انٹر نیٹ سے چنیدہ

سیما علی

لائبریرین
ایک سچی کہانی

کہتے ہیں سنہ 2007م کی بات ہے لندن کے ایک عربی ریسٹورینٹ میں ہم لوگ مغرب کی نماز سے تھوڑی دیر پہلے ڈنر کےلئے داخل ہوئے

ہم لوگ ہوٹل میں بیٹھے اور ویٹر آڈر لینے کے لئے آگیا میں نے مہمانوں سے چند منٹ کے لئے اجازت طلب کی اور پھر واپس آگیا اتنے میں مہمانوں میں سے ایک شخص نے سوال کیا ڈاکٹر صاحب آپ کہاں گئے تھے آپ نے تو بڑی تاخیر کردی کہاں تھے ؟

میں نے کہا: میں معذرت خواہ ہوں در اصل میں نماز پڑھ رہا تھا

اس نے مسکراتے ہوئے کہا آپ اب تک نماز پڑھتے ہیں؟ میرے بھائی آپ تو قدامت پسند ہیں

میں نے بھی مسکراتے ہوئےپوچھا قدامت پسند ؟وہ کیوں ؟کیا اللہ تعالی صرف عربی ممالک میں ہے لندن میں نہیں ہے؟

اس نے کہا:ڈاکٹرصاحب میں آپ سے کچھ سوالات کرنا چاہتا ہوں اور آپ سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ آپ اپنی جس کشادہ ظرفی کیلئے معروف ہیں اسی کشادہ قلبی سے مجھے تھوڑا سا برداشت کریں گے

میں نے کہا: جی مجھے تو بڑی خوشی ہوگی لیکن میری ایک شرط ہے

اس نے کہا :جی فرمائیں

میں نے کہا : اپنے سوالات مکمل کرلینے کے بعد تمہیں ہار یا جیت کا اعتراف کرنا پڑے گا ٹھیک ہے ؟

اس نے کہا ٹھیک ہے مجھے منظور ہے اور یہ رہا میرا وعدہ

میں نے کہا :چلو بحث شروع کرتے ہیں ...فرمائیں

اس نے کہا :آپ کب سے نماز پڑھ رہے ہیں؟

میں نے کہا سات سال کی عمر سے میں نے اس کو سیکھنا شروع کیا اور نو سال کی عمر میں پختہ کرلیا تب سے اب تک کبھی نماز نہیں چھوڑا اور آئندہ بھی ان شاء اللہ نہیں چھوڑوں گا .

اس نے کہا ٹھیک ہے .. مرنے کے بعد اگر آپ کو یہ معلوم ہو کہ نہ جنت و جہنم کا وجود ہے نہ ہی کو ئی جزا وسزا ہے پھر آپ کیا کروگے ؟

میں نے کہا :تم سے کئے گئے عہد کے مطابق پوری کشادہ قلبی سے تمہارے سوالات کا آخر تک جواب دوں گا

فرض کریں نہ ہی جنت وجہنم کا وجود ہوگا نہ ہی کوئی جزا وسزا ہوگی تو میں ہرگز ہی کچھ نہ کروں گا اس لئے کہ در اصل میرا معاملہ ایساہی ہے جیسا کہ علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نے کہا تھا :"الہی میں نے تیرے عذاب کے خوف اور جنت کی آرزو میں تیری عبادت نہیں کی ہے بلکہ میں نے اس لئے تیری عبادت کی ہے کیونکہ تو عبادت کے لائق ہے

اس نے کہا : اور آپ کی وہ نمازیں جس کو دسیوں سال سے آپ پابندی کے ساتھ پڑھتے آرہے ہیں پھر آپکو معلوم ہو کہ نمازی اور بے نماز دونوں برابر ہیں جہنم نام کی کوئی چیز نہیں ہے پھر کیا کریں گے

میں نے کہا:مجھے اس پر بھی کچھ پچھتاوا نہیں ہوگا کیونکہ کہ ان نمازوں کو ادا کرنے میں مجھے صرف چند منٹ ہی لگتے ہیں چنانچہ میں انھیں جسمانی ورزش سمجھوں گا

اس نے کہا:اور روزہ خصوصاً لندن میں کیونکہ یہاں روزے کا وقفہ ایک دن میں 18گھنٹے سے بھی تجاوز کرجاتا ہے ؟

میں نے کہا :میں اسے روحانی ورزش سمجھو ں گا چنانچہ وہ میری روح اور نفس کے لئے اعلی طرز کی ورزش ہے اسی طرح اس کے اندر صحت سے جڑے بہت سارے فوائد بھی ہیں جس کا فائدہ میری زندگی ہی میں مجھے مل چکا ہے اور کئی بین الاقوامی غیر اسلامی اداروں کابھی یہ ماننا ہے کہ کچھ وقفے تک کھاناپینا بند کرنا جسم کیلئے بہت مفید اور نفع بخش ہے

اس نے کہا:آپ نے کبھی شراب پی ہے ؟

میں نے کہا :میں نے اس کو کبھی ہاتھ تک نہیں لگایا

اس نے تعجب سے کہا: کبھی نہیں

میں نے کہا کبھی نہیں

اس نے کہا: اس زندگی میں اپنے آپ کو شراب نوشی کی لذت اور اس کے خمار کے سرور سے محرومی کے بارے میں کیا کہیں گے اگر آپ لئے وہی ظاہر ہوا جو میں نے فرض کیا ہے؟

میں نے کہا: شراب کے اندر نفع سے زیادہ نقصان ہے اور میں سمجھوں گا کہ میں نے اپنے آپ کو اس نقصان دہ چیز سے بچالیا ہے اور اپنے نفس کو اس سے دور رکھا ہے چنانچہ کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو شراب کی وجہ سے بیمار ہوگئے اور کتنے ہی ایسے ہیں جنھوں نے شراب کی وجہ سے اپنا گھربار مال واسباب سب تباہ وبرباد کرلیا ہے

اسی طرح غیر اسلامی اداروں کےعالمی رپوٹ کو دیکھنے سے بھی یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ بھی شراب کے اثرات اور اس کو لگاتار پینے کے انجام سے متنبہ کرتی ہے

اس نے کہا :حج وعمرہ کا سفر .جب موت کے بعد آپ کو معلوم ہوگا کہ اس طرح کی کوئی چیز نہیں ہے اور اللہ تعالی ہی موجود نہیں ہے؟

میں نے کہا: میں عہد کے مطابق چلوں گا اور پوری کشادہ ظرفی سے تمہارے سوالات کا جواب دوں گا

میں حج وعمرہ کے سفر کو ایک خوبصورت تفریحی سفرسے تعبیر کرونگا جس کے اندر میں نے حد درجے کی فرحت وشادمانی محسوس کی اور اپنی روح کوآلائشوں سے پاک و صاف کیا جس طرح تم نے اپنے اس سفر کے لئے کیا ہے تاکہ تم ایک اچھا وقت گزار سکو اور اپنے عمل کے بوجھ اور معمولات زندگی کی تھکان کو دور کرکے اپنی روح کو تازگی فراہم کرسکو

وہ میرےچہرے کو کچھ دیر تک خاموشی سے دیکھتا رہا پھر گویا ہوا :آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے میرے سوالات کو بڑی کشادہ قلبی کے ساتھ برداشت کیا

میرے سوالات ختم ہوئے اور میں آپ کے سامنے اپنی ہار تسلیم کرتا ہوں

میں نے کہا :تمہارا کیا خیال ہے تمہارے ہار تسلیم کرنے کے بعد میرے دل کی کیا کیفیت ہوگی ؟

اس نے کہا :یقیناً آپ بہت خوش ہوں گے

میں نے کہا: ہرگز نہیں بلکہ اس کے بلکل الٹا... میں بہت دکھی ہوں

اس نے تعجب سے کہا: دکھی ؟کیو؟

میں نے کہا :اب تم سے سوال کرنے کی میری باری ہے

اس نے کہا :فرمائیں

میں نےکہا: تمہاری طرح میرے پاس ڈھیر سارے سوالات نہیں ہیں صرف ایک ہی سوال ہے وہ بھی بہت سادہ اور آسان

اس نےکہا :وہ کیا ؟

میں نے کہا :میں نے تمہارے سامنےواضح کردیا ہے کہ تمہارے مفروضہ کے واقع ہونے کے بعد بھی میں کسی طرح کے گھاٹے میں نہیں ہوں اور نہ ہی اس میں میرا کسی قسم کا نقصان ہے ... لیکن میرا وہ ایک آسان سوال یہ ہے کہ تمہارا اس وقت کیا ہوگا اگر حالات تمہارے مفروضہ کےبرعکس ظاہر ہوئے یعنی موت کے بعد تمہیں معلوم ہو کہ اللہ تعالی بھی موجود ہے جنت و جہنم بھی ہے سزا وجزا بھی ہے اور قرآن کے اندر بیان کئے گئے سارے مشاہد و مناظر بھی ہیں پھر تم اسوقت کیا کروگے ؟

وہ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر خاموشی کے ساتھ دیر تک دیکھتا رہا... اور پھر ویٹر نے ہماری میز پر کھانا رکھتے ہوئے ہماری خاموشی کو توڑا

میں نے اس سے کہا:مجھے ابھی جواب نہیں چاہئے کھانا حاضر ہے ہم کھانا کھائیں اور جب تمہارا جواب تیار ہوجائیگا توبراہ مہربانی مجھے خبر کردینا ہم کھانے سے فارغ ہوئے اور مجھے اس نے کوئی جواب نہیں دیا اور میں نے بھی اس وقت اس کو جواب کے لئے کوئی تکلیف نہیں دی... ہم بہت ہی سادگی کے ساتھ جدا ہوگئے

ایک مہینہ گزرنے کے بعد اس نے مجھ سے رابطہ کیا اور اسی ریسٹورینٹ میں ملاقات کا مطالبہ کیا

ریسٹورینٹ میں ہماری ملاقات ہوئی ہم نے ایک دوسرے سے ہاتھ ملایا *کہ اچانک اس نےمیرے کندھے پر اپنا سر رکھ کر مجھے اپنی باہوں میں پکڑ کر رونے لگا* میں نے اپنا ہاتھ اس کی پیٹھ پر رکھا اور پوچھا کیا بات ہے تم کیوں رو رہے ہو

اس نے کہا: میں یہاں آپ کا شکریہ ادا کرنے اور اپنے جواب سے آپ کو باخبر کرنے لئے آیا ہوں

بیس سال سے بھی زیادہ عرصہ تک نماز سے دور رہنے کے بعد اب میں نماز پڑھنے لگا ہوں آپ کے جملوں کی صدائے بازگشت میرے ذہن ودماغ میں بلا توقف گونجتی ہی رہی اور میں نیند کی لذت سے محروم ہوتا رہا

آپ نے میرے دل ودماغ اور جسم میں آتش فشاں چھوڑ دیا تھا اور وہ میرے اندر اثر کر گیا

مجھے احساس ہونے لگا کہ جیسے میں کوئی اور انسان ہوں اور ایک نئی روح میرے جسم کے اندر حرکت کر رہی ہے ایک بے مثال قلبی سکون بھی محسوس کر رہا ہوں

میں نے کہا :ہوسکتا ہے جب تمہاری بصارت نے تمہاراساتھ چھوڑ دیا ہو تب ان جملوں نے تمہاری بصیرت کو بیدار کردیا ہو

اس نے کہا: بالکل ایسا ہی ہے... یقینا جب میری بصارت نے میرا ساتھ چھوڑ دیا توان جملوں نے میری بصیرت کو بیدار کر دیا

میرے پیارے بھائی تہہ دل سے آپ کا شکریہ

عربی سے ترجمہ
بہت بہترین ۔۔۔۔۔
 

سید عمران

محفلین
*ایک استانی نے اپنی کلاس کے بچوں کو ایک نامکمل فقرہ دےکر اسے مکمل کرنے کو کہا ۔
طالب علم نے اس فقرے کو اپنی اپنی سوچ کے مطابق مکمل کرنا ہے۔
نامکمل فقرہ یہ تھا۔۔
ہر بڑے آدمی کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے ۔۔

بچوں کے جواب :-
ہر بڑے آدمی کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے پھر بھی وہ بڑا آدمی بن جاتا ہے.
* ہر بڑے آدمی کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے، جس سے ہوشیار رہنا بہت ضروری ہے.*
ہر بڑے آدمی کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے،جو اسے یاد دلاتی رہتی ہے کہ تم میرے باپ کی وجہ سے بڑے آدمی بنے ہو.
* ہر بڑے آدمی کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے جو اسے بار بار بتاتی رہتی ہے کہ قسمت کا پھیر ہے ورنہ اس کیلئے اچھے رشتے تو اور بہت تھے -*
* ہر بڑے آدمی کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے جسے یہ علم نہیں ہوتا کہ اس کے آگے کھڑا آدمی واقعی ایک بڑا آدمی ہے.
*ہر بڑے آدمی کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے جو اس پر ہمیشہ شک کرتی رہتی ہے - *
*ہر بڑے آدمی کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے جو یہ سوچ کر حیران ہوتی رہتی ہے کہ دنیا اس بیوقوف آدمی کو بڑا آدمی کیوں کہتی ہے - *
*ہر بڑے آدمی کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے جو اس کے کان میں کہتی رہتی ہے کہ میرے بغیر تم کچھ بھی نہیں۔ *

سب سے کلاسیکل جملہ یہ تھا:
ہر بڑے آدمی کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے، جو دوسری عورتوں کو اس کے قریب پھٹکنے نہیں دیتی.
 

سید عمران

محفلین
شاگردوں نے استاد سے پوچها :
مغالطہ( Paradox ) سے کیا مراد هے؟
استاد نے کہا:
اس کے لیے ایک مثال پیش کرتا ہوں.
دو مرد میرے پاس آتے ہیں. ایک صاف ستهرا اور دوسرا گندا.
میں ان دونوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ غسل کرکے پاک و صاف ہو جائیں.
اب آپ بتائیں کہ ان میں سے کون غسل کرے گا؟
شاگردوں نے کہا: گندا مرد.
استاد نے کہا:
نہیں بلکہ صاف آدمی ایسا کرے گا کیونکہ اسے نہانے کی عادت ہے جبکہ گندے کو صفائی کی قدر و قیمت معلوم ہی نہیں.
اب بتائیں کہ کون نہائے گا؟
بچوں نے کہا: صاف آدمی.
استاد نے کہا:
نہیں بلکہ گندا نہائے گا کیونکہ اسے صفائی کی ضرورت ہے.
پس اب بتائیں کہ کون نہائے گا؟
سب نے کہا: گندا.
استاد نے کہا :
نہیں بلکہ دونوں نہائیں گے کیونکہ صاف آدمی کو نہانے کی عادت ہے جبکہ گندے کو نہانے کی ضرورت ہے.
اب بتائیں کہ کون نہائے گا؟
سب نے کہا :دونوں.
استاد نے کہا:
نہیں کوئی نہیں. کیونکہ گندے کو نہانے کی عادت نہیں جبکہ صاف کو نہانے کی حاجت نہیں.
اب بتائیں کون نہائے گا؟
بولے :کوئی نہیں.
پهر بولے:
استاد آپ ہر بار الگ جواب دیتے ہیں اور ہر جواب درست معلوم ہوتا ہے. ہمیں درست بات کیسے معلوم ہو؟
استاد نے کہا (Paradox) مغالطہ یہی تو ہے.
بچو!
آج کل اہم یہ نہیں ہے کہ حقیقت کیا ہے؟
اہم یہ ہے کہ میڈیا کس چیز کو ثابت کرنا چاہتا ہے.!
امید ہے میڈیا کے چکروں کی سمجھ آ گئی ہو گی۔
اگر آپ کو سمجھ آ گئی ہے تو دوسروں کو بھی سمجھا دیں۔
 

سید عمران

محفلین
استاد نے اسٹوڈنٹ سے پوچھا کہ ناکام عشق اور مکمل عشق میں کیا فرق ہوتا ہے؟

اسٹوڈنٹ نے جواب دیا؛

سر ناکام عشق بہترین شاعری کرتا ہے، غزلیں اور گیت گاتا ہے، پہاڑوں میں گھومتا ہے۔ عمدہ تحاریر لکھتا ہے۔ دل میں اتر جانے والی موسیقی ترتیب دیتا ہے۔ ہمیشہ امر ہوجانے والی مصوری کرتا ہے۔

جبکہ مکمّل عشق سبزی لاتا ہے، آفس سے واپس آتے ہوئے آلو، گوشت، انڈے وغیرہ لاتا ہے۔ بازار میں لان کی سیل کے دوران بچوں کو سنبھالتا ہے۔ پیمپر خرید کر لاتا ہے۔ تیز بارش میں گھر سے نہاری لینے کے لیے نکلتا ہے۔ سسرال میں نظریں جھکا کر بیٹھتا ہے۔ ماں بہنوں سے زن مریدی کے طعنے سنتا۔ اور پھر گھر آ کر یہ بھی سنتا ہے کہ آپ کتنے بدل گئے ہیں۔ شادی سے پہلے کتنے اچھے تھے۔

آپ پوسٹ پڑھیں میں ذرا بازار سے سبزی لیکر آتا ہوں ۔
 

سیما علی

لائبریرین
جبکہ مکمّل عشق سبزی لاتا ہے، آفس سے واپس آتے ہوئے آلو، گوشت، انڈے وغیرہ لاتا ہے۔ بازار میں لان کی سیل کے دوران بچوں کو سنبھالتا ہے۔ پیمپر خرید کر لاتا ہے۔ تیز بارش میں گھر سے نہاری لینے کے لیے نکلتا ہے۔ سسرال میں نظریں جھکا کر بیٹھتا ہے۔ ماں بہنوں سے زن مریدی کے طعنے سنتا۔ اور پھر گھر آ کر یہ بھی سنتا ہے کہ آپ کتنے بدل گئے ہیں۔ شادی سے پہلے کتنے اچھے تھے۔

آپ پوسٹ پڑھیں میں ذرا بازار سے سبزی لیکر آتا ہوں ۔
جناب سبزی بالکل پھینکنے والی آئی ہے ۔ ایک دن ہم آفس سے برنس روڈ چلے گئیے پہلی مرتبہ پتہ چلا کہ سبزی والے بھی کسی کی سنتے ہیں کراچی میں ۔ ایک بچہ کوئی دس بارہ سال کا زور سبزی کا تھیلہ پھینکتے ہوئے کہہ رہا تھا امی کہہ رہیں تھیں منہ پر مار کے آئیو جو تم نے ابا جی کو سبزی دی تھی ۔جواب بہت کلا سیکل تھا جو سبزی والے نے کہا اوہو منے میں بھول گیا وہ تو اباجی کے دوسرے گھر کی سبزی وہ پرواہ نہیں کرتیں ۔۔۔:):p:):p:)
 
*استاد : اگر تمہارے پاس 86،400 روپے ہوں اور کوئی ڈاکو ان میں سے 10 روپےچھین کر بھاگ جائے تو تم کیا کرو گے ؟*
کیا تم اُس کے پیچھے بھاگ کر اپنی لوٹی ہوئی 10 روپےکی رقم واپس حاصل کرنے کی کوشش کرو گے ؟؟ یا پھر اپنے باقی کے بچے ہوئے 86،390 روپےکو حفاظت سے لیکر اپنے راستے پر چلتے رہو گے؟
طلبا نے کہا : ہم 10 روپے کی حقیر رقم کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے باقی کے پیسوں کو حفاظت سے لیکر اپنے راستے پر چلتے رہیں گے۔
استاد نے کہا : تمھارا بیان اور مشاہدہ درست نہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ زیادہ تر لوگ اُن 10 روپے کو واپس لینے کے چکر میں ڈاکو کا پیچھا کرتے ہیں اور نتیجے کے طور پر اپنے باقی کے بچے ہوئے 86،390 روپے سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
طلباء نے حیرت سے استاد کو دیکھتے ہوئے کہا: سر، یہ ناممکن ہے، ایسا کون کرتا ہے ؟
استاد نے کہا : یہ 86،400 اصل میں ہمارے ایک دن کے سیکنڈز ہیں۔
کسی 10 سیکنڈز کی بات کو لیکر، یا کسی 10 سیکنڈز کی ناراضگی اور غصے کو بنیاد بنا کر ہم باقی کا سارا دن سوچنے، جلنے اور کُڑھنے میں گزار کر اپنا باقی کا سارا دن برباد کرتے ہیں۔
یہ والے 10 سیکنڈز ہمارے باقی بچے ہوئے 86،390 سیکنڈز کو بھی کھا کر برباد کر دیتے ہیں۔
*باتوں کو نظرانداز کرنا سیکھیئے۔
ایسا نہ ہو کہ آپ کا کوئی وقتی اشتعال، ناراضگی آپ سے آپ کے سارے دن کی طاقت چھین کر لے جائے*۔
*معاف کریں, بھول جائیں اور آگے بڑھیں....
 

سیما علی

لائبریرین
Thought Provoking
_*تم شیخ صاحب کے گھر گئی تھیں؟*_
قادری صاحب چہرے پہ بے تحاشہ برہمی و غصے کے تاثرات لئے ہوئے گھر میں داخل ہوئے
چیخ کے بیگم کو آواز دی،
بیگم بیچاری گھبرا کے آئی،
خیر تو ہے؟
کیا ہوگیا؟
تم شیخ صاحب کے گھر گئی تھیں؟
قادری صاحب نے اپنے دیرینہ، جگری اور گہرے دوست کے نام کا حوالہ دیکر پوچھا،
“اور تم نے ان سے کہا کہ وہ مجھ سے کہیں کہ میں تمہیں شاپنگ کے لئے پیسے دوں؟
ہاں گئی تھی، اور کہا بھی تھا
بیگم نے اقرار کیاکیا؟
قادری صاحب تقریباً دھاڑتے ہوئے بولے، شاید انکو بیگم سے انکار کی توقع تھی،
کیا میں گھر میں نہیں تھا؟
کام سے میری واپسی نہیں ہونی تھی؟
مر گیا تھا؟
مجھ سے ڈائریکٹ کیوں نہیں مانگے پیسے؟
شیخ سے کیوں مانگے؟
اللہ نہ کرے! مانگے تو آپ ہی سے ہیں،
بس شیخ صاحب آپ کے اتنے قریبی دوست ہیں تو ان سے جا کر بول دیا کہ آپ سے کہیں کہ آپ مجھے پیسے دے دیں
بیگم نے معصومیت سے کہا۔
قادری صاحب کا غصہ سوا نیزے پہ پہنچ گیا
دماغ درست ہے تمہارا؟
گھر میں موجود اپنے شوہر کو چھوڑ کر تم گھر سے نکلیں، دوسرے علاقے میں موجود میرے دوست کے پاس جا کر کہہ رہی ہو کہ وہ مجھے بولے،
وہ کیوں بولے مجھ سے؟
تم نے کیوں نہیں کہامجھ سے؟
ارے وہ آپ کے اتنے قریبی دوست ہیں، انکی بات کی اہمیت بھی زیادہ ہوگی آپ کی نظر میں”
بیگم نے قادری صاحب کے غصے کو گویا ہوا میں اُڑا کر بدستور نرم اور معصوم لہجے میں کہا
قادری صاحب نے خود کو اپنے بال نوچنے سے بڑی مشکل سے روکا اور پھنکارتے ہوئے بولے،
دوست کی بات کی اہمیت، اسکی اپنی باتوں کے لئے ہے،
اسکا یہ مطلب نہیں ہے کہ میری بیوی، میرے بچے، میرے والدین یا بہنیں اپنی ضرورت کے لئے مجھ سے کہنے کے بجائے جا جا کے میرے دوست کو بولیں گی تب میں سنوں گا ورنہ نہیں،
ارے جو میرے اپنے ہیں وہ اپنی ضرورت مجھ سے نہیں بولیں گے تو کس سے بولیں گے؟
دوست جتنا بھی قریبی ہو، کیا میں نے کہا تم لوگوں سے کے اپنی ضرورت میرے دوست سے بولو؟
کیا میرے دوست نے کہا تم سے کہ میرے پاس آؤ اور اپنی ضرورتیں اور مسائل اسے بتاؤ؟
کیا آج تک میں نے تم لوگوں کی ضرورت پوری کرنے میں کوئی کوتاہی کی جو تم دوست کے پاس چلی گئیں؟
بولو جواب دو؟
ذلیل کروا دیا تم نے آج مجھے میرے دوست کے سامنے،
کیا سوچتا ہوگا وہ میرے بارے میں
قادری صاحب بولتے بولتے رونے والے ہو گئے
بیگم نے اس بار بڑی سنجیدگی سے کہا،
معافی چاہتی ہوں
ایک چھوٹے سے خاندان کا سربراہ ہو کے آپ کا غصہ سوا نیزے پہ پہنچا ہؤا ہے کہ آپ کے خاندان کے ایک فرد یعنی میں نے کسی غیر سے نہیں بلکہ آپ کے ہی ایک دوست سے سفارش کیوں کروائی
جبکہ آپ کا روز کا معمول ہے کہ خالقِ کائنات کی مخلوق ہوتے ہوئے آپ کبھی دامادِ رسولﷺ سے مشکل کشائی کروانا چاہتے ہیں،
کبھی بابا فرید کے در پہ کاروبار کی ترقی کروانا چاہتے ہیں،
کبھی سہون کا رخ کرتے ہیں تو کبھی شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کو پکارتے ہیں،
منع کیا جائے تو جواب ملتا ہے،
مانگ تو ہم اللہ ہی سے رہے ہیں،
مگر اس کے سچے دوستوں کے وسیلے سے
کیوں؟
دوستوں سے کیوں؟
آپ ہی کے بقول،
کیا اللہ میاں نعوذ باللہ چھٹی پہ گئے ہوئے ہیں؟
مسجد یا گھر میں پانچ وقت کی اذان میں ہمارا رب ہمیں *فلاح یعنی کامیابی* کی طرف بلا رہا ہے
آپ جاتے کیوں نہیں
اور جاتے ہیں تو کیا نماز میں اسے اپنی ضرورت نہیں بتا سکتے؟
اور جب اللہ کواپنی حاجت بتا دی تو کیا ضرورت رہ جاتی ہے کہ بزرگوں کے در کے چکر لگائے جائیں؟
کیا ان بزرگ ہستیوں نے کہا کہ اللہ نے ہمیں تمہاری مشکلات دور کرنے کا حق *عطا* کیا ہے؟
کیا اللہ نے کہا کہ مجھے میرے دوستوں کے ذریعے سے پکارو گے تو سنوں گا؟
جب آپ کو اپنی معمولی سربراہی میں اپنے عزیز ترین دوست کی شمولیت گوارہ نہیں تو
تو خالقِ کائنات سے اسکی امید کیوں رکھتے ہیں؟
غالباً سمجھ گئے ہونگے آپ کہ میں آپ کے دوست کے پاس کیوں گئی تھی؟
بیگم نے بات ختم کی اور کمرے سے نکل گئیں،
قادری صاحب اے سی کھول کر پسینہ سکھانے لگے!!!!!!!!
 

سیما علی

لائبریرین
ضروری نہیں آپکی زندگی میں بے چینی یا خالی پن کسی شخص کے جانے،کسی خواہش کے پورا نہ ہو سکنے یا کسی چیز کے نہ ملنے کی وجہ سے ہو✨*
*جب جب ہماری روح پر چھوٹے چھوٹے گناہوں کا بوجھ بڑھ جاتا ھے۔ وہ ڈائریکشن مانگتی ھے۔ سکون مانگتی ھے۔ جو صرف سجدے میں ھے...*⁦
 

سید عمران

محفلین
ایک عربی کو کہا گیا کہ تم مر جاؤ گے
اس نے کہا پھر کہاں جائیں گے ؟
کہا کہ اللہ کے پاس
عربی کہنے لگا آج تک جو خیر بھی پائی ھے اللہ کے یہاں سے پائی ھے پھر اس سے ملاقات سے کیا ڈرنا
کس قدر بہترین حسنِ ظن ھے اپنے اللہ سے

ایک بزرگ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ھیں جس کی دعا قبول کی جاتی ھے ؟
بزرگ نے جواب دیا نہیں ، مگر میں اس کو جانتا ھوں جو دعائیں قبول کرتا ھے
کیا ھی بہترین حسنِ ظن ھے

حضرت ابن عباسؓ سے ایک بدو نے پوچھا کہ حساب کون لے گا ؟
آپ نے فرمایا کہ اللہ
رب کعبہ کی قسم پھر تو ھم نجات پا گئے ،بدو نے خوشی سے کہا -
کیا ھی بہترین حسنِ ظن ھے اپنے رب سے

ایک نوجوان کا آخری وقت آیا تو اس کی ماں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی_
نوجوان نے ماں کا ہاتھ پکڑ کر سوال کیا کہ امی جان اگر میرا حساب آپ کے حوالے کر دیا جائے تو آپ میرے ساتھ کیا کریں گی ؟
ماں نے کہا کہ میں تجھ پر رحم کرتے ھوئے معاف کردونگی -
اماں جان اللہ پاک آپ سے بڑھ کر رحیم ھے پھر اس کے پاس بھیجتے ھوئے یہ رونا کیسا ؟
کیا ھی بہترین گمان ھے اپنے رب کے بارے میں

اللہ پاک نے حشر کی منظر کشی کرتے ھوئے فرمایا ھے،
{ وخشعت الأصوات للرّحمٰن }
"اور اس دن آوازیں دب جائیں گی رحمٰن کے سامنے"
اس حشر کی گھڑی میں بھی یہ نہیں فرمایا کہ " جبار " کے سامنے بلکہ اپنی صفتِ رحمت کا آسرا دیا ھے۔
یا اللہ ہمیں دنیا قبر حشر آخرت میں ہمیشہ اپنے فضل و کرم کے سائے میں رکھنا!!!
 
آخری تدوین:

زوجہ اظہر

محفلین
آج میری بیوی مجھے کہنے لگی آپ بہت لکھتےہیں ناں آج میرے لیے بھی کچھ لکھیں پھر مانوں گی کہ واقعی آپ رائٹر ہیں
میرا جادوئی گھر۔۔۔
میرا شوہر اور بچے ایک جادوئی گھر میں رہتے ہیں۔۔۔
وہ اپنے کپڑے میلے کچیلے اتارتے ہیں، جو اگلے ہی دن صاف ستھرے ہوجاتے ہیں ۔۔۔
وہ اپنے جوتے سکول اور آفس سے آتے ہی ادھر ادھر اتار دیتے ہیں،۔۔ پھر اگلے دن صبح وہ پالش شدہ صاف جوتے پہن کر جاتے ہیں ۔۔۔
ہر روز رات کو کوڑے والی باسکٹ کچرے سے بھری ہوتی ہے اور اگلے دن صبح سویرے ہی وہ خالی ہوتی ہے۔۔۔
میرے جادوئی گھر کوبچے کھیلتے ہوئے گندا کر دیتے ہیں، لیکن اگلے ہی لمحے وہ صاف ستھرا ہوجاتا ہے ۔۔۔ اور ان کے کھیلوں کا سامان اپنے اپنے باکس میں ترتیب سے رکھ دیا جاتا ہے ۔۔۔
ہر روز میرے جادوئی گھر میں میرے بچوں اور شوہر کی پسند کے مختلف کھانے بنتے ہیں ۔۔۔
میرے جادوئی گھر میں ہر روز قریباً سو بار ماما، ماما کہا جاتا ہے ۔۔۔
ماما ناخن تراش کہاں ہے۔۔۔؟
ماما میرا ہوم ورک مکمل کروائیں ۔۔۔
ماما ھادی بھیا مجھے مار رہا ہے ۔۔۔
ماما بابا جانی آگئے۔۔۔
ماما آج مجھے سکول لنچ بکس لے کر نہیں جانا۔۔
ماما آج بریانی بنائیں ۔۔۔
ماما آج مجھے چیونٹی نہیں مل رہی وہ ہر روز یہیں لائن بنا کر چلتی ہیں ۔۔۔
ماما مجھے سینڈوچ بنا کر دیں۔۔۔
ماما مجھے واش روم جانا ہے ۔۔۔
ماما یہاں میری بک پڑی تھی ۔۔۔ اب نہیں ہے ۔۔۔
رات سونے سے پہلے آخری لفظ ماما اور صبح اٹھتے ہی پہلا لفظ ماما میرے جادوئی گھر میں سننے کو ملتا ہے۔۔۔
یقینا کبھی بھی کوئی اس جادو نما گھر کی طرف متوجہ نہیں ہوا ہو گا۔۔۔ حالانکہ یہ جادو نما گھر ہر کسی کے پاس ہے ۔۔۔
اور نہ ہی کبھی کسی نے اس گھر کے جادو گر کا شکریہ ادا کیا ہوگا۔۔۔
ان جادوئی گھروں کا جادوگر کوئی اور نہیں بلکہ ہر بیوی اور ماں ہے۔۔۔ جو اپنے اپنے گھروں میں ایسے جادو کرتی ہیں۔۔۔❤
اللہ سلامت رکھے ہر بیوی اور ماں کو، جن کے صبر اور نہ ختم ہونے والی ڈیوٹی کی وجہ سے ہر گھر میں رونق ہے۔۔
خاص کر اللہ بیویوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے ایسی مخلوق کو جو کہتے
ہیں: تم گھر میں رہ کر کرتی کیا ہو...
میرخانی
 

سید عمران

محفلین
امام احمد بن حنبلؒ کہتے ہیں کہ ایک بار راہ چلتے ہوئے میں نے دیکھا، ایک ڈاکو لوگوں کو لوٹ رہا ہے۔ کچھ دنوں بعد مجھے وہی شخص مسجد میں نماز پڑھتا نظر آیا۔ میں اس کے پاس گیا اور اسے سمجھایا کہ تمہاری یہ کیا نماز ہے۔ خدا کے ساتھ معاملہ یوں نہیں کیا جاتا کہ ایک طرف تم لوگوں کو لوٹو اور دوسری طرف تمہاری نماز خدا کو قبول اور پسند آتی رہے۔ ڈاکو بولا: امام صاحب! میرے اور خدا کے مابین تقریباً سب دروازے بند ہیں۔ میں چاہتا ہوں کوئی ایک دروازہ میرے اور خدا کے مابین کھلا رہے۔
کچھ عرصہ بعد میں حج پر گیا۔ طواف کے دوران دیکھتا ہوں ایک شخص کعبہ کے غلاف سے چمٹ کر کھڑا کہتا جا رہا ہے: میری توبہ، مجھے معاف کردے۔ میں اس نافرمانی کی طرف کبھی پلٹنے والا نہیں۔ میں نے دیکھنا چاہا اس بےخودی کے عالم میں آہیں بھر بھر کر رونے والا کون خوش قسمت ہے۔ کیا دیکھتا ہوں، یہ وہی شخص ہے جسے میں نے بغداد میں ڈاکے ڈالتے دیکھا تھا!!!
تب میں نے دل میں کہا: خوش قسمت تھا، جس نے خدا کی طرف جانے والے سب دروازے بند نہیں کر ڈالے؛ خدا مہربان تھا جس نے وہ سبھی دروازے آخر کھول ڈالے!
تو بھائیو کیسے بھی برے حال میں ہو، کتنے ہی گناہگار ہو… خدا کے ساتھ اپنے سب دروازے بند مت کر لینا۔ جتنے دروازے کھلے رکھ سکتے ہو انہیں کھلے رکھنا۔کوئی ایک دروازہ بھی کھلا رہ گیا تو کچھ بعید نہیں کہ باقی کے دروازے بھی کھل جائیں، جن کے بارے میں تمہیں کبھی آس نہ تھی کہ خدا کی جانب سفر میں ان سب خوبصورت راہوں سے تمہارا کبھی گزر ہو گا!!!

قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّ۔هِ ۚ إِنَّ اللَّ۔هَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (الزمر)

کہہ دو کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کر لی ہے! خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہونا۔ خدا تو سب گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ (اور) وہ تو بخشنے والا مہربان ہے۔

بس خیال رکھنا۔۔۔
خدا کی طرف کے سب دروازے بند مت کرلینا!!!
 
آخری تدوین:

سیما علی

لائبریرین
دوکان پر گاہک اللہ بھیجتا ہے...

برطانیہ، چین اور ملائشیا مشہور سپر سٹورز میں کام کرنیوالے ایک لائق فائق مینجر کو بن داؤد سپر سٹوز مکہ میں کام کرنیکا اتفاق ہوا-
وہ برطانوی نژاد تھا اور بزنس مینجمنٹ کی کتابوں میں اس نے ہمیشہ اپنے مد مقابل منافس(compititor) کو نیچا دکھا کر آگے بڑھنا ہی سیکھا تها-
مکہ مکرمہ میں کچھ عرصہ اس نے بطور ریجنل منیجر کے اپنی خدمات سرانجام دیں-
دریں اثناء اس نے دیکھا کہ ایک دوسرے نام کے سپر سٹور کی برانچ اسکے سٹور کے بالکل سامنے کھلنے کی تیاریاں ہورہی ہیں-
اس نے سوچا کہ یہ لوگ ادھر آکر اسکی سیلز پر اثر انداز ہونگے- لہذا اس نے فورا بن داؤد سپر سٹوز کے مالکان کو ایک رپورٹ پیش کی جس میں اس نئے سپر سٹور کے متعلق کچھ معلومات، مشورے اور آئندہ کا لائحہ عمل اختیار کرنے کی تجاویز دیں-
اسکو زندگی میں حیرت کا شدید ترین جهٹکا لگا جب مالکان نے اسکو نئے سپر سٹور کے ملازمین کا سامان رکھوانے سٹور کی تزئین و آرائش اور انکے چائے پانی کا خاص خیال رکھنے کا کہا-
اسکی حیرت کو ختم کرنے کیلئے بن داؤد سٹورز کے مالکان نے کہا کہ وہ اپنا رزق اپنے ساتھ لائیں گے اور ہمارا رزق ہمارے ساتھ ہوگا-
اپنے لکھے گئے رزق میں ہم ایک ریال کا اضافہ نہیں کرسکتے اگر اللہ چاہے- اور نئے سٹور والوں کے رزق میں ہم ایک ریال کی کمی نہیں کرسکتے اگر اللہ چاہے-
تو کیوں نا ہم بھی اجر کمائیں اور مارکیٹ میں نئے آنیوالے تاجر بھائی کو خوش آمدید کہہ کر ایک خوشگوار فضا قائم کریں-

دوسرا واقعہ مشہور پولٹری کمپنی کا ہے- الفقیہ پولٹری کمپنی کے مالک نے مکہ مکرمہ میں ایک عظیم الشان مسجد(مسجد فقیہ) بھی تعمیر کی ہے-
اسکی منافس کمپنی الوطنیہ چکن لاکهوں ریالوں کی مقروض ہوکر دیوالیہ پن کے قریب پہنچ گئی-
فقیہ کمپنی کے مالک نے جب یہ صورتحال دیکھی تو اپنی مخالف کمپنی کے مالک کو ایک خط بھیجا اور ساتھ ایک دس لاکھ ریال سے زائد کا چیک بھیجا- اس خط میں لکھا تھا- "میں دیکھ رہا ہوں کہ تم دیوالیہ پن کے قریب کهڑے ہو، میری طرف یہ رقم قبول کرو، اگر مزید رقم کی ضرورت ہے تو بتاؤ- پیسوں کی واپسی کی فکر مت کرنا- جب ہوئے لوٹا دینا-"
اب دیکھئے کہ ارب پتی شیخ الفقیہ کے پاس الوطنیہ کمپنی خریدنے کا ایک نادر موقع تھا لیکن اس نے اپنے سب سے بڑے مخالف کی مالی مدد کرنے کو ترجیح دی-

حاصل کلام:-
اوپر بیان کیئے گئے دو سچے واقعات آپکو اسلامی تجارت کے اصولوں سے متعارف کراتے ہیں،

کسی مخالف کمپنی سے پریشان نا ہوں، اگر آپ اپنا کام ایمانداری سے کرتے اور کسی پر احسان کرتے تو اللہ تعالٰی آپ کا بازو پکڑ کر آپکو کامیابی کی معراج تک پہنچا دیتے- یاد رکهیں،،،، کسی کی ٹانگ کھینچنے سے آپکا رزق زیادہ نہیں ہوگا-
اسکے جو نصیب کا ہے اسکو مل کر رہے گا-

عربی سے ترجمہ شدہ
 

سیما علی

لائبریرین
لاس اینجلس کے ڈاکٹر ابراہام نے انسانی روح کا وزن معلوم کرنے کے لئیے نزع کے شکار لوگوں پر پانج سال میں بارہ سو تجربے کیے.
اس سلسلے میں اس نے شیشے کے باکس کا ایک انتھائی حساس ترازو بنایا، وہ مریض کو اس ترازو پر لٹاتا، مریض کی پھیپھڑوں کی آکسیجن کا وزن کرتا، ان کے جسم کا وزن کرتا ہے اور اس کے مرنے کا انتظار کرتا ہے مرنے کے فوراً بعد اس کا وزن نوٹ کرتا ہے۔
ڈاکٹر ابراہام نے سینکڑوں تجربات کے بعد اعلان کیا کہ...
"انسانی روح کا وزن 21 گرام ہے"

ابراہام کا کہنا تھا کہ انسانی روح اس 21 گرام آکسیجن کا نام ہے جو پھیپھڑوں کے کونوں، کھدروں، درزوں اور لکیروں میں چھپی رہتی ہے، موت ہچکی کی صورت میں انسانی جسم پر وار کرتی ہے اور پھیپھڑوں کی تہوں میں چھپی اس 21 گرام آکسیجن کو باہر دھکیل دیتی ہے اس کے بعد انسانی جسم کے سارے سیل مر جاتے ہیں اور انسان فوت ہوجاتا ہے ۔۔۔!!
ہم نے کبھی سوچا ہے کہ یہ 21 گرام کتنے ہوتے ہیں۔۔؟؟
21 گرام لوہے کے 14چھوٹے سے دانے ہوتے ہیں ، ایک ٹماٹر ،پیاز کی ایک پرت، ریت کی چھہ چٹکیاں اور پانج ٹشو پیپر ہوتے ہیں۔۔
یہ ھے ہماری اور آپ کی اوقات
لیکن...
ہم بھی کیا لوگ ہیں ہم 21 گرام کے انسان خود کو کھربوں ٹن وزنی کائنات کا خدا سمجھتے ہیں.
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر روح کا وزن 21 گرام ہے تو ان 21 گراموں میں ہماری خواھشوں کا وزن کتنا ہے؟؟؟
اس میں ہماری نفرتیں، لالچ، ہیراپھیری، چالاکی، سازشیں، ہماری گردن کی اکڑ، ہمارے لہجے کے غرور کا وزن کتنا ھے...؟؟؟
ہم 21 گرام کے انسان جوخود کو 21 گرام کے کروڑوں انسانوں کا حکمران سمجھتے ہیں ہم وقت کو اپنا غلام اور زمانے کو اپنا ملازم سمجھتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں بس ذرا سی تپش، بس ذرا سی ایک ہچکی ہمارے اختیار ہمارے اقتدار ہماری اکڑ، غرور اور چالاکی کی موم کو پگھلا دے گی اور جب یہ 21 گرام ہوا ہمارے جسم سے باہر نکل جائے گی تو ہم تاریخ کی سلوں تلےدفن ہوجائیں گے اور 21 گرام کا کوئی دوسرا انسان ہماری جگہ لے لے گا.

انسان مڑ کر اپنی ہی کمر کا تل نہیں دیکھ سکتا.
یہ ھے ہماری اوقات.
 

جاسمن

مدیر
ایک عربی کو کہا گیا کہ تم مر جاؤ گے
اس نے کہا پھر کہاں جائیں گے ؟
کہا کہ اللہ کے پاس
عربی کہنے لگا آج تک جو خیر بھی پائی ھے اللہ کے یہاں سے پائی ھے پھر اس سے ملاقات سے کیا ڈرنا
کس قدر بہترین حسنِ ظن ھے اپنے اللہ سے

ایک بزرگ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ھیں جس کی دعا قبول کی جاتی ھے ؟
بزرگ نے جواب دیا نہیں ، مگر میں اس کو جانتا ھوں جو دعائیں قبول کرتا ھے
کیا ھی بہترین حسنِ ظن ھے

حضرت ابن عباسؓ سے ایک بدو نے پوچھا کہ حساب کون لے گا ؟
آپ نے فرمایا کہ اللہ
رب کعبہ کی قسم پھر تو ھم نجات پا گئے ،بدو نے خوشی سے کہا -
کیا ھی بہترین حسنِ ظن ھے اپنے رب سے

ایک نوجوان کا آخری وقت آیا تو اس کی ماں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی_
نوجوان نے ماں کا ہاتھ پکڑ کر سوال کیا کہ امی جان اگر میرا حساب آپ کے حوالے کر دیا جائے تو آپ میرے ساتھ کیا کریں گی ؟
ماں نے کہا کہ میں تجھ پر رحم کرتے ھوئے معاف کردونگی -
اماں جان اللہ پاک آپ سے بڑھ کر رحیم ھے پھر اس کے پاس بھیجتے ھوئے یہ رونا کیسا ؟
کیا ھی بہترین گمان ھے اپنے رب کے بارے میں

اللہ پاک نے حشر کی منظر کشی کرتے ھوئے فرمایا ھے،
{ وخشعت الأصوات للرّحمٰن }
"اور اس دن آوازیں دب جائیں گی رحمٰن کے سامنے"
اس حشر کی گھڑی میں بھی یہ نہیں فرمایا کہ " جبار " کے سامنے بلکہ اپنی صفتِ رحمت کا آسرا دیا ھے۔
یا اللہ ہمیں دنیا قبر حشر آخرت میں ہمیشہ اپنے فضل و کرم کے سائے میں رکھنا!!!

آمین!
 

جاسمن

مدیر
• *سکھی رہنے کا فارمولا*

استاد دامن کا ایک چاہنے والا اُن کے لیے دیسی گھی میں پکے دو پراٹھے لے کر آیا۔ استاد دامن نے پراٹھے ایک طرف رکھے اور اُٹھ کر ایک بڑا سا پیالہ لیا جس میں چینی ڈالی، ایک پراٹھے کو توڑا اور پیالے میں ڈھیر ساری چوری بنالی۔ پھر اُٹھے اور کمرے کے چاروں کونوں میں وہ چوری زمین پر ڈال دی اور واپس بیٹھ کر مہمان کو کہا کہ :
" #لو_ایک_پراٹھا_مل_کر_کھائیں "

مہمان پریشانی سے زمین پر گری چوری پر نظریں مرکوز کیے تھا کہ اچانک بڑے بڑے سائز کے چوہے کونوں کھدروں سے نکلے اور تیزی سے چوری کھانے لگے۔ مہمان نے حیران ہو کر پوچھا کہ :
" #استاد_محترم_یہ_کیا ...؟ "

ہنس کر جواب دیا :
" چوری ہے اور چوہے کھا رہے ہیں، اس میں حیرانی کی کیا بات ہے ... ؟ "

پھر مخاطب ہوئے :
" میرے کمرے کے چاروں طرف دیکھو۔ میری ساری عمر کی کمائی۔ میرا خزانہ میری کتابیں تمہیں ہر طرف نظر آئیں گی۔ چوہے خوش ذائقہ چوری کے عادی ہیں۔ ان کو اب کتابوں کے کاغذوں کا بےمزہ ذائقہ اچھا نہیں لگتا۔ اس لیے چوہوں کو چوری کھلانے کا فائدہ یہ ہے کہ میری کتابیں محفوظ ہیں۔ میرا خزانہ محفوظ ہے ... "

پھر اک لمحے کو رکے اور دوبارہ گویا ہوئے :
" تم بھی اگر اپنے کسی بھی خزانے کو محفوظ رکھنا چاہتے ہو تو یاد رکھو اردگرد لوگوں کا خیال رکھو، انہیں چوری ڈالتے رہو، سدا سکھی رہو گے ... ؟ :

پھر کچھ دیر خاموشی کے بعد استاد نے مہمان سے مخاطب ہو کر پھر کہا :
" زندگی بھر کے لیے ایک بات یاد رکھ! رب العزت زندگی میں جب بھی کبھی تمہیں کچھ دے۔ اُس میں سے کچھ حصہ اپنے اردگرد موجود لوگوں کو ضرور بانٹ دیا کرو، کیونکہ لوگوں کی ہر اُس چیز پر نظر ہوتی ہے جو تمہارے پاس آتی ہے۔ یہ لوگ کوئی اور نہیں تمہارے قریبی عزیز اور اچھے دوست ہیں۔ ان کا خیال رکھنا تمہارا اخلاقی اور مذہبی فریضہ بھی ہے ... "
 

جاسمن

مدیر
مندرجہ بالا تحریر مجھے آج ہی وٹزایپ پہ میری سہیلی نے بھیجی ہے۔
آج میں اس پہ غور کرنے کا ارادہ کر رہی ہوں کہ کس کس نعمت کے شکرانے پہ کیا کیا، کس کس کو دوں؟
آپ بھی سوچیے اور مجھے ضرور بتائیے گا، مجھے راہنمائی کی شدید ضرورت ہے۔:)
 

سید عمران

محفلین
شُکر (Thanks) کی فریکوینسی

اس دنیا میں ایک قانون موجود ہے اور اسکو “Law of attraction” (قانون کشش) کہتے ہیں۔

اس کی مثال بڑی سادہ ہے ہمارے اردگرد ہر جگہ “لہریں” موجود ہیں۔

یقین کرنا ہے تو ریڈیو آن کریں اور فریکوئنسی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ شروع کر دیں، آپ کو کسی چینل پر کوئی “غمزدہ خبر” سننے کو ملے گی۔۔۔۔ اب یہ آپ کا اختیار ہے کہ آپ فریکوئنسی تبدیل کردیں تو دوسرے چینل پر کوئی “خوشگوار بات” سننے کو مل جائے گی۔

آپ کا موڈ اور آپ کا مزاج بھی اس خبر اور اس کے اثرات کے ساتھ ساتھ تبدیل ہونا شروع ہو جائے گا

اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ “غمزدہ خبر” والی لہریں کمرے سے چلی گئی ہیں یا اس فریکوئنسی پر “غمزدہ خبر” موجود ہی نہیں رہی

بلکہ آپ نے اپنی فریکوئنسی کو “خوشگوار باتوں” کی طرف موڑ دیا ہے اسلئیے ہر طرف سے لہریں آپ کو “خوشگوار باتیں” سنانے پر مجبور ہیں۔

بالکل یہی معاملہ “قانون کشش” کا ہے۔ جب آپ شکر گزار ہوتے ہیں تو پوری کائنات حرکت میں آجاتی ہے

اللہ تعالی ہر چیز کو آپ کی سیٹ کی ہوئی فریکوئنسی پر لگا دیتے ہیں۔ انتخاب اور مرضی آپ کی اپنی ہے۔.....آپ “شکر گزاری” کا چینل سیٹ کرتے ہیں یا خود کو “شکوے شکایتوں” کی فریکوئنسی پر ٹیون کرتے ہیں۔

آپ جو حاصل کرنا چاہتے ہیں، جیسا بننا چاہتے ہیں، ویسا سوچنا شروع کر دیں۔ اگر آپ شکر گزار ہیں تو پھر آپ کو صبح سے شام تک شکر گزار لوگ ہی ملیں گے اور اگر کوئی ناشکرا مل بھی گیا تو آپ اس کے بھی شکر گزار ہو جائیں گے۔

اپنے پیسے، رشتے، روزگار، بچے، بیوی تعلقات اور پڑوس وغیرہ ،...... جس چیز کی زیادتی آپ کی زندگی میں ہوگی اور آپ اس سے خوش ہوں گے تو دراصل اس کے بارے میں آپ زیادہ شکر گزار رہتے ہیں اور جس چیز میں کمی اور کوتاہی ہے دراصل وہ آپ کے” کم شکر گزار” ہونے یا “نا شکری” کا نتیجہ ہے۔

بلوں کے بروقت ادا ہوجانے،
تنخواہ وقت پر مل جانے،
بچوں کی فیسیں ادا ہو جانے،
تین وقت کا کھانا پیٹ بھر کر کھا لینے،
جسم پر صاف ستھرے کپڑے،
اچھی کمپنی کس موبائل،
گھر میں خیال کرنے والی ماں، بیوی، بہن، بیٹی,
آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچانے والے بچے
اور نہ جانے کیا کیا نعمتیں ہیں جن پر آپ دن رات صبح شام شکر ادا کرنا شروع کر دیں تو بھی کم ہے۔

یاد رہے ۔۔۔۔ شکر دل سے ادا ہونا چاہئے آپ کے احساسات اور دل کی دھڑکنوں تک سے شکرگزاری کے جذبات پھوٹ رہے ہوں، آپ بات بات پر پورے خلوص دل کے ساتھ “الحمدللہ” کہہ رہے ہوں۔

صبح کوڑا لینے آنے والے سے لے کر شام کو گھر چھوڑنے والے ڈرائیور تک کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ایک دفعہ تھینکس، شکریہ، جزاک اللہ تو بول کر دیکھیں ۔۔۔۔ آپ کا انگ انگ جھوم نا اٹھے تو بات کریں۔

اللہ تعالی اس کائنات کو، اسکی ساری قوتوں کو آپ کی خدمت میں لگا دے گا۔

نہایت ہی کم ظرف اور ناشکرے ہیں ہم لوگ۔ سارا دن ہم اپنی فریکوئنسی کو “گلے شکوں” پر ٹکا کر رکھتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ہر طرف سے شکر گزاری کی لہریں آتی رہیں۔

اپنی زندگی کو اگر دنیا میں جنت بنانا چاہتے ہیں تو پھر ہر کسی کے لیے اپنے دل اور دماغ سے گلے، شکوے اور شکایتیں نکال کر پھینک دیں۔ ہر انسان کا، ہر چیز کا، اس کائنات کا اور اللہ تعالی کا ہر لمحہ شکر ادا کرتے رہیں۔

ایک دفعہ آپ “شُکر” کو اپنی زندگی میں لے آئیں یہ کائنات آپ پر ایسے ایسے راز کھولے گی کہ آپ حیران رہ جائیں گے۔
 
Top