1. اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں فراخدلانہ تعاون پر احباب کا بے حد شکریہ نیز ہدف کی تکمیل پر مبارکباد۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    $500.00
    اعلان ختم کریں

اُردو غزل میں نئی علامتوں کا رجحان از ڈاکٹر عابد سیال

فرخ منظور نے 'شاعری پر تنقیدی مضامین' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 21, 2009

  1. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,647
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    یہ مضمون مجلہ خیابان کی سائٹ سے لیا گیا۔


    اُردو غزل میں نئی علامتوں کا رجحان
    ڈاکٹرعابد سیال
    Abstract
    Symbolic language is one of the major characteristics of Gazal throughout its history. Urdu Gazal has used different types of symbols extracted from its contemporary social and cultural environment .Same can be seen in modern period of Urdu literature. This article attempts to identify, distinguish and critically analyze the symbols used in modern era of Urdu Gazal.
    اردو غزل، قدیم ہو یا جدید، رمزیت، ایمائیت اور تہہ داری اس کی بنیادی خصوصیات رہی ہیں۔ شعرا یہ تہہ داری پیدا کرنے کے لیے اشارے، کنائے، تشبیہہ، استعارے اور علامت جیسے شعری وسائل سے کام لیتے رہے ہیں۔ یوں تو اعلٰی ادبی اظہار میں استعمال ہونے والے اکثر الفاظ علامتی حیثیت رکھتے ہیں، لیکن غزل کی شاعری میں استعمال ہونے والے الفاظ خاص طور پر علامتی خصوصیات سے متصف ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر حامد کاشمیری علامت کو شعر کی آرائش کی بجائے اس کی خصوصیت گردانتےہیں۔ ان کے بقول: "یہ مسلّم ہے کہ شعر کی علامات کاری ہی تجربے کی پیچیدگی اور کثیر الجہتی میں اضافہ کرسکتی ہے، بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ شعری تجربہ شاعر کی داخلی سطح پر متنوع اور متضاد عناصر کی تطبیق کے نتیجے میں علامیت صورت اختیار کرتا ہے۔ گویا علامتیت شعر کی خاصیت ہے نہ کہ اس کی آرائش یا وضع کردہ اسلوب"۔ (۱) لہٰذا غزل اور علامت نگاری کا ساتھ اتنا ہی پرانا ہے جتنا کہ خود غزل۔ ہر عہد کی غزل کا دامن علامتوں سے مالا مال ہے۔ گلستان کے تلازمات میں لالہ و گل، سرووشمشاد، سبزہ، بہار، خزاں، سبزہ بیگانہ چمن وغیرہ میخانے کے تلازمات میں پیرِ مغاں، ساقی، بادہ، ساغر، واعظ، محتسب، زاہد و غیر اور اسی طرح دریا، صحرا، کارواں وغیرہ اور ان کے تلازمات کا استعمال غزل میں علامتوں کے طور پر ہوتا رہا ہے۔ علامت کے بارے میں عمومی تصوریہ رہا ہے کہ یہ کوشش سے ایجاد نہیں کی جاتی بلکہ تمدنی ورثے سے وجود میں آتی ہے۔ کسی لفظ کے ساتھ رفتہ رفتہ کچھ قدریں اور تصورات وابستہ ہوجاتے ہیں۔ یہ تصورات علاقے، تہذیب، عقائد، معاشرت، تاریخ وغیرہ سے تعلق رکتھے ہیں۔ اور یہی تصورات لفظ کو علامتی اقدار دیتے ہیں جو اسے موقع و محل کے مطابق معنی کی نئی جہتوں سے روشناس کرتے ہیں۔(۲) گویا علامت کی خوبی اس کی معنیاتی وسعت ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ علامت کے معنی میں پھیلاو بھی آتا ہے اور وہ تبدیل بھی ہوتے رہتے ہیں۔ چنانچہ اقبال، فیض، فرق اور دیگر شعرا نے غزل کی قدیم علامتوں کو اس انداز سے برتا کہ ان کے ساتھ نئے مفاہیم منسلک ہوئے۔ تاہم ترقی پسند تحریک کے دور تک زیادہ تر یہ اجتہاد پرانی علامتوں کے نئے معنی متعین کرنے تک ہی رہا اور نئی علامتوں کا تخلیق کا رجحان اور اس طرف خاطر خواہ پیش رفت نہیں ملتی۔
    جدیدیت کی تحریک جن مغربی تحریکوں سے متاثر تھی، ان میں علامت نگاری کی تحریک کا کردار بھی بنیادی ہے۔ لہٰذا اردو میں جدیدیت جن رویوں سے متشکل ہوئی ان میں علامت نگاری کا رجحان نمایاں تر ہے۔ اس کا اثر تمام ادبی اصناف پر پڑا۔ جدید نظم اور افسانے میں علامت نگاری نے باقاعدہ ایک رجحان کی شکل اختیار کرلی۔ غزل میں یہ رجحان کسی حد تک نظم ہی کے زیرِ اثر آیا۔ یہ بات اس لیے درست معلوم ہوتی ہے کہ " وہ بہت سے نئے حسی تصورات اور اشیا، جو نظم میں ابھری تھیں، غزل نے بھی انھیں اپنا لیا۔ لیکن غزل سے مس ہوتے ہی یہ اشیا اور مظاہر اپنی مادی، خصوصی اور اصل حیثیت میں باقی نہ رہے بلکہ غزل کے ایمائی اور رمزیہ انداز میں ڈھل گئے"۔(۳) غزل میں جدیدیت کی تحریک کا پیدا کردہ علامت نگای کا یہ رجحان غزل کی روایتی علامت نگاری سے کئی لحاظ سے مختلف ہے۔ اس ضمن میں درج ذیل نکات سامنے آتے ہیں۔
    ۱۔ جدیدیت کی تحریک سے پہلے غزل میں علامت نگاری اس قدیم ادبی روایت کا حصہ تھی جو داستان اور دیگر قدیم ادبی اصناف میں موجود تھی جبکہ اس تحریک میں پیدا ہونے والے علامت نگاری کے رجحان کے ڈانڈے یورپی اور خاص طور پر فرانسیسی علامت نگار ار ابہام پسند شعرا سے ملتے ہیں۔
    ۲۔ قدیم اور مروج علامتیں فارسی غزل کے اثرات کا نتیجہ تھیں، لہٰذا ان کو سمجھنے کے لیے فارسی روایت سے آگاہی ضروری تھی جبکہ علامت نگاری کا رجحان مغربی اثرات کا نتیجہ تھیں، لہٰذا اس کی تشکیل، تفہیم اور پرکھ کے لیے بھی مغربی تنقیدی اصول ہی سامنے رکھے گئے۔
    ۳۔ اس رجحان کے تحت شعرا نے روایتی علامتوں کے صرف معنی ہی سے بغاوت نہیں کی بلکہ خود علامتوں کو ہی یکسر ترک کرکے نئی علامتوں کی تشکیل کی طرف قدم بڑھائے۔
    ۴۔ اس تشکیل میں فارسی روایت کے زیرِ اثر ایرانی تہذیبی مظاہر کی بجائے مقامی فضا اور ارد گرد کے ماحول سے علامتیں اخذ کرنے کا رویہ پیدا ہوا۔
    ۵۔ اجتماعی علامتوں کے ساتھ ساتھ علامت نگاری کی مغربی تحریک کے طرز پر ذات اور شخصی علامیتں بنانے کی کوشش کی گئی۔
    غزل میں ان نئی علامتوں کے حوالے سے ڈاکٹر وزیرآغا رقم طرز ہیں:

    موجودہ دور میں جب غزل گو شاعر نے جملہ حسیات کے برانگیختہ ہونے کے باعث اپنی دھرتی کو بغور دیکھا تو بہت سی قریبی اشیا اور مظاہر نئے علائم میں ڈھل کر غزل کا جزوِ بدن بننے لگے۔ مثلاً جدید تر غزل میں پیڑ، جنگل، پتھر، برف، گھر، شہر، پتے، شاخیں، دھوپ، سورج دھواں، زمین، آندھی، سانپ، کھڑکی، دیوار، منڈیر، گلی، کبوتر، دھول، رات، چاندنی اور درجنوں دوسرے الفاظ اپنے تازہ علامتی رنگوں میں ابھر آئے ان لفظوں کی اہمیت اس بات میں ہے کہ یہ اپنے ماحول کے عکاس ہیں اور زمین کی باس اور رنگ کو قاری تک پہنچاتے ہیں۔(۴)
    اگرچہ ارد گرد کے اشیا و مظاہر کو علامتی انداز میں اپنانے کے اس عمل کا ایک محرک قدیم سے بغاوت اور جدید کی تشکیل کی کوشش بھی تھا، لیکن اس کی دوسری اہم وجہ معروضی قربت بھی ہے۔ اپنی ذہنی کیفیات اور جذباتی صورت حال کے اظہار کے شعرا نے ان قدیم علامات کی نسبت، جن کا عملی زندگی سے تعلق معدوم ہوچکا تھا، اپنے ماحول کی اشیا کو ہی بہتر وسیلہ سمجھا۔ اس حوالے سے خلیل الرحمٰن اعظمی لکھتے ہیں:
    چونکہ جدید تر غزل جدید تر ذہنی کیفیات اور طرزِ احساس کی پیداوار ہے، اس لیے اس غزل میں ہمیں ایک نئی فضا اور ایک نیا ذائقہ ملتا ہے۔ اس غزل میں پرانی علامتوں کی تکرار اور گھسے پٹے تلازموں کے بجائے تازہ علامتیں اور الفاظ کے نئے تلازمے ملتے ہیں۔ یہ الفاظ اور علامتیں ہمیں ہر جگہ زندہ اور محسوس شکل میں دکھائی دیتی ہیں۔ دن، رات، اندھیرا، اجالا، سورج، چاند، شام، سناٹا، تنہائی، چراغ پتّا، ٹہنی، فصیل، حصار، سمندر، بادبان، جزیرہ ابر، پتھر، خاک، ریت، راکھ اور اس طرح کے بہت سے الفاظ غزل میں ایک نئی معنویت کے ساتھ استعمال کیے گئے ہیں۔ اس طرح کہ غزل کی لفظیات اور اس کی مخصوص فضا بالکل بدلی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔(۵)
    علامت نگاری کے رجحان کے نمائندہ شعرا کی تخصیص بہت مشکل ہے کیونکہ اس دور کے تقریباً ہر شاعر کے ہاں یہ کوشش نظر آتی ہے۔ چند شعرا کے ہاں اس رویے کی مثالیں ملاحظہ ہوں:
    بوجھل پردے، بند جھروکا، ہر سایہ رنگیں دھوکا میں اک مست ہوا کا جھونکا دوارے دوارے جھانک چکا (مجید امجد)
    کاغذ کے پھول سرپہ سجاکر چلی حیات (ظفر اقبال) نکلی برونِ شہر تو بارش نے آلیا خوشبو کی دیوار کے پیچھے کیسے کیسے رنگ جمے ہیں
    جب تک دن کا سورج آئے اس کا کھوج لگاتے رہنا (مینر نیازی)
    اس شاخ سے اک مارِ سیہ لپٹا ہوا تھا
    لیکن وہیں طائر بھی چہکتے رہے تا دیر (سلیم احمد)
    کیا اسے تیز ہوا کا کوئی اندازہ نہیں
    جس نے دیوار سمجھ رکھی ہے اپنی چلمن (شہزاد احمد)
    وہاں کی روشنیوں نے بھی ظلم ڈھائے بہت
    میں اس گلی میں اکیلا تھا اور سائے بہت (شکیب جلالی)
    آندھی کو پہنچنے لگے پتوں کے بلاوے
    اپنوں سے رہے شاخِ ثمردار خبردار (مظفر حنفی)
    غبارِ شب کے پیچھے روشنی ہے لوگ کہتے ہیں
    اگر یوں ہے تو یہ منظر دوبارہ دیکھتا ہوں میں (عرفان صدیقی)
    خوشبو کو میری روح ترستی رہی مگر
    دل مانتا نہیں کہ وہ کاغذ کا پھول ہے (پنہاں)
    میں گھر کی روشنی ہوں مجھے محفلوں سے کیا
    چہروں کے میکدوں میں نہ دینا صدا مجھے (کشور ناہید)
    دیور کیا گری مِرے کچے مکان کی
    لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنالیے (سبط علی صبا)
    وقت شب خوں کے لیے لیس ہے ہتھیاروں سے
    شہر کا شہر ہی سویا ہے جگائیں کس کو (مرتضٰی برلاس)
    بستی یونہی بیچ میں آئی اصل میں جنگ تو مجھ سے تھی
    جب تک میرے باغ نہ ڈوبے زورنہ ٹوٹا طوفاں کا (رئیس فروغ)
    کیا بساطِ خاروخس تھی پھر بھی یوں شب یوں شب بھر جلے
    دوش پر بادِ سحر کے دور تک شعلہ گیا (حسن نعیم)
    صبحِ نو نغمہ بہ لب ہے مگر اے ڈوبتی رات
    میرے حصے میں تِری مرثیہ خوانی آئی (مخمور سعیدی)
    چلی ہے تھام کے بادل کے ہاتھ کو خوشبو
    ہوا کے ساتھ سفر کا معاملہ ٹھہرا (پروین شاکر)
    میں نے ان سب چڑیوں کے پَرکاٹ دیے
    جن کو اپنے اندر اُڑتا دیکھا تھا (شاہدہ حسن)
    علامت نگای کا یہ رجحان، اپنے حسین اور قبیح دونوں پہلووں کے ساتھ، بڑی تیزی سے غزل میں پھیلا۔ جہاں جدید غزل گووں نے اپنی ذہنی و جذباتی کیفیتوں کے اظہار کے لیے نت نئی علامتیں وضع کیس وہاں غزل میں ابہام اور بے معنویت نے بھی راہ پائی۔ بعض جدید شعرا کے ہاں علامتیں ایسی تھی کہ ان کے معنی تک رسائی ممکن ہی نہ تھی اور بعض کے ہاں صورت یہ تھی کہ علامت کی تعبیر ہر شخص کے لیے جو علامت کی سب (Value Communication)اس کے اپنے اندازِ فکر کے مطابق تھی۔ لہٰذا ترسیلی قدر
    سے بڑی خوبی ہے، منفی طور پر متاثر ہوئی اور علامت نگاری کا رجحان خود اپنے مقصد کی نفی کرنے لگا۔ اس کے علاوہ بعض علامیتں، تہذیبی عمل کی ناپختگی کے باعث، جمالیاتی تقاضوں پر بھی پورا نہیں اترتی تھیں۔
    پنجوں سے زمیں کھروچتا ہے
    امید کا پَر کٹا کبوتر (مخمور سعیدی)
    سورج کو چونچ میں لیے مرغا کھڑا رہا
    کھڑکی کے پردے کھینچ دیے رات ہوگئی (ندا فاضلی)
    لمبی سڑک پہ دور تلک کوئی بھی نہ تھا
    پلکیں جھپک رہا تھا دریچہ کھلا ہوا (محمد علوی)
    میں کھڑا ہوں آئنے میں اور مِرا بیزار دل
    سانپ ساچوکھٹ پہ پھن کاڑھے ہوئے جھوما کیا (زیب غوری)
    بستر پہ ایک چاند تراشا تھا لمس نے
    اس نے اٹھا کے چائے کے کپ میں ڈبودیا (عادل منصوری)
    مجموعی طور پر نئی علامتوں کے وسیلے سے جدید غزل نے اپنی معنوی تمازت میں اضافہ کیا ہے۔ احساس کی پیچیدگی اور شدت اور جذبے کے خلوص و صداقت کی ترسیل جس انداز سے ان علائم کے ذریعے ہوئی ہے، اس نے اردو غزل کی پوری روایت کو ثروت مند کیا ہے۔ اور "اردو غزل میں غالباً یہ پہلا موقع ہے کہ شعرا کی ایک پوری جماعت نے اپنے احساسات کو اردگرد کی اشیاء مظاہر اور علائم کی زبان میں پیش کرنے کی بھر پور کوشش کی ہے۔ (۶) لہٰذا اس رجحان کا سہرا کسی فردِ واحد یا شعرا کے کسی محدود فکری دائرے کے سر نہیں بلکہ یہ ایک وسیع تحریک کی عطا ہے۔
    علامت نگاری کے اس رجحان کے تحت ارد گرد کے مظاہر سے متعلق عمومی علامتوں کی تشکیل کے علاوہ شعرا کے ہاں علائم کے بعض مخصوص دائرے بھی ملتے ہیں۔ یہ دائرے مختلف داستانوی، اساطیری، تہذیبی اور مذہبی حوالوں سے پھوٹے ہیں۔ داستانیں دنیا بھر کے ادب کا حصہ رہی ہیں۔ عقلیت اور منطقیت کے فلسفوں کے عروج کے زمانے میں قدیم داستانوں کو لاف و خرافات اور انسانی تو ہمات قراردے کر ان کو مطعون ٹھہرایا گیا۔ لیکن جدید نفسیات نے داستانوں کو انسانی لاشعور کی زائیدہ قرار دے کر ان کی اہمیت کو تسلیم کیا۔ جدید شعرا نے ان داستانوں کو معروضی تلازمے کے طور پر برتا ہے جو ابدیت کی حامل ہیں۔ اسی طرح مقامی علاقائی لوک کہانیوں کے کرداروں اور مختلف مذہبی شخصیات اور ان سے متعلق واقعات کو بھی علامتی حیثیت میں استعمال کیا گیا۔ آفتاب حسین لکھتے ہیں:
    جدید اردو غزل نے داستانوی علائم سے گہرے ربط کا اظہار کیا ہے اور ان علامات کے حوالے سے شخصی اور اجتماعی لاشعور، معاشرتی صورت حال، سیاسی منظر نامے اور زندگی کے دوسرے مسائل اور وارداتوں کے بیان کی متنوع صورتیں تلاش کی ہیں۔(۷)
    جدید غزل میں موجود ان علاماتی دائروں کی تقسیم یوں کی جاسکتی ہے:
    عربی و عجمی تہذیبی و داستانوی علائم
    اسلامی مذہبی و تہذیبی علائم
    ہندی تہذیبی و اساطیری علائم
    مقامی لوک کہانیوں سے ماخوذ علائم
    مغربی اساطیری علائم
    عربی و عجمی تہذیبی و داستانوی علائم کلاسیکی غزل کا حصہ رہے ہیں۔ شیریں، فرہاد، تیشہ، قیس، صحراء محمل اور دیگر کردار و مظاہر علامتوں کے طور پر صدیوں تک اردو غزل میں استعمال ہوتے رہے ہیں۔ لیکن جدید غزل گو شعرا نے عربی، عجمی داستانوی ہی سے استفادہ کرتے ہوئے ان علامتوں کے بجائے نئی علامتیں وضع کرنے کی کامیاب کوششیں کیں۔ اس حوالے سے کوہ ندا، ساتواں در، شہزادی، طلسم، کبوتر، حصار، زندان، محراب، کوہ قاف، محل، تاج و تخت، شاہ، غلام، کنیز اور دیگر علامتوں کے ذریعے اردو غزل کا دامن وسیع ہوا ہے۔
    اسی کنارہ حیرت سرا کو جاتا ہوں
    میں اِک سوار ہوں، کوہِ ندا کو جاتا ہوں (ثروت حسین)
    وہ نگین جو خاتمِ زندگی سے پھسل گیا
    تو وہی جو میرے غلام تھے، مجھے کھا گئے (خورشید رضوی)
    کچھ اور بھی سنپو لیے حق دار تھے ظفر
    میں اپنے آپ اٹھ کے خزانے سے آگیا (ظفر اقبال)
    خارِ طلسم ہوں نہ کہیں اس کے جسم میں
    بیٹھے جو تیری چھت پہ کبوتر ہی اور ہو (افضال نوید)
    حصار چاٹتے رہنا ہے کارِ بے مصرف
    شگاف ڈال کے زنداں سے درنکالتے ہیں (سلیم شاہد)
    اے خردمند سن ہم بھی دو بھائی تھے، وہ جو حاکم بنے ہم جو رسوا ہوئے
    وہ ادھر لعل و گوہر میں ثلتے رہے، ہم ادھر لعل و گوہر اگلتے رہے (سجاد باقر رضوی)
    بوڑھے جادوگروں کا تازہ طلسم
    کِن پرندوں کو مار کر توڑیں (علی اکبر عباس)
    شہزادی تجھے کون بتائے تیرے چراغ کدے تک
    کتنی محرابیں پڑتی ہیں، کتنے درآتے ہیں (ثروت حسین)
    غلام بھاگتے پھرتے ہیں مشعلیں لے کر
    محل پہ ٹوٹنے والا ہو آسماں جیسے (اظہارالحق)
    کنیزیں پاس کھڑی مورچھل ہلاتی تھیں
    کہانی کہتے تھے ناخفتہ انکھڑیوں کے رنگ (خالد اقبال یاسر)
    ایک دن ساجد اسے پہچان لینا ہے مجھے
    ایک دن کھل جائے گا وہ ساتویں در کی طرح (غلام حسین ساجد)
    اے دوست تِرا شہر بھی ہے شہرِ طلسمات
    چھو کر جسے دیکھا وہی پھتر نظر آیا (خالد احمد)
    میں سرائے کے نگہباں کی طرح تنہا ہوں
    ہائے وہ لوگ کہ جو آئے تھے جانے کے لیے (شاذ تمکنت)
    ندائے کوہ بہت کھینچتی ہے اپنی طرف
    مِرے ہی لہجے میں وہ حیلہ جُو پکارتا ہے (عرفان صدیقی)
    اسلامی تحریک سے مذہبی شخصیات اور واقعات کی علامتی حیثیتوں کا بیان بھی جدید غزل میں جابجا ملتا ہے۔ اس حوالے سے خاص اہمیت واقعہ کربلا کی ہے۔ شعرا نے حسین، کربلا، کوفہ، شام، خیمے، مشکیزہ، نیزہ، تیر اور دیگر علامتوں کے حوالے سے اپنے عہد کی سیاسی و سماجی صورت حال کی طرف بلیغ اشارے کیے ہیں۔ خاص طور پر مارشل لاء کی جبریت کے دور میں یہ علامتیں گہری معنویت کے ساتھ استعمال کی گئیں۔ بقول ڈاکٹر شارب ردولوی:
    جدید غزل میں علامتوں نے نئی معنویت اور نئی جہتوں کو پیش کیاہے جس میں ایک طرف زندگی کی تازگی، اپنی زمین سے قربت اور اس کی سوندھی خوشبو ہے تو دوسری طرف جہادِ زندگی کی وہ تصویر بھی ہے جو ہجرت، کربلا، آفتاب، مشک، پیاس، نیزے، تیر، سپاہِ شام وغیرہ کے تلازمات اور علامتوں سے سامنے آتے ہیں اور فکر و اظہا ر کی نئی بصیرت کو پیش کرتے ہیں۔ (۸)
    سلام ان پہ تہِ تیغ بھی جنھوں نے کہا
    جو تیرا حکم، جو تیری رضا، جو تُو چاہے (مجید امجد)
    زوالِ عصر ہے کوفے میں اور گداگر ہیں
    کھلا نہیں کوئی دربابِ التجا کے سِوا (منیر نیازی)
    ہوائے کوفہ نامہرباں کو حیرت ہے
    کہ لوگ خیمہ صبر و رضا میں زندہ ہیں (عرفان صدیقی)
    سپاہِ شام کے نیزے پہ آفتاب کا سر
    کس اہتمام سے پروردگارِ شب نکلا (افتخار عارف)
    چند یادیں نوحہ گر ہیں خیمہ دل کے قریب
    چند تصویریں جھلکتی ہیں صفِ مژگاں کے پاس (احمد فراز)
    اہلِ وفا کو شوق شہادت ہے آج بھی
    لیکن کسی کے ہاتھ میں خنجر نظر تو آئے (شہر یار)
    خبر تو ہوگی تجھے تیرے جاں نثاروں میں
    کوئی تو تھاسرِ مقتل جو پیش وپس میں نہ تھا (سروربارہ بنکوی)
    خطِ صلیب لکھوں، حرفِ کربلا لکھوں
    میں کتنے روپ میں اب خود کو جابجا لکھوں (ظہیر غازی پوری)
    سلیم احمد کے یہ اشعار اسی حوالے سے موجود دور کی بے عملی اور انفعالی رویے کی طرف طنزیہ اشارہ
    کربلا سے بہت یہ نسبت ہے
    جانتے ہیں حسین، کو حقدار
    اس سے بڑھ کر نہ ہم میں تاب نہ دَم
    سر کٹا نے کو ہم نہیں تیار (سلیم احمد)
    واقعہ کربلا کے علاوہ بعض دیگر اسلامی مذہبی علامتیں بھی بڑی خوبی کے ساتھ استعمال ہوئی ہیں۔
    الفاظ پل صراط پہ جیسے گناہ گار
    تلوار سے بھی تیز چمکتی ہوئی صدا (بشیر بدر)
    افسانہ یاد آگیا اصحابِ کہف کا
    تاریخ لکھنے بیٹھا تھا میں اپنے دورکی (حمایت علی شاعر)
    سنا ہے یہ زمیں اڑتی پھرے گی روئی کی صورت
    تماشا کرنے والا ہی تماشا دیکھتا ہوگا (فضل تابش)
    ڈال دوزخ میں نامہ اعمال
    میرا اقرار مختصر ہے کہ ہاں (شان الحق حقی)
    ہندی تہذیبی، اساطیری و ثقافتی علامتیں ارضی ثقافتی میلانات کے نتیجے میں جدید غزل کا حصہ بنیں۔ بعض شعرا کے ہاں جب غزل کو گیت کے آہنگ سے قریب کرنے کی کوشش ہوئیں تو ہندی الفاظ کے ساتھ مختلف تہذیبی اور اساطیری علامتیں بھی درآئیں۔ تاہم دیگر علامات کے مقابلے میں مقدار کے لحاظ سے بھی یہ کم ہیں اور شاید ہندی ثقافت سے کم وقفیت کی بنا پر اکثر پاکستانی شعرا کے ہاں ان کی معنویت بھی بھر پور انداز میں اجاگر نہیں ہوسکی۔ البتہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے بعض اور بھارت سے تعلق رکھنے والے اکثر شعرا کے ہاں اس حوالے سے بعض بہت اچھے اشعار موجود ہیں۔
    دلِ ہر کرشن نے ارجن کو جیتا
    وفا ہر دور میں لکھتی ہے گیتا
    جنم ساگر میں امرت کی بجائے
    جو شِو ہوتا تو اب بھی زہر پیتا (صہبا اختر)
    پی آئے پردیس سے، صجیں صبحیں رنگ تو شامیں نور
    رام آئے بن باس، دن ہولی، دیوالی رات (وزیر آغا) کوئی منزل ہو مگر ساتھ رہی
    زندگی ہے کہ ستی ساوتری (فضیل جعفری)
    جس بادل کی آس میں جُوڑے کھول لیے ہیں سہاگن نے
    وہ پربت سے سر ٹکرا کر برس چکا صحراوں میں (بشیر بدر)
    مقامی لوک کہانیوں سے استفادہ بھی اس لیے نسبتاً کم ہے کہ ایک علاقے کی کہانی اور اس کے کرداروں اور واقعات اپنے پورے پس منظر کے ساتھ کسی دوسرے علاقے کے لوگوں کے لیے عموماً قابلِ فہم نہیں ہوسکتے۔ اسی طرح ایک علاقے کی کہانی سے دوسرے علاقے کے لوگوں کا جذباتی رشتہ بھی اس طرح کا نہیں ہوسکتا۔ اس کے باوجود بعض شعرا کے ہاں اس حوالے سے اعلٰی تخلیقیت کے حامل اشعار مل جاتے ہیں۔
    کچے گھڑے نے جیت لی ندی چڑھی ہوئی
    مضبوط کشتیوں کو کنارا نہیں ملا (مصطفٰے زیدی)
    مغربی اساطیر کے زیادہ تر حوالے نظم اور افسانے میں ملتے ہیں۔ نظم اور افسانہ بنیادی طور پر مغربی اصناف ہیں اس لیے ان کے لیے ان علائم کو جذب کرنا آسان ہے۔ غزل اپنے خالص مشرقی مزاج کے باعث ان علامات کو قبول کرنے میں متامل معلوم ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس رویے کی قابلِ ذکر مثالیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔
    جدیدیت کی تحریک نے اردو غزل میں نئی علامتوں کی تشکیل کو رواج دے کر غزل کو اپنے قرب و جوار کی زندگی سے تخلیق رابطہ استوار کرنے میں مدد دی ہے۔ "ان نئی علامتوں نے اپنے گرد نئی فکری جہتوں اور جدید شعری اطراف کا ایک حلقہ بنالیا ہے جو برابر فانوسِ خیال کی طرح گردش میں رہتا ہے اور دیکھنے والی نگاہوں کو محوِ تماشائے دماغ رکھتا ہے"۔ (۹) یوں غزل اب ایک سطح پر اپنے دور کی "تصویری کہانی" بھی پیش کرتی ہے۔ یہ تصویریں ایسی ہیں جن میں رمزیت اور تجرید کے رنگ نمایاں ہیں جن کی معنیاتی سطحیں پرت در پرت کھلتی چلی جاتی ہیں۔ جدید غزل دیگر کئی حالوں کے ساتھ ساتھ نئے علائم کی تشکیل کے حوالے سے بھی روایت سے انحراف کرتی ہوئی اور فنی و فکری اقدار کا آغاز کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔
    حوالہ جات

    ۱۔ حامدی کاشمیری، ڈاکٹر، "غزل میں جدیدیت کے شعرا" "اردو غزل" مرتبہ: کامل قریشی، ڈاکٹر، اردو اکادمی، دہلی، ۱۹۸۷ء، ص ۳۴۵
    ۲۔ شارب ردولوی، ڈاکٹر، "جدید غزل میں علامت نگاری" مشمولہ "اردو غزل" مرتبہ: کامل قریشی، ڈاکٹر، ص ۳۲۹
    ۳۔ وزیر آغا، ڈاکٹر، "اردو شاعری کا مزاج"، مکتبہ عالیہ، لاہور،۱۹۹۹ء ص ۲۹۹
    ۴۔ ایضاًء ص ۲۹۶
    ۵۔ خلیل الرحمٰن اعظمی، "جدید تر غزل" مطبوعہ "فنون" لاہور، جدید غزل نمبر، ۱۹۶۹ء ص ۷۲
    ۶۔ وزیر آغا، ڈاکٹر، "اردو شاعری کا مزاج"، ص ۲۹۶
    ۷۔ آفات حسین، "جدید اردو غزل میں داستانوی علائم" مطبوعہ "ماہِ نو" لاہور، اپریل ۱۹۸۷ء ص ۲۸
    ۸۔ شارب ردولوی، ڈاکٹر، "جدید غزل میں علامت نگاری" مشمولہ "اردو غزل" متربہ: کامل قریشی، ڈاکٹر، ص ۳۳۸
    ۹۔ تنویر احمد علوی، ڈاکٹر، "جدید غزل: فکری و فنی سطح پر ایک نقطہ انحراف" مشمولہ "معاصر اردو غزل" مرتبہ: قمر رئیس، پروفیسر اردو اکادمی، دہلی، ۱۹۹۴ء ص
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 7

اس صفحے کی تشہیر