امریکی فوج کو کراچی میں آپریشنز کمپاؤنڈ کی تعمیر کی اجازت '' آپ کیا کہتے ہیں ؟

زرقا مفتی

محفلین
As the CIC report also points out, after the Taliban banned and effectively reduced opium production in 2001, “The locus of production moved to the territory controlled by the warlords” – that is, the “pro-drug dealing warlords aligned with the United States and its coalition allies.” After the U.S. overthrew the Taliban, opium production once again soared to record levels. The CIC report adds, “At present, insurgents appear to be capturing only a small share of those trafficking revenues
 
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

اقوام متحدہ کی ايک رپورٹ کے مطابق 90 کی دہاہی ميں افغانستان اوپيم کی پيداوار میں دنيا ميں دوسرے نمبر پر تھا۔ صرف سال 1998 ميں 41،720 ايکٹر رقبے پر 1350 ميٹرک ٹن اوپيم گم کاشت کی گئ۔

سال 1988 میں افغانستان نے اقوام متحدہ کے ڈرگ کنونشن کے تحت منشيات کی روک تھام کے ايک معاہدے پر دستخط کيے تھے ليکن طالبان سميت کسی بھی سياسی دھڑے نے اس معاہدے پر عمل نہيں کيا۔ سال 1998 کے آخر تک طالبان کا کنٹرول افغانستان کے 80 فيصد علاقے پر تھا۔ جون 1998 ميں جلال آباد ميں 1 ٹن اوپيم کو نذر آتش کرنے کے علاوہ سرکاری سطح پر ايسا کوئ قدم نہيں اٹھايا گيا جس کے تحت مورفين يا ہيروئين بنانے والی کسی ليبارٹری، يا ہيروئين کی ترسيل کی کسی کھيپ يا منشيات کی سمگلنگ ميں ملوث کسی گروہ کو مستقل طور پر اس مذموم کاروبار سے روکا جاتا۔ اقوام متحدہ اور کئ نجی و سرکاری تنظيموں کی بے شمار رپورٹوں سے يہ واضح تھا کہ يورپ ميں سمگل کی جانے والی 80 فيصد منشيات افغانستان ميں تيار کی گئ تھی۔ سال 1998 کے آخر تک افغانستان ميں پيدا کی جانے والی 95 فيصد منشيات طالبان کے زير اثر 80 فيصد علاقوں ميں تيار کيا جاتی تھی۔

افغانستان کی مختلف ليبارٹريوں ميں تيار کی جانے والی ہيروئين اور مورفين کی تياری کے ليے ايسڈيک اينہائيڈرئيڈ نامی عنصر کی بڑی مقدار درکار ہوتی ہے جو کہ عام طور پر يورپ، چين اور بھارت سے حاصل کيا جاتا ہے۔ منشيات کی ترسيل کے ليے افغانستان سے ملحقہ پاکستان، ايران، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کی سرحديں استعمال کی جاتی تھيں۔افغانستان ميں منشيات کے اس کاروبار کے منفی اثرات براہراست ان علاقوں ميں منشيات کی آسان دستيابی اور کھلے عام استعمال کی صورت ميں نمودار ہوئے۔

منشيات کے حوالے سے طالبان کی پاليسی يہ تھی کہ اس کی روک تھام صرف اسی صورت ميں ممکن ہے جب اقوام متحدہ نہ صرف طالبان کی حکومت کو سياسی سطح پر تسليم کرے بلکہ جن علاقوں ميں پوست کی کاشت کی جاتی ہے وہاں کسانوں کو متبادل کاروبار کے ليے مناسب فنڈز مہيا کيے جائيں۔ حالانکہ اس سے قبل طالبان کی جانب سے يہ اعلان کيا جا چکا تھا کہ منشيات کا استعمال اور اس کی پيداوار سے منسلک تمام کاروبار اسلام اور شريعت کے قوانين کے خلاف ہيں۔

سال 1997 ميں يو – اين – ڈی – سی – پی کے ڈائريکٹر آرلاچی نے طالبان کے ليڈر ملا عمر کے نام ايک خط لکھا تھا جس ميں ان سے يہ مطالبہ کيا گيا تھا کہ جن علاقوں ميں کسانوں کو متبادل کاروبار کی سہوليات فراہم کی گئ ہيں وہاں منشيات کی پيداوار کی روک تھام کو يقينی بنايا جائے۔ اس کے علاوہ ان سے يہ اجازت بھی مانگی گئ کہ يو – اين – ڈی – سی – پی کو ان علاقوں تک رسائ دی جائے جہاں طالبان کے بقول منشيات کے کاروبار پر بين لگا ديا گيا ہے۔ طالبان سے يہ مطالبہ بھی کيا گيا کہ منشيات کے کاروبار کو جڑ سے ختم کرنے کے ليے ضروری ہے نہ صرف ہيروئين کی تياری کی ليبارٹريوں کو ختم کيا جائے بلکہ ان گروہوں کا بھی خاتمہ کيا جائے جو منشيات کی تقسيم کے کاروبار ميں ملوث ہيں۔ طالبان کی جانب سے ان مطالبات کو اسی شرط پر تسليم کيا گيا کہ کسانوں کو متبادل کاروبار کے ليے فنڈز کی فراہمی کو يقينی بنايا جائے۔

http://www.dpf.org/library/taliban.cfm

http://query.nytimes.com/gst/fullpage.html?res=9507E1D9133CF932A25754C0A96F958260

http://www.un.org/ga/20special/featur/crop.htm

ليکن تمام تر يقين دہانيوں کے باوجود سال 2000 تک منشيات کی کاشت نہ صرف جاری رہی بلکہ کچھ نئے علاقے بھی اس کاروبار ميں شامل ہوگئے۔ 1998 ميں مئ کے مہينے ميں پوست کی کاشت کے موقع پر يو – اين – ڈی – سی – پی کی جانب سے طالبان کو مطلع کيا گيا کہ لغمان، لوگار اور ننگرہار کے صوبوں کے کچھ نئےعلاقوں ميں پوست کی کاشت کا کام شروع ہو گيا ہے۔ يہی وہ موقع تھا جب 1 جون 1998 کو جلال آباد کے شہر ميں طالبان نے سرعام ايک ٹن منشيات کو سرعام آگ لگا کر يہ دعوی کيا تھا اس سال منشيات کی تمام پيداوار کو تلف کر ديا گيا ہے۔ ليکن اعداد وشمار کچھ اور حقيققت بيان کر رہے تھے۔ سال 2000 کے آخر تک منشيات کو کنٹرول کرنے کے کسی ايک بھی پروگرام پر عمل درآمد نہيں کيا گيا۔

http://www.nytimes.com/2000/09/18/world/18AFGH.html?ex=1215748800&en=f470637e39d1c243&ei=5070

منشيات کی روک تھام کی کئ نجی تنظيموں کی رپورٹوں سے يہ واضح تھا کہ طالبان اور شمالی اتحاد کے بہت سے سينير اہلکار براہراست منشيات کی ترسيل سے مالی فوائد حاصل کر رہے تھے۔ سال 1997 میں طالبان کے ايک اعلی افسر نے يہ تسليم کيا تھا کہ پوست کی کاشت ميں ملوث کسانوں سے طالبان حکومت 10 فيصد "مذہبی ٹيکس" وصول کرتی تھی۔

افغانستان ميں منشيات کی پيداوار کے حوالے سے 90 کی دہاہی کے کچھ اعداد وشمار پيش ہيں۔

http://img354.imageshack.us/my.php?image=clipimage002af5.jpg

http://img55.imageshack.us/my.php?image=clipimage00213sk4.jpg

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
www.state.gov

http://www.facebook.com/USDOTUrdu


جی فواد صاحب طالبان تو حکومت کے سلیقہ سے عاری سمجھے جاتے رہے لیکن کیا ہم امریکہ کے بارے میں کچھ وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ اس نے اس سلسلے میں کیا کیا افغانستان میں۔ اور جن علاقوں کے آپ نے نام لئے ہیں وہاں کے وار لارڈ تو تب بھی آپ کے امریکہ کی سرپرستی میں طالبان سے برسرِپیکار تھے۔

RAWA: Since 2001 the opium cultivation increased over 4,400%. Under the US/NATO, Afghanistan became world largest opium producer, which produces 93% of world opium.
 

Fawad -

محفلین
جی فواد صاحب طالبان تو حکومت کے سلیقہ سے عاری سمجھے جاتے رہے لیکن کیا ہم امریکہ کے بارے میں کچھ وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ اس نے اس سلسلے میں کیا کیا افغانستان میں۔ :


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

بدقسمتی سے يہ مسلہ اس سے کہيں زيادہ پيچيدہ ہے جس کے مستقل حل کے ليے حکومت کی ہر سطح پر جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ آپ اس مسلئے کی پيچيدگی کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہيں کہ سال 2006 ميں ايک عالمی تھنک ٹينک سينلسز کونسل نے ايک تفصيلی رپورٹ ميں باقاعدہ يہ سفارش کی تھی کہ افغانستان ميں پوست کی کاشت اس سطح پر پہنچ چکی ہے کہ اس مسلئے کا واحد حل يہ ہے کہ افغانستان ميں پوست کی کاشت کو قانونی تحفظ دے ديا جائے۔ امريکی حکومت نے اس تجويز کی شديد مخالفت کی تھی۔ سينلسز کونسل کی رپورٹ اور اس پر امريکی ردعمل کی تفصيل آپ اس ويب لنک پر پڑھ سکتے ہيں۔

http://2001-2009.state.gov/p/inl/rls/rpt/80734.htm

اس وقت امريکہ اور برطانيہ افغانستان ميں آئ – ايس – اے – ايف اور اقوام متحدہ کی کئ تنظيموں کے اشتراک سے پوست کی کاشت کی روک تھام اور اس کی ترسيل کی روک تھام کے ليے ايک تفصيلی منصوبے پر کام کر رہے ہيں۔

اگر آپ افغانستان کے نقشے پر نظر ڈاليں تو آپ ديکھ سکتے ہیں کہ اس وقت پوست کی کاشت کا زيادہ کام ان علاقوں ميں ہو رہا ہے جو طالبان کے زير اثر ہيں۔ ان علاقوں ميں افغان حکومت کی جانب سے کاشتکاروں کو کاروبار کے متبادل پروگرام کے فوائد سے روشناس کرانے ميں شديد مشکلات کا سامنا ہے۔

http://upload.wikimedia.org/wikipedia/commons/c/cf/Afghan_Opium_Production_2005_2007.JPG


http://img530.imageshack.us/my.php?image=mapafghanpoppy600fa8.jpg

ماضی ميں اندس، تھائ لينڈ، برما اور بھارت ميں پوست کی کاشت کی حوالے سے چلائ جانے والی تحريکوں کے تجربے سے يہ بات واضع ہے کہ اس ضمن ميں کاميابی صرف اسی صورت ميں ممکن ہے جب اس ميں مقامی لوگوں کا اشتراک اور تعاون بھی شامل ہو۔ تاريخ شاہد ہے کہ ڈرگ کے کاروبار کی روک تھام کے ليے ضروری ہے کہ انفرادی سطح پر کاشت کاروں کو کوئ متبادل ذريعہ معاش بھی فراہم کيا جائے۔

ليکن يہ بات بھی ياد رہے کہ اس ضمن ميں مقامی ڈرگ مافيا کے خلاف بے شمار کاروائياں بھی جاری ہيں۔ ڈرگ مافيا کے خلاف کئ مقدمات امريکی اور افغان عدالتوں ميں پيش کيے گئے ہيں سال 2007 ميں ڈرگز کے کاروبار کے ضمن ميں 278 مقدمات ميں سزائيں سنائ گئ ہيں۔ سال 2006 ميں 182 مقدمات کا فيصلہ کيا گيا۔ امريکی عدالت ميں چار ايسے اہم کرداروں کے خلاف مقدمات کا فيصلہ کيا گيا جو افغانستان ميں پوست کی کاشت اور طالبان کو فنڈز کی فراہمی ميں براہراست ملوث تھے۔ ان چار افراد کے نام يہ ہيں : خان محمد، حاجی بشير نورزئ، محمد عيسی اور حاجی باز محمد۔

افغان حکومت کی مستقبل قريب کی پاليسيوں ميں ڈرگز کی ترسيل اور اس سلسلے ميں مدد فراہم کرنے والے اہم کرپٹ افسران کے خلاف کاروائ بھی شامل ہے۔ حال ہی ميں بلخ، بدگشان اور نانگرہار ميں افغان حکومت کی جانب سے ڈرگ مافيا کے خلاف بڑی کاروائياں اسی سلسلے کی اہم کڑياں ہيں۔ ان تمام صوبوں ميں سال 2008 میں پوست کی کاشت ميں خاطرخواہ کمی متوقع ہے۔ اس ميں کوئ شک نہيں کہ افغانشتان کے کچھ صوبوں کے گورنرز اس مسلئے کے حل کے ليے ترجيحی بنيادوں پر کام کر رہے ہيں ليکن کچھ صوبے ايسے بھی ہيں جہاں پر امن وامان کی خراب صورت حال کے باعث اس ضمن ميں خاطر خواہ کاميابی حاصل نہيں ہو رہی۔ اس ضمن ميں امريکی حکومت مقامی انتطاميہ کو ہر ممکن امداد فراہم کر رہی ہے۔ افغانستان کے شمالی اور مشرقی پہاڑی علاقوں ميں وہ غريب کسان جو دو تين سال پہلے تک پوست کی کاشت پر گزر اوقات کرتے تھے اب امن وامان کی بہتر سہوليات اور متبادل کاروبار کے مواقعوں کے پيش نظر حکومت کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ ليکن افغانستان کے ان علاقوں ميں جہاں امن وامان کی صورت حال قابو ميں نہيں ہے وہاں پر ابھی بھی يہ کاروبار زور وشور سے جاری ہے۔ تحقيق سے يہ پتا چلتا ہے کہ افغانستان کے سب سے خوش حال صوبے ہلمند ميں سال 2007 کے دوران 41 فيصد خاندانوں کا ذريعہ معاش پوست کی کاشت سے منسلک تھا جب کہ ملکی سطح پر يہ شرع 4 فيصد ہے۔ افغان ريسرچ اور ايويلويشن يونٹ (اے – آر – ای – يو) کے مطابق ہلمند کے صوبے ميں ايک عام کسان يوميہ ايک ڈالر پر زندگی گزار رہا ہے۔

سال 2007 ميں يو – اين – او – ڈی – سی کے ايک سروے کے مطابق ان صوبوں کی تعداد 6 سے بڑھ کر 13 ہو گئ ہے جہاں پوست کی کاشت کا کاروبار يا تو ختم ہو گيا ہے يا محض برائے نام کيا جاتا ہے۔ ليکن ان مغربی صوبوں ميں پوست کی کاشت ميں اضافہ ہوا ہے جہاں سيکورٹی انتظاميہ کے کنٹرول ميں نہيں ہے۔ اس وقت پوست کی کاشت کا 70 فيصد کاروبار انھی علاقوں ميں ہو رہا ہے۔

يو – ايس – ايڈ کی جانب سے عام کسانوں کو اس کاروبار سے دور رکھنے کے ليے جو امداد دی گئ ہے اس کے اعداد وشمار کچھ يوں ہیں

اب تک 5۔1 ملين کسانوں کو کاشت کاری کے جديد اصولوں سے روشناس کرانے کے ليے ٹرينيگ دی گئ۔

مجموعی طور پر 49 ملين ڈالرز کے قرضے فراہم کيے گئے۔

معيشت کو استحکام دينے کے ليے 878 ملين ڈالرز کی امداد دی گئ۔

عام کاشت کاروں کی سہولت کے ليے قريب 1000 کلوميٹر تک سڑکيں تعمير کی گئيں۔

اسی طرح ڈی – ايف – آئ – ڈی کی جانب سے افغان حکومت کو سڑکوں کی تعمير، زراعت اور تعليم کے ضمن ميں صرف ہلمند کے صوبے کے ليے 40 ملين ڈالرز کی رقم مختص کی گئ ہے۔

يہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ افغانستان ميں پوست کی کاشت کے کاروبار کی روک تھام کی اصل ذمہ داری افغان حکومت پر عائد ہوتی ہے اور اس حوالے سے کی جانے والی کاروائ افغان حکومت کے تعاون سے مشروط ہے۔

اس ميں کوئ شک نہيں ہے کہ افغانستان ميں اس کاروبار کے مکمل خاتمے کے ليے کوئ جادوئ نسخہ نہيں ہے۔ مقامی غريب کاشت کاروں اور کسانوں کو کاروبار کے متبادل ذرا‏ئع مہيا کيے بغير اس مسلئے کو ديرپا بنيادوں پر حل نہيں کيا جا سکتا۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
www.state.gov
http://www.facebook.com/USDOTUrdu
 

شمشاد

لائبریرین
اتنی زیادہ امداد دینے کے باوجود مسئلہ وہیں کا وہیں ہے۔ اس کا مطلب تو یہ ہے یا تو یہ ہندسے جھوٹ بول رہے ہیں یا پھر مستحق لوگوں تک امداد پہنچ ہی نہیں رہی۔

میں نے کہیں پڑھا تھا کہ افغانستان کے موجودہ صدر بھی ہیروئن کی کاشت میں ملوث ہیں۔ اگر یہ سچ ہے تو ان کے ملنے جُلنے والے بھی اس کاروبار میں ملوث ہوں گے۔
 

فاتح

لائبریرین
صدقے جاؤں امریکییت (بربریت) کے علمبردار فواد کے جو دنیا بھر کا جھوٹ بولتا ہے اپنے قاتل آقاؤں کو معصوم ثابت کرنے کی ناکام کوشش کر کے انھیں خوش کر کے سے اپنی تنخواہ کھری کرنے کے لیے۔
امریکا تو خود سب سے بڑا خریدار ہے پوست کا اور کون نہ ہو گا ایک ایسی چیز کا خریدار جو کسانوں سے چند ہزار روپے فی کلو گرام پر خرید کر بین القوامی منڈیوں میں 15 سے بیس ہزار ڈالر فی کلو گرام محض خالص شکل میں ہی بیچی جا سکے۔
افغانستان میں امریکی فوج کی در اندازی کی بہت بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ طالبان نے پوست کی کاشت پر پابندی لگا دی تھی جو امریکا کے لیے انتہائی تکلیف دہ چیز تھی۔ جونھی امریکی فوج نے افغانستان میں در اندازی کر کے وہاں امریکیت اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا اس کے ساتھ ہی انھوں نے افغانستان میں 1000 مربع کلو میٹر سے زائد کے رقبے پر پوست کاشت کروا دی جو آج بھی جاری ہے۔
جھوٹ بکواس سیکھنی ہو تو امریکیوں سے سیکھو جن کا ایک گماشتہ فواد کے نام سے یہاں موجود ہے۔
 

فاتح

لائبریرین
اتنی زیادہ امداد دینے کے باوجود مسئلہ وہیں کا وہیں ہے۔ اس کا مطلب تو یہ ہے یا تو یہ ہندسے جھوٹ بول رہے ہیں یا پھر مستحق لوگوں تک امداد پہنچ ہی نہیں رہی۔

میں نے کہیں پڑھا تھا کہ افغانستان کے موجودہ صدر بھی ہیروئن کی کاشت میں ملوث ہیں۔ اگر یہ سچ ہے تو ان کے ملنے جُلنے والے بھی اس کاروبار میں ملوث ہوں گے۔
امریکہ کے نہ صرف صدور انفرادی حیثیت میں بلکہ امریکہ بحیثیت ملک ہیروئن کا کاروبار کرتا ہے لیکن فواد جیسے چیلے چانٹے رکھ کر میڈیا کو کنٹرول کیا ہوا ہے جو امریکا بہادر کی معصومیت کا رونا پیٹ کر اپنا اور اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالتے ہیں۔
 
Top