الوداع پیارے گھر :: نظم:: از محمد خلیل الرحمٰن

محمد خلیل الرحمٰن نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 7, 2019

  1. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,829
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    الوداع پیارے گھر
    ( رابرٹ لوئی اسٹیونسن کی نظم سے ماخوذ)


    گھوڑا گاڑی ہمارے لیے آگئی ، ہم تو تیار ہی تھے کھڑے
    سارے بچے لپک کر قریب آگئے ، پہلے چڑھنے لگے سب بڑے
    باری بچوں کی آئی تو سب چڑھ گئے اور سیٹوں کی خاطر لڑے
    تب بڑوں نے ہمیں گود میں یوں چڑھایا کہ بچے بڑے ہنس پڑے

    الوداع پیارے گھر الوداع پیارے گھر الوداع پیارے گھر الوداع
    الوداع الوداع الوداع

    پہلے گھر کو کیا الوداع اور پھر باغ کو اور کھیتوں کو بھی
    اُس بڑے گیٹ کو بھی کیا الوداع جس پہ جھولے تھے جھولے کبھی
    اپنے گودام کو بھی کیا الوداع جس پہ چھوڑ آئے سیڑھی ابھی
    الوداع گھاس کے لان کو بھی جہاں ملکے کھیلے تھے بچے سبھی

    الوداع پیارے گھر الوداع پیارے گھر الوداع پیارے گھر الوداع

    الوداع الوداع الوداع

    ڈال دی اِک نظر اُس اٹاری پہ بھی جس پہ مکڑی کے جالے بھی تھے
    اُس کے پہلو میں تھا آم کا اِک درخت، اُس پہ گھر بھی ہمارے سجے
    آخرِ کار چابک کی آواز سے دونوں گھوڑے مچلنے لگے
    کوچواں کا ہوا جب اشارہ تو دونوں ٹپک ٹپ، ٹپک ٹپ چلے
    الوداع پیارے گھر الوداع پیارے گھر الوداع پیارے گھر الوداع

    الوداع الوداع الوداع
     
    آخری تدوین: ‏نومبر 7, 2019
    • زبردست زبردست × 2
  2. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,829
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    ٹیگ نامہ:
     
    آخری تدوین: ‏نومبر 7, 2019
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,748
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    خوب.۔ آزاد ترجمہ ہے ورنہ ستیوینسن نے تو سب کو ہی الوداع کہا تھا، گھر کی ہر شے کو!
    قوافی میں ایک مصرع گڑبڑ ہے ذرا۔ کو بھی، جو کُبی تقطیع ہوتا ہے، کَبی، سَبی یعنی فتحہ والے کبھی، سبھی کے ساتھ کو بھی نہیں باندھ سکتے
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر