امریکہ کی ایک اور بے غیرتی۔ اگر فلسطین کو اقوام متحدہ کا ممبر بنایا تو۔۔۔

بیٹے آپ یہاں کچھ فرمارہے ہیں اور ہم کچھ اور
بہتر ہے کہ بات کبھی اور کے لیے اٹھا رکھیں
ویسے اپ اتنے سیانے ہیں جتنا سیانا کوا مشھور ہے۔
 

عسکری

معطل
جب پاکستانی کچھ کرنے کا طاقت نہیں رکھتے تو عرب ممالک کی شکایت کیوں؟
عرب ممالک فلسطین کی بے پناہ مدد کرتے ہیں۔ بلکہ خود پاکستان کی مدد کرتے ہیں۔ لاکھوں پاکستانیوں کے گھروں میں چولھے بھی نہ جلیں اگر یہ عرب بھائی اپنے ملک میں پاکستانیوں کو نوکریاں نہ دیں۔ کم از کم احسان فراموشی نہ کی جائے۔ عرب ممالک ہمارےمحسن ہیں۔
بابے بھئی بابے تیری کون سی کل سیدھی :rollingonthefloor:

کس نے شکایت کی یہ مسئلہ ہی ان کا ہے ہمارا کیا بھئی ؟
ہاں جی عرب ممالک فلسطین اور خود پاکستان کی مدد کرتے ہیں لیکن اس کی بھی قیمت چکائی جاتی ہے بابا جی آپ کو کیا پتہ کیسے چکائی گئی ہے قیمت ۔

2 ڈویزن اضافی افواج سعودی عرب کے لیے
Pakistan poised to dispatch army to Saudi Arabia
http://www.wnd.com/index.php?fa=PAGE.view&pageId=284429

بحرین میں پاکستانی افواج
Pakistani troops aid Bahrain's crackdown
http://english.aljazeera.net/indepth/features/2011/07/2011725145048574888.html

خلیج کی جنگ 1991 میں پاکستانی افواج کے ساتویں انفنٹری ڈویزن کی 2 بگیڈز سے شرکت
http://en.wikipedia.org/wiki/Gulf_War

پاکستانی ائیر فورس کے 200 پائلٹ امارات میں اف-16 بلوک-60 پر تعینات اور ٹرینرز کے دن رات کام کا اندازہ اس سے لگائیں کے ابھی ابھی پاکستانی ٹرینرسکواڈرن لیڈر محمد مجاھد نے پی سی-7 جھاز پر 6000 گھنٹے پرواز کر کے ایوارڈ لیا ہے سوئس جھاز ساز کمپنی سے ۔
http://www.marketwatch.pk/news/pakistan-business-news/paf-pilot-recieved-award-from-switzerland

http://www.defence.pk/forums/milita...paf-pilots-fly-latest-f-16s-block-60-a-3.html


اور بھی اتنا کچھ کیا گیا ہے کہ پوسٹ کرتے کرتے تھک جائیں ۔ میں ماتنا ہوں انہوں نے مدد کی پاکستان کی پر پاکستانیوں نے بھی اپنی جان کو خطرات میں ڈال کر اور کئی بار جان دے کر ان کی مدد کی ۔
رہی بات لیبر فورس کی تو وہاں پر دنیا بھر کے ہنر مند کام کرتے ہیں کیونکہ وہ خود نہیں کر سکتے ہم سے ڈبل انڈین وہاں کام کرتے ہیں تو کیا انڈیا فلپین انڈونیشیا نے کبھی اتنا کچھ کیا ان عرب ملکوں کے لیے؟ یہ ایک طرح کا بزنس ہے کوئی احسان نہیں۔
 

عسکری

معطل
بیٹے آپ یہاں کچھ فرمارہے ہیں اور ہم کچھ اور
بہتر ہے کہ بات کبھی اور کے لیے اٹھا رکھیں
ویسے اپ اتنے سیانے ہیں جتنا سیانا کوا مشھور ہے۔

وہی تو ھھھھھھھھھھھھھ آپ کو شاید کوئی جواب نہیں دیتا اچھی طرح یہاں ورنہ جس طرح کی آپ کی سوچ ہے نظر آ رہی ہے ;)
 

Fawad -

محفلین
Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

سب سے پہلے تو میں يہ واضح کر دوں کہ مستقبل ميں نئے واقعات اور زمينی حقائق کی روشنی میں امريکی حکومت اور کانگريس کيا لائحہ عمل اختيار کرے گی، اس حوالے سے کوئ بھی بحث اس وقت محض قياس اور اندازوں پر مبنی ہو گی۔ ليکن میں بات پورے وثوق کے ساتھ بتا سکتا ہوں کہ ہم دھمکيوں پر يقين نہيں رکھتے کيونکہ ہماری خارجہ پاليسی اور اس ضمن ميں کيے جانے والے فيصلوں کی اساس جمہوری اصول ہیں جو اس بات کے متقاضی ہیں کہ اکثريت کی اتفاق رائے اور کانگريس کی سپورٹ کو ملحوظ رکھا جائے۔ ہم نے يہ ضرور کہا ہے کہ فلسطينی اتھارٹی جس رائے پر گامزن ہے، انتظاميہ اور کانگريس کے اراکين کو اس حوالے سے تشويش ہے اور فلسطينيوں کو اس حوالے سے بغور جائزہ لينا چاہيے کہ اس کے کيا ممکنہ نتائج نکل سکتے ہيں۔

امريکی حکومت کی جانب سے اسرائيل کی حمايت کے ضمن ميں تمام سوالات اور آراء پڑھی ہيں۔ امريکی حکومت اس عالمی کوشش کا حصہ ہے جس کی بنياد اسرائيل اور فلسطين کے عوام کی خواہشات کے عين مطابق خطے ميں پائيدار امن کے قيام کا حصول ممکن بنانا ہے۔

ہم خطے ميں ايک مربوط امن معاہدے کے لیے کوشاں ہيں جس ميں فلسطين کے عوام کی اميدوں کے عين مطابق ايک خودمختار اور آزاد فلسطينی رياست کے قيام کا حصول شامل ہے۔ اس ايشو کے حوالے سے امريکہ پر زيادہ تر تنقید اس غلط سوچ کی بنياد پر کی جاتی ہے کہ امريکہ کو دونوں ميں سے کسی ايک فريق کو منتخب کرنا ہو گا۔ يہ تاثر بالکل غلط ہے کہ امريکہ اسرائيل کی غيرمشروط حمايت کرتا ہے۔ ہم اسرائيل کے بہت سے اقدامات پر تحفظات رکھتے ہيں۔

بہت سے تجزيہ نگار لگاتار امريکہ کی جانب سے اسرائيل کو دی جانے والی امداد کا ذکر کرتے ہیں ليکن اسی پيرائے اور دليل ميں وہ اس حقيقت کو نظرانداز کر ديتے ہيں کہ امريکی حکومت فلسطين کو معاشی اور ترقياتی مد ميں امداد فراہم کرنے والے ممالک ميں سرفہرست ہے۔ سال 1993 سے يو ايس ايڈ کے توسط سے قريب 3 بلين ڈالرز کی امداد مہيا کی جا چکی ہے۔

اس امداد کے ذريعے جن شعبوں ميں ترقياتی منصوبوں کو سپورٹ فراہم کی گئ ہے ان ميں صاف پانی کی فراہمی، انفراسٹکچر، تعليم، صحت اور معاشی ترقی جيسے اہم شعبہ جات شامل ہيں۔

ايک آزاد و خود مختار فلسطينی رياست کے ليے بنيادی انفراسٹکچر کی تعمير امريکہ سميت تمام فريقين کی بنيادی ترجيح ہے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov
http://www.facebook.com/pages/USUrduDigitalOutreach/122365134490320?v=wall
 

اظفر

محفلین
خون کے بدلے فلسطین کو پیسے دیکر کون سا کمال کرتے ہو
جو بہادری عراق پر دکھای وہ اسرائیل پر دکھاو تو مانیں۔ لیکن نہیں ۔۔۔۔۔۔ وجہ قران بتاتا ھے کہ سب کافر ایک ہیں ، چاہے یہودی و یا عیسائی یا کوئی اور کافر۔ٍ فواد کہانیاں سنا سکتا ھے لیکن حقیقت نہیں بدل سکتا۔
 

طالوت

محفلین
فواد ، امریکہ اپنے دیگر کرتوتوں کے حوالے سے تو نیم برہنہ ہے مگر فلسطینی معاملے میں امریکی جانبداری کی برہنگی کسی صورت لفظوں سے دور کرنا ممکن نہیں ۔
 

Fawad -

محفلین
Fawad – Digital Outreach Team - US State Department

فواد ، امریکہ اپنے دیگر کرتوتوں کے حوالے سے تو نیم برہنہ ہے مگر فلسطینی معاملے میں امریکی جانبداری کی برہنگی کسی صورت لفظوں سے دور کرنا ممکن نہیں ۔


فلسطين کے معاملے ميں امريکہ براہراست فريق نہيں ہے۔ اسرائيل اور فلسطين کے مابين تنازعہ کئ دہائيوں پر محيط ہے۔ اس مسلئے کے حل کے ليے عالمی برادری کی جانب سے ايک اجتماعی کوشش کی جا رہی ہے اور امريکہ اس عالمی کوشش کا حصہ ہے۔ ليکن اس مسلئے کے فيصلہ کن اور حتمی تصفيے کا اختيار امريکی حکومت کے ہاتھوں ميں نہيں ہے۔

ميں آپ کو ياد دلانا چاہتا ہوں کہ امريکہ وہ واحد ملک نہيں ہے جس نے اسرائيل کے وجود کو تسليم کيا ہے۔ اقوام متحدہ ميں اسرائيل ايک تسليم شدہ ملک کی حيثيت سے شامل ہے۔

سال 2002 ميں بيروت کے مقام پر عرب ليگ کے اجلاس ميں تمام ممبر ممالک کی جانب سے ايک امن معاہدہ پيش کيا گيا تھا جس ميں 20 عرب ممالک نے اسرائيل کے وجود کو تسليم کرتے ہوئے اس بات کی اہمیت پر زور ديا تھا کہ امن کے تناظر ميں اسرائيل کے ساتھ معمول کے تعلقات کی بحالی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

عرب ليگ ميں شامل ممالک کی لسٹ آپ اس ويب لنک پر ديکھ سکتے ہیں۔

http://img40.imageshack.us/img40/7209/clipimage0021.jpg

اسرائيل اور فلسطين کے مسلئے کے حوالے سے امريکی حکومت کے موقف اور نقطہ نظر کو نہ صرف عالمی برادری ميں حمايت حاصل ہے بلکہ عرب ليگ کی جانب سے کی جانے والی امن کی کوششيں بھی اسی سمت ميں ہيں جس کے مطابق اس مسلئے کا حل دو الگ رياستوں کا قيام ہے جہاں فلسطينی اور اسرائيلی امن اور سکون کے ساتھ رہ سکيں۔

صدر اوبامہ نے قاہرہ ميں تقرير کے دوران اسی نقطہ نظر کا اعادہ کيا تھا۔

" عرب امن کوششوں پر مزيد کام کرتے ہوئے عرب رياستوں پر لازم ہے کہ وہ فلسطينی رياست کی بقا کے لیے اداروں کی تشکيل ميں فلسطينی عوام کی مدد کريں اور اسرائيلی کی قانونی حيثيت تسليم کريں۔ اس کے علاوہ ماضی ميں جھانکنے کی ناکام روش کے مقابلے ميں ترقی پر فوکس کرنا ہوگا۔ "

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov
http://www.facebook.com/pages/USUrduDigitalOutreach/122365134490320?v=wall
 

اظفر

محفلین
مطلب یہ کہ جہاں مسلمان پر ظلم ہو رہا ہو وہاں باتیں ہی باتیں ۔۔۔ اوباما نے یہ کہا ، کلنٹن نے یہ کہا ، وہ فلاں لنک رہا ، وہ فلاں فایل رہی
جب عراق کے معامہ پر اقوام متحدہ نے ساتھ نہ دیا تو تب وحشی ہو گیے تھے ۔ تب اس عالمی طاقت کا حصہ کیوں نہ بنے جس کا ذکر اسرائیل کی باری کرتے ہو۔
 

فرخ

محفلین
فواد
ماشاءاللہ، کیا خوب آنکھوں میں دھول جھونکی جا رہی ہے بھئی۔۔۔

تاریخ گواہ ہے کہ عرب سرزمین پر اسرائیل کی ناپاک ریاست کے قیام میں امریکہ اور برطانیہ نے جس طرح مدد کی وہ پوری دنیا پر روز روشن کی طرح عیاں ہے۔
اسرائیل کی دھشت گردانہ کاروائیوں پر امریکہ اقوام متحدہ میں اسرائیل کے خلاف پیش کی جانے کسی بھی قرارداد کو آنکھیں بند کرکے جس طرح ویٹو کرتا ہے، اس سے اس کی دھشت گرد اسرائیل کی طرف داری کا خوب پتا چلتا ہے۔
امریکی صدور جس طرح اسرائیل کی حفاظت اور طرف داری کا اعلان کرتے ہیں اور جس طرح سے صیہونیوں کے ساتھ دیتے نظر آتے ہیں، وہ سب کے سامنے ہیں۔

جھوٹ وہ بولو، جس کا کسی کو پتا نہ ہو۔۔۔

فلسطين کے معاملے ميں امريکہ براہراست فريق نہيں ہے۔ اسرائيل اور فلسطين کے مابين تنازعہ کئ دہائيوں پر محيط ہے۔ اس مسلئے کے حل کے ليے عالمی برادری کی جانب سے ايک اجتماعی کوشش کی جا رہی ہے اور امريکہ اس عالمی کوشش کا حصہ ہے۔ ليکن اس مسلئے کے فيصلہ کن اور حتمی تصفيے کا اختيار امريکی حکومت کے ہاتھوں ميں نہيں ہے۔

ميں آپ کو ياد دلانا چاہتا ہوں کہ امريکہ وہ واحد ملک نہيں ہے جس نے اسرائيل کے وجود کو تسليم کيا ہے۔ اقوام متحدہ ميں اسرائيل ايک تسليم شدہ ملک کی حيثيت سے شامل ہے۔

سال 2002 ميں بيروت کے مقام پر عرب ليگ کے اجلاس ميں تمام ممبر ممالک کی جانب سے ايک امن معاہدہ پيش کيا گيا تھا جس ميں 20 عرب ممالک نے اسرائيل کے وجود کو تسليم کرتے ہوئے اس بات کی اہمیت پر زور ديا تھا کہ امن کے تناظر ميں اسرائيل کے ساتھ معمول کے تعلقات کی بحالی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

عرب ليگ ميں شامل ممالک کی لسٹ آپ اس ويب لنک پر ديکھ سکتے ہیں۔

http://img40.imageshack.us/img40/7209/clipimage0021.jpg

اسرائيل اور فلسطين کے مسلئے کے حوالے سے امريکی حکومت کے موقف اور نقطہ نظر کو نہ صرف عالمی برادری ميں حمايت حاصل ہے بلکہ عرب ليگ کی جانب سے کی جانے والی امن کی کوششيں بھی اسی سمت ميں ہيں جس کے مطابق اس مسلئے کا حل دو الگ رياستوں کا قيام ہے جہاں فلسطينی اور اسرائيلی امن اور سکون کے ساتھ رہ سکيں۔

صدر اوبامہ نے قاہرہ ميں تقرير کے دوران اسی نقطہ نظر کا اعادہ کيا تھا۔

" عرب امن کوششوں پر مزيد کام کرتے ہوئے عرب رياستوں پر لازم ہے کہ وہ فلسطينی رياست کی بقا کے لیے اداروں کی تشکيل ميں فلسطينی عوام کی مدد کريں اور اسرائيلی کی قانونی حيثيت تسليم کريں۔ اس کے علاوہ ماضی ميں جھانکنے کی ناکام روش کے مقابلے ميں ترقی پر فوکس کرنا ہوگا۔ "

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov
http://www.facebook.com/pages/USUrduDigitalOutreach/122365134490320?v=wall
 

فرخ

محفلین
بھائیو۔۔
لکھا تو غلطی سے تھا، واقعی پنہاں ہی ہونا چاہئیے تھا یا یہ کہ ہر کسی پر عیاں ہے۔۔۔۔تصحیح کے لئے بہت شکریہ۔۔۔۔۔

مگر میں سوچ رہا تھا کہ پہلے تو ایک نقطہ مسئلہ کرتا تھا، مگر اس دفعہ تو حرف ہی دغا دے گیا۔۔۔ کمال نہیں ہو گیا۔۔۔؟
 
Top