اُردو چوپال - واقعی اُردو یا اُردو زدہ انگریزی؟

محبوب عالم نے 'تجاویز، آراء و مسائل' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 30, 2008

لڑی کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
  1. محبوب عالم

    محبوب عالم محفلین

    مراسلے:
    36
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Busy
    آج کل ہر جگہ یہ سننے کہ ملتا ہے کہ اُردو چوپال خانے بہت زیادہ ہوگئے ہیں اور اُردو زبان کیلئے بہت کام ہورہا ہے. لیکن جب میں نے اِن چوپال خانوں کی زیارت کی تو میں حیران رہ گیا کہ یہاں تو اُردو زبان کی کوئی چیز ہے ہی نہیں، بلکہ انگریزی کو اُردو رسم الخط میں لکھ دیا جاتا ہے اور یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ انٹرنیٹ پر اُردو کا استعمال ہے. ایک اور بات جو یہ اُردو چوپال خانوں کے منتظیم کرتے ہیں وہ یہ کہ ہمارے ہاں بہت سے لوگ انگریزی لکھ پڑھ یا سمجھ نہیں سکتے لہٰذا ہمیں اُردو ہی کو انٹرنیٹ (کمپیوٹر) پر استعمال کرنا چاہئیے. یہاں ایک بار پھر میرا سر شرم سے جھُک جاتا ہے کہ اَب بھی وہی لوگ کمپیوٹر کو نہیں سمجھ سکتے کیونکہ وہی انگریزی آپ اُردو رسم الخط میں لکھ رہے ہیں، کچھ تبدیلی واقع نہیں ہوئی. ہونا تو یہ چاہئیے کہ ایک لفظ جو آپ انگریزی کا استعمال کررہے ہیں، اگر آپ وہی لفظ اُردو کا استعمال کریں تو لوگوں (خصوصاً وہ جن کو انگریزی کی سمجھ بوجھ نہیں ہے) کو آسانی سے سمجھ آجائے گی. اُردو کے الفاظ استعمال کرنے سے یہ زبان ترقی بھی پائے گی اور اِس کی ترقی ہمارے لئے باعث فخر و عزت ہے. آپ تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ انگریزی الفاظ کے متبادل اُردو الفاظ استعمال کیا کریں. کچھ عمومی الفاظ کی فہرست مندرج ذیل ہے:
    Internet : جالبین (جال + بین | جالِ بین)
    Web : حبالہ
    World Wide Web: حبالہ محیط عالم
    Software: مصنع لطیف
    Hardware: مصنع کثیف
    Application: نفاذیہ
    Application Software : نفاذی مصنع لطیف
    Log : نوشتہ
    Log In : داخل نوشتہ
    Log Out: خارج نوشتہ
    Size : جسامت
    Font : اندازِ خط / رسم الخط / خط
    Hard Disk: قرص کثیف
    Forum : چوپال
    Option: اختیار
    Options: اختیارات
    Tag: دھجی
    Keyboard: تختۂ کلید
    Operating System: عملیاتی نظام
    Computer: شمارندہ / حاسب
    Network: جالکار (جال + کار | جالِ کار )
    Portal: آستانہ / چوکھٹ / بوابہ
    Post : چسپانہ
    Arcade : رواق

    اگر آپ کے ذہن میں سوال اُبھر رہا ہے کہ اگر ہم ایسی اُردو استعمال کریں گے کسی چوپال پہ (جیسے یہ چوپال) تو کسی کو سمجھ نہیں آئے گی. تو جواب یہ ہے جناب کہ آپ اگر خالصاً اُردو استعمال کریں گے تو لوگوں کو وُہ اُردو سیکھنی ہوگی. اِس کیلئے آپ ایک حصّہ اپنے چوپال میں مخصوص کرسکتے ہیں جہاں اِن اِصطلاحات اور اُن کی معنی کو درج کیا گیا ہو. جب ایک صارف اِن اصطلاحات کو دیکھے گا تو وہ پھر اِنہی کو استعمال کرے گا. ابتداء میں تو آپ کو یہ الفاظ کچھ عجیب سے لگیں گے لیکن رفتہ رفتہ آپ اِن سے مانوس ہوجائیں گے تو آپ کو انگریزی کے الفاظ عجیب لگیں گے. (انگریزی الفاظ ہمیں اِس لئے اچھے لگتے ہیں کہ اُن کا استعمال زیادہ ہے، ہم ابتداء سے انگریزی کے الفاظ ہی سنتے اور استعمال کرتے آرہے ہیں، اِسی وجہ سے ہم اُن سے مانوس ہوچکے ہیں). اِس طرح ہم بھی یہ دعویٰ کرنے کے قابل ہوجائیں گے کہ ہماری قومی زبان انگریزی سے کم نہیں.
    نوٹ: مندرجہ بالا اِصطلاحات کی طرح آپ کو اور بھی کئی جدید اِصطلاحات اُردو ویکیپیڈیا سے مل سکتی ہیں. پتہ ہے: http://ur.wikipedia.org
    آئیے! اُردو کا استعمال کرکے اپنی محبّ وطنی کا ثبوت دیں.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. اسد

    اسد محفلین

    مراسلے:
    1,050
    موڈ:
    Busy
    آپ نے اپنے ذاتی خیالات کا اظہار کیا ہے، جو آپکا حق ہے۔ مگر میں آپکے خیالات سے متفق نہیں ہوں۔ جو میرا حق ہے۔
    میرے خیال میں انگریزی کو اُردو رسم الخط میں لکھنا، ا ُردو کوانگریزی رسم الخط میں لکھنے سے بہت بہتر ہے۔

    آپ بہت ہمت والے ہیں کہ آپ نے ایسا پیغام دیا ہے۔ آپ کی ہمت کی داد دیتے ہوئے ایک مشورہ دوں گا۔ اگر آپ ویب پر اردو فورمز تلاش کریں، تو آپ کو بہت سے اردو فورم ملیں گے جو کہ مکمل طور پر لاطینی (انگلش) رسم الخط میں ہیں۔ آپ اپنی توجہ ان کی طرف مبذول کریں اور ان فورمز کے ممبران کو عربی (اردو) رسم الخط میں لکھنے کی ترغیب دیں۔
    شکریہ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  3. نبیل

    نبیل محفلین

    مراسلے:
    16,624
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Depressed
    اور جس قسم کی اردو آپ تجویز کر رہے ہیں اسے دیکھ کر میرا سر بھی شرم سے جھک جاتا ہے، اردو اتنی آسان بنانے کی کیا ضرورت ہے، ذرا اس سے بھی ناقابل فہم بنا دیں تاکہ اردو کا بیڑہ غرق کرنے میں کوئی کسر باقی نہ رہے۔ اور اردو کسی ایک ملک کی زبان نہیں ہے جو اسے بول کر حب الوطنی کا ثبوت دیا جا سکے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
  4. ابن حسن

    ابن حسن معطل

    مراسلے:
    587
    اس طرح بہت جلد اردو سنسکرت یا پھر "خالص ہندی" کی طرح ڈبوں میں بند ہو کر اپنی موت عاشقان اردو کے ہاتھوں مر جائے گی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  5. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,475
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    آپ کی بات اصولی طور پر غلط ہے محبوب صاحب!

    اول: فقط انگریزی کے الفاظ کیوں، تمام "غیر ملکی" زبانوں، عربی، فارسی، ترکی، سنسکرت، پنجابی، پرتگالی وغیرہ وغیرہ کے الفاظ نکال دیجیئے اردو سے تا کہ اردو کی تطہیر ہو جائے، لیکن اس کے بعد کیا آپ اپنا نام بھی لکھ سکیں گے؟

    دوم: اگر انگریزوں کی وجہ سے انگریزی سے نفرت اور اسکے خلاف تعصب ہے تو علم و ادب کا سیاست اور زبان سے کیا تعلق؟ وگرنہ کیا چین میں کوئی عربی میں علم سکھاتا مسلمانوں کو؟

    سوم: اردو کا طرۂ امتیاز یہ ہے کہ اس میں دیگر زبانوں کے الفاظ "کھپانے" کی ایک خدا داد صلاحیت ہے کہ اسکا خمیر ہی اسی مٹی سے اٹھا ہے۔ اسلیئے انگریزی کے الفاظ پر قدغن نہیں لگائی جا سکتی۔

    چپارم: "جالبین، "حبالہ"، "شمارندہ" جیسے الفاظ انٹڑنیٹ، ویب اور کمپیوٹر کیلیئے استعمال کرنے والے بابائے اردو مولوی عبدالحق کے الفاظ میں اردو کے دشمن ہیں۔

    پنجم: آپ کی دلیل کہ "جناتی" الفاظ ہر جگہ استعمال کر کے انکے مترادفات کیلیئے ایک علیحدہ سیکشن بنا دیا جائے تو وزیٹرز ان الفاظ سے مانوس ہو جائیں گے؟ ایں چہ بوالعجی است؟ محترم اس طرح جو چند سو افراد اردو فورمز پر آتے ہیں وہ بھی نہیں آئیں گے۔ کون ڈھونڈے گا ان الفاظ کے معنی؟ وکی والے؟

    آخری: لکم دینکم و لی دین

    والسلام
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  6. دوست

    دوست محفلین

    مراسلے:
    12,975
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Fine
    لسانیات کا اصول ہے کہ "بولی" لکھی ہوئی زبان سے بہت مختلف ہوتی ہے۔ بہت سے جھنجھٹوں سے آزاد۔ بہت سی پابندیوں کو خاطر میں نہ لانے والی۔ اور یہ "بولی" کی ہی خصوصیت ہے کہ اس میں ملاوٹ ہوجاتی ہے۔اسے تکنیکی زبان میں ہم کوڈ مکسنگ کہتے ہیں۔ یعنی زبانوں کا ملا کر بولنا۔ فورمز پر لکھی جانے والی اردو اصل میں "بولی جانے والی اردو" ہے۔ اس میں ہم کوشش کرتے ہیں کہ کم سے کم الفاظ میں اور قواعد سے بچتے بچاتے کام کرتے جائیں۔ اردو فورمز پر اسی لیے آپ کو انگریزی زیادہ ملتی ہے۔ دوسرے یہ کہ ٹیکنالوجی کی جدید اصطلاحات زبان فرنگ میں ہیں جنھیں اہل اردو کم ازکم پانچ سال پڑھ کر ان فورمز پر آتے ہیں۔ چناچہ ان سے یہ چھڑا دینا خاصا مشکل کام ہے۔ اور پھر یہ الفاظ جنھیں نہ کسی اتھارٹی نے تخلیق کیا ہے، نہ کسی ماہر لسانیات نے۔ لغت سے انگریزی کے عربی اور فارسی معنی دیکھ کر بنائے گئے الفاظ لکھے ہوئے تو اچھے لگتے ہیں بولے نہیں جاسکتے۔ اور نہ ہی یہ استعمال بھی ہونگے۔ زبان وہی ہوتی ہے جو گلی محلوں میں‌ تشکیل پاتی ہے۔ اور زبان ہے سافٹویر،ونڈوز، کمپیوٹر، انٹرنیٹ، ہارڈسک، ریم، پی سی، سی ڈی روم، سی ڈی، ڈی وی ڈی، فورم، بلاگ، کی بورڈ، ماؤس۔ لوگ انھیں پڑھتے ہیں، انھیں بولتے ہیں، انھیں لکھتے ہیں اور ہر طرح سے استعمال کرتے ہیں۔ آپ کے پاس انھیں مجبور کرنے کے لیے کوئی اتھارٹی نہیں۔ نہ آپ کوئی قومی ادارہ ہیں جس کا مقصد لسانی پالیسی تشکیل دینا ہے۔ نہ آپ کوئی مدرسہ جہاں زبان سکھائی جاتی ہے۔ آپ عوام میں سے ہیں اور عوام کے لیے ہی وکی پیڈیا پر لکھتے ہیں۔ اور آپ کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ عوام پر ثقیل الفاظ کی بارش کرکے انھیں بھگا دیں۔
    اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ اردو کا بیڑہ غرق ہونے دیا جائے۔ فورمز پر املاء کی غلطیاں کی جارہی ہیں۔ غلط محاورے استعمال کیے جارہے ہیں۔ رومن میں لکھا جارہا ہے۔ اردو الفاظ کے باوجود انگریزی استعمال کی جاتی ہے۔ اس سب کی روک تھام کے لیے ایک عدد لسانی پالیسی بنانی پڑے گی۔ پھر اس پر عمل درآمد کروانا پڑے گا۔ سماجی لسانیات میں ہم اسے لینگوئج پالیسی کہتے ہیں۔ لسانی پالیسی بنانا، اس پر عمل کروانا، اقدامات کرنا حکومت کا کام ہے یا ایسے کمیونٹی ادارے کا جسے متعلقہ برادری کا مکمل تعاون حاصل ہو۔ ہمارے لیے یہ ادارہ مقتدرہ قومی زبان ہے۔ جس کی اپنی بس ہے وہ اردو کی خاک خدمت کرے گا۔ زبان کی تطہیر خالہ جی کا واڑہ نہیں۔ لغات چھاپنا، لٹریچر چھاپنا، تعلیم دینا، زبان کے استعمال کی ترغیب دینا، زبان کو تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال کرنا۔ یہ ایک لمبی فہرست ہے آپ کے بچے دس سال انگریزی لازمی حیثیت سے پڑھتے ہیں۔ سائنس کے مضامین کی عام فہم اصطلاحات عقل کے اندھے (نا) ماہرین تعلیم نے انگریزی میں من و عن لکھ دی ہیں جن کا صحیح‌ تلفظ بھی وہ معصوم نہیں‌کرسکتے، میٹرک کے بعد وہ چھ سال بلکہ ساری عمر انگریزی میں پیشہ ورانہ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ آپ ان سے یہ کیسے امید رکھ سکتے ہیں کہ وہ انٹرنیٹ پر آتے ہی ان جنّاتی الفاظ کو اپنا لیں‌گے۔ مادری زبان، اردو، عربی اور انگریزی چار زبانوں کے گھن چکر میں مڈل تک اور اس کے بعد کم از کم تین زبانیں ساری عمر ان کی جان کا روگ بنی رہتی ہیں ایسے میں ایک اور "زبان"۔۔۔۔۔ جانے دیں صاحب۔۔۔ صرف ان اصطلاحات کو اپنا لینا مسئلے کا حل نہیں۔ اس کے لیے بڑے وسیع پیمانے پر آپریشن کی ضرورت ہے۔ جس کے لیے نہ آپ کی حکومت کے پاس وقت ہے نہ پیسہ۔۔۔ ان کے گوڈوں‌ میں پانی ہی نہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 7
  7. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    14,331
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    application کے لیے اطلاقیہ عام طور پر مستعمل ہے۔
     
  8. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    37,410
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
    محبوب عالم کا خیال بہت عمدہ ہے۔ واقعی نیٹ پر ایسی اردو نافذ کرنی چاہیئے۔ میں ویسے ہی اردو سے تنگ آ گیا ہوں اس طرح اردو چوپالوں سے بھاگنے کا بھی موقع مل جائے گا۔
     
  9. محبوب عالم

    محبوب عالم محفلین

    مراسلے:
    36
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Busy
    جناب! وہاں اور یہاں کی اُردو میں سوائے رسم الخط کے اور کوئی فرق نہیں. وہاں رومن اُردو اور یہاں عربی رسم الخط کی اُردو استعمال کی جاتی ہے. دونوں قسم کے چوپالوں پر وہی انگریزی الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. محبوب عالم

    محبوب عالم محفلین

    مراسلے:
    36
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Busy
    تو جائیے نا ! کس نے روکا ہے آپ کو ! اُردو کو آپ جیسے تنگ دِل افراد کی ضرورت نہیں.
     
  11. محبوب عالم

    محبوب عالم محفلین

    مراسلے:
    36
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Busy
    اگر ہم اِن الفاظ کو استعمال کرنے کا سلسلہ آگے بڑھائیں گے تو ایک وقت ایسا آئے گا کہ لوگ اِنہی الفاظ کو استعمال کرنے کو ترجیح دیں گے. اور اِس طرح جب یہ الفاظ عام ہوجائیں گے تو مقتدرہ قومی زبان کو بھی یہ الفاظ استعمال کرنے ہوںگے. اگر ابتداء ہم نہیں کریںگے تو اور کون کرے گا؟
    تاریخ گواہ ہے کہ قومیں ہی انقلاب لاتی ہیں حکومت نہیں. اِس طرح اگر حکومت بھی نصاب میں یہ الفاظ شامل کرلے تو لوگ اُن پر تنقید کریں گے کیونکہ وہ اِن الفاظ سے مانوس نہیں. اگر بات لوگوں سے شروع ہوگی تو نتیجہ اچھا نکلے گا.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  12. محبوب عالم

    محبوب عالم محفلین

    مراسلے:
    36
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Busy
    تو اِس کا مطلب ہے کہ لوگ جو اُردو زدہ انگریزی استعمال کرتے ہیں وہ عاشقانِ اُردو نہیں؟ اگر وہ عاشقانِ اُردو نہیں ہیں تو پھر اُردو چوپال کیوں چلا رہے ہیں؟
    میرا کہنے کا مقصد ہے کہ اگر ہمیں اُردو ہی استعمال کرنے ہے تو پھر اُردو ہی استعمال کرنی چاہئے. انگریزی الفاظ کو اُردو رسم الخط میں لکھ دینا اُردو تو نہیں کہلاتی! قومیں تب ترقی کرتی ہیں جب اُن کی زبان ترقی کرتی ہے میرے بھائی. اور اگر آپ کو اعتراض ہو کہ اُردو صرف ہماری زبان تو نہیں یہ تو بین الاقوامی زبان ہے. تو غور فرمائیے گا کہ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ جو اُردو ہم استعمال کریں گے وہی اُردو بین الاقوامی طور پر مانی جائے گی. ایسا ہر گز نہیں کہ کوئی یورپی ملک اُردو کی اِصلاح کرے گا. یہ ہماری قومی زبان ہے، اور اِسی ناطے ہمیں اِس کی خدمت کرنی چاہئے. شکریہ!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  13. دوست

    دوست محفلین

    مراسلے:
    12,975
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Fine
    میرے بھائی جیسا کہ میں عرض کرچکا ہوں کہ لسانی پالیسی بنانا حکومت کا یا ماہر لسانیات کا کام ہے اس کے لیے ایک اتھارٹی ضروری ہے۔ قومی سطح پر کام کرنے کے لیے بھی قومی شعور ضروری ہے۔ اور یہ دونوں‌ چیزیں ہمارے پاس موجود نہیں۔ چناچہ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جب میں‌ انٹرنیٹ‌ کی بجائے مصفح‌ جال فرماؤں‌ گا تو مجھ پر پہلے تو لوگ ہنسیں‌ گے پھر پاگل سمجھیں‌ گے اور آخر میں بات کرنا بند کردیں‌ گے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  14. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    3,623
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    میرا برادر محبوب عالم کو مشورہ ہے کہ اپنی ایسی لغت کو لے کر ایک مرکز تسویق سے کچھ خوردونوش کا سامان لا کر دکھا دیں ۔ اور جہاں تک بات بیرونی زبانوں کے انجذاب کا ہے یہ صرف زندہ زبانوں میں ہی یہ خاصہ ہوا کرتا ہے کہ دوسری زبانوں کے روزمرہ استعمال کے الفاظ کو خود میں جذب کر کے ایسے استعمال کیا جاتا ہے کہ وہ اس زبان کا ہی حصہ لگے ہیں حتی کہ انگریزی زبان خود بھی اس سے مستشنیٰ نہیں ہے جو فرانسیسی ۔ اطالوی ۔ جرمن ۔ اور دیگر یورپی زبانوں کے علاوہ عربی ۔ ترکی اور ہندی (دل خوش کرنے کو اردو بھی کہ سکتے ہیں) کے بہت سے الفاظ کو خود میں سموئے ہوئے ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  15. محبوب عالم

    محبوب عالم محفلین

    مراسلے:
    36
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Busy
    شاید اِن صاحب کو اُردو کی اصل روح کے بارے میں علم نہیں. آپ کیلئے ایک مثال پر میں اِکتفاء کروں گا:

    مثال:

    1. اُردو میں بہت سے عربی اور فارسی کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں
    2. اُردو میں بہت سے اربک اور پرژن کے ورڈز یوز ہوتے ہیں.

    اَب بتائیے! اصل اُردو کونسی ہے. اُردو چوپالوں پر استعمال ہونے والی اُردو کی مثال بھی مندرجہ بالا دوسرے جملے کی طرح ہے.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  16. نبیل

    نبیل محفلین

    مراسلے:
    16,624
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Depressed
    میرے خیال میں اس بے مقصد بحث کو یہیں پر ختم کر دینا چاہیے۔ کسی کو یہاں پر استعمال ہونے والی اردو پسند نہیں ہے تو وہ کسی اور سائٹ کا رخ کر سکتے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
لڑی کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

اس صفحے کی تشہیر