انٹر نیٹ سے چنیدہ

سید عمران

محفلین
اشفاق احمد اکثر کہا کرتے تھے کہ آدمی عورت سے محبت کرتا ہے جبکہ عورت اپنی اولاد سے محبت کرتی ہے, اس بات کی مکمل سمجھ مجھے اس رات آئی, یہ گزشتہ صدی کے آخری سال کی موسمِ بہار کی ایک رات تھی. میری شادی ہوئے تقریباً دوسال ہو گئے تھے۔ اور بڑا بیٹا قریب ایک برس کا رہا ہوگا.

*
اس رات کمرے میں تین لوگ تھے, میں, میرا بیٹا اور اس کی والدہ! تین میں سے دو لوگوں کو بخار تھا, مجھے کوئی ایک سو چار درجہ اور میرے بیٹے کو ایک سو ایک درجہ. اگرچہ میری حالت میرے بیٹے سے کہیں زیادہ خراب تھی۔ تاہم میں نے یہ محسوس کیا کہ جیسے کمرے میں صرف دو ہی لوگ ہیں, میرا بیٹا اور اسکی والدہ.*

بری طرح نظر انداز کیے جانے کے احساس نے میرے خیالات کو زیروزبر تو بہت کیا لیکن ادراک کے گھوڑے دوڑانے پر عقدہ یہی کھلا کہ عورت نام ہے اس ہستی کا کہ جب اسکو ممتا دیت کر دی جاتی ہے تو اس کو پھر اپنی اولادکے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا.
حتیٰ کہ اپنا شوہر بھی اور خاص طورپر جب اسکی اولاد کسی مشکل میں ہو.اس نتیجہ کے ساتھ ہی ایک نتیجہ اور بھی نکالا میں نے اور وہ یہ کہ *اگر میرے بیٹے کے درد کا درمان اسکی کی والدہ کی آغوش ہے تو یقینا میرا علاج میری ماں کی آغوش ہو گی.*


*اس خیال کا آنا تھا کہ میں بستر سے اٹھا اور ماں جی کے کمرہ کی طرف چل پڑا. رات کے دو بجے تھے پر جونہی میں نے انکے کمرے کا دروازہ کھولا وہ فوراً اٹھ کر بیٹھ گئیں جیسے میرا ہی انتظار کر رہی ہوں.
پھر کیا تھا, بالکل ایک سال کے بچے کی طرح گود میں لے لیا۔
اور توجہ اور محبت کی اتنی ہیوی ڈوز سے میری آغوش تھراپی کی کہ میں صبح تک بالکل بھلا چنگا ہو گیا.*


*پھر تو جیسے میں نے اصول ہی بنا لیا جب کبھی کسی چھوٹے بڑے مسئلے یا بیماری کا شکار ہوتا کسی حکیم یا ڈاکٹر کے پاس جانے کی بجائے سیدھا مرکزی ممتا شفا خانہ برائے توجہ اور علاج میں پہنچ جاتا.
* وہاں پہنچ کر مُجھے کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہ پڑتی۔ بس میری شکل دیکھ کر ہی مسئلہ کی سنگینی کا اندازہ لگا لیا جاتا.
میڈیکل ایمرجنسی ڈیکلئر کر دی جاتی.
مجھے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ماں جی ) کے ہی بستر پر لٹا دیا جاتا اور انکا ہی کمبل اوڑھا دیا جاتا, کسی کو یخنی کا حکم ہوتا تو کسی کو دودھ لانے کا, خاندانی معالج کی ہنگامی طلبی ہوتی, الغرض توجہ اور محبت کی اسی ہیوی ڈوز سے آغوش تھراپی ہوتی اور میں بیماری کی نوعیت کے حساب سے کبھی چند گھنٹوں اور کبھی چند پہروں میں روبہ صحت ہو کر ڈسچارج کر دیا جاتا.

یہ سلسلہ تقریباً تین ماہ قبل تک جاری رہا۔
وہ وسط نومبر کی ایک خنک شام تھی, جب میں فیکٹری سے گھر کیلئے روانہ ہونے لگا تو مجھے لگا کہ مکمل طور پر صحتمند نہیں ہوں, تبھی میں نے آغوش تھراپی کروانے کا فیصلہ کیا اور گھر جانے کی بجائے ماں جی کی خدمت میں حاضر ہو گیا, لیکن وہاں پہنچے پر اور ہی منظر دیکھنے کو ملا. ماں جی کی اپنی حالت کافی ناگفتہ بہ تھی پچھلے کئی روز سے چل رہیے پھیپھڑوں کے عارضہ کے باعث بخار اور درد کا دور چل رہا تھا۔


میں خود کو بھول کر انکی تیمارداری میں جت گیا, مختلف ادویات دیں, خوراک کے معروف ٹوٹکے آزمائے.
مٹھی چاپی کی,مختصر یہ کہ کوئی دو گھنٹے کی آؤ بھگت کے بعد انکی طبیعت سنبھلی اور وہ سو گئیں.
میں اٹھ کر گھر چلا آیا.
ابھی گھر پہنچے آدھ گھنٹہ ہی بمشکل گذرا ہوگا کہ فون کی گھنٹی بجی, دیکھا تو چھوٹے بھائی کا نمبر تھا, سو طرح کے واہمے ایک پل میں آکر گزر گئے. جھٹ سے فون اٹھایا اور چھوٹتے ہی پوچھا, بھائی سب خیریت ہے نا, بھائی بولا سب خیریت ہے *وہ اصل میں ماں جی پوچھ رہی ہیں کہ آپکی طبیعت ناساز تھی اب کیسی ہے……*

........ اوہ میرے خدایا…


اس روزمیرے ذہن میں ماں کی تعریف مکمل ہو گئی تھی۔ ماں وہ ہستی ہے جو اولاد کو تکلیف میں دیکھ کر اپنا دکھ,اپنا آپ بھی بھول جاتی ہے.

*آج ماں جی کو رحمان کی رحمت میں گئے ایک ماہ اور آٹھ روز ہو گئے ہیں۔
آج مجھے پھر بخار ہوا ہے, آغوش تھراپی کی اشد ضرورت ہے۔ پر میرا مرکزی ممتا شفاخانہ برائے توجہ اور علاج ہمیشہ کیلئے بند ہو چکا ہے۔
مجھے آپ دوستوں سے رہنمائی درکار ہے۔
اب بھلا میں کیسے ٹھیک ہونگا؟؟؟
 

سید عمران

محفلین
میں رشتہ اور آنٹی ۔۔
بہت دلچسب داستان ھے پڑھئے گا ضرور زندگی بھر کیلئے نصحیت ملے گی ۔۔ان شآء اللہ

میں اور میری بیوی سنار کی دوکان پر گئے سونے کی انگوٹھی خریدنے کیلئے ۔کچھ انگوٹھیاں دیکھنے کے بعد میری بیوی کو ایک انگوٹھی پسند آگئی ۔قیمت ادا کر کے جیسے ھی میں باہر نکلنے کیلئے مڑا تو ایک بارعب شخص سے ملاقات ھوئی جو کہ مجھے جانتے تھے لیکن میں انکو بھول چکاتھا بس اتنا یاد تھا کہ ماضی میں کبھی ان سے ملاقات ھوئی تھی ۔۔
یہ صاحب بڑی گرم جوشی سے میرے گلے ملے اور سوالیہ نظروں سے پوچھنے لگے "بیٹا لگتا ھے پہچاننے کی کوشش کر رھے ھیں آپ "
میں نے کہا معزرت کیساتھ آپ کا چہرہ جانا پہچانا لگ رہا ھے لیکن یاد نہی آرہا کہ آپ سے کب ملاقات ھوئی تھی ۔۔
وہ تھوڑا سا مسکراے اور کہنے لگے میرا نام اقبال ھے ویسے لوگ مجھے بڑا بھائی کہتے ھیں ۔آج سے چند سال قبل آپ اپنی فیملی کیساتھ ھمارے گھر آے تھے گلبرگ میں ھمارا گھر ھے شاید آپ کو یاد آگیا ھو ۔۔
انکی بات سن کر میرا تو سر ھی چکڑا گیا ۔اور میرا رویہ بالکل مودبانہ ھو گیا اور میں بے اختیار بول پڑا سب یاد آگیا بڑے بھائی سب یاد آگیا ۔۔۔
میں نے سوال کیا آپ اکیلے ھی ھیں یا آنٹی بھی آئیں ھے ۔
بڑے بھائی نے جواب دیا جی آنٹی بھی آئیں ھیں اور دوسرے بھائی بھی آئیں ھیں وہ بیٹھے ھیں آپ ان سے مل سکتے ھیں ۔۔۔
ایک سائید پر دیکھا تو آنٹی برقعہ پہنے بیٹھی تھی اور ساتھ میں ھی دوسرے بھائی بھی کھڑے چہرے پر مسکراہٹ سجاے میری طرف دیکھ رھے تھے ۔۔
میں نے اپنی بیگم کو کہا کہ انٹی کو سلام کرو اور بعد میں انکا تعارف کرواتا ھوں ۔۔
میری بیگم گئی آنٹی کو سلام کیا آنٹی نے بہت ھی اچھے طریقے سے میری بیوی کے سر پر ہاتھ پھیرا اور پھر بہت ھی پیارے انداز میں میری بیوی کو دعائیں دیں ۔
میں نے آنٹی کو بتلایا کہ یہ میری بیوی ھے اور یہ میرا 3سال کا بیٹا ھے ۔آنٹی بہت خوش ھوئیں اور اپنے بیٹے کیطرف آنکھوں ھی آنکھوں میں اشارہ کیا جس نے میری بیٹے کی جیب میں 1000 کا نوٹ ڈال دیا ۔میں نے بہت اسرار کیا کہ یہ غلط ھے لیکن آنٹی نہ مانیں ۔
کچھ ادھر ادھر کی باتوں کے بعد میں آنٹی سے آنے کا مقصد پوچھا تو آنٹی کہنے لگیں کہ اللہ نے میری بیٹی کو بیٹے کی نعمت سے نوازا ھے اسلئے بیٹی کیلئے اور انکے اہل خانہ کیلئے کچھ تحائف خریدنے آئیں ھیں ۔۔
میں نے پوچھا آنٹی کونسی بیٹی آپکی تو تمام بیٹیاں شادی شدہ تھیں صرف ایک۔کنواری تھی جسکے رشتہ کیلئے ھم لوگ آے تھے اور آپ لوگوں نے کہا تھا کہ ابھی 5 یا 10 سال تک شادی کا کوئی پروگرام نہی ھے ۔۔حالانکہ مجھے حیرانگی ھوئی تھی کہ گھر پر رشتے کیلئے بلوا کر پھر کہہ دینا کہ 5 یا 10 سال تک شادی کا کوئی پروگرام نہی کتنی غلط بات ھے ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔آنٹی کو جیسے ایک جھٹکا لگا ۔۔لیکن وہ ایک سمجھدار خاتون تھیں فورا ھی سمجھ گئیں کہ بات کچھ اور ھے پوچھنے لگی کہ یہ بات آپکو کس نے کہی تھیں۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے کہا والد صاحب نے کہا تھا ۔۔تو وہ کہنے لگی نہی ۔۔بات دراصل کچھ اور تھی لیکن آپ کے والد صاحب نے آپ کا پردہ رکھا تھا ۔۔
۔۔۔۔۔میرے اندر ایک تجسس پیدا ھو گیا کہ میرے والد صاحب ھم سے کیسے غلط بیانی کر سکتے ھیں اور میرے والد صاحب نے کبھی بھی جھوٹ نہی بولا تھا ۔۔
آنٹی نے اپنے بیٹوں کو کہا کہ مجھے میرے بیٹے کیساتھ اکیلا چھوڑ دیں اور میں نے بھی اپنی بیگم کو کہا کہ تم تھوڑا سا وقت مجھے دو بچے کو کچھ کھلاو پلاو۔۔

آنٹی کہنے لگی بیٹا جس دن تم اور تمہارے اہل خانہ ھمارے گھر ھماری بیٹی کا رشتہ لینے آے تھے میں نے اسی دن تمھارے رشتہ سے انکار کر دیا تھا جو کہ شاید تمھارے والدین نے تمہیں نہی بتلایا ۔۔۔
تم ایک پڑھے لکھے اور معاشرے میں ایک کامیاب شخص ثابت ھو سکتے ھو مجھے پہلے ھی علم تھا ۔۔
اور مجھے مکمل یقین تھا کہ میری بیٹی کو بھی تم خوش رکھو گے ۔۔
لیکن نئے لوگوں سے رشتہ جوڑنے کیلئے صرف لڑکے کو ھی نہی دیکھا جاتا بلکہ۔اسکے مکمل خاندان کو دیکھا جاتا ھے ۔کیونکہ ھم نے مستقبل میں آپس میں میل جول رکھنا ھوتا ھے اسلئے لڑکے یا لڑکی کے گھرانے والوں کو دیکھ کر مستبقل کا تعین کیا جاتا ھے کہ یہ گھرانہ مستقبل میں کتنا کامیاب رشتہ نبھا سکتا ھے کیونکہ۔زندگی میں اتار چڑھاو آتے رھتے ھیں اور ان حالات میں ھمکو کسی اپنے کی ضرورت ھوتی ھے اسلئے ھم کسی ایسے سے رشتہ نہی جوڑتے جو خوشیوں میں ھمارے ساتھ ھو لیکن حالات کے خراب ھوتے ھی وہ ھم سے جدا ھو جاے ۔۔
اسلئے میں نے اس دن آپکے والد صاحب اور والدہ صاحبہ کو صاف صاف انکار کر دیا تھا ۔۔ھو سکتا ھے کہ انہوں نے آپ کو درست بات نہ بتلائی ھو۔۔

۔۔۔۔۔آنٹی کی باتیں سن کر میں مزید پریشان ھو گیا اور میں نے کہا کہ آنٹی ھم بہن بھائی آپس میں ایک دوسرے پر جان چھڑکتیں ھیں خوشی اور غم میں برابر کے شریک ھوتے ھیں کبھی ایسا نہی ھوا کہ ھم میں سے کسی کو ایک۔دوسرے سے کوئی۔شکایت ھو ۔۔۔اگر آپ برا محسوس نہ کریں تو میں 100فیصد درست ھوں کہ آپکو ھمارے خاندان کو پرکھنے میں غلطی ھوئی ھے ۔۔

آنٹی نے ایک سرد آہ لی اور کہا بیٹے ابھی تم بہت چھوٹے ھو جو چیزیں میں دیکھ سکتی ھوں تم انکیطرف کبھی سوچ بھی نہی سکتے ۔۔۔
میرے استفسار پر آنٹی نے کہا کہ میرا اندازہ کبھی غلط نہی ھوتا ۔۔
چلو میں تمکو بتلاتی ھوں ۔۔۔

میں نے اپنی بیٹی کیلئے جتنے بھی رشتے دیکھے ھیں ان سے کچھ شرائط رکھی ھیں جو بھی میری بیٹی کو دیکھنے آے ۔
وہ اپنے تمام بیٹوں اور انکی بیگمات کو ساتھ لائیں ۔۔
جو سب سے اچھے کپڑے ھوں وہ زیب تن کر کے آئیں ۔
گھر کی عورتیں اپنے مکمل زیورات سے سج کر آئیں ۔
اگر گھر میں ھر فرد کی اپنی اپنی گاڑی ھے تو وہ اپنی اپنی گاڑی میں آئیں ۔۔۔

یہ شرائط بہت عجیب تھیں ۔۔لیکن بعض لوگوں نے اسکا یہ۔مطلب لیا کہ شاید ھم لڑکے والوں کی مالی حالت دیکھنا چاھتے ھیں ۔۔لیکن ایسی بات نہی ھے ۔۔۔

اب جب آپ کے اہل خانہ ھمارے گھر تشریف لاے تھے تو میں نے سب سے پہلے تمھارے دونوں بھائیوں کی گاڑیاں دیکھیں جو کہ قدر مہنگی تھی جبکہ تمھارے والد صاحب کی گاڑی کی مالیت اتنی نہی تھی جتنی تمھارے دونوں بھائیوں کی گاڑیوں کی قیمت تھی ۔۔
اسیطرح پھر میں نے تمھارے والد صاحب کے کپڑوں کا جائزہ لیا تو مجھے محسوس ھوا کہ تمھارے بھائیوں کے جسموں پر سجے ھوے کپڑے زیادہ مہنگے ھیں اور یہی حال تمھارے والد صاحب کے جوتوں کا تھا ۔۔
جب میں نے تمھاری ماں کے زیورات دیکھے تو انکی مقدار بہت ھی کم۔تھی جبکہ تمھاری دونوں بھابھیوں کے ہاتھ بازو اور گلے زیورات سے سجے ھوے تھے ۔۔۔
پھر میں نے جب تمھاری بھابھیوں سے پوچھا کہ گھر کا کھانا کون پکاتا ھے تو تمھاری بھابھئوں نے کہا کہ ھم سب علیحیدہ علیحیدہ پکاتے ھیں اور تمھارے والدین کا کھانا تمھاری بہن پکاتی ھے ۔۔
اسی طرح میں نے جب پوچھا کہ بچوں کو سکول کون چھوڑتا ھے تو مجھے پتہ چلا کہ تمھارے دونوں بھائی اپنے بچوں کو خود چھوڑتے ھیں جبکہ تمھاری بہن کو تمھارے والد صاحب کالج لے کر جاتے ھیں۔
جب میں نے یہ حالات دیکھے اور سنے تو مجھے افسوس ھوا ان بیٹوں پر جنکو پڑھانے کیلئے باپ نے اپنی ساری زندگی گنوا دی اور اس اولاد کو معاشرے کا کامیاب فرد بنایا لیکن جب اولاد کی باڑی آئی تو اولاد والد کا سہارا ببنے کی بجاے اپنی زندگی گزارنے پر رضامند ھو گئی ۔۔
تمھارے باپ نے تمھارے لئے بھوک افلاس بھی دیکھا ھو گا ۔
پیدل سفر بھی کیا ھو گا ۔
تمھارے منہ میں نوالہ ڈالنے کیلئے بھوک بھی برداشت کی ھو گی۔
تمہیں اچھا پہنانے کیلئے خود دو تین سال ایک ھی جوڑے میں بھی گزارے ھو نگیں ۔۔
لیکن جب اولاد کی باڑی آئی تو اولاد باپ کو بھول گئی اور اپنی دنیا کی رنگ رلیوں میں مگن ھو گئی ۔۔
تمھارے بھائیوں نے خود تو نئی گاڑی لے لی لیکن انکو خیال نہ آیا کہ ھمارا باپ آج بھی اسی پرانی گاڑی میں سفر کیوں کرتا ھے کیونکہ اس پر ابھی بھی تمھاری بہن کی اور تمھاری زمہ داری ھے ۔۔
اسکا بھی دل کرتا ھو گا نئے جوتے اور نئے کپڑے پہننے کو لیکن ھو سکتا ھے اسکی جیب اس چیز کی اجازت نہ دیتی ھو ۔۔لیکن تمھارے بھائیوں کی جیب تو اجازت دیتی تھی کہ اپنے باپ کیلئے اچھا لباس اچھا جوتا پہلے خریدتے اور اپنے لئے بعد میں کیونکہ یہ رویہ تمھارے باپ کا تھا جب بھی اس نے کوئی چیز خریدنا چاھی پہلے اپنی اولاد کا خیال کیا بعد میں اپنا سوچا ۔۔
اسی لئے میں نے یہ ساری باتیں اسی دن تمھارے والد سے کر دیں تھیں ۔ھمیں دنیا کی مال و دولت نہی چاھئیے ھمیں تو ایسے رشتہ۔دار چاھئیں جو اپنے سے بڑھ کر اپنے رشتہ داروں کو ترجیح دیں تاکہ کل کو جب ھم نیچے گریں تو ھمکو مزید نیچے دبانے کی بجاے اوپر کو اٹھائیں تاکہ کل کو جب وہ نیچے گریں تو ھم انکو بھی سہارا دیں سکیں ۔۔۔
مال و دولت اعلی عہدہ یا مرتبہ تو ھمیشہ نہی رھتا ۔۔
ھمیشہ جو ساتھ چلتے ھیں وہ سچے رشتے چلتے ھیں اور اگر رشتے بنانے میں ھم سے تھوڑی سی بھی غلطی ھو جاے تو ساری زندگی بھی تباہ ھو سکتی ھے اور نسلیں بھی تباہ ھو جایا کرتی ھیں ۔۔۔

مجھے فخر ھے آپ کے والد صاحب پر کے انھوں نے آپ کو حقیقت سے آگاہ نہی کیا اور پھر بھی آپ لوگوں کی غلطیوں پر پردہ ڈالتے رھے لیکن دیکھنا یہ ھے کہ اولاد اپنے والدین کا کتنا خیال رکھتی ھے والدین تو ھمیشہ سے ھی اولاد کیلئے قربانیاں دیتے آئیں ھیں ۔۔
ابھی اولاد کی باری ھے اور مجھے فخر ھے اپنی اولاد پر کہ آج کچھ بھی ھو جاے میری اولاد مجھے ھمیشہ ترجیح دیتی ھے میرے لئے پہلے خریدتی ھے بعد میں اپنے بیوی بچوں کیلئے کچھ خریدا جاتا ھے اور مجھے فخر ھے اپنی اولاد کی اولاد پر کہ وہ بھی اپنے والدین کو اپنی زندگیوں سے زیادہ ترجیح دیتی ھے اور ھمارا پورا خاندان ایک جان کی مانند ھے اگر کسی کو کسی بھی چیز کی۔ضرورت پڑ جاے تو پیٹھ دیکھا کر نہی بھاگتے بلکہ ضرورت سے زیادہ لے کر آتا ھے ۔۔۔۔

اس لئے میرے بیٹے رشتے بنانا بہت آسان ھے لیکن کامیاب رشتے چننا اور انکو نبھانا بہت مشکل ھے ۔۔کہیں ایک نا اہل رشتہ آپ کو اتنا بڑا نقصان دے سکتا ھے کہ ساری عمر کی۔خوشیاں غموں میں تبدیل ھو سکتی ھیں اور کامیاب رشتہ آپکو ایسا سہارا دے سکتا ھے کہ تمام زندگی کے غم خوشیوں میں تبدیل ھو سکتے ھیں۔۔۔

اتنی بات کرنے کے بعد انٹی اٹھ کر چلی گئیں ۔۔اور میری آنکھوں کے سامنے میرے والدین کا چہرہ گھومنے لگا ۔میری گاڑی میرے والد کی گاڑی سے بہتر تھی ۔میرا لباس میرے والد کے لباس سے بہتر تھا ۔میرے گھر کی زیب و زینت کا سامان میرے والد کے گھر سے بہتر تھا ۔میری بیوی ہاتھ میں سونے کی چوڑیاں اور کنگن تھے جو میں نے خرید کر دئیے تھے لیکن میری ماں کا سارا زیور بک چکا تھا میں آج بھی گھر سے دفتر اور دفتر سے گھر لیکن میرا باپ آج بھی اولاد کی زمہ داریاں نبھا رہا تھا ۔۔
میں نے آج بھی اپنی بیوی کیلئے سونے کی انگھوٹھی خریدی لیکن میرے ذھین میں میری ماں کا خیال کیوں نہ آیا جس نے میری شادی کیلئے اپنا زیور بیچ دیا ۔۔

مجھے افسوس ھوا اپنے آپ پر کہ میں نے اپنے والدین سے زیادہ اپنی ذات کو ترجیح دی ھے میرے والدین جنہوں نے مجھے سب کچھ دیا اور میں نے ان سے سب کچھ لے کر انکو خالی کر دیا لیکن کبھی انہوں نے مجج سے کوئی گلہ یا شکوہ نہی کیا ۔۔۔
میرے والدین کل بھی عظیم تھے اور آج بھی عظیم ھیں اور میں کل بھی ناکام تھا اور آج بھی ناکام ھوں ۔۔۔۔
________________________
 

جاسمن

مدیر
تم مجھے بتاتے ہو کہ پاکستان میں پانی کے کولر سے گلاس باندھنا پڑتا ہے کیونکہ یہاں کے لوگ بے ایمان ہیں لیکن تم یہ نہیں بتاتے کہ جس کولر کے ساتھ یہ گلاس بندھا ہوا تھا وہ بھی کسی پاکستانی نے کبھی ایصال ثواب کے لئے اپنے کسی عزیز کا نام لکھ کر یا ویسے ہی آخرت میں ثواب کے حصول کے لئے اس چلتی راہ میں لگا دیا
تم مجھے بتاتے ہو کہ مسجد سے جوتے اٹھا لئے جاتے ہیں اب تو اللہ کا گھر بھی محفوظ نہیں لیکن تم یہ نہیں بتاتے کہ اس مسجد کی تعمیر میں کتنے پاکستانیوں نے اپنی محدود اور لامحدود آمدنی سے چند سکے جوڑ کر یا لاکھوں کے چیکس کی صورت میں حصہ ڈالا ہے تم یہ نہیں بتاتے کہ وہاں لوگوں کے سکون کی خاطر بجلی کا بل کوئی بھر رہا ہے وہاں پنکھے ہیٹرز اور اے سی سسٹم کے لئے کچھ لوگ خاموش رہ کر مسلسل حصہ ڈالتے ہیں
تم مجھے بتاتے ہو کہ کسی ایک جگہ ایکسیڈنٹ ہوا تو لوگوں نے زخمیوں کے بٹوے تک نکال لئے لیکن تم یہ نہیں بتاتے کہ ان رخمیوں کو ہسپتال پہنچانے والے بھی اسی دھرتی کے باسی تھے یہی وہ لوگ ہیں جو ہر حادثے کے بعد خون دینے کے لئے سینکڑوں کی تعداد میں پہنچتے ہیں
تم یہ تو بتاتے ہو کہ زلزلے میں ھٕملنے والی امداد چند لوگ کھا گئے لیکن یہ نہیں بتاتے کہ لاکھوں لوگ ایسے تھے جنہوں نے اپنے گھروں سے بالکل نئے بستر نکال کر 2005 کے زلزلے کے بعد ٹرکوں کے ٹرک بھر کر مسائل زدہ بھائیوں کے لئے بھجوا دئے تھے
تم یہ تو بتاتے ہو کہ کسی ناکے پر ایک پولیس والے نے کسی نوجوان کو گولی مار دی لیکن تم بھول جاتے ہو کہ کتنے صفوت غیور ہماری ماوں نے اس دھرتی کے اوپر وار دئیے
تم مجھے بل گیٹس کے فلاحی کاموں کی مثالیں دیتے ہو لیکن چھیپا کو بھول جاتے ہو
تم مجھے بتاتے ہو کہ ایک مشرف اور یحیی خان تھا لیکن تم بھول جاتے ہوکہ ایک میجرعزیز بھٹی تھا ایک سوار محمد حسین تھا ایک میجر طفیل تھا ایک لالک جان بھی تھا
تم مجھے بتاتے ہوکہ ایک بنگلہ دیش بن گیا جس کے ڈاکٹر یونس کو گرامین بنک پر نوبل انعام مل گیا لیکن تم میرے ڈاکٹر امجد ثاقب کو بھول جاتے ہو
تم مجھے بتاتے ہو کہ میرے سکولوں کے اساتذہ گنوار اور جاہل ہیں بچوں پر ظلم ڈھاتے ہیں لیکن تم میرے شجیع نصراللہ کی دریائے کنہار میں لگائی جانے والی چھلانگ بھول جاتے ہو تم میری سمیعہ نورین کو بھول جاتے ہو جو خود جل گئی لیکن بہت سے بچوں کو بچاگئی اور آرمی پبلک سکول کی طاہرہ قاضی کو بھی بھول جاتے ہو
لگے رہو تم لگے رہو میں بھی لگا ہوا ہوں تم ہر موقعے پرشورمچاتے رہو میں ان چراغوں کی روشنی میں مزید چراغ جلاتا رہوں گا تم مایوسی پھیلاتے رہو میں امید کی ایک مدھم سی کرن کے پیچھے بھی چلوں گا میں جانتا ہوں کہ اس کرن کے پیچھے کوئی سورج ہے کوئی چاند ہے دیکھ لینا یہ روشنی کسی دن میرا آنگن نور سے بھر دے گی تم تب پلٹو گے جب میں کامیابی کی آخری سیڑھی پر کھڑا مسکرا رہا ہوں گا لیکن میں تمہیں پھر بھی خوش آمدید کہوں گا کہ میں امن سلامتی اور محبت کا داعی پاکستان ہوں۔
فیس بک سے کاپی
 

شمشاد خان

محفلین
Bicycle.png


سائیکل معاشیات کی دشمن
1f917
1f917


ایک ملٹی نیشنل بینک کےCEO نے معاشی ماہرین کو سوچ میں ڈال دیا جب اس نے کہا کہ: سائیکل چلانے والا ملکی معیشت کیلئے تباہی ہے - اس لئے کہ وہ کار نہیں خریدتا اور کار کا قرض بھی نہیں لیتا - کار انشورنس نہیں خریدتا - ایندھن بھی نہیں خریدتا - اپنی گاڑی سروسنگ اور مرمت کے لئے نہیں بھیجتا - ادا شدہ پارکنگ کا استعمال بھی نہیں کرتا ۔سائیکل چلانے کی وجہ سے صحت مند رہتا ہے موٹا نہیں ہوتا . - !!

مضبوط معیشت کے لئے صحت مند افراد کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ وہ دوائیں نہیں خریدتے ۔ ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کے پاس نہیں جاتے ۔ ملک کے جی ڈی پی میں کچھ شامل نہیں کرتے۔ اس کے برعکس ہر نیا Fastfood آؤٹ لیٹ اپنے ملازمین کے علاوہ کم از کم 30 مزید نوکریاں پیدا کرتا ہے۔ 10 امراض قلب کے ماہر، 10 دندان ساز، اور 10 کینسر سپیشلسٹ.

سمجھداری سے انتخاب کریں: معیشت کے لئے کون بہتر ہےایک سائیکل سوار یا Fastfood outlet۔۔۔

پھر تو پیدل چلنے والے معاشیات کے قاتل ہوں گے۔

منقول
 

سیما علی

لائبریرین
*"حاصل مطالعہ "*

*"اللہ کی پلاننگ"*

*یوسف* کو بادشاہی کا خواب دکھایا-باپ کو بھی پتہ چل گیا ، ایک موجودہ نبی ہے تو دوسرا مستقبل کا نبی ہے ! مگر دونوں کو ہوا نہیں لگنے دی کہ یہ کیسے ہو گا !

خواب خوشی کا تھا ،، مگر چَکر غم کا چلا دیا !

*یوسف* دو کلومیٹر دور کنوئیں میں پڑے ہیں مگر خوشبو نہیں آنے دی !

اگر خوشبو آ گئی تو باپ رہ نہیں سکے گا جا کر نکلوا لے گا ! جبکہ بادشاہی کے لئے سفر اسی کنوئیں سے لکھا گیا تھا !

سمجھا دوں گا تو بھی اخلاقی طور پر بہت برا لگتا ہے
کہ ایک باپ اپنے بیٹے کو بادشاہ بنانے کے لئے اسے کنوئیں میں ڈال کر درخت کے پیچھے سے جھانک جھانک کے دیکھ رہا ہے کہ قافلے والوں نے اٹھایا ہے یا نہیں ! لہذا سارا انتظام اپنے ہاتھ میں رکھا ہے !

اگر *یوسف* کے بھائیوں کو پتہ ہوتا کہ اس کنوئیں میں گرنا بادشاہ بننا ہے اور وہ *یوسف* کی مخالفت کر کے اصل میں اسے بادشاہ بنانے میں اللہ کی طرف سے استعمال ہو رہے ہیں تو وہ ایک دوسرے کی منتیں کرتے کہ مجھے دھکا دے دو !

*یوسف* عزیز مصر کے گھر گئے تو نعمتوں بھرے ماحول سے اٹھا کر جیل میں ڈال دیا کہ
*ان مع العسرِ یسراً*

جیل کے ساتھیوں کے خوابوں کی تعبیر بتائی تو بچ جانے والے سے کہا کہ میرے کیس کا ذکر کرنا بادشاہ کے دربار میں مگر مناسب وقت تک *یوسف* کو جیل میں رکھنے کی اسکیم کے تحت شیطان نے اسے بھلا دیا۔

یوں شیطان بھی اللہ کی اسکیم کو نہ سمجھ سکا اور بطورِ ٹول استعمال ھو گیا ،اگر اس وقت *یوسف* علیہ السلام کا ذکر ہو جاتا تو *یوسف* سوالی ہوتے اور رب کو یہ پسند نہیں تھا- اس کی اسکیم میں بادشاہ کو سوالی بن کر آنا تھا ، اور پھر بادشاہ کو خواب دکھا کر سوالی بنایا

اور *یوسف* علیہ السلام کی تعبیر نے ان کی عقل و دانش کا سکہ جما دیا- بادشاہ نے بلایا تو فرمایا *میں "این آر او" کے تحت باہر نہیں آؤں گا جب تک عورتوں والے کیس میں میری بے گناہی ثابت نہ ہو جائے*
عورتیں بلوائی گئیں- سب نے *یوسف* کی پاکدامنی کی گواہی دی اور مدعیہ عورت نے بھی جھوٹ کا اعتراف کر کے کہہ دیا کہ
*انا راودتہ عن نفسہ و انہ لمن الصادقین*

وہی قحط کا خواب جو بادشاہ کو *یوسف* کے پاس لایا تھا- وہی قحط ہانکا کر کے *یوسف* کے بھائیوں کو بھی ان کے دربار میں لے آیا ، اور دکھا دیا کہ یہ وہ بےبس معصوم بچہ ہے جسے تمہارے حسد نے بادشاہ بنا دیا ،

فرمایا *پہلے بھی تم میرا کرتہ لے کر گئے تھے ،جس نے میرے باپ کی بینائی کھا لی کیونکہ وہ اسی کرتے کو سونگھ سونگھ کر گریہ کیا کرتے تھے* فرمایا *اب یہ کرتہ لے جاؤ یہ وہ کھوئی ھوئی بینائی واپس لے آئے گا* !

اب *یوسف* نہیں *یوسف* کا کرتا مصر سے چلا ہے تو کنعان کے صحراء مہک اٹھے ہیں، *یعقوب* چیخ پڑے ھیں
*انی لَاَجِدُ ریح یوسف لو لا ان تفندون۔*

(تم مجھے سٹھیایا ہوا نہ کہو تو ایک بات کہوں " مجھے یوسف کی خوشبو آ رہی ھے )

سبحان اللہ !
جب رب نہیں چاہتا تھا تو 2 کلومیٹر دور کے کنوئیں سے خبر نہیں آنے دی - جب سوئچ آن کیا ہے تو مصر سے کنعان تک خوشبو سفر کر گئی ہے !

*واللہ غالب علی امرہ ولٰکن اکثر الناس لا یعلمون !*
( اللہ جو چاھتا ہے وہ کر کے ہی رہتا ھے مگر لوگوں کی اکثریت یہ بات نہیں جانتی !)
یاد رکھیں......
*"آپ کے عزیزوں کی چالیں اور حسد شاید آپ کے بارے میں اللہ کی خیر کی اسکیم کو ہی کامیاب بنانے کی کوئی خدائی چال ہو ،،*
انہیں کرنے دیں جو وہ کرتے ہیں، اللہ پاک سے خیر مانگیں !
وٹس ایپ کاپی
 

سیما علی

لائبریرین
جاپان سے ہم صفائی اور نفاست کے بارے میں کیا سیکھ سکتے ہیں؟
سٹیو جان پاول اور اینجلز میرین کیبلو بی بی سی ٹریول
  • 16 اکتوبر 2019

Image copyrightJAPAN/ALAMY
_109139713_95ecbca2-3e2b-4be5-9ef5-5b7fc2b537bc.jpg

Image captionبدھ مت کے زین فرقے کے
مطابق روزانہ کھانا کھانے اور رہائش کی جگہ کی صفائی مذہبی احکامات پر عمل کے مترادف ہے
اگر آپ جاپان کا پہلی بار دورہ کر رہے ہیں تو سب سے پہلے جو چیز آپ کی توجہ حاصل کرے گی وہ ہے جاپان کی صفائی۔ آپ دیکھیں گے نہ تو جاپان کی گلیوں میں کوڑے دان ہیں اور نہ ہی صفائی کرنے والے نظر آئیں گے۔ آخر جاپان کی صفائی کا راز کیا ہے؟

طالبعلم دن بھر کی پڑھائی کے اختتام پر اپنے بستے ڈیسک پر رکھ کربیٹھے ہیں اور اس انتظار میں ہیں کہ دن بھر کی پڑھائی کے بعد چھٹی ملے گی اور وہ گھر جائیں گے۔

وہ اپنے استاد کی ہر بات کو دھیان سے سن رہے ہیں جس نے ابھی کچھ اعلانات کرنے ہیں۔ ٹیچر کا اعلان شروع ہوتا ہے: ’آج کا صفائی کا روسٹر کچھ ایسے ہے۔ پہلی اور دوسری لائن کلاس روم کی صفائی کریں گی، تیسری اور چوتھی لائن راہداری اور سیڑھیوں کی صفائی کریں گی اور پانچویں لائن ٹوائلٹ صاف کرے گی۔'

پانچویں لائن سے کچھ چوں چراں کی آوازیں آتی ہیں لیکن طالبعلم کلاس روم کی الماری میں سے صفائی کا سامان اٹھا کر ٹوائلٹ کی صفائی کے لیے روانہ ہو جاتے ہیں۔
یہ منظر کسی ایک سکول کا نہیں ہے بلکہ پورے ملک کے سکولوں میں ایسا ہی ہوتا ہے۔

جو لوگ پہلی مرتبہ جاپان آتے ہیں وہ یہاں صفائی کی صورتحال دیکھ کر بہت حیران ہوتے ہیں۔ ان کے مشاہدے میں آتا ہے کہ گلیوں میں نہ تو کوڑے دان ہیں اور نہ ہی صفائی کرنے وا لے جھاڑو لگا رہے ہوتے ہیں۔ اور پھر ان کے ذہن میں ایک ہی سوال ابھرتا ہے کہ جاپان اتنا صاف ستھرا کیسے ہے؟

Image copyrightIAN DAGNALL/ALAMY)
_109139709_af912f79-5ea6-4edc-ba3d-3ca4f04aabdf.jpg

Image captionجو لوگ پہلی بار جاپان آتے ہیں وہ ملک میں صفائی دیکھ کر بہت حیران ہوتے ہیں
اس سوال کا آسان جواب تو یہ ہے کہ جاپان کے رہائشی خود اپنے ملک کو اتنا صاف رکھتے ہیں۔ ہیروشیما پریفیکچر کی حکومت کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر مائیکو ایوانے کہتے ہیں کہ 'پرائمری کلاس سے لے کر ہائی سکول تک 12 برسوں میں طالب علموں کے لیے صفائی روز کا معمول ہے۔ ہمارے گھروں میں والدین تلقین کرتے ہیں کہ اپنی اشیا اور اپنی جگہوں کو صاف نہ رکھنا بری بات ہے۔‘

’معاشرتی شعور اور سکول کے نصاب کی وجہ ہمارے بچوں میں صفائی کے بارے میں آگاہی پیدا ہوتی ہے اور وہ اپنے اردگر کے ماحول سے محبت کرتے ہیں۔ کون چاہتا ہے کہ اس کا سکول گندہ ہو جسے انھوں نے خود صاف کرنا ہے۔‘

جاپانی زبان کی ایک مترجم چیکا ہیاشی کہتی ہیں: 'بعض اوقات میں سکول میں صفائی نہیں کرنا چاہتی ہوں لیکن پھر میں اس پر راضی ہو جاتی ہوں کیونکہ یہ ہمارے سکول کا معمول ہے ۔ میں سمجھتی ہوں کہ سکول کی صفائی اچھی چیز ہے کیونکہ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم جن چیزوں اور جگہوں کا استعمال کرتے ہیں انھیں صاف رکھنا کتنا ضروری ہے۔‘

جب طالبعلم سکول آتے ہیں تو انھیں اپنے جوتے لاکر میں رکھ کر ٹرینر پہننے ہوتے ہیں۔ گھروں میں بھی لوگ گلی میں پہنے جانے والے جوتوں گھر کے سامنے والے حصے میں اتار دیتے ہیں۔
جاپانی معاشرے میں صفائی کے رجحان کی وجوہات اس سے بھی گہری ہے۔ صفائی بدھ مت کا بنیادی جزو ہے۔ بدھ مت چھٹی اور آٹھویں صدی میں چین اور کوریا کے راستے جاپان تک پہنچے۔ بدھ مت کے فرقے زین کے مطابق روزمرہ کی صفائی اور کھانا پکانے کو مراقبے جیسا روحانی عمل تصور کیا جاتا ہے۔

بدھ مت کے زین فرقے کا جاپان میں ظہور بارہویں اور تیرویں صدی میں ہوا۔ زین فرقے کے مطابق روزانہ کھانا کھانے اور رہائش کی جگہ کی صفائی بدھ مت کےاحکامات پر عمل کرنے کا موقع مہیا کرتا ہے۔

ہیروشیما پریفیکچرکے شنشوجی مندر کے ایروکو کواگی کہتے ہیں: 'جسمانی اور روحانی گندگی کی صفائی روزہ مرہ کے معمولات کا اہم جز ہے۔‘

اوکاکارا کاکورو کی مشہور زمانہ کتاب 'دی بک آف ٹی'(چائے کی کتاب) میں لکھا ہے کہ جس گھر میں چائے کی تقریب کا انعقاد ہو رہا ہو وہاں ہر چیز کا انتہائی صاف ستھری حالت میں ہونا ضروری ہے۔ اگر کمرے کے کسی تاریک کونے میں بھی گرد کا ایک ذرہ بھی نظر آ جائے اس کا مطلب ہے تقریب کا اہتمام کرنے والا اپنے فن کا ماہر نہیں ہے۔

انٹرنیٹ کاپی
 
آخری تدوین:

سیما علی

لائبریرین
*"حاصل مطالعہ "*

*"اللہ کی پلاننگ"*

*یوسف* کو بادشاہی کا خواب دکھایا-باپ کو بھی پتہ چل گیا ، ایک موجودہ نبی ہے تو دوسرا مستقبل کا نبی ہے ! مگر دونوں کو ہوا نہیں لگنے دی کہ یہ کیسے ہو گا !

خواب خوشی کا تھا ،، مگر چَکر غم کا چلا دیا !

*یوسف* دو کلومیٹر دور کنوئیں میں پڑے ہیں مگر خوشبو نہیں آنے دی !

اگر خوشبو آ گئی تو باپ رہ نہیں سکے گا جا کر نکلوا لے گا ! جبکہ بادشاہی کے لئے سفر اسی کنوئیں سے لکھا گیا تھا !

سمجھا دوں گا تو بھی اخلاقی طور پر بہت برا لگتا ہے
کہ ایک باپ اپنے بیٹے کو بادشاہ بنانے کے لئے اسے کنوئیں میں ڈال کر درخت کے پیچھے سے جھانک جھانک کے دیکھ رہا ہے کہ قافلے والوں نے اٹھایا ہے یا نہیں ! لہذا سارا انتظام اپنے ہاتھ میں رکھا ہے !

اگر *یوسف* کے بھائیوں کو پتہ ہوتا کہ اس کنوئیں میں گرنا بادشاہ بننا ہے اور وہ *یوسف* کی مخالفت کر کے اصل میں اسے بادشاہ بنانے میں اللہ کی طرف سے استعمال ہو رہے ہیں تو وہ ایک دوسرے کی منتیں کرتے کہ مجھے دھکا دے دو !

*یوسف* عزیز مصر کے گھر گئے تو نعمتوں بھرے ماحول سے اٹھا کر جیل میں ڈال دیا کہ
*ان مع العسرِ یسراً*

جیل کے ساتھیوں کے خوابوں کی تعبیر بتائی تو بچ جانے والے سے کہا کہ میرے کیس کا ذکر کرنا بادشاہ کے دربار میں مگر مناسب وقت تک *یوسف* کو جیل میں رکھنے کی اسکیم کے تحت شیطان نے اسے بھلا دیا۔

یوں شیطان بھی اللہ کی اسکیم کو نہ سمجھ سکا اور بطورِ ٹول استعمال ھو گیا ،اگر اس وقت *یوسف* علیہ السلام کا ذکر ہو جاتا تو *یوسف* سوالی ہوتے اور رب کو یہ پسند نہیں تھا- اس کی اسکیم میں بادشاہ کو سوالی بن کر آنا تھا ، اور پھر بادشاہ کو خواب دکھا کر سوالی بنایا

اور *یوسف* علیہ السلام کی تعبیر نے ان کی عقل و دانش کا سکہ جما دیا- بادشاہ نے بلایا تو فرمایا *میں "این آر او" کے تحت باہر نہیں آؤں گا جب تک عورتوں والے کیس میں میری بے گناہی ثابت نہ ہو جائے*
عورتیں بلوائی گئیں- سب نے *یوسف* کی پاکدامنی کی گواہی دی اور مدعیہ عورت نے بھی جھوٹ کا اعتراف کر کے کہہ دیا کہ
*انا راودتہ عن نفسہ و انہ لمن الصادقین*

وہی قحط کا خواب جو بادشاہ کو *یوسف* کے پاس لایا تھا- وہی قحط ہانکا کر کے *یوسف* کے بھائیوں کو بھی ان کے دربار میں لے آیا ، اور دکھا دیا کہ یہ وہ بےبس معصوم بچہ ہے جسے تمہارے حسد نے بادشاہ بنا دیا ،

فرمایا *پہلے بھی تم میرا کرتہ لے کر گئے تھے ،جس نے میرے باپ کی بینائی کھا لی کیونکہ وہ اسی کرتے کو سونگھ سونگھ کر گریہ کیا کرتے تھے* فرمایا *اب یہ کرتہ لے جاؤ یہ وہ کھوئی ھوئی بینائی واپس لے آئے گا* !

اب *یوسف* نہیں *یوسف* کا کرتا مصر سے چلا ہے تو کنعان کے صحراء مہک اٹھے ہیں، *یعقوب* چیخ پڑے ھیں
*انی لَاَجِدُ ریح یوسف لو لا ان تفندون۔*

(تم مجھے سٹھیایا ہوا نہ کہو تو ایک بات کہوں " مجھے یوسف کی خوشبو آ رہی ھے )

سبحان اللہ !
جب رب نہیں چاہتا تھا تو 2 کلومیٹر دور کے کنوئیں سے خبر نہیں آنے دی - جب سوئچ آن کیا ہے تو مصر سے کنعان تک خوشبو سفر کر گئی ہے !

*واللہ غالب علی امرہ ولٰکن اکثر الناس لا یعلمون !*

( اللہ جو چاھتا ہے وہ کر کے ہی رہتا ھے مگر لوگوں کی اکثریت یہ بات نہیں جانتی !)

یاد رکھیں......
*"آپ کے عزیزوں کی چالیں اور حسد شاید آپ کے بارے میں اللہ کی خیر کی اسکیم کو ہی کامیاب بنانے کی کوئی خدائی چال ہو ،،*
انہیں کرنے دیں جو وہ کرتے ہیں، اللہ پاک سے خیر مانگیں !

وٹس ایپ کاپی
 

سیما علی

لائبریرین
*"حاصل مطالعہ "*

*"اللہ کی پلاننگ"*

*یوسف* کو بادشاہی کا خواب دکھایا-باپ کو بھی پتہ چل گیا ، ایک موجودہ نبی ہے تو دوسرا مستقبل کا نبی ہے ! مگر دونوں کو ہوا نہیں لگنے دی کہ یہ کیسے ہو گا !

خواب خوشی کا تھا ،، مگر چَکر غم کا چلا دیا !

*یوسف* دو کلومیٹر دور کنوئیں میں پڑے ہیں مگر خوشبو نہیں آنے دی !

اگر خوشبو آ گئی تو باپ رہ نہیں سکے گا جا کر نکلوا لے گا ! جبکہ بادشاہی کے لئے سفر اسی کنوئیں سے لکھا گیا تھا !

سمجھا دوں گا تو بھی اخلاقی طور پر بہت برا لگتا ہے
کہ ایک باپ اپنے بیٹے کو بادشاہ بنانے کے لئے اسے کنوئیں میں ڈال کر درخت کے پیچھے سے جھانک جھانک کے دیکھ رہا ہے کہ قافلے والوں نے اٹھایا ہے یا نہیں ! لہذا سارا انتظام اپنے ہاتھ میں رکھا ہے !

اگر *یوسف* کے بھائیوں کو پتہ ہوتا کہ اس کنوئیں میں گرنا بادشاہ بننا ہے اور وہ *یوسف* کی مخالفت کر کے اصل میں اسے بادشاہ بنانے میں اللہ کی طرف سے استعمال ہو رہے ہیں تو وہ ایک دوسرے کی منتیں کرتے کہ مجھے دھکا دے دو !

*یوسف* عزیز مصر کے گھر گئے تو نعمتوں بھرے ماحول سے اٹھا کر جیل میں ڈال دیا کہ
*ان مع العسرِ یسراً*

جیل کے ساتھیوں کے خوابوں کی تعبیر بتائی تو بچ جانے والے سے کہا کہ میرے کیس کا ذکر کرنا بادشاہ کے دربار میں مگر مناسب وقت تک *یوسف* کو جیل میں رکھنے کی اسکیم کے تحت شیطان نے اسے بھلا دیا۔

یوں شیطان بھی اللہ کی اسکیم کو نہ سمجھ سکا اور بطورِ ٹول استعمال ھو گیا ،اگر اس وقت *یوسف* علیہ السلام کا ذکر ہو جاتا تو *یوسف* سوالی ہوتے اور رب کو یہ پسند نہیں تھا- اس کی اسکیم میں بادشاہ کو سوالی بن کر آنا تھا ، اور پھر بادشاہ کو خواب دکھا کر سوالی بنایا

اور *یوسف* علیہ السلام کی تعبیر نے ان کی عقل و دانش کا سکہ جما دیا- بادشاہ نے بلایا تو فرمایا *میں "این آر او" کے تحت باہر نہیں آؤں گا جب تک عورتوں والے کیس میں میری بے گناہی ثابت نہ ہو جائے*
عورتیں بلوائی گئیں- سب نے *یوسف* کی پاکدامنی کی گواہی دی اور مدعیہ عورت نے بھی جھوٹ کا اعتراف کر کے کہہ دیا کہ
*انا راودتہ عن نفسہ و انہ لمن الصادقین*

وہی قحط کا خواب جو بادشاہ کو *یوسف* کے پاس لایا تھا- وہی قحط ہانکا کر کے *یوسف* کے بھائیوں کو بھی ان کے دربار میں لے آیا ، اور دکھا دیا کہ یہ وہ بےبس معصوم بچہ ہے جسے تمہارے حسد نے بادشاہ بنا دیا ،

فرمایا *پہلے بھی تم میرا کرتہ لے کر گئے تھے ،جس نے میرے باپ کی بینائی کھا لی کیونکہ وہ اسی کرتے کو سونگھ سونگھ کر گریہ کیا کرتے تھے* فرمایا *اب یہ کرتہ لے جاؤ یہ وہ کھوئی ھوئی بینائی واپس لے آئے گا* !

اب *یوسف* نہیں *یوسف* کا کرتا مصر سے چلا ہے تو کنعان کے صحراء مہک اٹھے ہیں، *یعقوب* چیخ پڑے ھیں
*انی لَاَجِدُ ریح یوسف لو لا ان تفندون۔*

(تم مجھے سٹھیایا ہوا نہ کہو تو ایک بات کہوں " مجھے یوسف کی خوشبو آ رہی ھے )

سبحان اللہ !
جب رب نہیں چاہتا تھا تو 2 کلومیٹر دور کے کنوئیں سے خبر نہیں آنے دی - جب سوئچ آن کیا ہے تو مصر سے کنعان تک خوشبو سفر کر گئی ہے !

*واللہ غالب علی امرہ ولٰکن اکثر الناس لا یعلمون !*

( اللہ جو چاھتا ہے وہ کر کے ہی رہتا ھے مگر لوگوں کی اکثریت یہ بات نہیں جانتی !)

یاد رکھیں......
*"آپ کے عزیزوں کی چالیں اور حسد شاید آپ کے بارے میں اللہ کی خیر کی اسکیم کو ہی کامیاب بنانے کی کوئی خدائی چال ہو ،،*
انہیں کرنے دیں جو وہ کرتے ہیں، اللہ پاک سے خیر مانگیں !
 

سیما علی

لائبریرین
ﺍﯾﮏ ﭨﯿﭽﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﻼﺱ ﮐﮯ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻭﺭ ﻧﻔﺮﺕ ﮐﺎ ﻓﺮﻕ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﻧﺎ ﭼﺎﮦ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ۔

ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﮐﮭﯿﻞ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﯾﮧ ﺳﺒﻖ ﺳﮑﮭﺎ ﻧﮯ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺎ ۔ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺖ ﺳﻮﭼﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ
" ﺑﭽﻮ ﮨﻢ ﺍﯾﮏ ﮐﮭﯿﻞ ﮐﮭﯿﻠﻨﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺑﮩﺖ ﺷﺎﻧﺪﺍﺭ ﺳﺒﻖ ﺑﮭﯽ ﺣﺎ ﺻﻞ ﮨﻮ ﮔﺎ۔ ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﺳﺐ ﯾﮧ ﮐﮭﯿﻞ ﮐﮭﯿﻠﻨﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﯿﮟ "
ﺑﭽﻮﮞ ﻧﮯ ﯾﮏ ﺯﺑﺎﻥ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ " ﺟﯽ ۔ ﺑﺎﻟﮑﻞ "
" ﺗﻮ ﺑﭽﻮ۔ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮐﺮﻧﺎ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﻞ ﺟﺐ ﺁﭖ ﺳﮑﻮﻝ ﺁﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﯾﮏ ﺷﺎﭘﻨﮓ ﺑﯿﮓ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﮯ ﭨﻤﺎﭨﺮ ﮈﺍﻝ ﮐﺮﻻﺋﯿﮟ ﺟﺘﻨﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﭖ ﻧﻔﺮﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ "

ﭨﯿﭽﺮ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ
ﺳﺐ ﺑﭽﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮍﮮ ﺟﻮﺵ ﻭ ﺧﺮﻭﺵ ﺳﮯ ﭨﯿﭽﺮ ﺳﮯ ﻭﻋﺪﮦ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﮐﻞ ﻭﮦ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ۔
ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﻥ ﮨﺮ ﺑﭽﮯ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺷﺎﭘﻨﮓ ﺑﯿﮓ ﺗﮭﺎ۔ ﮐﺴﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﭨﻤﺎﭨﺮ ، ﮐﺴﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﭻ ﭨﻤﺎﭨﺮﺗﮭﮯ۔ ﻏﺮﺿﯿﮑﮧ ﭨﻤﺎﭨﮍﻭﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﻇﺎﮨﺮ ﮐﺮﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﺘﻨﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﻭﮦ ﻧﻔﺮﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﺍﺏ ﭨﯿﭽﺮ ﻧﮯ ﺳﺐ ﺑﭽﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ۔ " ﺑﭽﻮ۔ ﺁﭖ ﺳﺐ ﻟﻮﮒ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﺎﭘﻨﮓ ﺑﯿﮕﺰ ﮐﻮ
ﺑﻨﺪ ﮐﺮﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺱ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﮨﮯ۔ ﭼﺎﮨﮯ ﺁﭖ ﮐﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ، ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ، ﺳﻮﺭﮨﮯ ﮨﻮﮞ، ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﮞ۔ ﺑﺲ ﯾﮧ ﺷﺎﭘﻨﮓ ﺑﯿﮓ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺭﮨﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﮨﺎﮞ ﯾﮧ ﮐﮭﯿﻞ ﺍﯾﮏ ﮨﻔﺘﮧ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮨﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﮨﻔﺘﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﮐﮭﯿﻞ ﮐﺎ ﺍﺧﺘﺘﺎﻡ ﮨﻮﮔﺎ "

ﺳﺐ ﺑﭽﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ " ﺟﯽ ﮨﻢ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﺌﮯ ﯾﮧ ﺗﻮ ﺑﮍﺍ ﺁﺳﺎﻥ ﺳﺎ ﮐﮭﯿﻞ ﮨﮯ "
ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﺁﺳﺎﻥ ﮐﮭﯿﻞ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﺸﮑﻞ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺍ۔ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮨﯽ ﺩﻥ ﭨﻤﺎﭨﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﺪ ﺑﻮ ﺁﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﮔﺊ۔ ﻣﺰﯾﺪ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺟﻦ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﭨﻤﺎﭨﺮ ﺗﮭﮯ ﯾﻌﻨﯽ ﺟﻮ ﺑﭽﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﻔﺮﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻥ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺩﮨﺮﯼ ﻣﺼﯿﺒﺖ ﺗﮭﯽ۔ ﺑﺪﺑﻮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻭﺯﻥ ﺑﮭﯽ ﺍﭨﮭﺎﻧﺎ، ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺱ ﺭﮐﮭﻨﺎ، ﺍﯾﮏ ﻋﺬﺍﺏ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ۔
ﺟﻠﺪ ﮨﯽ ﺑﭽﮯ ﺗﻨﮓ ﺁﮔﺌﮯ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﮭﯿﻞ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﮨﻔﺘﮯ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﺗﯿﺴﺮﮮ ﭼﻮﺗﮭﮯ ﺩﻥ ﮨﯽ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﮨﻤﺖ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﻨﮯ ﻟﮕﯽ۔ ﺑﺪ ﺑﻮ ﺳﮯ ﺳﺐ ﮐﺎ ﺑﺮﺍ ﺣﺎﻝ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﭨﯿﭽﺮ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ " ﻣﯿﮉﻡ ﯾﮧ ﮐﮭﯿﻞ ﺟﻠﺪﯼ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﯾﮟ ﻭﺭﻧﮧ ﮨﻢ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ "
ﭨﯿﭽﺮ ﻧﮯ ﺟﻮ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺗﻮ ﮐﮩﺎ " ﭨﮭﯿﮏ ﮐﮭﯿﻞ ﺁﺝ ﮨﯽ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ - ﺁﭖ ﻟﻮﮒ ﺟﻠﺪﯼ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﺎﭘﻨﮓ ﺑﯿﮓ ﻣﺘﻌﻠﻘﮧ ﺟﮕﮧ ﭘﺮ ﮈﺍﻝ ﮐﺮ ، ﮨﺎﺗﮫ ﺩﮬﻮ ﮐﺮ ﺁﺋﯿﮟ – ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﮐﮭﯿﻞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ "

ﺑﭽﮯ ﺗﻮ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺍﭼﮭﻞ ﭘﮍﮮ ﺍﻭﺭ ﻓﻮﺭﺍ ﺑﺎﮨﺮ ﺑﮭﺎﮔﮯ۔ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺟﺐ ﺳﺐ ﺑﭽﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﻧﮑﮯ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﺗﺎﺯﮔﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﺠﺴﺲ ﮐﮯ ﺗﺎﺛﺮﺍﺕ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻣﻨﺘﻈﺮ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮭﯿﻞ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﺍﻭﺭ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﺟﺎﻥ ﺳﮑﯿﮟ۔
ﭨﯿﭽﺮ ﻧﮯ ﺳﺐ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ
" ﺑﭽﻮ۔ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺟﺘﻨﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﻔﺮﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ۔ ﺍﻧﮑﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﭨﻤﺎﭨﺮ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﮐﺘﻨﺎ ﻣﺸﮑﻞ ﺍﻭﺭ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﺩﮦ ﮐﺎﻡ ﺗﮭﺎ۔
ﮨﻢ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﻧﻔﺮﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﯾﮧ ﺍﺣﺴﺎﺱ، ﯾﮧ ﺳﻮﭺ ﺩﻣﺎﻍ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﻭﺭ
ﯾﮧ ﺳﻮﭺ، ﯾﮧ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺍﻥ ﭨﻤﺎﭨﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﺐ ﮐﺌﯽ ﺩﻧﻮﮞ ﺗﮏ ﭘﮍﯼ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ
ﺑﺪﺑﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ، ﺗﻌﻔﻦ ﭘﮭﯿﻼ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﺫﺭﺍ ﺳﻮﭼﺌﮯ ﮨﻢ ﮐﺘﻨﮯ ﻣﮩﯿﻨﻮﮞ، ﺳﺎﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺑﺪﺑﻮ ﺑﮭﺮﺍ ﺗﻌﻔﻦ ﺯﺩﮦ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﮐﯿﺎ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺩﻝ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺗﻨﮓ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ؟

ﺍﺱ ﮔﻨﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺩﻝ ﺍﻭﺭ ﺩﻣﺎﻍ ﻣﯿﻠﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ۔؟
ﺍﮔﺮ ﮨﻢ ﺍﺱ ﺑﺪﺑﻮ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﻣﺤﺒﺖ ﺟﯿﺴﺎ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺍﻧﮕﯿﺰ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﺗﻮ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺩﻝ ﺧﻮﺵ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮔﺎ۔ "
ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﺏ ﺍﺣﺴﺎ ﺱ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮉﻡ ﮐﺘﻨﯽ ﺑﮍﯼ ﺳﭽﺎﺋﯽ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ۔
ﮐﯿﺎ ﮨﻢ ﻧﻔﺮﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌ ﺳﮑﺘﮯ ۔
ﮐﯿﺎﮨﻢ ﺍﭘﻨﮯﺩﻝ ﻭ ﺩﻣﺎﻍ ﺻﺎﻑ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮫ ﺳﮑﺘﮯ ؟
ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﺍﺣﺴﺎﺱ
ﺍﯾﮏ ﺟﺬﺑﮧ
ﻣﺤﺒﺖ ﺳﺐ ﮐﯿﻠﺌﮯ...

*نوٹ* اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائیے تاکہ اللہ کسی کی زندگی کو آپ کے ذریعے بدل دے
واٹس ایپ
 

سیما علی

لائبریرین
یہ واقعہ مصر میں پیش آیا:
”ایک چھوٹی سی 6 سالہ معصوم بچی سڑکوں پر ٹشو پیپرز بیچ رہی تھی، چہرے پر مسکراہٹ لئے یہ اِدھر سے اُدھر پھدکتی پھر رہی ہے، گاہکوں کو آتے دیکھ کر اپنی چھوٹی سی ٹوکری ان کے سامنے کرتی ہوئی کہتی: آپ کو ٹشو پیپرز چاہئیں؟
وہ ایک خاتون کے سامنے سے گزرتی ہے تو دیکھتی ہے کہ وہ رو رہی ہے، معصوم بچی اس کے پاس رک جاتی ہے، خاتون نے بھی اشک بار آنکھوں سے اس پیاری سی بچی کو دیکھا جو چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ لیے اسے ٹشو پیپر کا پیکٹ پیش کر رہی تھی، اس نے انجانے میں ٹشو پیپر نکالا اور اپنی آنکھوں سے آنسو پونچھنے لگی۔ اس نے اپنے پرس سے ٹشو پیپرز کی قیمت نکالی اور بچی کو دینے کے لیے دیکھا تو وہ جا چکی تھی۔ وہ چھوٹی سی مسکراتی ہوئی بچی اسے بہت اچھی لگی۔ تھوڑی دور ایک خالی بنچ پڑا تھا، وہ خاتون وہاں جا کر بیٹھ گئی، کچھ سوچا اور پھر اپنے موبائل سے اپنے خاوند کو میسیج کیا:
”میں اپنے کیے پر نادم ہوں، جو کچھ ہوا، مجھے اس پر افسوس ہے، آپ جانے دیں، آپ کا موٴقف درست ہے۔“
اس کا خاوند ایک ہوٹل میں پریشان حال بیٹھا تھا کہ اسے بیوی کا یہ خوشگوار پیغام ملا، اس کے چہرے پر پرسکون مسکراہٹ چھا گئی۔ ان میاں بیوی کے مابین کسی بات پر جھگڑا ہوگیا تھا۔ اس خوشی میں اس نے ویٹر کو بلوایا اور بڑی خوشی سے اسے پچاس مصری پونڈ پکڑا کر کہا کہ یہ تمہارے ہیں، ویٹر کو اعتبار نہ آیا اور کہنے لگا: چائے کی قیمت تو صرف 5 پونڈ تھی؟! باقی تمہاری ٹپ ہے، وہ گویا ہوا…
اب ویٹر کے چہرے پر مسکراہٹ تھی، ویٹر کو اتنی بڑی رقم کا ملنا کوئی معمولی بات نہ تھی، اس نے ایک فیصلہ کیا اور اس بوڑھی فقیر عورت کے پاس جا پہنچا، جو فٹ پاتھ پر کپڑا بچھائے چاکلیٹ اور ٹافیاں بیچ رہی تھی، اس نے ایک پونڈ کی چاکلیٹ خریدی اور اسے مسکراتے ہوئے دس پونڈ پکڑا دےئے۔ باقی پونڈ تمہارے لیے، اس نے کہا اور اپنے کام پر واپس چل دیا۔
بوڑھی خاتون بار بار اس 10 پونڈ کے نوٹ کی طرف دیکھ رہی تھی، جو اسے بغیر کسی محنت اور صلے کے مل گئے تھے۔ اس کے چہرے پر بے حد مسکراہٹ تھی۔ اس کا دل مارے خوشی کے بلیوں اچھل رہا تھا، اس نے زمین پر بچھائے ہوئے اپنے سامان کو سمیٹا اور سیدھی قصاب کی دکان پر جا پہنچی، اسے اور اس کی پوتی کو گوشت کھائے کتنی مدت گزر چکی تھی۔ ان کا گوشت کھانے کو جی چاہتا تھا، مگر ان کے وسائل اجازت نہیں دیتے تھے، آج ان کی خواہش پوری ہو رہی تھی۔
اس نے مسکراتے ہوئے گوشت خریدا اور گھر چل دی۔ بوڑھی اماں نے بڑی محنت اور شوق سے گوشت پکایا اور ننھی سی پیاری سی پوتی کا انتظار کرنے لگی کہ وہی تو اس کی کل کائنات تھی، آج وہ گوشت کھا کر کتنی خوش ہوگی؟
وہ سوچوں میں گم تھی کہ ٹشو پیپرز بیچنے والی اس کی پوتی مسکراتی ہوئی گھر میں داخل ہوئی، آج اس کے چہرے پر عام دنوں سے زیادہ مسکراہٹ تھی۔
قارئین کرام! کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم بھی اس ٹشو پیپر بیچنے والی بچی کی طرح مسکراہٹیں تقسیم کریں، لوگوں میں خوشیاں بانٹیں، رسول کریم کی حدیث پر غور کریں۔ رسول کریم نے ایک حدیث میں اپنی امت کی رہنمائی فرمائی اور چہرے کی مسکراہٹ کی جانب توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ تمہارا اپنے بھائی کے ساتھ مسکراتے ہوئے چہرے سے پیش آنا بھی صدقہ ہے۔
واٹس ایپ
 

سیما علی

لائبریرین
۔ *اندر کی حقیقت*

استاد نے کلاس میں داخل ہوتے ہی اپنے سب اسٹوڈنٹس سے پوچھا
آپ سب کی نظروں میں کونسی چیز انسان کو خوبصورت بناتی ہے؟
سب شاگردوں نے مختلف جواب دیئے
کسی نے کہا : خوبصورت آنکھیں
کسی نے کہا : خوبصورت چہرہ
کسی نے کہا : بڑا قد
کسی نے کہا : سفید رنگ
سب کے جواب سن کے استاد نے بیگ سے دو گلاس نکالے
ایک شیشے کا نہایت خوبصورت اور نفیس گلاس
ایک مٹی کا گلاس
استاد نے دونوں گلاسوں میں کوئی الگ الگ چیزیں ڈال دی اور کہا
میں نے شیشے کے گلاس میں زہر ڈالا ہے۔
اور مٹی کے گلاس پینے کا پانی۔
آپ کونسا گلاس پینا چاہتے ہیں؟
سب شاگردوں نے یک زبان ہو کر کہا:مٹی کا گلاس
استاد نے کہا
جب آپکو ان گلاسوں کی اندر کی حقیقت معلوم ہوئی تو پھر آپکی نظروں میں ان کی ظاہری خوبصورتی کی کوئی اہمیت نہیں رہی اسی طرح ہمیں بھی انسان کی اندر سے حقیقت معلوم کرنی چاہیئے۔
کیونکہ بہت سے خوبصورت لباس ایسے ہوتے ہیں جن کے اندر انسان نہیں ہوتے۔
بہت سے خوبصورت چہرے اور جسم ایسے ہوتے ہیں جن کے اندر دل حیوانات سے بھی بدتر ہوتے ہیں۔
#Copied واٹس ایپ
 
آخری تدوین:

سیما علی

لائبریرین
جہان پاکستان

14 جولائی 2020


profile.jpg
شخصیت کو متاثر کن بنانے کے اہم اصول
کسی بھی انسان کا محض اپنی ذات کو اہمیت دینا اور خود پسند ہونا ایک بہترین عمل نہیں بلکہ اپنی ذات میں بہتری لانا ، اپنی شخصیت کو متوازن بنانا اور اپنے اعصاب کو اتنا پرسکون بنانا کہ آپ اپنے تمام کام اچھے انداز سے انجام دے سکیں ، بڑی کامیابی ہے۔ یہاں کچھ باتیں آپ کو ایسی بتائی جارہی ہیں جو کسی بھی انسان کی شخصیت میں نکھار پیدا کرنے کیلئے کافی ہیں۔ حالات اور واقعات کے مطابق اپنی شخصیت میں تبدیلی لانا اور خود کو ہر طرح کے ماحول میں ڈھالنے کی کوشش کرنا آپ کو آگے بڑھنے اور شعور و آگہی میں اضافہ کرنے کا سبب بنتا ہے۔ بدلتے حالات و واقعات میں اگر سامنا کرنے کے بجائے خود کو چھپانے کی کوشش کریں گے تو اعتماد اور عزت میں کمی واقع ہونے کا خدشہ ہو گا۔ اگر کبھی کسی کو آپ کی مدد کی ضرورت ہو تو خود آگے بڑھ کر نرم دلی سے اس کا ہاتھ تھام لیں۔ اگر آپ مدد نہیں کر سکتے تو اسے کسی ایسے شخص کے پاس بھیج دیں جو اس کی مدد کر سکتا ہو۔ اہم بات یہ ہے کہ اس شخص سے اس بھلائی کے بدلے کی توقع نہ رکھیں ۔ اسے صرف اپنے حصے کی نیکی سمجھ کر کریں۔ خود محنت کریں اور عزت کمانے کی کوشش کریں۔ دوسروں کی کامیابیوں کو چھیننے کی بجائے اپنی کامیابیوں کے راستے پر چلتے جائیں۔ یہ گمان مت کریں کہ محنت کے بغیر آپ کوئی کامیابی یا عزت کما پائیں گے۔ ہر طرح کے حالات سے نبردآزما ہوکر ہی آپ اپنی شخصیت کو روشن اور پرکشش بنا سکتے ہیں۔ جسمانی طور پر خود کو متحرک رکھیں ، پیدل چلیں ، لفٹ کے بجائے سیڑھیاں استعمال کریں ، ایسے پلان بنائیں جن میں جسمانی حرکات زیادہ ہو ۔ اس سے آپ کا جسم مضبوط ،چوکس و توانا رہے گا۔ اکثر اوقات منہ بند رکھنے میں عافیت ہوتی ہے البتہ جب بھی کچھ کہنے کا موقع ملے تو ہمیشہ سچائی اور ایمانداری کی بات کریں۔ جب ہم سچ کا ساتھ دیتے ہیں تو دراصل حق کا ساتھ دے کر جھوٹ اور غلط کو مسترد کرتے ہیں۔ لہٰذا سچ پر جمے رہیں اور کبھی جھوٹ اور بددیانتی کا ساتھ نہ دیں۔ خود پر یقین رکھیں اور اپنے عقائد پر ڈٹے رہیں۔ جب آپ اپنے یقین کے مطابق کوئی کام کرتے ہیں تو زیادہ اعتماد اور لگن کے ساتھ اسے انجام دینے کی صلاحیت حاصل کر لیتے ہیں۔ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنا سیکھیں۔ اپنی کوتاہیوں کو سمجھیں اور خود میں تبدیلی لانے کی کوشش کریں۔ کوئی بھی انسان پرفیکٹ نہیں لہٰذا آگے بڑھنے کیلئے اپنی کمزوریوں اور خامیوں سے آگاہ ہونا اور انہیں درست کرنا ضروری ہے۔ اپنے دن کا آغاز اور اختتام عبادات سے کریں۔ پرسکون ماحول میں شور وغل سے دور دل و دماغ کی مکمل محویت کے ساتھ فطرت سے قریب تر ہونے کی کوشش کریں۔ ان نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کریں جن سے اس نے آپ کو نوازا ہے۔ اپنے دوست احباب اور قریبی رشتے داروں کے ساتھ اچھا وقت گزاریں۔ اپنے رشتوں کو مضبوط اور پرسکون بنائیں اور انہیں محبت کے ساتھ لے کر آگے بڑھیں۔
 

سیما علی

لائبریرین
محمد سعید جاویدکی کتاب ’’ایسا تھا میرا کراچی ‘‘سے انتخاب

وقتوں کی بات ہے، ٹرانسسٹر ریڈیو ابھی ایجاد نہیں ہوئے تھے۔ بازار میںدو کمپنیوں کے بڑے بڑے ریڈیو ہوتے تھے لیکن ان تک پہنچ کم از کم اپنے بس کی بات نہیں تھی۔ میرے ابا جان نے الیکٹریشن سے کہہ سن کر ایک ذاتی سا ریڈیو بنوایا تھا اور پھر بڑھئی سے اس کی خوبصورت باڈی بھی بنوا کر اس پر پالش کروا لیا تھا۔ اس میں بس دو ہی بٹن تھے، ایک ریڈیو کو چلانے اور آواز اونچی نیچی کرنے کا جبکہ دوسرا مختلف اسٹیشن بدلنے کا۔ اس کے اندر ایک سو واٹ کا بلب لگتا تھا جو ہر وقت روشن رہتا تھا۔ ایرئل کی ایک باریک اور لمبی سی تار گھر کی چھت پر بندھے بانس پر عشق پیچاں کی بیل کی طرح چڑھا دی گئی تھی ۔

سب سے شاندار ہفتہ وار پروگرام ’’اسٹوڈیو نمبر نو‘‘ تھا

صبح اسکول جانے کے وقت تک ہم اس پر ریڈیو سیلون سنتے رہتے تھے۔ اس کا ’’بناکا گیت مالا‘‘ ہم سب کا پسندیدہ پروگرام ہوا کرتا تھا، جس میں امین سیانی لہک لہک کر مختلف گانے پیش کیا کرتے تھے۔ ریڈیو اسٹیشن کراچی پر دوپہر بارہ بجے فلمی گانے چلتے تھے اور چوٹی کے غیر ملکی اور پاکستانی گیت سنوائے جاتے تھے۔ ایک بجے کا وقت خبروں کے لیے مخصوص تھا، جس کا بڑوں کو بہت انتظار رہتا تھا۔ شام ڈھلے مذہبی پروگرام ہوتے تھے یا کسی استاد اور ان کی منڈلی کو سارنگیاں اور طبلے دے کر بٹھا دیا جاتا اور یوں ان سے کچے پکے راگ سنوا کر وقت گزارا جاتا تھا۔ مغرب کا وقت بچوں کے لیے اور پھر کچھ مذہبی پروگرام ہوتے تھے ۔ رات آٹھ بجے پہلے انگریزی میں اور پھر اردو میں خبریں ہوتی تھیں۔ اپنی انتہائی سریلی اور لہراتی بل کھاتی آواز میں جہاں آرا سعید انگریزی خبریں پڑھتی تھیں، جو کم از کم ہمارے تو اوپر سے گزر جاتی تھیں اور ہمیں خاک سمجھ نہ آتا تھا کہ وہ کیا بتا رہی ہیں۔ انیتا غلام علی بھی انگریزی کی نیوز کاسٹر تھیں اور بڑے سپاٹ لہجے، مگر بہترین انداز میں جلدی جلدی خبریں سنا کر چلی جاتی تھیں

وہ استاد بھی تھیں اس لیے انگریزی کے شین قاف کا بڑا خیال رکھا کرتی تھیں۔ کچھ اور ادھر اُدھر کے پروگرام پیش کیے جاتے اور پھر اردو خبروں کا وقت ہوتے ہی مائیک گرج دار آواز والے شکیل احمدکو تھما دیا جاتا تھا جو آتے ہی سارے دن کا کچا چٹھا سنا دیا کرتے تھے۔ پاکستان کی تاریخ میں ان سے بلند آواز اور بہتر انداز میں خبریں پڑھنے والا پھر کوئی نہ آیا۔ ان کی کرختگی کو متوازن رکھنے کے لیے اکثر اوقات انور بہزاد کو خبریں پڑھنے پر مامور کر دیا جاتا تھا، جو ایک بہت بڑے شاعر اور نعت خواں بہزاد لکھنوی کے صاحب زادے تھے۔ وہ اپنی نر م و ملائم اور لچک دار آواز میں اس طرح خبریں پڑھتے تھے کہ سننے والے اگر سامنے نہ صحیح تو دل میں ضرور ان کی دلکش آواز کا اعتراف کرتے ہوں گے۔ ان کے علاوہ عبدالاسلام، وراثت مرزا اور شمیم اعجاز بھی ہوتی تھیں۔
ریڈیو سننے کا اصل مزہ تو نو بجے کے بعد ہی آیا کرتا تھا جب خاندان کے تمام افراد کام کاج سے فارغ ہو کر ریڈیو کے آس پاس بیٹھ جاتے تھے۔ تب ہی ریڈیو کی تاریخ کا سب سے شاندار ہفتہ وار پروگرام ’’اسٹوڈیو نمبر نو‘‘ شروع ہوا کرتا تھا جس میں بہترین مقامی اور دوسری زبانوں سے اخذ کیے گئے ڈرامے نشر ہوتے تھے۔ ایس ایم سلیم، طلعت حسین، قاضی واجد، محمود علی، ذہین طاہرہ، ظہور احمد، جمشید انصاری، شکیل احمد، نیلوفر علیم، عرش منیر، محمد علی، سنتوش رسل، عشرت ہاشمی اور ننھی سی پروین عرف منی باجی کو کون بھول سکتا ہے! یہ لوگ ڈراموں میں اس خوب صورتی سے اپنا اپنا کردار نبھاتے تھے کہ سننے والے عش عش کر اٹھتے۔ ایس ایم سلیم کو ریڈیو کا دلیپ کمار بھی کہا جاتا تھا۔ ان کی دھیمی دھیمی اور مدھر آواز میں ادا کیے گئے مکالمے دل میں اترتے جاتے تھے۔

ایسے ہی دو اور پروگرام ’’دیکھتا چلا گیا‘‘ اور ’’حامد میاں کے ہاں‘‘ بھی تمام گھروں میں بڑی دلچسپی سے سنے جاتے تھے۔ دس ساڑھے دس بجے تک یہ ہلا گلا لگا رہتا تھا۔ اس کے بعد ایک بار پھر کوئی کلاسیکی راگ چھیڑ دیا جاتا تھا۔ جمعرات اور جمعہ کو کچھ قوالوں کو بٹھا دیا جاتا تھا، جنہیں عام لوگ تو کم ہی سنتے تھے تاہم بے خوابی کے مرض میں مبتلا بزرگ پاس بیٹھے سردھنتے رہتے اور پھر اسے قومی ترانے کے حوالے کرکے اٹھ جاتے تھے۔ تب ہی ریڈیو بھی سب کو شب بخیر کہہ کر اگلی صبح �چھ بجے تک کے لیے خاموش ہو جایا کرتا تھا۔ دن کو البتہ ہم سب اکٹھے بیٹھ کر ریڈیو سنا کرتے تھے جو اس زمانے کا دستور تھا۔ کسی قسم کا کوئی اشتہار چلانا انتہائی غیرشریفانہ فعل سمجھا جاتا تھا۔ پھر 1960ء کے ایک دن سب نے بڑی خوش گوار حیرت سے سنا کہ اگلے دن سے ریڈیو سے بھی کمرشل سروس شروع ہو رہی ہے۔ اس سے پہلے یہ کام صرف ریڈیو سیلون پر ہی ہوتا تھا۔ اگلے دن دوپہر کو بارہ بجے ’’ آپ کی فرمائش‘‘ کا آغاز ہوا تو ہر نغمے کے بعد اشتہار چلاتے، بہت جلد اشتہاری گانے بھی بننے شروع ہو گئے جو اتنے مقبول ہوئے کہ بچے اپنی اپنی پسند کے گانے بآواز بلند گلیوں اور محلوں میں گاتے پھرتے اور یوں مفت میں کمپنی کی تشہیر ہوتی رہتی تھی۔ پھر تو ریڈیو خوب کھل کر کھیلا کیونکہ یہ نشریاتی دنیا کے اکھاڑے کا اکلوتا پہلوان تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب کراچی میں ملک کے بہت بڑے گلوکار احمد رشدی نے بچوں کے پروگرام کے لیے اپنا ایک مقبول گانا گایا، جس کے بول کچھ یوں تھے : بندر روڈ سے کیماڑی میری چلی رے گھوڑا گاڑی بابو ہو جانا فٹ پاتھ پر۔

کاپی شدہ
 

عمار نقوی

محفلین
ایک عورت اپنے تین ماہ کا بچہ ڈاکٹر کو دکھانے آئی،کہ ڈکٹر صاحب میرے بچے کے کان میں درد ہیں،ڈاکٹر نے بچے کا معائینہ کیا اور کہا واقع اس کے کان میں انفیکشن ہوا ہے اور نوٹ پیڈ اٹھا کر کچھ دوائی لکھی اور رخصت کیا،میں حیران تھا،عورت جانے لگی تو میں نے آواز دے کر انہیں روکا،
وہ رک کر پیچھے دیکھنے لگی جیسے کچھ بھول گئی ہو، میں نے کہا بہن جی آپ کا بچہ تین ماہ اور سات دن کا ہے جو بول بھی نہیں سکتا،تو آپ کو کیسے پتا چلا کہ اس کے کان میں تکلیف ہے،
وہ مسکرائی اور میری طرف رخ کرکے کہنے لگی،
بھائی جی، آپ کان کی تکلیف پہ حیران ہیں میں اس کے رگ رگ سے واقف ہوں،یہ کب روتا ہے،کب جاگتا ہے، کب سوتا ہے،مجھے اس کے سارے دن کا شیڈول پتہ ہے کیوں کہ میں ماں ہوں اس کی،
انسان کو جب کوئی تکلیف ہو تو اس کے دن بھر کا شیڈول بدل جاتا ہے،اور کھانے پینے سونے جاگنے کے اوقات بدل جاتے،طبیعت خراب ہونے سے انسان ھر وقت بے چین رہتا ہے،کل رات سے میرا بچہ بھی خلاف معمول روئے جا رہا روئے جارہا ہے،رات جاگ کہ گزاری میں نے اس کے ساتھ،
صبح کو میں نے غور کیا تو بچہ جب رو رہا تھا تو ساتھ ہی اپنا ننھا ہاتھ اپنے ننھے سی کان کی طرف لے جا رہا تھا،میں بچے کو اس کے باپ کے پاس لے گئی،کہ اس کہ کان میں درد ہے،وہ مجھے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے کہ مجھے کیسے پتا چلا،
اس نے بچے کے کان پہ ھاتھ رکھا تو بچہ اور زور سے رونے لگا،اور میں بھی بچے کی تکلیف دیکھ کے رونے لگی،اپنے بچے کی تکلیف برداشت نہیں کرسکی،کیوں کہ میں ماں ہوں،
عورت چلی گئی اور میں نم آنکھوں سے دیر تک کھڑا سوچتا رہا کہ ماں تین ماہ کے بچے کا دکھ درد سمجھ سکتی ہیں اور میں روزانہ ماں سے کتنی دفعہ جھوٹ بولتا ہوں اور وہ یقینًا میرے سارے جھوٹ جانتی ہیں کیوں کہ وہ ماں ہیں،،،تب سے میں نے کبھی ماں سے جھوٹ نہیں بولا،
” اللہ “ سب ماؤں کو زندہ سلامت رکھیں اور جن کی ماں دنیا سے پردہ کر گئیں ہوں ” اللہ “ انہیں جنت الفردوس میں داخل کریں، آمین ثمہ آمین یا رب العالمین
(واٹس ایپ پر ایک دوست نے ارسال کیا)
 

سید عمران

محفلین
جب میں چار سال کا تھا
تو میرا یقین تھا کہ میرے ابو سب سے اچھے ہیں
جب میں چھ سال کا تھا
لگتا تھا میرے ابو سب کچھ جانتے ہیں

جب میں دس سال کا تھا
میرے ابوبہت اچھے ہیں لیکن بس ذرا غصے کے تیز ہیں

جب میں بارہ سال کا تھا
میرے ابو تب بہت اچھے تھے جب میں چھوٹا تھا

جب میں چودہ سال کا تھا
لگتا تھا میرے ابو بہت حساس ہوگئے ہیں
جب میں سولہ سال کا تھا
میرے ابوجدید دور کے تقاظوں سے آشنا نہیں ہیں

جب میں اٹھارہ سال کا تھا
میرے ابو میں برداشت کی کمی بڑھتی جارہی ہے

جب میں بیس سال کا تھا
میرے ابو کے ساتھ تو وقت گزارنا بہت ہی مشکل کام ہے، پتہ نہیں امی بیچاری کیسےان کے ساتھ اتنی مدت سے گزارہ کررہی ہیں

جب میں پچیس سال کا تھا
لگتا کہ میرے ابو کو ہر اس چیز پر اعتراض ہے جو میں کرتا ہوں

جب میں تیس سال کا تھا
میرے ابو کے ساتھ باہمی رضامندی بہت ہی مشکل کام ہے۔شاید دادا جان کو بھی ابو سے یہی شکایت ہوتی ہوگی جو مجھے ہے۔

جب میں چالیس سال کا تھا
ابو نے میری پرورش بہت ہی اچھے اصولوں کے ذریعے کی، مجھے بھی اپنے بچوں کی پرورش ایسی ہی کرنی چاہیے۔

جب میں پینتالیس سال کا تھا
مجھے حیرت ہے کہ ابو نے ہم سب کو کیسے اتنے اچھے طریقے سے پالا پوسا۔

جب میں پچاس سال کا تھا
میرے لیے تو بچوں کی تربیت بہت ہی مشکل کام ہے، پتہ نہیں ابو ہماری تعلیم و تربیت اور پرورش میں کتنی اذیت سے گزرے ہوں گے۔

جب میں پچپن سال کا تھا
میرے ابو بہت دانا اور دور اندیش تھے اور انہوں نے ہماری پرورش اور تعلیم و تربیت کے لیے بہت ہی زبردست منصوبہ بندی کی تھی۔

جب میں ساٹھ سال کا ہوا
مجھے احساس ہوا کہ میرے ابو سب سے اچھے ہیں

غور کیجیے کہ اس دائرے کو مکمل ہونے میں چھپن سال لگے اور بات آخر میں پھر پہلے والے قدم پرآگئی کہ میرے ابو سب سے اچھے ہیں۔

آئیے ہم اپنے والدین سے بہترین سلوک کریں، ان کے سامنے اف تک نہ کریں، ان کی خوب خدمت کریں اور ان سے بہت سا پیار کریں قبل اس کے کہ بہت دیر ہوجائے
اللہ کریم ہم سب کے والدین ان میں سے کوئی جو بقید حیات ہیں کو اچھی صحت اور لمبی عمر دے اور ان کا سایہ ہمارے سر پر سلامت رکھے، آمین
اور یہ دعا کریں کہ اے اللہ میرے والدین پراس طرح رحم فرما جیسے انہوں نے مجھ پراس وقت مہربانی کی جب میں کمسن تھا۔ اور انکو جنت میں جگہ دے۔۔ آمین
 

سیما علی

لائبریرین
*مصروفیت کوئی چیز نہیں، بات صرف ترجیحات کی ہے*

کیا دین ہماری ترجیح ہے؟

مصروفیتِ کارِ جہاں، اُف میری توبہ
فرصت نہ نکالو گے تو فرصت نہ ملے گی
بہت بہترین جناب
ڈھیر ساری دعائیں خوش رہیے شاد وآباد رہیے۔
دے داد اے فلک! دلِ حسرت پرست کی*
ہاں کچھ نہ کچھ تلافیِ مافات چاہیے!!!!!!!!!
 

سید عمران

محفلین
افضل كون والد يا استاذ؟

شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ شیخ عبدالاحدازہری جومصرکےبہت اچھےفقیہ ہیں،میرے مہمان ہوئے،ایک مجلس میں آپ نےحاضرین کےسامنے بہت ہی عمدہ انداز میں تلاوت کی۔پھرگفتگو کا دور شروع ہوا۔ بات نکلی،کہ قرآن نازل ہوا عرب میں پڑھا گیا مصر میں اورسمجھا گیا ہند میں.اس پر انہوں نے اپنا ایک واقعہ بیان کیا۔

کہ ایک مرتبہ میں مسجد نبوی میں حاضر تھا۔ کچھ محبت رکھنے والے علماء نے مجھے مسند پر بٹھا دیا۔ اور کہا ہمیں کچھ نصیحت کریں،بعدنصیحت کےسوال جواب کادورشروع ہوا،کسی نے پوچھا :
"استاذ کا رتبہ بڑا یا والدین کا؟؟
میں نے کہا کہ :
"بعض حضرات نے لکھا ہے کہ استاذ کا درجہ بڑا ہوتا ہے،کیوں کہ والدین بچے کو نیچے(دنيا میں) لانے کو محنت کرتے ہیں اوراستاذبچےکو نیچے( دنیا) سے اوپر لے جانے کے لئے محنت کرتا ہے".
اس جواب پر ایک ادھیڑ عمر کے آدمی نے کہا کہ :
"مجھے آپ کا جواب سمجھ میں نہیں آیا".
میں نے کہا :
"آپ کچھ سمجھا دیں".
اس نے کہاکہ :
" صحابہ کے دور سے یہ ترتیب چلی آ رہی ہے۔(غالبا حضرت معاذ اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک گفتگو کی طرف اشارہ فرمایا) کہ پہلے کتاب اللہ پھر سنت رسول اللہ، پھر عمل صحابہ پھر اخیر میں قیاس ہےاور آپ نے پہلے ہی قیاس کو اٹھایا،حالانکہ والدین کا رتبہ منصوص علیہ ہے۔ اورآپ نےجودلیل پیش کی وہ قیاس ہےجب نص کسی چیز کی فضیلت میں وارد ہوجائےوہ ہر حال میں افضل ہی رہتی ہے،تاآنکہ کوئی دوسری نص اس کے خلاف وارد ہو جائے".

میں نے اپنا سر پکڑ لیا۔۔۔۔ کہ واقعی اتنی زبردست چوک مجھ سے کیسے ہوگئی جب کہ اصول میں یہ بات ہے کہ کسی چیز کی فضیلت ،یا کسی چیز کے ثواب و عقاب کو ثابت کرنے کے لئے نص قطعی الثبوت چاہئے۔ یا ایسا مضبوط باسندالمتصل قول نبی چاہیےجو اس فضلت یا ثواب وعقاب کےمعاملہ میں صریح ہو،میں نے کہا :
"واقعی میں غلطی پر تھاکچھ اورفرمائیں"۔
کہا کہ :
"ایک باندی تھی ابو لہب کی آزاد کردہ جن کا نام تھا "ثویبہ" جنہوں نے چند روز آپ علیہ السلام کو اپنا دودھ پلایا تھا۔ ایک مرتبہ تشریف لائیں۔ تو آپ نے اپنی دستار مبارک ان کے راستہ میں بچھا دی۔ یہ درجہ دیا اس ذات کو جس نے چند روزدودھ پلایاتو جنم دینے والی کا کیا حق ہوگا؟ اور دوسری طرف حضرت جبرئیل جو من وجہ آپ کے استاذ تھے۔ ان کی آمد پر اس قسم کی تکریم ثابت نہیں".

میں نے کہا :
آپ کے جواب سے اطمینان ہوا،کلام الہی اور عمل نبی کے بعد کسی چیز کی ضرورت نہیں"۔
پھروہ اٹھ کرچل دیئےمیں نے کہا :
"شاید کوئ فقیہ ہیں".
اھل مجلس نے کہا کہ :
"یہ ہندوستان کےادارہ دارالعلوم دیوبندکےاستاذحدیث مفتی سعیداحمدپالنپوری ہیں".
(مجالس عثمانی)
 

سید عمران

محفلین
ﯾﻮﺭﭖ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﮐﻔﺮ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ،
ﯾﻮﺭﭖ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺳﺨﺖ ﺑﺪﺑﻮ ﺁﺗﯽ ﺗﮭﯽ ! ﺭﻭﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻗﯿﺼﺮ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﻓﺮﺍﻧﺲ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻟﻮﺋﯿﺲ ﭼﮩﺎﺭﻢ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﮭﯿﺠﮯ ﮔﺌﮯ ﻧﻤﺎﺋﻨﺪﮮ ﻧﮯ لکھﺎ کہ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﺑﺪﺑﻮ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺩﺭﻧﺪﮮ ﮐﯽ ﺑﺪﺑﻮ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﺘﻌﻔﻦ ﮨﮯ "،
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﻟﻮﻧﮉﯼ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ "ﻣﻮﻧﭩﯿﺎﺳﺒﺎﻡ" ﺗﮭﺎﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﺑﺪﺑﻮ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﮈﺍﻟﺘﯽ ﺗﮭﯽ ۔
ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺧﻮﺩ ﺭﻭﺳﯽ ﺑﮭﯽ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﮯ،
ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺳﯿﺎﺡ ﺍﺑﻦ ﻓﻀﻼﻥ ﻧﮯ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﻭﺱ ﮐﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻗﯿﺼﺮ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﺁﻧﮯ ﭘﺮ ﻣﮩﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮨﯽ ﮐﮭﮍﮮ ﮐﮭﮍﮮ ﺷﺎﮨﯽ ﻣﺤﻞ ﮐﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﭘﺮ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﮐﺮﺗﺎ، ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﮮ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺳﺘﻨﺠﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ، ﺍﯾﺴﯽ ﮔﻨﺪﯼ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﻣﯿﮟ نے ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﯽ " ۔
ﺍﻧﺪﻟﺲ ﻣﯿﮟ ﻻﮐﮭﻮﮞ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﻠﮑﮧ " ﺍﯾﺰﺍﺑﯿﻼ" ﺳﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺻﺮﻑ ﺩﻭ ﺑﺎﺭ ﻧﮩﺎﺋﯽ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺣﻤﺎﻣﻮﮞ ﮐﻮ ﮔﺮﺍ ﺩﯾﺎ ۔
ﺍﺳﭙﯿﻦ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ " ﻓﻠﭗ ﺩﻭﻡ " ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﻣﮑﻤﻞ ﭘﺎﺑﻨﺪﯼ ﻟﮕﺎ ﺭﮐﮭﯽ ﺗﮭﯽ ،
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﺍﯾﺰﺍﺑﯿﻞ ﺩﻭﺋﻢ ﻧﮯ ﻗﺴﻢ ﮐﮭﺎﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺷﮩﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﻣﺤﺎﺻﺮﮦ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ تک ﺩﺍﺧﻠﯽ ﻟﺒﺎﺱ ﺑﮭﯽ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮونگی ﺍﻭﺭ ﻣﺤﺎﺻﺮﮦ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﻦ ﺳﺎﻝ ﻟﮕﮯ۔
ﯾﮧ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﮯ ﻧﮩﯿﮟ مغرب کے ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﮨﯿﮟ،

ﺟﺐ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﯿﺎﺡ ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ﻟﮑﮫ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ،
ﺟﺐ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﺎﺋﻨﺴﺪﺍﻥ ﻧﻈﺎﻡ ﺷﻤﺴﯽ ﭘﺮ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔

ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮩﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﮔﻨﺎﮦ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﮮ ﮐﺮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮواﺗﮯ ﺗﮭﮯ،

ﺟﺐ ﻟﻨﺪﻥ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﺮﺱ ﮐﯽ ﺁﺑﺎﺩﯾﺎﮞ 30 ﺍﻭﺭ 40 ﮨﺰﺍﺭ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺷﮩﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺁﺑﺎﺩﯾﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﻣﻠﯿﻦ ﮨﻮﺍ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ،
ﻓﺮﻧﭻ ﭘﺮﻓﯿﻮﻡ ﺑﮩﺖ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭجہ ﯾﮩﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭘﺮﻓﯿﻮﻡ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﭘﯿﺮﺱ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮﻣﻨﺎ ﻣﻤﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ۔
ﺭﯾﮉ ﺍنڈینز جب اہل ﯾﻮﺭپ ﺳﮯ ﻟﮍﺗﮯ ﮔﻼﺏ ﮐﮯ ﭘﮭﻮﻝ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﺎﮎ ﻣﯿﮟ ﭨﮭﻮﻧﺲ لیتے ﺗﮭﮯ ﮐﯿﻮﮞ اہل ﯾﻮﺭپ ﮐﯽ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﺪﺑﻮ ﺗﯿﺰ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﮭﯽ!!
ﻓﺮﺍﻧﺴﯿﺴﯽ ﻣﻮﺭﺥ " ﺩﺭﯾﺒﺎﺭ " ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ
":ﮨﻢ ﯾﻮﺭﭖ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻘﺮﻭﺽ ﮨﯿﮟ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮨﯽ ﮨﻤﯿﮟ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﯿﻨﮯ ﮐﺎ ﮈﮬﻨﮓ ﺳﮑﮭﺎﯾﺎ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮨﯽ ﮨﻤﯿﮟ ﻧﮩﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﻟﺒﺎﺱ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮐﺮﻧﺎ ﺳﮑﮭﺎﯾﺎ، ﺟﺐ ﮨﻢ ﻧﻨﮕﮯ ﺩﮬﮍﻧﮕﮯ ﮨﻮﺗﮯ تھے، ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﮐﻮ ﺯﻣﺮﺩ، ﯾﺎﻗﻮﺕ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺟﺎﻥ ﺳﮯ ﺳﺠﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ، ﺟﺐ ﯾﻮﺭﭘﯽ ﮐﻠﯿﺴﺎ ﻧﮩﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﮐﻔﺮ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺻﺮﻑ ﻗﺮﻃﺒﮧ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ 300 ﻋﻮﺍﻣﯽ ﺣﻤﺎﻡ ﺗﮭﮯ

"پھر وقت پلٹا اور ہم سے ہماری سائنس، ہمارا علم ہماری ترقی کے راز لے گیا .
ہمیں بدلے میں احساس کمتری دے دی ،ہمیں فیشن نامی لفظ کے ساتھ بے ہودگی دے دی، ہمین ماڈرن بنانے کے نام پر بے حیائی دے دی، ہم نے ان کی دی ہر اس چیز کا ویلکم کیا جس سے ہم بری طرح تباہ ہو سکتے تھے۔
انہوں نے ہمیں آزادی کا نام اور ساتھ غلط تعبیریں دے دیں
ہم نے اپنے نصابوں میں بغاوت کے اصولوں کو آزادی کے اصول قرار دے کر پڑھانا شروع کر دیا .
*پھر ایسا ہوا کہ ہم نے عیاشی کو کامیاب زندگی سمجھنا شروع کر دیا
پھر ایسا ہوا کہ وہ چاند پر جا رہے تھے ہم تفرقہ پرستی پر بحث کر رہے ہیں.
وہ مریخ کا سفر کر رہے ہیں ہم 1300 سال پہلے صحابہ کے مسلمان ہونے نہ ہونے پر بحث کر رہے ہیں.
انہوں نے سمندر میں پٹرول کے ذخائر بنانے شروع کر دئیے ہم نے پٹرول سے جلاو گھیراو آگ لگاو تحریکیں چلانا شروع کردی .
انہون نے ادب میں ایسے شاہکار تخلیق کرنے شروع کیے جو افکار بدل دیں تو ہم نے۔۔۔۔
لب و رخسار
چائے کی پیالی
کالج کی لڑکی لکھنا
۔۔۔۔۔شروع کر دیا .

انہوں نے قرآن کو اپنی لیبارٹریز کا حصہ بنا لیا اور ہم نے اچھے قیمتی غلاف بنانا شروع کر دیے اور طاق کی سجاوٹ کے مقابلے شروع کر دئیے.

انہوں نے عمر فاروق کی سادگی اپنا لی اور ہم نے عیاشی اپنا لی.

جب وہ اپنے بچوں کو زندگی کی حقیقت سکھا رہے ہیں ہم سکول ،کالج اور یونیورسیٹیز میں فرسٹ، سکینڈ اور تھرڈ پوزیشن لینے کے گر بتا رہے ہیں ۔

اہل دانش سمجھتے ہیں کہ۔۔۔
آٸندہ جنگیں میدان جنگ میں نہیں کلاس رومز میں لڑی جائینگی ۔
اور آج ہم نٸی نسلوں کو مادیت پرستی کی بھٹی میں جھونک کر پیسے کو ترقی اور کامیابی کا استعارہ قرار دے رہے ہیں۔
وہ اپنے بچوں کو جینا بتا رہے ہیں اور ہم ایک دوسرے سے جیتنا سکھا رہے ہیں.

انہوں نے اپنی بے حیاٸی اور خواہشات کے سامان کو کم کر کے ویلنٹاٸن ڈے میں جمع کر دیا اور ہم نے اس کو منانے کے لیے روشن خیالی کا نیا نعرہ لگا دیا ۔

جب وہ شکیسپئیر اور گوٸٹے کے کلام کو الہامی ، روحانی کلام ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں عین اسی وقت ہم اقبال کو مشکل قرار دے کر اپنی نسل کو تن آسان بنا رہے ہیں ۔

یہ ہے وقت کا پلٹا جو ہمیں خدا نے نہیں دیا۔
خدا بھی وہی ہے زمانہ بھی وہی ہے مگر معیار بدل گئے ہیں۔

اگر کوئی مجھ سے ان حالات کی وجہ پوچھے تو میں اسے علامہ اقبال کی بارگاہ میں لے جاوں اور کہوں شکوہ ، جواب شکوہ پڑھیں.
ساری بات سمجھ آجائیگی نصاب کا حصہ بنا لیں آنے والی نسلیں ضائع ہونے سے بچ جائیں گی۔
 

سیما علی

لائبریرین
اگر کوئی مجھ سے ان حالات کی وجہ پوچھے تو میں اسے علامہ اقبال کی بارگاہ میں لے جاوں اور کہوں شکوہ ، جواب شکوہ پڑھیں.
ساری بات سمجھ آجائیگی نصاب کا حصہ بنا لیں آنے والی نسلیں ضائع ہونے سے بچ جائیں گی۔

کاش ہم سمجھتے اور سمجھا پاتے کہ مسلمانو ں یہ تمہارے مختلف مسالک اور مدارس کی طرف سے دی جارہی مختلف دعوت و تبلیغ اور تعلیم واصلاح کی باتیں بھی تمہاری اذان کی طرح محض پیشہ وارانہ فن اور فلسفے کے سوا کچھ نہیں – اقبال نے شاید ہمارے اسی معاشرے کی منظر کشی کرتے ہوئے کہا ہے کہ
افسوس صد افسوس؀

رہ گئی رسمِ اذاں، رُوحِ بِلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا، تلقینِ غزالی نہ رہی
 
Top