیث یاد کی جسکو وہ مجھ سے بیان کیا کرتے تھے تو میں نے دعا شروع کی اور جب میں یہ کہنا چاہتی کہ خداوندا! مجھے ابوسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ سے بہتر کون مل سکتا ہے لیکن میں نے دعا کو پڑھنا شروع کیا تو ابوسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کے جانشین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوئے"
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انکو دو چکیاں، گھڑا، اور چمڑے کا تکیہ جس میں خرمے کی چھال بھری تھی، عنایت فرمایا، یہی سامان اور بیبیوں کو بھی عنایت ہوا تھا،[مسندج6ص295]
بہت حیادار تھیں، ابتدا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکان پر تشریف لاتے تو حضرت ام سلمہ فرط غیرت سے لڑکی (زینب) کو گود میں بٹھا لیتیں، آپ یہ دیکھ کر واپس جاتے، حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ کو جو حضرت ام سلمہ کے رضاعی بھائی تھے، معلوم ہوا تو بہت ناراض ہوئے، اور لڑکی کو چھین لے گئے،[ایضاً]
لیکن بعد میں یہ بات ختم ہو گئی، اور جسطرح دوسری بیبیاں رہتی تھیں وہ بھی رہنے لگیں، نکاح سے قبل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے انکا ذکر کیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو بڑا رشک ہوا، ابن سعد میں ان سے جو روایت منقول ہے اس میں یہ فقرہ بھی ہے"یعنی مجھکو سخت غم ہوا،"[ج8ص24]
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے بےحد محبت تھی، یہی وجہ ہے کہ ایک موقع پر جب تمام ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن کو (سوا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہاکے) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ عرض کرنا تھا، تو انہوں نے حضرت ام سلمہ کو ہی اپنا سفیر بنا کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، صحیح بخاری میں ہے کہ ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن کے دو گروہ تھے، ایک میں حضرت عائشہ، حفصہ، صفیہ، سودہ رضی اللہ تعالی عنہن شامل تھیں، دوسرے میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا اور باقی ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن تھیں۔ چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو زیادہ محبوب رکھتے تھے۔ اس لیے لوگ ان ہی کی باری میں ہدیہ بھیجتے تھے، حضرت ام سلمہ کی جماعت نے ان سے کہا، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی طرح ہم بھی سب کی بھلائی کی خواہاں ہیں، اس بنا پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم جسکے بھی مکان میں ہوں۔ لوگوں کو ہدیہ بھیجنا چاہیے، حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے آپ سے یہ شکایت کی تو آپ نے دو مرتبہ اعراض فرمایا، تیسری مرتبہ کہا"ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا ! عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے معاملے میں مجھے اذیت نہ پہنچاؤ، کیونکہ انکے سوا تم میں کوئی بیوی ایسی نہیں ہے، جسکے لحاف میں میرے پاس وحی آئی ہو،[صحیح بخاری ج1ص532]"حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا"میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اذیت پہنچانے سے پناہ مانگتی ہوں۔"
حضرت سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے گھر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم شب باش ہوتے تو انکا بچھونا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جانماز کے سامنے بچھتا تھا(آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا کرتے تھے اور یہ سامنے ہوتی تھیں۔)[مسندج6ص322]
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خیال کا بہت خیال رکھتی تھیں، حجرت سفینہ رضی اللہ تعالی عنہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مشہور غلام ہیں، دراصل حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے غلام تھے، انکو آزاد کیا تو اس شرط پر کہ جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں تم پر انکی خدمت لازمی ہوگی[ایضاًص316]
عام حالات:۔
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے مشہور واقعات زندگی یہ ہیں، غزوہ خندق میں اگرچہ وہ شریک نہ تھیں، تاہم اس قدر قریب تھیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو اسطرح سنتی تھیں فرماتی ہیں کہ مجھے وہ وقت خود یاد ہے کہ جب سینۂ مبارک غبار سے اٹا ہوا تھا اور آپ لوگوں کو اینٹیں اٹھا اٹھا کر دیتے اور اشعار پڑھ رہے تھے کہ دفعتہً عمار بن یاسر پر نظر پڑی فرمایا"(افسوس) ابن سمیہ! تجھکو ایک باغی گروہ قتل کرے گا،"[ایضاًص289]
محاصرہ بنو قریظہ سن پانچ ہجری میں یہود سے گفتگو کرنے کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابولبابہ رضی اللہ تعالی عنہ کو بھیجا تھا، اثنائے مشورہ میں ابولبابہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ہاتھ کے اشارے سے بتلایا کہ تم لوگ قتل ہو جاؤ گے، لیکن بعد میں اسکو افشائے راز سمجھ کر اس قدر نادم ہوئےکہ مسجد کے ستون سے اپنے آپکو باندھ لیا، چند دنوں تک یہی حالت رہی پھر توبہ قبول ہوئی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے مکان میں تشریف فرما تھے کہ صبح کو مسکراتے ہوئے اٹھے تو بولیں"خدا آپکو ہمیشہ ہنسائے، اس وقت ہنسنے کا کیا سبب ہے؟"فرمایا"ابولبابہ رضی اللہ تعالی عنہ کی توبہ قبول ہو گئی" عرض کی "تو کیا میں انکو یہ مژدہ سنا دوں"فرمایا"ہاں اگر چاہو"حضرت ام سلمہ اپنے حجرہ کے دروازہ پر کھڑی ہوئیں اور پکار کر کہا"ابولبابہ مبارک ہو تمھاری توبہ قبول ہو گئی،" اس آواز کا کانوں میں پڑنا تھا کہ تمام مدینہ امنڈ آیا۔[زرقانی ج2ص153وابن سعدج2ق1
ص54]
اسی سن میں آیت حجاب نازل ہوئی اس سے پیشتر ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن بعض دور کے اعزہ و اقارب کے سامنے آیا کرتی تھیں، اب خاص خاص اعزہ کے سوا سب سے پردہ کرنے کا حکم ہوا۔ حضرت ابن ام کمتوم قبیلہ قریش کے ایک معزز صحابی اور بارگاہ نبوی کے مؤذن تھے اور چونکہ نابینا تھے، اس لیے ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن کے حجروں میں آیا کرتے تھے، ایکدن آئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہ اور حضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنہما سے فرمایا،"ان سے فرمایا،"ان سے پردہ کرو"بولیں"وہ تو نابینا ہیں" فرمایا"تم تو نابینا نہیں ہو، تم تو انہیں دیکھتی ہو"[مسندج6ص296]
صلح حدیبیہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھیں، صلح کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ لوگ حدیبیہ میں قربانی کریں، لیکن لوگ اس قدر دل شکستہ تھے کہ ایک شخص بھی نہ اٹھا یہاں تک کہ جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے، تین دفعہ بار بار کہنے پر بھی ایک شخص بھی آمادہ نہ ہوا، (چونکہ معاہدہ کی تمام شرطیں بظاہر مسلمانوں کے سخت خلاف تھیں اس لیے تمام لوگ رنجیدہ اور غصہ سے بیتاب تھے)آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لے گئے اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے شکایت کی، انہوں نے عرض کی"آپ کسی سے کچھ نہ فرمائیں بلکہ باہر نکل کر خود قربانی کریں اور احرام اتارنے کے لیے بال منڈوائیں"آپ نے باہر آکر قربانی کی اور بال منڈوائے اب جب لوگوں کو یقین ہو گیا کہ اس فیصلہ میں تبدیلی نہیں ہو سکتی تو سب نے قربانیاں کیں اور احرام اتارا، ہجوم کا یہ حال تھا کہ ایکدوسرے پر ٹوٹا پڑتا تھا اور عجلت اس قدر تھی کہ ہر شخص حجامت بنانے کی خدمت انجام دے رہا تھا،[صحیح بخاری ج6ص380]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کا یہ خیال علم النفس کے ایک بڑے مسئلہ کو حل کرتا ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جمہور کی فطرت شناسی میں انکو کس درجہ کمال حاصل تھا، امام الحرمین فرمایا کرتے تھے کہ صنف نازک کی پوری تاریخ اصابت رائے کی ایسی عظیم الشان مثال نہیں پیش کر سکتی۔[زرقانی ج3ص272]
غزوہ خیبر میں شریک تھیں، مرحب کے دانتوں پر جب تلوار پڑی تو کرکراہٹ کی آواز انکے کانوں میں آئی تھی،[استیعاب ج2ص803]
سن نو ہجری میں ایلاء کا واقعہ پیش آیا، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا کو تنبیہہ کی تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس بھی آئے وہ انکی عزیز ہوتی تھیں، ان سے بھی گفتگو کی، حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے جواب دیا،[صحیح بخاری ج2ص730]
"عمررضی اللہ تعالی عنہ تم ہر معاملہ میں دخل دینے لگے یہاں تک کہ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور انکی ازواج کے معاملات میں بھی دخل دیتے ہو۔"
چونکہ جواب نہایت خشک تھا، اس لیے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ چپ ہو گئے اور اٹھ کر چلے آئے، رات کو یہ خبر مشہور ہوئی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج کو طلاق دے دی صبح کو جب حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور تمام واقعہ بیان کیا جب حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کا قول نقل کیا تو آپ مسکرائے،
حجة الوداع میں جو سن دس ہجری میں ہوا۔ اگرچہ ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا علیل تھیں، تاہم ساتھ آئیں، نبہا(غلام) اونٹ کی مہار تھامے تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب غلام کے پاس اس قدر مال موجود ہو کہ وہ اسکو ادا کر کے آزاد ہو سکتا ہو تو اس سے پردہ ضروری ہو جاتا ہے،[مسندج6ص308وص289]
طواف کے متعلق فرمایا کہ جب نماز فجر ہو، تم اونٹ پر سوا ہو کر طواف کرو چنانچہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے ایسا ہی کیا،[صحیح بخاری ج1ص219،220]
سن 11ہجری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم علیل ہوئے، مرض نے طول کھینچا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے مکان میں منتقل ہو گئے، حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا اکثر آپکو دیکھنے کے لیے جایا کرتی تھیں، ایکدن طبیعت زیادہ علیل ہوئی تو ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا چیخ اٹھیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا کہ مسلمانوں کا شیوہ نہیں،[طبقات ج2ق2ص13] ایکدن مرض میں اشتداد ہوا تو ازواج نے دوا پلانی چاہی، چونکہ گوارہ نہ تھی، آپ نے انکار فرمایا، لیکن جب غشی طاری ہو گئی تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا اور حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا بنت عمیس نے دوا پلا دی[صیح بخاری ج2ص641وطبقات ج2ق2ص32](بعض روائتوں میں ہے کہ ان دونوں نے اسکا مشورہ دیا تھا) اسی زمانہ میں ایک روز حضرت ام سلمہ اور ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہما نے جو حبشہ ہو آئی تھیں، وہاں کے عیسائی معبدوں کا(جو غالبا رومن کیتھولک گرجے ہونگے) اور انکے مجسموں اور تصویروں کا تذکرہ کیا، آپ نے فرمایا۔ ان لوگوں میں جب کوئی نیک مرتا ہے تو اسکے مقبرہ کو عبادت گاہ بنا لیتے ہیں، اور اسکا بت بنا کر اس میں کھڑا کرتے ہیں ، قیامت کے روز خدائے عزوجل کی نگاہ میں یہ لوگ بدترین مخلوق ہونگے،[صحیح بخاری وصحیح مسلم]
وفات سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے باتیں کی تھیں، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا اسی وقت بےتابانہ پوچھنے لگیں، لیکن حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے توقف کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد پوچھا،[طبقات ج2ق2ص40]
سن اکسٹھ ہجری میں حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے شہادت پائی، حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے خواب میں دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں، سر اور ریش مبارک غبار آلود ہے پوچھا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کیا حال ہے، ارشاد ہوا،"حسین (رضی اللہ تعالی عنہ) کے مقتل سے واپس آ رہا ہوں"حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا بیدار ہوئیں تو آنکھوں سے آنسو جاری تھے[صحیح ترمذی ص224] اسی حالت میں زبان سے نکلا اہل عراق نے حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو قتل کیا، خدا انکو قتل کرے اور حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو ذلیل کیا خدا ان لوگوں پر لعنت کرے،[مسند ج6ص98]
سن تریسٹھ ہجری میں واقعہ حرہ کے بعد شامی لشکر مکہ گیا، جہاں ابن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ پناہ گزیں تھے، چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں ایسے لشکر کا تذکرہ فرمایا تھا، بعض کو شبہہ ہوا، اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے دریافت کیا بولیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ ایک شخص مکہ میں پناہ لے گا، اسکے مقابلہ میں جو لشکر آئے گا بیاباں میں وہیں دھنس جائے گا۔ ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے پوچھا جو لوگ جبراً شریک کیئے گئے ہوں گے وہ بھی ؟فرمایا ہاں وہ بھی لیکن قیامت میں انکی نیتوں کے مطابق اٹھیں گے(حضرت ابوجعفر رضی اللہ تعالی عنہ) فرماتے تھے کہ یہ واقعہ مدینہ کے میدان میں پیش آئے گا،[صحیح بخاری ج2ص493،494]
وفات:۔
جس سال حرہ کا واقعہ ہوا(یعنی سن 63 ہجری) اسی سال حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے انتقال فرمایا اس وقت 84 برس کا سن تھا، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے نماز جنازہ پڑھی اور بقیع میں دفن کیا[زرقانی ج3ص276] اس زمانہ میں ولید بن عتبہ(ابوسفیان رضی اللہ تعالی عنہ کا پوتا) مدینہ کا گورنر تھا، چونکہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے وصیت کی تھی کہ وہ میرے جنازہ کی نماز نہ پڑھائے، اس لیے وہ جنگل کی طرف نکل گیا اور اپنے بجائے ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کو بھیج دیا۔[طبری کبیرج3ص2443]
اولاد:۔
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پہلے شوہر سے جو اولاد ہوئی اسکے نام یہ ہیں۔
سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ، حبشہ میں پیدا ہوئے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انکا نکاح حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کی لڑکی امامہ سے کیا تھا۔
عمر رضی اللہ تعالی عنہ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کا نکاح انہوں نے ہی کیا تھا، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانہ خلافت میں فارس و بحرین کے حاکم تھے،
دُرّہ، انکا ذکر صحیح بخاری میں آیا ہے، حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا نے جو کہ ازواج مطہرات میں داخل تھیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہم نے سنا ہے کہ آپ درہ سے نکاح کرنا چاہتے ہیں؟ فرمایا یہ کیسے ہو سکتا ہے، اگر میں نے اسکو پرورش نہ بھی کیا ہوتا تو بھی وہ کسی طرح میرے لیے حلال نہ تھی، کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی لڑکی ہے۔[صحیح بخاری ج2ص764]
زینب رضی اللہ تعالی عنہا پہلے برہ نام تھا، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب رکھا۔[زرقانی ج3ص272]
حلیہ:۔
اصابہ میں ہے،"یعنی حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نہایت حسین تھیں۔"
ابن سعد[ابن سعدج8ص66] نے روایت کی ہے کہ جب حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کو انکے حسن کا حال معلوم ہوا تو سخت پریشان ہوئیں، مگر یہ واقدی کی روایت ہے جو چنداں قابل اعتبار نہیں،
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے بال نہایت گھنے تھے۔[مسندج6ص389]
فضل و کمال:۔
علمی حیثیت اگرچہ تمام ازواج بلند مرتبہ تھیں، تاہم حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہما کا ان میں کوئی جواب نہیں تھا، چنانچہ محمود بن لبید کہتے ہیں،[طبقات ابن سعدج6ص317]
"آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج احادیث کا مخزن تھیں، تاہم عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہما کا ان میں کوئی حریف مقابل نہ تھا۔"
مروان بن حکم ان سے مسائل دریافت کرتا اور اعلانیہ کہتا تھا۔
"آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے ہوتے ہوئے ہم دوسروں سے کیوں پوچھیں،"[مسندج6ص317]
حضرت ابو ہریرہ اور ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما دریائے علم ہونے کے باوجود انکے دریائے فیض سے مستغنی نہ تھے،[ایضاًص312] تابعین کرام کا ایک بڑا گروہ انکے آستانہ فضل پر سربر تھا۔
قرآن اچھا پڑھتیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز پر پڑھ سکتی تھیں، ایک مرتبہ کسی نے پوچھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کیونکر قرأت کرتے تھے؟ بولیں ایک ایک آیت الگ الگ کر کے پڑھتے تھے اسکے بعد خود پڑھ کر بتلا دیا۔[ایضاًص300،301]
حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے سوا انکا کوئی حریف نہ تھا، ان سے 378 روائتیں مروی ہیں۔ اس بنا پر وہ محدثین صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم کے تیسرے طبقہ میں شامل ہیں۔
حدیث سننے کا بڑا شوق تھا۔ ایک دن بال گوندوارہی تھیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے زبان مبارک سے ایھاالناس(لوگو!) کا لفظ نکلا تو فوراً بال باندھ کر اٹھ کھڑی ہوئیں، اور کھڑے ہو کر پورا خطبہ سنا،[ایضاًص301]
مجتہد تھیں، صاحب اصابہ نے انکے تذکرہ میں لکھا ہے،
"یعنی وہ کامل العقل اور صاحب الرائے تھیں۔"[اصابہ ج8ص241]
علامہ ابن قیم نےلکھا ہے کہ ان کے فتاویٰ اگر جمع کیئے جائیں تو ایک چھوٹا سا رسالہ تیار ہو سکتا ہے،[اعلام الموقین ج1ص13] انکے فتاوی کی ایک خاص خصوصیت یہ ہے کہ وہ عموما متفق علیہ ہیں اور یہ انکی دقیقہ رسی اور نقطہ سنجی کا کرشمہ ہے،
انکی نکتہ سنجی پر ذیل کے واقعات شاہد ہیں۔
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ عصر کے بعد دو رکعت نماز پڑھا کرتے تھے، مروان نے پوچھا آپ یہ نماز کیوں پڑھتے ہیں؟ بولے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی پڑھتے تھے، چونکہ انہوں نے یہ حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے سلسلہ سے سنی تھی، مروان نے انکے پاس تصدیق کےلیے آدمی بھیجا، انہوں نے کہا مجھکو ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے یہ حدیث پہنچی ہے۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس آدمی گیا اور انکو یہ قول نقل کیا تو بولیں،"یعنی خدا عائشہ(رضی اللہ تعالی عنہا) کی مغفرت کرے انہوں نے بات نہیں سمجھی،"[مسند احمد ج6ص299، یہ واقعہ صحیح بخاری میں بھی ہے ج2ص239]
"کیا میں نے ان سے یہ نہیں کہا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انکے پڑھنے کی ممانعت فرمائی ہے۔"[مسنداحمدج6ص303]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کا خیال تھا کہ رمضان میں جنابت کا غسل فورا صبح اٹھ کر کرنا چاہیے، ورنہ روزہ ٹوٹ جاتا ہے، ایک شخص نے جا کر حضرت ام سلمہ و حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہما سے جا کر پوچھا دونوں نے کہا کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت میں صائم ہوتے تھے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے سنا تو رنگ فق ہو گیا، اسی خیال سے رجوع کیا اور کہا کہ میں کیا کروں فضل بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے مجھ سے اسی طرح بیان کیا تھا، لیکن ظاہر ہے کہ حضرت ام سلمہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہما کو زیادہ علم ہے۔[مسنداحمدج6ص306،307](اسکے بعد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنا فتوی واپس لے لیا)[ایضاًص306]
ایک مرتبہ چند صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم نے دریافت کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اندرونی زندگی کے متعلق کچھ ارشاد کیجیئے، فرمایا"آپ کا ظاہروباطن یکساں تھا۔" آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائےتو آپ سے واقعہ بیان کیا، فرمایا تم نے بہت اچھا کیا،[ایضاًص309]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا جواب صاف دیتی تھیں اور کوشش کرتی تھیں کہ سائل کی تشفی ہو جائے، ایک دفعہ کسی شخص کو مسئلہ بتایا، وہ انکے پاس سے اٹھ کر دوسری ازواج کے پاس گیا۔ سب نے ایک ہی جواب دیا، واپس آ کے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو یہ خبر سنائی تو بولیں، نعم واشفیک! ذرا ٹھہرو میں تمھاری تشفی کرنا چاہتی ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسکے متعلق یہ حدیث سنی ہے،[ایضاًص297]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو حدیث و فقہ کے علاوہ اسرار کا بھی علم تھا، اور یہ وہ فن تھا جسکے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ عالم خصوصی تھے۔ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ انکے پاس آئے تو بولیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ بعض صحابی ایسے ہیں جنکو نہ میں اپنے انتقال کے بعد دیکھونگا نہ وہ مجھکو دیکھیں گے، حضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالی عنہ گھبرا کر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس پہنچے اور ان سے یہ حدیث بیان کی، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس تشریف لائے اور کہا، "خدا کی قسم! سچ سچ کہنا کیا میں انہی میں ہوں۔"حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا نہیں، لیکن تمھارے علاوہ میں کسی کو مستثنےٰ نہیں کرونگی،[مسنداحمدص307ج6]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے جن لوگوں نے علم حدیث حاصل کیا انکی ایک بڑی جماعت ہے ہم صرف چند ناموں پر اکتفا کرتے ہیں۔
عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ تعالی عنہ، اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ، ہندرضی اللہ تعالی عنہا بنت الحارث الفراسیہ، صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا بنت شیبہ، عمررضی اللہ تعالی عنہ، زینب رضی اللہ تعالی عنہا(اولاد حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا) مصعب رضی اللہ تعالی عنہ بن عبداللہ(برادرزادہ) نبہان (غلام مکاتب) عبداللہ بن رافع، نافع رضی اللہ تعالی عنہ، شعبہ، پسر شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ، ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ، خیرة والدۂ حسن بصری، سلیمان رضی اللہ تعالی عنہ بن یسار، ابو عثمان رضی اللہ تعالی عنہ الہندی، حمید رضی اللہ تعالی عنہ، ابوسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ، سعید بن مسیب، ابووائل، صفیہ بنت محصی، شعبی، عبدالرحمان، ابن حارث بن ہشام، عکرمہ، ابوبکر بن عبدالرحمان، عثمان بن عبداللہ ابن موہب، عروہ بن زبیر، کریب مولیٰ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ، قبیصہ بن زویب رضی اللہ تعالی عنہ، نافع مولا ابن عمر یعلےٰ بن مالک،
اخلاق و عادات:۔
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نہایت زاہدانہ زندگی بسر کرتی تھیں۔ ایک مرتبہ ایک ہار پہنا جس میں سونے کا کچھ حصہ شامل تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اعراض کیا تو اسکو توڑ ڈالا۔[ایضاًج6ص319،323] ہر مہینے میں تین دن(دو شنبہ، جمعرات اور جمعہ) روزہ رکھتی تھیں،[ایضاًص389] ثواب کی متلاشی رہتیں، انکے پہلے شوہر کی اولاد انکے ساھ تھی، اور وہ نہایت عمدگی سے انکی پرورش کرتی تھیں، اس بنا پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پوچھا کہ مجھکو اسکا کچھ ثواب بھی ملے گا۔ اپ نے فرمایا"ہاں"[صحیح بخاری ج1ص1198]
اچھے کاموں میں شریک ہوتی تھیں، آیت تطہیر انہی کے گھر میں نازل ہوئی تھی،
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا اور حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو بلا کر کمبل اڑھایا اور کہا"خدایا! یہ میرے اہل بیت ہیں، ان سے ناپاکی کو دور کر اور انہیں پاک کر" حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے یہ دعا سنی تو بولیں یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) میں بھی انکے ساتھ شریک ہوں ارشاد ہوا۔ تم اپنی جگہ پر ہو اور اچھی ہوں۔[صحیح ترمذی ص530]
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی پابند تھیں، نماز کے اوقات میں بعض امراء نے تغیر و تبدل کیا یعنی مستحب اوقات چھوڑ دیئے تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے انکو تنبیہہ کی اور فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ظہر جلد پڑھا کرتے تھے اور تم عصر جلد پڑھتے ہو۔[مسندج6ص289]
ایک دن انکے بھتیجے نے دو رکعت نماز پڑھی، چونکہ سجدہ گاہ غبار آلود تھی، وہ سجدہ کرتے عقت مٹی جھاڑتے تھے، حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے روکا کہ یہ فعل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روش کے خلاف ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک غلام نے ایک دفعہ ایسا کیا تھا تو آپ نے فرمایا تھا، ترب وجھک اللہ! یعنی تیرا چہرہ خدا کی راہ میں غبار آلود ہو۔[ایضاًج6ص301]
فیاض تھیں، اور دوسروں کو بھی فیاضی کی طرف مائل کرتی تھیں۔ ایک دفعہ حضرت عبدالرحمان بن عوف نے آکر کہا اماں! میرے پاس اس قدر مال جمع ہو گیا ہے کہ اب بربادی کا خوف ہے، فرمایا بیٹا! اسکو خرچ کرو، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بہت سے صحابہ ایسے ہیں کہ جو مجھکو میری موت کے بعد پھر نہ دیکھیں گے![ایضاًص290]
ایک مرتبہ چند فقراء جن میں عورتیں بھی تھیں، انکے گھر آئے اور نہایت الحاح سے سوال کیا، ام الحسن بیٹھی تھیں، انہوں نے ڈانٹا لیکن حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا ہمکو اسکا حکم نہیں ہے۔ اسکے بعد لونڈی کو کہا کہ انکو کچھ دیکر رخصت کرو۔ کچھ نہ ہو تو ایک ایک چھوہارا انکے ہاتھ پر رکھ دو،[استیعابج2ص803]
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے انکو جو محبت تھی اسکا یہ اثر تھا کہ آپکے موئے مبارک تبرکاً رکھ چھوڑے تھے۔ جنکی وہ لوگوں کو زیارت کراتی تھیں،[مسند احمدج6ص296] آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے اس قدر محبت تھی کہ ایک مرتبہ انہوں نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اسکا کیا سبب ہے کہ ہمارا قرآن میں ذکر نہیں۔ تو آپ منبر پر تشریف لے گئے اور یہ آیت پڑھی
"ان المسلمین والمسلمات والمومنین والمومنات"[ایضاًص301]
مناقب:۔
ایک مرتبہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھی تھیں، حضرت جبرئیل آئے اور باتیں کرتے رہے، انکے جانے کے بعد آپ نے پوچھا۔"انکو جانتی ہو؟" بولیں وحیہ رضی اللہ تعالی عنہ تھے، لیکن جب اپ نے اس واقعہ کو اور لوگوں سے بیان کیا تو اس وقت معلوم ہوا کہ وہ جبرئیل تھے،[صحیح مسلم ج2ص241مطبوعہ مصر](غالبا یہ نزول حجاب سے قبل کا واقعہ ہے۔)
 

تانیہ

محفلین
حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا بنت جحش
نام و نسب:۔
زینب نام، ام الحکیم کنیت، قبیلہ قریشکے خاندان اسد بن خزیمہ سے ہیں، سلسلہ نسب یہ ہے، زینب بنت جحش بن رباب بن یعمر بن صبرة بن مرة بن کثیر بن غنم بن دودان بن سعد بن خزیمہ، والدہ کا نام امیمہ تھا جو عبدالمطلب جد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دختر تھیں، اسی بنا پر حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی پھوپھی زاد بہن تھیں۔
اسلام:۔
نبوت کے ابتدائی دور میں اسلام لائیں، اسد الغالبہ میں ہے۔
"شروع دور اسلام میں اسلام قبول کیا تھا"[اسدالغابہ ج5ص463]
نکاح:۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زید رضی اللہ تعالی عنہ بن حارثہ کے ساتھ و آپکے آزاد کردہ غلام اور متبنی تھے انکا نکاح کر دیا، اسلام نے مساوات کی جو تعلیم رائج کی ہے اور پست و بلند کو جسطرح ایک جگہ لاکھڑا کر دیا ہے، اگرچہ تاریخ میں اسکی ہزاروں مثالیں موجود ہیں، لیکن یہ واقعہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے ان سب پر فوقیت رکھتا ہے کیونکہ اسی سے عملی تعلیم کی بنیاد قائم ہوتی ہے، قریش اور خصوصا خاندان ہاشم کو تولیت کعبہ کی وجہ سے عرب میں جو درجہ حاصل تھا، اسکے لحاظ سے شاہان یمن بھی انکی ہمسری کا دعوی نہیں کر سکتے تھے لیکن اسلام نے محض"تقوی" کو بزرگی کا معیار قرار دیا اور فخروادعاء کو جاہلیت کا شعار ٹھہرایا ہے، اس بنا پر اگرچہ حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ بظاہر غلام تھے تاہم وہ چونکہ (مسلمان اور مرد صالح تھے اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو انکے ساتھ حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کا عقد کر دینے میں کوئی تکلف نہیں ہوا) تعلیم مساوات کے علاوہ اس نکاح کا ایک اور مقصد بھی تھا جو اسدالغابہ میں مذکور ہے اور وہ یہ ہے۔
"یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انکا نکاح زید رضی اللہ تعالی عنہ سے اسلیے کیا تھا کہ انکو قرآن و حدیث کی تعلیم دیں۔"[اسد الغابہ ج5ص463]
تقریباً ایک سال تک دونوں کا ساتھ رہا، لیکن پھر تعلقات قائم نہ رہ سکے اور شکر رنج پڑھ گئی، حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ نے بارگاہ نبوت میں شکایت کی[صحیح ترمذی ص531] اور طلاق دے دینا چاہا۔
"زید(رضی اللہ تعالی عنہ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کی کہ زینب(رضی اللہ تعالی عنہا) مجھ سے زبان درازی کرتی ہیں اور میں انکو طلاق دینا چاہتا ہوں۔"[فتح الباری ج8ص403 تفسیر سورة احزاب]
لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بار بار انکو سمجھاتے تھے کہ طلاق نہ دیں، قرآن مجید میں ہے"اور جبکہ تم اس شخص سے جس پر خدا نے اور تم نے احسان کیا تھا، یہ کہتے تھے کہاپنی بیوی کو نکاح میں لیے رہو اور خدا سے خوف کرو۔"
لیکن یہ کسی طرح صحبت برآ نہ ہو سکے، اور حضرت زیدرضی اللہ تعالی عنہ نے انکو طلاق دے دی حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بہن تھیں۔ اور آپ ہی کی تربیت میں پلی تھیں، آپکے فرمانے سے انہوں نے یہ رشتہ منظور کر لیا تھا۔ جو انکے نزدیک انکے خلافِ شان تھا(چونکہ زید رضی اللہ تعالی عنہ غلام رہ چکے تھے، اس لیے حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کو یہ نسبت گوارہ نہ تھی) بہرحال وہ مطلقہ ہو گئیں تو آپ نے انکی دلجوئی کے لیے خود ان سے نکاح کر لینا چاہا، لیکن عرب میں اس وقت تک متبنی اصلی بیٹے کے برابر سمجھا جاتا تھا، اس لیئے عام لوگوں کے خیال سے اپ تامل فرماتے تھے، لیکن چونکہ محض یہ جاہلیت کی رسم تھی اور اسکو مٹانا مقصود تھا، اس لیے یہ آیت نازل ہوئی۔
"اور تم اپنے دل میں وہ بات چھپاتے ہو جسکو خدا ظاہر کر دینے والا ہے، اور تم لوگوں سے ڈرتے ہو حالانکہ ڈرنا خدا سے چاہیے،"
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا کہ تم زینب رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس میرا پیغام لیکر جاؤ، زید رضی اللہ تعالی عنہ انکے گھر آئے تو وہ آٹا گوندھنے میں مصروف تھیں، چاہا انکی طرف دیکھیں لیکن پھر کچھ سوچ کر منہ پھیر لیا اور کہا"زینب(رضی اللہ تعالی عنہا) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام لایا ہوں"جواب ملا"میں بغیر استخارہ کیے کوئی رائے قائم نہیں کرتی"یہ کہا اور مصلیٰ پر کھڑی ہو گئیں، ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آئی۔ فلمازید منھا وطرازوجناکھا، اور نکاح ہو گیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کے مکان پر تشریف لائے اور بلا استیذان اندر چلے گئے۔
دن چڑھے ولیمہ ہوا جو اسلام کی سادگی کی اصل تصویر تھا اس میں روٹی اور سالن کا انتظام تھا۔ انصار میں حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خالہ اور حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کی والدہ تھیں، مالیدہ بھیجا تھا۔ غرض سب چیزیں جمع ہو گئیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کو لوگوں کے بلانے کے لیے بھیجا۔ 300 آدمی شریک ہوئے۔ کھانے کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دس دس آدمیوں کی ٹالیاں کر دیں تھیں، باری باری آتے اور کھانا کھا کر واپس جاتے تھے۔
اسی دعوت میں آیت حجاب اتری، جسکی وجہ یہ تھی کہ چند آدمی مدعو تھے، کھا کر باتیں کرنے لگے اور اس قدر دیر لگائی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرط مروت سے خاموش تھے، باربار اندر جاتے اور باہر آتے تھے، اسی مکان میں حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا بھی بیٹھی ہوئی تھیں، اور انکا منہ دیوار کی طرف تھا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آمدورفت کو دیکھ کر بعضوں کو خیال ہوا اور اٹھ کر چلےگئے۔
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو دوسری ازواج کے مکان میں تھے، اطلاع دی، آپ باہر تشریف لائے تو وحی کی زبان اسطرح گویا ہوئی۔
"اے ایمان والو! نبی کے گھروں پر مت جایا کرو، مگر جس وقت تمکو کھانے کے لے اجازت دی جائے، ایسے طور پر کہ تم اسکی تیاری کے منتظر نہ رہو لیکن جب تمکو بلایا جائے تب جایا کرو، پھر جب کھانا کھا چکو تو اٹھ کر چلے جایا کرو۔ اور باتوں میں جی لگا کر مت بیٹھے رہا کرو اس بات سے نبی کو ناگواری پیدا ہوتی ہے، سو وہ تمھارا لحاظ کرتے ہیں اور اللہ تعالےٰ صاف بات کہنے سے لحاظ نہیں کرتا ہے اور جب تم ان سے کوئی چیز مانگو تو پردہ سے باہر مانگو۔"
آپ نے دروازہ پر پردہ لٹکا دیا، اور لوگوں کو گھر کے اندر جانے کی ممانعت ہو گئی یہ ذوالعقدہ سن پانچ ہجری کا واقعہ ہے۔
حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کے نکاح کی چند خصوصیتیں ہیں جو کہیں اور نہیں پائی جاتیں، انکے نکاح سے جاہلیت کی ایک اور رسم کہ متبنی اصلی بیٹے کا حکم رکھتا ہے، مٹ گئی، مساوات اسلامی کا وہ عظیم الشان منظر سامنے آیا کہ آزاد کردہ غلام کی تمیز اٹھ گئی، پردہ کا حکم ہوا۔ نکاح کے لیے وحی الہی آئی۔ ولیمہ میں تکلف ہوا، اسی بنا پر حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہ اور ازواج کے مقابلہ میں فخر کیا کرتی تھیں۔[ترمذی ص561، اسد الغابہ ج5ص464]
ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن میں جو بیبیاں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی ہمسری کا دعوی رکھتی تھیں، ان میں حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا خصوصیت کے ساتھ ممتاز تھیں، خود حجرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کہتی ہیں۔
"ازواج میں سے وہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ میں عزت و مرتبہ میں میرا مقابلہ کرتی تھیں،"[صحیح مسلم باب فضل عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا]
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی انکی خاطرداری منظور رہتی تھی، یہی وجہ تھی کہ جب چند ازواج نے حجرت فاطمہ زہرارضی اللہ تعالی عنہا کو سفیر بنا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، اور وہ ناکام واپس آئیں، تو سب نے اس خدمت(سفارت) کے لیے حجرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کا انتخاب کیا کیونکہ وہ اس خدمت کے لیے زیادہ موزوں تھیں، انہوں نے بڑی دیدہ دلیری سے پیغام ادا کیا، اور بڑے زور کے ساتھ یہ ثابت کرنا چاہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا اس رتبہ کی مستحق نہیں ہیں، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا چپ ہو کر سن رہی تھیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ کی طرف دیکھتی جاتی تھیں، حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا جب تقریر کر چکیں تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا مرضی پا کر کھڑی ہوئیں اور اس زور شور کے ساتھ تقریر کی کہ حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا لاجواب ہو کر رہ گئیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "کیوں نہ ہو ابوبکر(رضی اللہ تعالی عنہ) کی بیٹی ہے"[صحیح مسلم فضل عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا]
وفات:۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن سے فرمایا تھا۔
"تم میں مجھ سے جلد وہ ملیں گی جسکا ہاتھ لمبا ہوگا۔"
یہ استعارةً فیاضی کی طرف اشارہ تھا، لیکن ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن اسکو حقیقت سمجھیں چنانچہ باہم اپنے ہاتھوں کو ناپا کرتی تھیں۔ حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا اپنی فیاضی کی بنا پر اس پیشن گوئی کا مصداق ثابت ہوئیں، ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن میں سب سے پہلے انتقال کیا،کفن کا سامان خود تیار کر لیا تھا۔ اور وصیت کی تھی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ بھی کفن دیں تو ان میں سے ایک کو صدقہ کر دینا، چنانچہ یہ وصیت پوری کی گئی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی، اسکے بعد ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن سے سے دریافت کیا کہ کون قبر میں داخل ہو گا، انہوں نے کہا وہ شخص جو انکے گھر میں داخل ہوا کرتا تھا، چنانچہ اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ، محمد بن عبداللہ بن جحش، عبداللہ بن ابی احمد بن جحش نے انکو قبر میں اتارا اور بقیع میں سپردخاک کیا،[صحیح بخاری ج1ص191، مسلم ص341ج2، اسد الغابہ ص465ج5]
حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا نے سن بیس ہجری میں انتقال کیا اور 53 برس کی عمر پائی، واقدی نے لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جس وقت نکاح ہوا اس وقت 35 سال کی تھیں لیکن یہ عام روایت کے خلاف ہے، عام روایت کے مطابق انکا سن 38 سال کا تھا۔
حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا نے مال متروکہ میں صرف ایک مکان یادگار چھوڑا تھا، جسکو ولید بن عبدالمالک نے اپنے زمانۂ حکومت میں پچاس ہزار درہم پر خرید کیا اور مسجد نبوی میں شامل کر دیا گیا،[طبری ص2449ج13]
حلیہ:۔
حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کوتاہ قامت لیکن خوبصورت اور موزوں اندام تھیں۔[زرقانی ص283]
فضل و کمال:۔
روائتیں کم کرتی تھیں، کتب حدیث میں ان سے صرف گیارہ روائتیں منقول ہیں، راویوں میں حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا، زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ، محمد بن عبداللہ بن حجش(برادرزادہ) کلثوم بنت طلق اور مذکور(غلام) داخل ہیں۔
اخلاق:۔
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں۔
"یعنی حضرت زینب( رضی اللہ تعالی عنہا) نیک خو، روزہ دار و نماز گزار تھیں۔"[زرقانی بحوالہ ابن سعد]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں۔
"میں نے کوئی عورت زینب( رضی اللہ تعالی عنہا) سے زیادہ دیندار، زیادہ پرہیزگار، زیادہ راست گفتار، زیادہ فیاض، مخیر اور خدا کی رضا جوئی میں زیادہ سرگرم نہیں دیکھی فقط مزاج میں ذرا تیزی تھی جس پر انکو بہت جلد ندامت بھی ہوتی تھی۔"[مسلم ج2ص335(فضل عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا)]
حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کا زہدوتورع میں یہ حال تھا۔ کہ جب حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا پر اتہام لگایا گیا اور اس اتہام میں خود حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کی بہن حمنہ شریک تھیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی اخلاقی حالت دریافت کی تو انہوں نے صاف لفظوں میں کہدیا۔
"مجھکو عائشہ( رضی اللہ تعالی عنہا) کی بھلائی کے سوا کسی چیز کا علم نہیں۔"
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو انکے اس صدق و قرار حق کا اعتراف کرنا پڑا۔
عبادت میں نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ مصروف رہتی تھیں، ایک مرتبہ آپ مہاجرین پر کچھ مال تقسیم کر رہے تھے، حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا اس معاملہ میں کچھ بول پڑیں، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ڈانٹا، آپ نے فرمایا ان سے درگزر کرو یہ اَواہ ہیں[اصابہ ج8ص93](یعنی خاشع و متضرع ہیں۔)
نہایت قانع و فیاض طبع تھیں، خود اپنے دست و بازو سے معاش پیدا کرتی تھیں اور اسکو خدا کی راہ میں لٹا دیتی تھیں، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے کہ جب حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کا انتقال ہوا، تو مدینہ کے فقراء کو مساکین میں سخت کھلبلی پیدا ہو گئی اور وہ گھبرا گئے[اصابہ113ج8بحوالہ ابن سعد] ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے انکا سالانہ نفقہ بھیجا، انہوں نے اس پر ایک کپڑا ڈال دیا اور بزرہ بنت رافع کو حکم دیا کہ میرے خاندانی رشتہ داروں اور یتیموں کو تقسیم کدو۔ بزرہ نے کہا آخر ہمارا بھی کچھ حق ہے؟ انہوں نے کہا کپڑے کے نیچے جو کچھ ہو وہ تمھارا ہے، دیکھا تو پچاسی درہم نکلے جب تمام مال تقسیم ہو چکا تو دعا کی کہ خدایا اسی سال کے بعد عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے عطیہ کے فائدہ نہ اٹھاؤ، دعا قبول ہوئی اور اسی سال انتقال ہو گیا۔[ابن سعد ج8ص78]
 

الف عین

لائبریرین
ایک بار کم از کم فہرست بھی شئر کر دیتیں،
کیا یہ وہی مواد ہے جو انسائیکلو پیڈیا میں دیا گیا ہے؟
 

تانیہ

محفلین
ایک بار کم از کم فہرست بھی شئر کر دیتیں،
کیا یہ وہی مواد ہے جو انسائیکلو پیڈیا میں دیا گیا ہے؟
محترم!مختصرا میں بتا چکی ہوں کہ امہات المومنین، بنات طاہرات اور اکابر صحابیات کے بارے شیئر کرونگی فہرست شیئر کرنے سے اچھا روز ایک صحابیہ کرام کے بارے لکھوں تا کہ پڑھنے والے کی بھی دلچسپی باقی رہے نیکسٹ کون سی شخصیت ہو گی اور مواد وہی ہے جو اسوہ صحابیات کی کتاب میں ہے جسکے بارے میں اوپر بتا چکی ہوں، آپکی دلچسپی کے لیے بہت شکریہ
 

تانیہ

محفلین
حضرت جویریہ رضی اللہ تعالی عنہا
نام و نسب:۔
جویریہ نام، قبیلہ خزاعہ کے خاندان مصطلق سے ہیں، سلسلہ نسب یہ ہے، جویریہ رضی اللہ تعالی عنہا بنت حارث ابی ضرار بن حبیب بن عائد بن مالک بن جذیمہ(مصطلق) بن سعد بن عمرو بن ربیعہ بن حارثہ بن عمرومزیقیاء۔
حارث بن ابی ضرار حضرت جویریہ رضی اللہ تعالی عنہا کے والد بنو مصطلق کے سردار تھے۔[طبقات ج2 ق1ص45]
نکاح:۔
حضرت جویریہ رضی اللہ تعالی عنہا کا پہلا نکاح اپنے ہی قبیلہ میں مسافع بن صفوان(ذی شفر) سے ہوا تھا۔
غزوہ مریسیع اور نکاح ثانی:۔
حضرت جویریہ رضی اللہ تعالی عنہا کا باپ اور شوہر مسافع دونوں دشمن اسلام تھے چنانچہ حارث نے قریش کو اشارے سے یا خود سے مدینے پر حملہ کی تیاریاں شروع کی تھیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی تو مزید تحقیقات کے لیے بریدہ رضی اللہ تعالی عنہ بن حصیب اسلمی کو روانہ کیا، انہوں نے واپس آ کر خبر کی تصدیق کی اپ نے صحابہ کو تیاری کا حکم دیا، 2 شعبان سن پانچ ہجری کو فوجیں مدینہ سے روانہ ہوئین اور مریسیع میں جو مدینہ منورہ سے نو منزل ہے پہنچ کر قیام کیا، لیکن حارث کو یہ خبریں پہلے سے پہنچ چکی تھیں، اس لیے اسکی جمیعت منتشر ہو گئی اور وہ خود بھی کسی طرف نکل گیا، لیکن مریسیع میں جو لوگ آباد تھے، انہوں نے صف آرائی کی اور دیر تک جم کر تیر برساتے رہے مسلمانوں نے دفعتہً ایک ساتھ حملہ کیا تو انکے پاؤں اکھڑ گئے، 11 آدمی مارے گئے اور باقی گرفتار ہو گئے، جنکی تعداد تقریباً 600 تھی، مال غنیمت میں دو ہزار اونٹ اور پانچ ہزار بکریاں ہاتھ آئیں۔
لڑائی میں جو لوگ گرفتار ہوئے۔ ان میں حضرت جویریہ رضی اللہ تعالی عنہا بھی تھیں، ابن اسحاق کی روایت ہے جو بعض حدیث کی کتابوں میں بھی ہے کہ تمام اسیران جنگ لونڈی و غلام بنا کر تقسیم کر دیئے گئے۔ حضرت جویریہ رضی اللہ تعالی عنہ ثابت بن قیس کے حصہ میں آئیں۔ انہوں نے ثابت سے درخواست کی کہ مکاتبت کر لو یعنی مجھ سے کچھ روپیہ لیکر چھوڑ دو، ثابت نے 9اوقیہ سونے پر منظور کیا حضرت جویریہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس روپیہ نہ تھا، چاہاکہ لوگوں سے روپیہ مانگ کر یہ رقم ادا کریں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی آئیں، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بھی وہاں موجود تھیں۔
ابن اسحٰق نےحضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی زبانی روایت کی ہے جو یقینا انکی ذاتی رائے ہے کہ چونکہ جویریہ رضی اللہ تعالی عنہا نہایت شیریں ادا تھیں، میں نے انکو آنحضرت صلی اللہ علہ وسلم کے پاس جاتے دیکھا تو سمجھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی انکے حسن و جمال کا وہی اثر ہو گا جو مجھ پر ہوا۔ غرض وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمکو اس سے بہتر چیز کی خواہش نہیں؟ انہوں نے کہا وہ کیا چیز ہے؟آپ نے فرمایا کہ" تمھار ی طرف سے میں روپیہ ادا کر دیتا ہوں اور تم سے نکاح کر لیتا ہوں" حضرت جویریہ راضی ہو گئیں آپ نے تنہا وہ رقم ادا کر دی، اور ان سے شادی کر لی۔
لیکن دوسری روایت میں اس سے زیادہ واضح بیان مذکور ہے۔
اصل واقعہ یہ ہے کہ حضرت جویریہ رضی اللہ تعالی عنہا کا باپ(حارث) رئیس عرب تھا۔ حضرت جویریہ رضی اللہ تعالی عنہا جب گرفتار ہوئیں، تو حارث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا کہ میری بیٹی کنیز نہیں بن سکتی، میری شان اس سے بالا تر ہے میں انے قبیلے کا سردار اور رئیس عرب ہوں آپ اسکو آزاد کر دیں، آپ نے فرمایا کہ کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ جویریہ رضی اللہ تعالی عنہا کی مرضی پر چھوڑ دیا جائے، حارث نے جا کر جویریہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) نے تیری مرضی پر رکھا ہے دیکھنا مجھکو رسوا نہ کرنا، انہوں نے کہا"میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہنا پسند کرتی ہوں۔" چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شادی کر لی۔
ابن سعد نے طبقات میں یہ روایت کی ہے کہ حضرت جویریہ رضی اللہ تعالی عنہا کے والد نے انکا زرفدیہ کیا اور جب وہ آزاد ہو گئیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کر لیا۔
حضرت جویریہ رضی اللہ تعالی عنہ سے جب نکاح کیا تو تمام اسیران جنگ جو اہل فوج کے حصہ میں آ گئے تھے، دفعتہً رہا کر دیئے گئے، فوج نے کہا کہ جس خاندان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کر لی وہ غلام نہیں ہو سکتا،[ابوداؤد کتاب العتاق ج2ص105طبقاتج2ق1ص46صحیح مسلم ص61]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کسی عورت کو جویریہ رضی اللہ تعالی عنہا سے بڑھکر اپنی قوم کے حق میں مبارک نہیں دیکھا، انکے سبب سے بنو مصطلق کے سینکڑوں گھرانے آزاد کر گیئے گئے،[اسد الغابہ ج5ص420]حضرت جویریہ رضی اللہ تعالی عنہا کا نام برہ تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بدل کر جویریہ رضی اللہ تعالی عنہا رکھا کیونکہ اس میں بدفالی تھی۔[صحیح مسلم ج2ص231]
وفات:۔
حضرت جویریہ رضی اللہ تعالی عنہا نے ربیع الاول سن 50 ہجری میں وفات پائی، اس وقت انکا سن 65 برس کا تھا، مروان نے نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں دفن ہوئیں،
حلیہ:۔
حضرت جویریہ رضی اللہ تعالی عنہا خوبصورت اور موزوں اندام تھیں، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کہتی ہیں۔
کانت امرٔة حلوة ملاحة لا یراھااحدالااخذت نبفسہ۔[اسد الغابہ ج5ص420]
فضل و کمال:۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے چند حدیثیں روایت کیں، ان سے حسب ذیل بزرگوں نے حدیث سنی ہے، ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ، جابر رضی اللہ تعالی عنہ، ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ، عبید بن السباق، طفیل، ابو ایوب مراغی، کلثوم، ابن مصطلق، عبداللہ بن شدادبن الہاد، کریب۔
اخلاق:۔
حضرت جویریہ رضی اللہ تعالی عنہا زاہدانہ زندگی بسر کرتی تھیں، ایکدن صبح کو مسجد میں دعا کر رہیں تھیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گزرے اور دیکھتے ہوئے چلے گئے، دوپہر کے قریب آئے تب بھی انکو اسی حالت میں پایا۔[صحیح ترمذی ص590]
جمعہ کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انکے گھر تشریف لائے تو روزہ سے تھیں، حضرت جویریہ رضی اللہ تعالی عنہا سے دریافت کیا کہ کل روزہ سے تھیں؟بولیں، "نہیں"فرمایا"تو کل رکھو گی؟" جواب ملا"نہیں" ارشاد ہوا"تو پھر تمکو افطار کر لینا چاہیے۔"[صحیح بخاری ج1ص267]
دوسری روائتوں میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینہ میں تین دن روزہ رکھتے تھے ان تین دنوں میں ایک دن جمعہ کا ضرور ہوتا تھا۔ اس لیے تنہا جمعہ کے دن ایک روزہ رکھنے میں علماء کا اختلاف ہے، آئمہ حنفیہ کے نزدیک جائز ہے، امام مالک سے بھی جواز کی روایت ہے۔ بعض شافعیہ نے اس سے روکا ہے، تفصیل کے لیے ملاحضہ ہو فتح الباری جلد 4صفحہ 204۔
امام ابو یوسف کے نزدیک احتیاط اس میں ہے کہ جمعہ کے روزہ کے ساتھ ایک روزہ اور ملا لیا جایا کرے(بذل المجہور جلد صفحہ 169) یہ بحث صرف جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے متعلق ہے اور دنوں سے اسکا تعلق نہیں ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے محبت تھی۔ اور انکے گھر آتے جاتے تھے ایک مرتبہ آکر پوچھا کہ "کچھ کھانے کو ہے؟"جواب ملا۔"میری کنیز نے صدقہ کا گوشت دیا تھا وہی رکھا ہے اور اسکے سوا اور کچھ نہیں" فرمایا"اسے اٹھا لاؤ، کیونکہ صدقہ جسکو دیا گیا تھا اسکو پہنچ چکا"[صحیح مسلم ج1ص400]
 

تانیہ

محفلین
حضرت اُمِ حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا
نام و نسب:۔
رملہ نام، ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا کنیت، سلسلہ نسب یہ ہے، رملہ بنت ابی سفیان صخر بن حرب بن امیہ بن عبد شمس، والدہ کا نام صفیہ بنت ابو العاص تھا، جو حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی حقیقی پھوپھی تھیں،
حضرت ام حبیبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے 17 سال پہلے پیدا ہوئیں۔[اصابہ ج8ص84]
نکاح:۔
عبید اللہ بن جحش سے کہ حرب امیہ کے حلیف تھے، نکاح ہوا۔[(ایضاً) زرقانی ج3ص276بحوالہ ابن سعد]
اسلام:۔
اور ان ہی کے ساتھ مسلمان ہوئیں، اور حبش کو ہجرت کی، حبش میں جا کر عبید اللہ نے عیسائی مذہب اختیار کیا، ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا سے بھی کہا لیکن وہ اسلام پر قائم رہیں، اب وہ وقت آ گیا کہ انکو اسلام اور ہجرت کی فضیلت کے ساتھ ام المومنین بننے کا شرف حاصل ہو۔ عبید اللہ نے عیسائی ہو کر بالکل آزادانہ زندگی بسر کرنا شروع کر دی، مے نوشی کی عادت ہو گئی، آخر انکا انتقال ہو گیا،
نکاح ثانی:۔
عدت کے دن ختم ہوئے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عمروبن امیہ ضمیری کو نجاشی کی خدمت میں بغرض نکاح بھیجا، جب وہ نجاشی کے پاس پہنچے تو اس نے ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا کو اپنی لونڈی ابرہہ کے ذریعہ پیغام دیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھکو تمھارے نکاح کے لیے لکھا ہے، انہوں نے خالد بن سعید اموی کو وکیل مقرر کیا اور اس مژدہ کے صلہ میں ابرہہ کو چاندی کے دو کنگن اور انگوٹھیاں دیں، جب شام ہوئی تو نجاشی نے جعفر رضی اللہ تعالی عنہ بن ابی طالب اور وہاں کے مسلمانوں کو جمع کرکے خود نکاح پڑھایا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے چار سو دینار مہر ادا کیا، نکاح کے بعد حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا جہاز میں بیٹھکر روانہ ہوئیں اور مدینہ کی بندرگاہ میں اتریں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خیبر میں تشریف رکھتے تھے۔ یہ سن 6 ہجری کا واقعہ ہے[مسندج6ص427وتاریخ طبری واقعات سن 6 ہجری] اس وقت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا کی عمر 36 یا 37 سال کی تھی،
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا کے نکاح کے متعلق کئی رووائتیں ہیں، ہم نے جو روایت لی ہے وہ مسند کی ہے اور مشہور روائتوں کے مطابق کی ہے، البتہ مہر کی تعداد میں کچھ غلطی معلوم ہوتی ہے، عام روایت یہ ہے اور مسند میں بھی ہے کہ ازواج مطہرات اور صاحبزادیوں کا مہر چار چار سو درہم تھا، اسی بنا پر چار سو دینا راوی کا سہو ہے، اس موقع پر ہمکو صحیح مسلم کی ایک روایت کی تنقید کرنا ہے،
صحیح مسلم میں ہے کہ لوگ ابو سفیان کو نظر اٹھا کر دیکھنا اور انکے پاس بیٹھنا ناپسند کرتے تھے اس بنا پر انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تین چیزوں کی درخواست کی جن میں ایک یہ بھی تھی کہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا سے شادی کر لیجیئے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انکی درخواست منظور فرمائی۔[صحیح مسلم ج2ص361] اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ابو سفیان کے مسلمان ہونے کے وقت حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا ازواج مطہرات میں داخل نہیں ہوئی تھیں لیکن یہ راوی کا وہم ہے چنانچہ ابن سعد، ابن حزم، ابن جوزی۔ ابن اثیر، بیہقی اور عبدالعظیم منذری نے اسکے خلاف روائتیں کی ہیں، اور ابن سعد کے سوا سب نے اس روایت کی تردید کی ہے۔
وفات:۔
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا نے اپنے بھائی امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانہ خلافت میں سن 44 ہجری میں انتقال کیا اور مدینہ میں دفن ہوئیں، اس وقت 73 برس کا سن تھا۔ قبر کے متعلق اس قدر معلوم ہے کہ امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے مکان میں تھی، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ بن حسین سے منقول ہے کہ ایک مرتبہ میں نے مکان کا ایک گوشہ کھدوایا تو ایک کتبہ برآمد ہوا کہ"یہ رملہ بنت صخر کی قبر ہے"چنانچہ اسکو میں نے اسی جگہ رکھ دیا،[استیعاب جلد2ص750]
وفات کے قریب حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا نے حجرت عائشہ و حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہما کو اپنے پاس بلایا اور کہاکہ سوکنوں میں باہم جو کچھ ہوتا ہے وہ ہم لوگوں میں بھی کبھی ہو جایا کرتا تھا، اس لیے مجھکو معاف کر دو، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے معاف کر دیا اور انکے لیے دعائے مغفرت کی تو بولیں تم نے مجھکو خوش کیا خدا تمکو خوش کرے،[اصابہ ج8ص85بحوالہ ابن سعد(ابن سعد جزءنساءص71)]
اولاد:۔
پہلے شوہر سے ایک لڑکا اور ایک لڑکی پیدا ہوئے، عبداللہ اور حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہ، حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا نے آغوش نبوت میں تربیت پائی ، اور داؤد بن عروہ بن مسعود کو منسوب ہوئیں، جو قبیلہ ثقیف کے رئیس اعظم تھے۔
حلیہ:۔
خوبصورت تھیں، صحیح مسلم میں خود ابوسفیان کی زبانی منقول ہے۔[صحیح مسلم جلد2ص361]
"میرے ہاں عرب کی حسین تر اور جمیل تر عورت موجود ہے۔"
فضل وکمال:۔
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا سے حدیث کی کتابوں میں 65 روائتیں منقول ہیں، راویوں کی تعداد بھی کم نہیں ہے، بعض کے نام یہ ہیں، حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا(دختر) معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ اور عتبہ رضی اللہ تعالی عنہ پسران ابو سفیان عبداللہ بن عتبہ، ابو سفیان بن سعید ثقفی(خواہرزادہ) سالم بن سوار(مولی) ابو الجراح، صفیہ بنت شیبہ، زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ، عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ، ابو صالح السمان، شہر بن حوشب۔
اخلاق:۔
حجرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا کے جوش ایمان کا یہ منظر قابل دید ہے کہ فتح مکہ سے قبل جب انکے باپ ابو سفیان کفر کی حالت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ آئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بچھونے پر بیٹھنا چاہتے تھے، حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا نے یہ دیکھ کر بچھونا الٹ دیا، ابوسفیان سخت برہم ہوئے کہ بچھونا اس قدر عزیز ہے۔ بولیں یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرش ہے۔ اور آپ مشرک ہیں اور اس بناء پر ناپاک ہیں،
ابوسفیان نے کہا کہ تو میرے پیچھے بہت بگڑ گئی،[اصابہ ج8ص85بحوالہ ابن سعد]
حدیث پر بہت شدت سے عمل کرتی تھیں۔ اور دوسروں کو بھی تاکید کرتی تھیں۔ انکے بھانجے ابوسفیان بن سعید بن المغیرہ آئے اور انہوں نے ستو کھا کر کلی کی تو بولیں تمکو وضوکرنا چاہیے کیونکہ جس چیز کو آگ پکائے اس کے استعمال سے وضو لازم آتا ہے۔[مسندج2ص326] یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے۔
(یہ حکم منسوخ ہے، یعنی پہلے تھا پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکو باقی نہیں رکھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام آگ پر پکی ہوئی چیزیں کھاتے تھے اور اگر پہلے سے وضو ہوتا تو دوبارہ وضو نہیں کرتے تھے۔ بلکہ پہلے ہی وضو سے نماز پڑھ لیا کرتے تھے اس قسم کی ایک حدیث حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے حالات میں آئندہ ملے گی۔)
ابوسفیان رضی اللہ تعالی عنہ کا انتقال ہوا۔ تو خوشبو لگا کر رخساروں پر ملی اور کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ تین دن سے زیادہ غم نہ کیا جائے، البتہ شوہر کے لیے 4 مہینہ 10 دن سوگ کرنا چاہیے۔[صحیح بخاری ج2ص803]
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ سنا تھا کہ جو شخص بارہ رکعت روزانہ نفل پڑھے گا، اسکے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا، فرماتی ہیں فما برحت اصلیھن بعد! میں انکو ہمیشہ پڑھتی ہوں، اسکا یہ اثر ہوا کہ انکے شاگرد اور بھائی عتبہ اور عتبہ کے شاگرد عمروبن اویس اور عمر کے شاگرد نعمان بن سالم سب اپنے اپنے زمانہ میں برابر یہ نمازیں پڑھتے رہے۔[مسندج6ص327]
فطرةً نیک مزاج تھیں، ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا میری بہن سے آپ نکاح کر لیجیئے فرمایا"کیا تمہیں یہ پسند ہے۔" بولیں"ہاں میں ہی آپ کی تنہا بیوی نہیں ہوں، اس لیے میں یہ پسند کرتی ہوں کہ آپ کے نکاح کی سعادت میں میرے ساتھ میری بہن بھی شریک ہو۔"[صحیح بخاری ج2ص764](وامھاتکم اللاتی ارضعنکم و یحرم من الرضاعة مایحرم من النسب)
 
Top