نوید صادق

محفلین
یہ جو ہم کبھی کبھی سوچتے ہیں رات کو
رات کیا سمجھ سکے ان معاملات کو

آنکھ جب اُٹھے بھر آئے، شعر اب کہا نہ جائے
کیسے بھول جائیے ، بھولنے کی بات کو

اے بہارِ سرگراں! تو خزاں نصیب ہے
اور ہم ترس گئے تیرے التفات کو
 

نوید صادق

محفلین
سکوں پیام اداؤں کو مہرباں دیکھو
سمجھ گئے تو کوئی اور آستاں دیکھو

وہی قیامتِ احساس ہے، جدھر جاؤ
وہی حکایتِ لبریز ہے، جہاں دیکھو

یہ زندگی ہے تمہاری، اگر خرید سکو
نہیں تو خیر، وہی راہِ رفتگاں دیکھو

یہ رنگ جن میں زمانوں کی آگ لرزاں ہے
یہ خوابکارئ جذباتِ رائیگاں دیکھو

یہ نرم خواب سفینے، جزیرہ ہائے تلاش
وہ ہم خرام کناروں کی بستیاں دیکھو

عذابِ دیدہ و دل سے نجات ممکن ہے
تو بھول جاؤ، مگر بھول کر کہاں دیکھو
 

نوید صادق

محفلین
پلکوں پر حسرت کی گھٹائیں، ہم بھی پاگل تم بھی
جی نہ سکیں اور مرتے جائیں، ہم بھی پاگل تم بھی

خواب میں جیسے جان چھڑا کر بھاگ نہ سکنے والے
بھاگیں اور وہیں رہ جائیں، ہم بھی پاگل تم بھی
 

نوید صادق

محفلین
پھر وہی انتظار کی زنجیر
رات آئی، دئے جلانے لگے

حال، احوال کیا سنائیں تمہیں
سب ارادے گئے، ٹھکانے لگے

منزلِ صبح آ گئی شائد
راستے ہر طرف کو جانے لگے
 

نوید صادق

محفلین
محبت کو گلے کا ہار بھی کرتے نہیں بنتا
کچھ ایسی بات ہے، انکار بھی کرتے نہیں بنتا

بھنور سے جی بھی گھبراتا ہے، لیکن کیا کیا جائے
طوافِ موجِ کم رفتار بھی کرتے نہیں بنتا

اسی دل کو بھری دنیا کے جھگڑے جھیلنے ٹھہرے
یہی دل جس کو دنیا دار بھی کرتے بھی نہیں بنتا

جلاتی ہے دلوں کو سردمہری بھی زمانے کی
سوالِ گرمئ بازار بھی کرتے نہیں بنتا

خزاں ان کی توجہ ایسی ناممکن نہیں، لیکن
ذرا سی بات پر اصرار کرتے بھی نہیں بنتا
 

نوید صادق

محفلین
آئینے کہتے ہیں اس خواب کو رسوا نہ کرو
ایسے کھوئے ہوئے انداز سے دیکھا نہ کرو

کیسے آ جاتی ہے کونپل پہ یہ جادو کی لکیر
دن گزر جاتے ہیں، محسوس کرو یا نہ کرو
 

نوید صادق

محفلین
سنبھالنے سے طبیعت کہاں سنبھلتی ہے
وہ بے کسی ہے کہ دنیا رگوں میں چلتی ہے

تمام آنکھوں میں آنسو ہیں، کیسے ہوتے ہیں
وہ لوگ جن کے لئے زندگی بدلتی ہے

تمہیں خیال نہیں، کس طرح بتائیں تمہیں
کہ سانس چلتی ہے، لیکن اداس چلتی ہے
 

نوید صادق

محفلین
تیری ہی طرح اب یہ ترے ہجر کے دن بھی
جاتے نظر آتے ہیں مگر کیوں نہیں جاتے

اب یاد کبھی آئے تو آئینے سے پوچھو
محبوب خزاں شام کو گھر کیوں نہیں جاتے
 

نوید صادق

محفلین
جنوں سے کھیلتے ہیں، آگہی سے کھیلتے ہیں
یہاں تو اہلِ سخن آدمی سے کھیلتے ہیں

تمام عمر یہ افسردگانِ محفلِ گُل
کلی کو چھیڑتے ہیں، بے کلی سے کھیلتے ہیں

جو کھیل جانتے ہیں اُن کے اور ہیں انداز
بڑے سکون، بڑی سادگی سے کھیلتے ہیں

خزاں کبھی تو لکھو ایک اس طرح کی غزل
کہ جیسے راہ میں بچے خوشی سے کھیلتے ہیں
 

نوید صادق

محفلین
حسرتِ آب و گِل دوبارہ نہیں
دیکھ، دنیا نہیں، ہمیشہ نہیں

سادہ کاری، کئ پرت، کئ رنگ
سادگی اک ادائے سادہ نہیں

حالِ دل اتنے پیار سے مت پوچھ
حال آئندہ ہے، گزشتہ نہیں

میں کہیں اور کس طرح جاؤں
تو کسی اور کے علاوہ نہیں

اے ستارو! کسے پکارتے ہو
اس خرابے میں کوئی زندہ نہیں

کبھی ہر سانس میں زمان و مکاں
کبھی برسوں میں ایک لمحہ نہیں
 

نوید صادق

محفلین
تم بہت دور ہو، ہم بھی کوئی نزدیک نہیں
دل کا کیا ٹھیک ہے، کم بخت ٹھہر جائے کہاں

رخِ صحرا ہے خزاں گھر کی طرف مدت سے
ہم جو صحرا کی طرف جائیں تو گھر جائے کہاں
 

نوید صادق

محفلین
حال ایسا نہیں کہ تم سے کہیں
ایک جھگڑا نہیں کہ تم سے کہیں

زیرِ لب آہ بھی محال ہوئی
درد اتنا نہیں کہ تم سے کہیں

سب سمجھتے ہیں اور سب چُپ ہیں
کوئی کہتا نہیں کہ تم سے کہیں

کس سے پوچھیں کہ وصل میں کیا ہے
ہجر میں کیا نہیں کہ تم سے کہیں

اب خزاں یہ بھی کہہ نہیں سکتے
تم نے پوچھا نہیں کہ تم سے کہیں
 

نوید صادق

محفلین
چاہی تھی دل نے تجھ سے وفا کم بہت ہی کم
شائد اسی لئے ہے گلہ کم بہت ہی کم

تھے دوسرے بھی تیری محبت کے آس پاس
دل کو مگر سکون ملا، کم، بہت ہی کم

جلتے سنا چراغ سے دامن ہزار بار
دامن سے کب چراغ جلا، کم بہت ہی کم

یوں مت کہو، خزاں کہ بہت دیر ہو گئ
ہیں آج کل وہ تم سے خفا کم، بہت ہی کم
 
Top