نور وجدان

لائبریرین
کیا ہمارے ساتھ آزادی حاصل کرنے والے ملک ہندوستان میں بھی عوامی سطح پر ایسے مباحث کثرت سے ہوتے ہیں؟
کیا ملک کی ترقی کے لیے ایسے مباحث کا انعقاد وقت کی اہم ضرورت ہے؟
اگر ہے تو بتا دیجیے، میں بھی اپنے اختلافی موقف کے ساتھ میدان میں کود پڑتا ہوں۔
جی اکثر ہوتا ہے ۔ آپ بھارتی اخبار پڑھ لیں
 

آوازِ دوست

محفلین
ساری باتیں اچھی ہیں مگر بنیادی نقطہ شائد ابھی پوری توجہ کامتقاضی ہے۔ انسان حیوانِ ناطق ہے اور بحیثیتِ مجموعی بغیرمناسب اخلاقی اور خاص طور پر قانونی حدود و قیود کے محض حیوان ہے سو جن قوموں نے یہ سامنے کی بات سمجھ لی اُنہوں نے قانون اور انصاف کی بالا دستی کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا اور نتیجہ ہم سب کے سامنے ہے۔ پاکستان اِس حوالے سے اپنی ڈارک ایج کے جوبن پر ہے۔ ہم قانون اور انصاف کی بالادستی کے حوالے سے ایک بدقسمت ترین دور میں جی رہے ہیں۔ ہمارا اصل مسئلہ روٹی، کپڑا، مکان، بجلی، روزگار، دہشت گردی، مہنگائی، فرقہ پرستی وغیرہ وغیرہ میں سے کُچھ بھی نہیں ہے بلکہ قانون اور انصاف کی بالادستی کا بحران ہے اور جسٹس ڈیلیڈ از جسٹس ڈینیڈ جیسے اقوال سے سردمہری ہے۔ ملتان والوں کے لیے تو سابق ڈی سی او نسیم صادق کی شکل میں ایک اچھا تجربہ موجود ہے جو اُنہیں یاد دلا سکتا ہے کہ قانون پر بے لاگ اور فوری عملدرآمد کیسے کیسےکرشمے دکھاتا ہے :)
 

عدنان عمر

محفلین
مطلب قوموں کی ترقی کا راز ہی اختلاف سے نکلنے والے متفقہ فیصلوں پر منحصر ہے۔ جب کوئی کسی سے اختلاف ہی نہیں کریگا اور لکیر کی فقیری اپنائے گا تو قوم نے کیا خاک ترقی کرنی ہے۔
پاکستانی قوم اختلافات سے نکل کر متفقہ فیصلوں اور پھر ترقی کی راہ پر کب گامزن ہوگی؟ کیا ہم کسی متفقہ فیصلے پر پہنچ سکیں گے؟
عارف بھائی! میرے پاس بہت کم علم ہے، بلکہ علم کیا تھوڑی بہت انفارمیشن ہے۔ اپنی اس کم علمی کے پیش نظر میں آپ سے اور دیگر محفلین سے یہ طالب علمانہ سوال کرنا چاہتا ہوں کہ میری آسانی کے لیے کسی ایسے ملک یا قوم کے بارے میں ذرا تفصیل سے بتا دیجیے جو اپنی تاریخ اور اپنے وجود کے بارے میں اسی قسم کے مباحث میں مصروف رہی اور بالاآخر ان مباحثوں کے نتیجے میں کسی ایسے فیصلے پر پہنچ گئی جو اس کو قعرِ مذلت سے نکال کر اس کی ترقی کا باعث بن گیا۔
 

یاز

محفلین
اگر ایسا تھا تو مسلمانان ہند کو کیبنٹ مشن پلان میں خود مختاری مل تو رہی تھی ۔۔۔اس کو رد کیوں کر دیا گیا ۔۔۔ ؟
اس سوال کا حتمی جواب دینا مشکل ہے، کیونکہ ہمیں معلوم تاریخ میں تمام حقائق کا ذکر کیا ہی نہیں جاتا۔ تاہم تجزیہ کی بنیاد پہ کچھ اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
میرے خیال میں 1946 یعنی جب کابینہ مشن پلان پیش کیا گیا، الگ الگ ممالک بننے کا فیصلہ اس سے کافی پہلے ہو چکا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ انگریز حکومت نے بٹوارے کی صورت میں بڑے پیمانے پہ ہجرت اور برپا ہونے والے فسادات کی پیش بینی کر لی تھی، اور کابینہ مشن پلان میں کنفیڈریشن کی تجویز انہی سے بچنے کی کوشش تھی۔
اب رہا سوال کہ اس کو رد کیوں کر دیا گیا۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن پہ بحث بھی ہو سکتی ہے۔ تاہم خدشہ ہے کہ گفتگو لڑی کے اصل موضوع سے بہت زیادہ دور نہ نکل جائے۔
 

آوازِ دوست

محفلین
قیامِ پاکستان کے ناقدین اپنے نقطہء نظر سے شاید غلط نہ کہہ رہے ہوں مگر تقسیم سے پہلے مسلمانوں کو بحیثیت اقلیت متحدہ ہندوستان میں جس اذیت کا سامنا تھا اُس کا خفیف سا اندازہ اُنہیں کسی طاقتور، بااثر مگرشرپسند پڑوسی کے ساتھ رہنے سے ہو سکتا ہے۔ مسلمان جب تک حکمران تھے اُنہیں اقلیتی مسائل کا سامنا نہ تھا مگر انگریزوں کی حکومت پھر بالخصوص 1857ء کے بعد کا دور اُن کے لیے اِس خطے میں پوری تاریخ کا بدترین دور تھا۔ آج اکیسویں صدی میں بھی جب کہ جہالت بظاہر تعلیم سے لڑائی میں پسپا ہوتی نظر آرہی ہے ہم سلامتی کا درس دینے والی مسلمان قوم کے ملک پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے اِکا دُکا واقعات آپ کی شعوری بیداری کا کافی سامان رکھتے ہیں :)
 

عدنان عمر

محفلین
مسئلہ سارا یہی ہے ''وہ اسلام '' ہے ۔ کہاں پر حضرت محمد صلی علیہ والہ وسلم کا اسلام ہے ؟
اسلام تو قرآن و سنت میں موجود ہے، میں اور مجھ جیسے دیگر لوگ اس پر عمل نہیں کرتے تو یہ ہماری کوتاہی ہے۔ میں تو بس یہ عرض کرنا چاہ رہا تھا کہ اسلام کو دنیا کی آنکھ سے نہ دیکھا جائے، اسلام کی تشریح کسی خاص مائنڈ سیٹ کے مطابق نہ کی جائے بلکہ اسلام کو ایسے سمجھنے کی کوشش کی جائے جیسے کہ صحابہ کرام نے کی تھی۔
 

یاز

محفلین
میں آپ سے اور دیگر محفلین سے یہ طالب علمانہ سوال کرنا چاہتا ہوں کہ میری آسانی کے لیے کسی ایسے ملک یا قوم کے بارے میں ذرا تفصیل سے بتا دیجیے جو اپنی تاریخ اور اپنے وجود کے بارے میں اسی قسم کے مباحث میں مصروف رہی اور بالاآخر ان مباحثوں کے نتیجے میں کسی ایسے فیصلے پر پہنچ گئی جو اس کو قعرِ مذلت سے نکال کر اس کی ترقی کا باعث بن گیا۔

درست فرمایا بھائی۔ ایسا کم ہی اقوام یا ممالک میں ہوتا ہے کہ وہ اپنی تاریخ یا اپنی بنیاد کے بارے میں ہی مباحثے کر رہے ہوں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ قوموں کی تاریخ ہوا کرتی ہے، چاہے جغرافیہ نہ بھی ہو (جیسے کرد، باسک، چیچن وغیرہ)۔ لیکن 14 اگست 1947 کو ایک ایسا ملک وجود میں آیا جس کا جغرافیہ تھا، لیکن تاریخ نہیں تھی۔ (یعنی ویسی تاریخ نہیں تھی، جیسی ہمارے اہلِ نظر ضروری سمجھتے تھے)۔ اسی چکر میں تاریخ کو بنوایا گیا، دھندلایا گیا، گہنایا گیا، توڑا گیا، مروڑا گیا۔۔ وغیرہ وغیرہ
 

عدنان عمر

محفلین
درست فرمایا بھائی۔ ایسا کم ہی اقوام یا ممالک میں ہوتا ہے کہ وہ اپنی تاریخ یا اپنی بنیاد کے بارے میں ہی مباحثے کر رہے ہوں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ قوموں کی تاریخ ہوا کرتی ہے، چاہے جغرافیہ نہ بھی ہو (جیسے کرد، باسک، چیچن وغیرہ)۔ لیکن 14 اگست 1947 کو ایک ایسا ملک وجود میں آیا جس کا جغرافیہ تھا، لیکن تاریخ نہیں تھی۔ (یعنی ویسی تاریخ نہیں تھی، جیسی ہمارے اہلِ نظر ضروری سمجھتے تھے)۔ اسی چکر میں تاریخ کو بنوایا گیا، دھندلایا گیا، گہنایا گیا، توڑا گیا، مروڑا گیا۔۔ وغیرہ وغیرہ
پھر اب کیا کیا جائے؟ آگے کیسے بڑھا جائے؟ بحث مباحثے تو بہت ہوگئے، حل کب نکلے گا؟
 

یاز

محفلین
درست فرمایا بھائی۔ ایسا کم ہی اقوام یا ممالک میں ہوتا ہے کہ وہ اپنی تاریخ یا اپنی بنیاد کے بارے میں ہی مباحثے کر رہے ہوں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ قوموں کی تاریخ ہوا کرتی ہے، چاہے جغرافیہ نہ بھی ہو (جیسے کرد، باسک، چیچن وغیرہ)۔ لیکن 14 اگست 1947 کو ایک ایسا ملک وجود میں آیا جس کا جغرافیہ تھا، لیکن تاریخ نہیں تھی۔ (یعنی ویسی تاریخ نہیں تھی، جیسی ہمارے اہلِ نظر ضروری سمجھتے تھے)۔ اسی چکر میں تاریخ کو بنوایا گیا، دھندلایا گیا، گہنایا گیا، توڑا گیا، مروڑا گیا۔۔ وغیرہ وغیرہ
اسی توڑ مروڑ کا ایک بہت بڑا نقصان یہ ہوا کہ جب آپ سچ کا گلا گھونٹتے ہیں تو ساتھ ہی آپ کو سوال کا بھی گلا گھونٹنا پڑتا ہے۔ وجہ یہ کہ من گھڑت فسانے ہر سوال کا جواب نہیں دے سکتے۔
ایک مثال پیشِ خدمت ہے
میں جب کسی سے پوچھتا ہوں کہ 1940 میں قراردادِ پاکستان پیش ہوئی، اور 1947 میں پاکستان بن گیا۔ ان 7 سالوں میں ایسا کیا ہوا کہ پاکستان بن گیا؟
مجھے آج تک کسی نے اس سوال کا جواب نہیں دیا۔ ایسے اور بے شمار سوالات ہیں۔
 

نور وجدان

لائبریرین
ملتان والوں کے لیے تو سابق ڈی سی او نسیم صادق کی شکل میں ایک اچھا تجربہ موجود ہے جو اُنہیں یاد دلا سکتا ہے کہ قانون پر بے لاگ اور فوری عملدرآمد کیسے کیسےکرشمے دکھاتا ہے

جناب والا کا ملتان میں قیام چند ماہ کا تھا جس کے بعد ان کا ٹرانسفر کر دیا گیا ۔ ایسا کیوں ہوتا ہے اگر گنتی کے کچھ افراد دیانت دار ہوتے ہیں تو ان کا ٹرانسفر یا دور دراز مقام پر کردیا جاتا ہے یا ان کو مستعفی ہونا پڑتا ہے ۔ سول بیوروکریسی کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے ۔
قیامِ پاکستان کے ناقدین اپنے نقطہء نظر سے شاید غلط نہ کہہ رہے ہوں مگر تقسیم سے پہلے مسلمانوں کو بحیثیت اقلیت متحدہ ہندوستان میں جس اذیت کا سامنا تھا اُس کا خفیف سا اندازہ اُنہیں کسی طاقتور، بااثر مگرشرپسند پڑوسی کے ساتھ رہنے سے ہو سکتا ہے۔ مسلمان جب تک حکمران تھے اُنہیں اقلیتی مسائل کا سامنا نہ تھا مگر انگریزوں کی حکومت پھر بالخصوص 1857ء کے بعد کا دور اُن کے لیے اِس خطے میں پوری تاریخ کا بدترین دور تھا۔ آج اکیسویں صدی میں بھی جب کہ جہالت بظاہر تعلیم سے لڑائی میں پسپا ہوتی نظر آرہی ہے ہم سلامتی کا درس دینے والی مسلمان قوم کے ملک پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے اِکا دُکا واقعات آپ کی شعوری بیداری کا کافی سامان رکھتے ہیں :)

ہم نہیں ہمارے سکول آف ٹھاٹس : اکبر اور اورنگ زیب کے معلم یا ان کی سوچ جس پر چلنے والے مفکروں نے مسلمانوں کو تقسیم کردیا مگر درمیانی راہ کسی نے نہیں اپنائی جس کی بات سر سید احمد نے کی ۔۔۔

مثال کے طور اقبال کہتے ہیں
شہادت ہے مطلوب و مقصود و مومن
نہ مال و غنیمت نہ کشور کشائی

جس شہادت یا جہاد کی بات اقبال کرتے ہیں کیا اسلام میں صرف قتال کو ہی جہاد مانا جاتا ہے ؟

ہندوستان میں کچھ ہوگا تو اس کا اثر مسلمانوں پر ہوگا ، مسلمانوں میں کچھ ہوگا تو اس کا اثر ہندؤں پر ہوگا ۔۔۔سوال یہ ہے کہ انتہا پسندی کا جواب کیا انتہا پسندی سے دیا جائے اگر ایسا ہوتا تو اللہ کریم سورہ الا عمران میں رسول اکرم صلی علیہ والہ وسلم سے فرماتے ہیں کہ اگر وہ تند خو یا سخت مزاج کے ہوتے ہیں تو اسلام پھیلتا ہی نا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم اس بات کو کیوں سمجھتے نہیں ۔۔۔۔۔۔میں نے تحریر میں ایک سوچ پر بات کی کہ کون درست تھا؟ اقبال ؟ سر سید ؟ قائد اعظم ۔۔۔۔۔۔۔۔
 

نور وجدان

لائبریرین
اس سوال کا حتمی جواب دینا مشکل ہے، کیونکہ ہمیں معلوم تاریخ میں تمام حقائق کا ذکر کیا ہی نہیں جاتا۔ تاہم تجزیہ کی بنیاد پہ کچھ اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
میرے خیال میں 1946 یعنی جب کابینہ مشن پلان پیش کیا گیا، الگ الگ ممالک بننے کا فیصلہ اس سے کافی پہلے ہو چکا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ انگریز حکومت نے بٹوارے کی صورت میں بڑے پیمانے پہ ہجرت اور برپا ہونے والے فسادات کی پیش بینی کر لی تھی، اور کابینہ مشن پلان میں کنفیڈریشن کی تجویز انہی سے بچنے کی کوشش تھی۔
اب رہا سوال کہ اس کو رد کیوں کر دیا گیا۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن پہ بحث بھی ہو سکتی ہے۔ تاہم خدشہ ہے کہ گفتگو لڑی کے اصل موضوع سے بہت زیادہ دور نہ نکل جائے۔
بات وہی ہوگئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مسلمان اس پلان پر متفق ہوگئے تھے مگر بعد میں پھر تقسیم پر آگئے ۔ گاندھی جی نے کیبنٹ مشن پلان کو قبول کیا تھا مگر ہندو قیادت نے ان کی مخالفت میں برا بھلا کہ دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔

قطع نظر اس بات سے سوال یہ ہے کیا ہم آزاد قوم ہیں اور کیا ایک قوم ہیں ؟ ہم کل بھی غلام تھے ، آج بھی غلام ہیں آزادی کس بات کی تھی ؟ اگر آزاد تھے تو پاکستانی میں دستوری قانون سازی کو التوا کیوں سہنا پڑا ؟
 

یاز

محفلین
پھر اب کیا کیا جائے؟ آگے کیسے بڑھا جائے؟ بحث مباحثے تو بہت ہوگئے، حل کب نکلے گا؟
بھائی اسی طرح آگے بڑھا جائے گا۔ مباحثے ہوں گے تو ہی حل نکلے گا۔ اگر ہم محسوس کر سکیں تواندازہ ہو کہ شاید حل نکلنا شروع بھی ہو چکا ہو۔
 

یاز

محفلین
پختہ ہوتی ہے اگر مصلحت اندیش ہو عقل
عشق ہو مصلحت اندیش، تو ہے خام ابھی
عقل راہِ ناامیدی کے رَوَد
عشق باشد کاں طرف برسررَوَد

(عقل ناامیدی کے راستے پر کب دوڑتی ہے۔ یہ عشق ہی ہے جو اس راستے پہ سر کے بل دوڑتا ہے)۔
میری فارسی مُک گئی جناب (جھنڈا اٹھانے والی سمائیلی :cool:
 

عباد اللہ

محفلین
مثال کے طور اقبال کہتے ہیں
شہادت ہے مطلوب و مقصود و مومن
نہ مال و غنیمت نہ کشور کشائی

جس شہادت یا جہاد کی بات اقبال کرتے ہیں کیا اسلام میں صرف قتال کو ہی جہاد مانا جاتا ہے ؟
اگر آپ سیاق و سباق سے ہٹ ہے نظم کا ایک شعر مکمل اکائی کے طور پر پیش کریں گی تو یقیناََ ایسے ہی بے سر و پا سوالات جنم لیں گے۔
اقبال کا یہ شعر جھوٹ کہ رہا ہے
سچائی اور جھوٹ کو کس پیمانے پر پرکھا جاتا ہے؟؟؟
اپ کو اگر کسی بات سے اختلاف ہو تو آپ اسے جھوٹ قرار دیتی ہیں؟
قبال کے قول و فعل میں بہت بڑا تضاد ہے
یقیناََ رہا ہو گا کس شاعر کے قول و فعل میں تضاد نہیں ہوتا ؟
قران بھی کہتا ہے کہ شاعر وہی کہتے ہیں جو یہ کرتے نہیں لیکن شاعر کا کہا ہوا سند ہے اس کا کیا ہوا نہیں!
ان کی فکر مستحکم ان کی '' خودی '' کے فلسفہ سے ہوئی ۔۔
یہ آپ کا فرمایا ہوا ہے میں اتفاق نہیں رکھتا ۔
"ان کی فکر خودی کے فلسفے سے مستحکم ہوئی"
اس کا مآخذ؟؟؟
مجھے تو ان کی فکر اس وقت بھی مستحکم لگی جب انہوں نے فرمایا
آ اک نیا شوالہ اس دیس میں بسائیں۔
مگر اس فلسفے سے معاشرے پر کیا اچھا اثر پڑا؟ کیا ہم ترقی کر گئے ؟

اس فلسفے کا انطباق معاشرے پر کیونکر ممکن ہے۔معاشرہ کبھی آئیڈیل نہیں ہوتا !
یہ فلسفہ کس قسم کی ترقی کے لئے پیش کیا گیا تھا؟؟؟
 
آخری تدوین:

عدنان عمر

محفلین
بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی

اشعار کا کوٹا تو میرے پاس بھی کم ہی رہ گیا ہے۔
 

نور وجدان

لائبریرین
اگر آپ سیاق و سباق سے ہٹ ہے نظم کا ایک شعر مکمل اکائی کے طور پر پیش کریں گی تو یقیناََ ایسے ہی بے سر و پا سوالات جنم لیں گے۔

سچائی اور جھوٹ کو کس پیمانے پر پرکھا جاتا ہے؟؟؟
اپ کو اگر کسی بات سے اختلاف ہو تو آپ اسے جھوٹ قرار دیتی ہیں؟

یقیناََ رہا ہو گا کس شاعر کے قول و فعل میں تضاد نہیں ہوتا ؟
قران بھی کہتا ہے کہ شاعر وہی کہتے ہیں جو یہ کرتے نہیں لیکن شاعر کا کہا ہوا سند ہے اس کا کیا ہوا نہیں!

یہ آپ کا فرمایا ہوا ہے میں اتفاق نہیں رکھتا ۔
"ان کی فکر خودی کے فلسفے سے مستحکم ہوئی"
اس کا مآخذ؟؟؟
مجھے تو ان کی فکر اس وقت بھی مستحکم لگی جب انہوں نے فرمایا
آ اک نیا شوالہ اس دیس میں بسائیں۔


اس فلسفے کا انطباق معاشرے پر کیونکر ممکن ہے۔معاشرہ کبھی آئیڈیل نہیں ہوتا !
یہ فلسفہ کس قسم کی ترقی کے لئے پیش کیا گیا تھا؟؟؟

ہمارے لیے سب سے بڑی مشکل بات کسی نئی بات پر تحقیق کرنا ہوتا ۔ اگرچہ بات نئی نہیں ہوتی مگر ہمارے لیے نئی ہوتی ہے ۔ انسان جو کچھ کہتا ہے ظاہر اس نے کہیں نہ کہیں سے مطالعہ کیا ہوتا ہے اور سب سے بڑا مطالعہ انسانی کی نگران سوچ کرواتی ہے ۔
  • اقبال ہماری رہنما رہیں ہیں اس لیے ان کو شاعر کے طور پر انفرادی حیثیت سے ماننا ممکن نہیں ہے ۔ مسلم لیگ کی صدارت ایک سیاسی رہنما کر سکتا ہے افسوس ہمارے رہنما کے ارادے متزلزل تھے جس نے ہماری قوم کو متحد کرنے کے بجائے انتشار کو ہوا دی ہے ۔اقبال کی وطن واپسی پر ان کی فکر قومیت جس کی بنیاد جغرافیے پر ہے اس کی حامی تھی ۔ اس لیے ہندوؤں کے ساتھ رہنا اور انگریزوں کو باہر نکالنا ان کا مقصد تھا ۔

  • آلہٰ باد کے موقع پر خود مختار ریاست کا مطالبہ اور اس کے بعد ان کا لکھا خط ------اقبال کا خطبہ اہمیت کا حامل اس لیے بھی ہے کہ مسلم لیگ دو حصوں میں بٹ گئی تھی جس میں سے شفیع لیگ انگریزوں کی حامی تھے ۔۔۔ علامہ اقبال اس شفیع لیگ کے رہنما تھے
Dr. Sir Mohd. Iqbal Kt. M. A., Ph.D. Barrister-at-Law, Lahore
4th March 1934 My dear Mr. Thompson
I have just received your review of my book. It is excellent and I am grateful to you for the very kind things you have said of me. But youhave made one mistake which I hasten to point out as I consider itrather serious. You call me [a] protagonist of the scheme called‘ Pakistan’. Now Pakistan is not my scheme. The one that I suggestedin my address is the creation of a Muslims Province–i.e. a province having an overwhelming population of Muslims–in theNorth west of India. This province will be, according to my scheme,a part of the proposed Indian Federation.
Pakistan scheme proposes a separate federation of Muslim Provinces directly related to England as a separate dominion. This scheme originated inCambridge. The authors of this scheme believe that we Muslim Round Tablers have sacrificed the Muslim nation on the altar of Hindu orso called Indian Nationalism
Yours sincerely,
Mohammad Iqbal

  • اقبال کی فکر کا دوسرا دور جس میں انہوں نے لکھا
چین و عرب ہمارا ہے ، ہندوستان ہمارا
مسلم ہیں ہم ، سارا جہاں ہمارا ہے
توحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارے
آسان نہیں مٹانا نام و نشان ہمارا
دنیا کے بت کدوں میں وہ پہلا گھر خدا کا
ہم پاسباں ہیں اس کے ، وہ پاسبان ہمارا
باطل سے دبنے والے اے آسمان نہیں ہم
سو بار کرچکا ہے تو امتحان ہمارا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  • ------ان کا خودی کا تصور
خودی کو کر بلند اتنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خودی کے ذریعے مسلمان کو خود کو سنوارنے کا پیغام

poemallamaiqbal_thumb.gif


  • اقبال کی علیحدہ قومیت کا تصور
اس سطح پر وہ مسلمان قوم کو بیدار ہونے کا کہتے ہیں جس میں اسلامک پان ازم کو رد کرتے دو قومی نظریے کی تائید کردی

” I have myself been of he view hat religious differences should disappear from this country, and even now act on the principle, in my private life. But now I think that the preservation of their national identities is desirable for both the Hindus and the Muslims. The vision of a common nationhood for India is a beautiful idea, and has a poetic appeal, but looking to the present conditions and the unconscious trends of the two communities, appears incapable of fulfillment”.


  • 1941 میں وہ دو قومی نظریے کے شدید حامی تھے

Cant you see that a Muslim, when he was converted more than a thousand years ago, bulk of them, then according to your hindureligion and philosophy, he becomes an outcast and he becomes aMalecha (an untouchable) and the Hindus ceased to have anythingto do with him socially , religiously , culturaly or in any otherway? He, therefore belongs to a different order not merely religiousbut social and he has lived in that distinctly separate andantagonostic social order, religiously, socially and culturally…can you posibally compare this with that nonsensical talk thatmere change of faith is no ground for a demand for Pakistan? Cantyou see the fundamantle difference ? “ 2 march 1941. Pres. address toPunjab Muslim Students Fed.


  • کیبنیٹ مشن پلان کے جو 1946 میں پیش کیا گیا اس کے رد ہوجانے سے پہلے کوئی بھی مسلمان پاکستان کے بن جانے پر یقین نہیں کرتا تھا ۔ اس ایک سال یعنی 1946 سے 1947 تک ایسا کیا وقوع پذیر ہوا جس نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردیا ۔۔۔ کہا جاتا نہرو کی بیوی کے لارڈ مانٹ بیٹن سے ربط تھے اور ان روابط کو ایک ''کارڈ '' کے طور پر استعمال کیا گیا ۔۔۔۔ اسی طرح مولانا آزاد کلام اور گاندھی جی کی پان اسٹ فلاسفی کو پرے پھینک دیا گیا ۔۔۔ہماری طرف سے یہ کام اقبال اور قائد اعظم نے کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اقبال کے متواتر سیاسی بیان بدلنے کی وجہ ۔۔۔۔ شاعری میں کہیں نہیں ہے ۔۔ان کے سیاسی بیانات کو شاعری سے مکس کرنا سراسر زیادتی ہے جبکہ وہ بطور ایک رہنما دو قومی نظریے کی تردید تائید اور تردید کرتے نظر آتے ہیں ۔ ایسے سیاسی لیڈر پر کس قدر بھروسیہ کیا جاسکتا ہے ؟
  • حوالہ جات
REFERENCES
ALI, CHOUDHARY RAHMAT, 1933, “Now or Never: Are we to Live or Perish for Ever?”, Cambridge.
ALI, CHOUDHARY RAHMAT, 1947, “Pakistan: Fatherland of the Pak Nation”, Pakistan National Movement, Cambridge
AHMAD, KHAN A., 1942, “The Founder of Pakistan: From Trial to Triumph”, London. (The “Founder” referred to is Rahmat Ali.) AHMAD, S. HASAN, 1979, “Iqbal: His Political Ideas at the
Crossroads: A Commentary on Unpublished Letters to Professor Thompson”, Aligarh.
AZIZ, K.K., 1987, “A History of the Idea of Pakistan”, Vol.1, p.184-327, Vanguard, Lahore.
IQBAL, M., 1930, “Presidential Address”, _in_ RAIS AHMAD JAFRI (NADVI), (ed.), “Rare Documents”.
IQBAL, M., 1934, “Letter to E. Thompson dated March 4, 1934″ _in_Ahmad 1979, see above.
WASTI, S.M., 1982, “My Reminiscences of Choudhary Rahmat Ali”, Royal Book Co., Karachi, 175pp.

  • اقبال کے اشعار اور ان کے افکار آج کے دور میں ''زید حامد '' نے تازہ کردیے ۔۔ وہ مومن کی مثال حضرت علی رض یا خالد بن ولید سے دیتے ہیں ۔ اور مسلمانوں کو قتال کی مثالیں دیتے ہیں ۔ میں نے ان کا ایک شعر ایسا نہیں پایا جہاں انہوں نے شہادت کا معانی قتال کے علاوہ لیا ہو
  • اقبال اپنی شاعری میں عربوں کے تلوار کے کارنامے یار کرتے ہیں اور ہمیں بتاتے ہیں کہ اس وقت کے مسلمانوں کے لیے شام اور دمشق کی زمینیں انتظار کر رہی تھیں --------- اقبال بذات خود عرب نہیں مگر وہ اپنی '' طارق کی دعا '' میں لکھتے ہیں

خیابان میں ہے منتظر لالہ کب سے
قبا چاہیے اس کو خون عرب سے

  • خطاب با جوانان اسلام میں کہتے ہیں
تم ایک ایسی قوم ہو جس نے Darius کا تختہ گرا دیا تھا ۔ ان عربوں کی کہانی کیا بتاؤں جو پوری دنیا پر قابض ہوگئے ۔

  • پھر ایک جگہ اپنے برہمن ہونے کا اعتراف کرتے ہیں کہ وہ برہمن گھر کے چراغ ہیں یا سومنات کے مندر کی پیداوار ہیں یا وہ مکمل ایک ہندو تھے جس نے اسلام قبول کیا۔ ایک ایسا بندہ جس نے ہندو افکار بچپن سے سیکھے ، عربی تمثیل سے زیادہ ہندی استعارے ان کی اپنی زبان و خیال بنتے جیسا کہ بابا بلھے شاہ ، امیر خسرو، وارث شاہ ، سچل سرمست اور بہت سے دوسرے ہندی شاعروں نے کیا ۔ انہوں نے کہیں بھی عربی حوالے نہیں دیے اور ان سب کا پیغام انسانیت تھا جبکہ اقبال کا سارا پیغام ایرانی اور عربی معاشرے سے مستعار ہے ۔ اسی نظم میں وہ فرماتے ہیں کہ اگر یہودی فلسطین پر قابض ہوسکتے ہیں تو مسلمان اسپین پر کیوں نہیں ؟ ایک غلط اقدام کو مدد کے لیے کیا خوب دلیل ڈھونڈی ہے
  • خوشحال حال خان خٹک کی طرز پر ایسی ساری باتیں اپنی شاعری '' ایک عقل مند بلوچ کی نصیحت '' میں کی ہیں ۔ اقبال نے اسی طرح کی بیس نظمیں جن کا نام ''مہراب گل خان کے افکار '' میں باتیں کیں ۔ مہراب گل خان کون تھا ؟ اقبال نے پشتون اقدار کو اس طرز سے کیوں اپنایا ؟ ان کے افکار مستعار لیے ہوئے ہیں ۔ ایک بلوچ کی نصیحت تو بلوچ کے لیے ہی ہوگی ۔۔اس کا سارے ہندوستانی مسلمانوں پر کیا اثر ہوگا ؟
  • اس بات میں بھی کوئی شک نہیں اقبال نطشے سے بہت متاثر تھے ۔ انہوں خودی اور مردء مومن کا تصور نطشے کی Thus Spake Zaratustra (1883-85 کے ناول سے لیا جس میں اس نے ''سپر ہیومین اور فری ول '' کے تصور کو اجاگر کیا ہے ۔ اقبال نے جرمن فلاسفرز کو نقل کیا ہے ، قرانی افکار کو بھی نقل کیا ہے اور پشتونی افکار کو بھی ۔۔۔ایسے بندے کی کیا پہچان ہو جس کی شاعری مستعار لی ہوئی ہو مگر ان کو مشرقی شاعر کا درجہ دے دیا گیا اور سوال یہ ہے کہ ان کی منقولات کی بنا پر وہ پاکستان کے قومی شاعر بن گئے ۔
  • زید حامد کے نظریات میں اقبال نظر آتا ہے
Inspite of Allama Iqbal being the most influential Muslim scholar of the 20th century throughout the Muslim World, his true message and ideas have never before been brought out as strongly and clearly as Zaid Hamid has.
BT-72 Iqbal The Mysterious 1: Google
BT-74 Iqbal the Mysterious 2: YouTube-1
BT-75 Iqbal The Mysterious 3: YouTube-1
BT-76 Iqbal The Mysterious 4: YouTube-1
BT-77 Iqbal The Mysterious 5: BlipTV-2
BT-91 Iqbal The Mysterious 5: BlipTV-2
BT-93 Iqbal The Mysterious 6: BlipTV-2
BT-94 Iqbal The Mysterious 7: BlipTV-2
BT-106 Iqbal The Mysterious 8: BlipTV-2
BT-107 Iqbal The Mysterious 9: BlipTV-2
BT-109 Iqbal The Mysterious 10: BlipTV-2
BT-112 Iqbal The Mysterious 11:
BT-113 Iqbal The Mysterious 12: YouTube-1 YouTube-2

BT-114 Iqbal The Mysterious 13: YouTube-1
BT-115 Iqbal The Mysterious 14: YouTube-1
BT-117 Iqbal The Mysterious (Future) 15: YouTube-1
BT-119 Iqbal The Mysterious (Last) 16: YouTube-1


مزید حوالہ
 
Top