امام الہند::: ملک نصر اللہ خان عزیز

فہد اشرف نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 11, 2018

  1. فہد اشرف

    فہد اشرف محفلین

    مراسلے:
    6,570
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Relaxed
    آج یعنی گیارہ نومبر مولانا ابوالکلام آزاد کی پیدائش کا دن ہے۔ اسی کی مناسبت سے ملک نصر اللہ خان عزیز کی نظم ”امام الہند“ پیش خدمت ہے جو انہوں نے 1940 میں پنجاب کے ایک جلسے میں مولانا آزاد کی موجودگی میں پڑھی تھی۔

    امام الہند
    اے امامِ محترم! اے رہبر عالی مقام!
    علم و تدبیر و سیاست ہیں ترے در کے غلام

    تیری تحریر و خطابت نازشِ اسلام ہے
    تیرا ہر اک لفظ گویا پارۂ الہام ہے

    عزم تیرا کوہ پیکر، حزم تیرا بے مثال
    صدق تیرا بے عدیل اور عدل تیرا لازوال

    تجھ پہ کھولے حق نے راز و معنی ام الکتاب
    فیض ہے روح القدس کا جس سے تو ہے فیضیاب

    تو علم بردار ہے اسلام کی توحید کا
    تو امیں ہے اس صدی میں رتبۂ تجدید کا

    تجھ سے زندہ ہیں مسلماں کی روایات کہن
    مستقیم و مخلص و بے خوف و ہمدردِ وطن

    تجھ سے قائم ہے وطن میں آبرو اسلام کی
    تو لگاتا ہے لگن دل میں خدا کے نام کی

    کوئی لالچ ہو تو اس لالچ میں آ سکتا نہیں
    آسماں بھی رفعتوں کو تیری پا سکتا نہیں

    قلب مسلم میں جو نورِ حرّیت ہے موجزن
    تیرے ہی قول عمل کی شمع کی ہے وہ کرن

    بے نیاز شہرت و عزت غنی مال و جاہ
    اللہ اللہ! کتنی اونچی ہے ترے دل کی نگاہ

    عزم و ہمت سے اگر چہ دل ترا آسودہ ہے
    فکر خدمت سے مگر تیری جبیں آلودہ ہے

    استقامت میں نہ کوئی لا سکا تیری نظیر
    وہ الہ آباد کا برنا ہو یا وردھا کا پیر

    کانگرس کو فخر تیری فہم کا، اخلاص کا
    رہنمائے محترم ہے عام کا اور خاص کا

    غیر مسلم کو بھی تیری عدل پر ہے اعتبار
    ہے بھرم اسلام کا تیری سبب سے برقرار

    حبذا پھر سوئے قومِ بے نوا آیا ہے تو
    مژدۂ لا تقنطو پنجاب میں لایا ہے تو

    آہ وہ پنجاب جو مظلوم ہے، مقہور ہے
    جس میں باطل مقتدر ہے اور حق مجبور ہے

    پانچ دریاؤں سے ریگستان تک سیراب ہے
    کشت حریت مگر ویران ہے بے آب ہے

    اس کے ایوانوں میں انسانوں کے بکتے ہیں ضمیر
    کھول کر بیٹھے ہیں دکانیں شہ و میر و وزیر

    جھوٹ کے صدقے میں ہوتے ہیں سروں کے سر بلند
    اہل حق کے واسطے پاداشِ حق ہے قید و بند

    فرقہ پرور اس طرح پھرتے ہیں اس میں آشکار
    جس طرح تارک جنگل میں درندے نابکار

    اس متاعِ ظلم کو شعلہ نوائی چاہیے
    خطۂ پنجاب کو بھی رہنمائی چاہیے

    پھونک دے خاشاک ظلم و جبر کو تدبیر سے
    آگ سی ہر سو لگا دے شعلۂ تقریر سے

    قافلہ سستا رہا ہے، پھر اسے ہشیار جر
    سو رہی ہے ملک کی تقدیر اسے بیدار کر

    نام ہے آزاد تیرا، ہند بھی آزاد ہو
    یہ غلام آباد بھی آزاد ہو، دل شاد ہو
    ---------

    ماخذ: ”بزم ارجمنداں“ از اسحاق بھٹی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3

اس صفحے کی تشہیر