اللہ موجود ہے

قسیم حیدر نے 'تاریخ کا مطالعہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 3, 2007

  1. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,728
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    صحیح شعر یوں ہے اور یہ شعر علّامہ اقبال کا نہیں "بھرتری ہری " کا ہے علّامہ نے صرف اسے بالِ جبریل کے پہلے صفہے پر کوٹ کیا تھا -
    پھول کی پتی سے کٹ سکتا ھے ہیرے کا جگر
    مرد ناداں پر کلام ِنرم و نازک بے اثر
    (بھرتری ہری)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. arshadmm

    arshadmm محفلین

    مراسلے:
    266
    لو جی ہم بھی عرصہ دراز سے اس شعر کو حضرت علامہ صاحب کا سمجھتے رہے
     
  3. حسن نظامی

    حسن نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    564
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    میں یہ سمجھتا ہوں ۔۔ بعض چیزیں ایسی ہوا کرتی ہیں جو عقل کی حد سے تجاوز کر جاتی ہیں ۔۔

    جیسے ہمیں یہ تو معلوم ہے ۔۔ کہ اس آسمان میں ستارے ہیں مگر کوئی ایسا ہے جس کی عقل ان ستاروں کا شمار کر سکے ۔۔

    اس لیے یہ کبھی بھی نہیں سمجھنا چاہیے کہ جو چیز عقل کی حدود میں نہیں آ سکتی وہ موجود نہیں ۔۔

    بہت سی باتیں ہیں جن کو ہمارا ذہن نا رسا ناممکن خیال کرتا ہے مگر وہ ظہور پذیر ہو کر ہمیں ششدروحیران کر دیتی ہیں ۔۔

    خدا ہے ۔۔ ایک سلیم الفطرت انسان اس بات کو تسلیم کیے بنا نہیں‌ رہ سکتا ۔۔

    ایک دہریہ کے ساتھ امام ابو حنیفہ کا مناظرہ طے ہوا ۔۔

    امام صاحب وقت مقررہ پر نہ پہنچے بلکہ کچھ لیٹ گئے ۔۔
    دہریے نے کہا آپ لیٹ ہیں ۔۔ جو امام وقت کی پابندی نہ کر سکے وہ کچھ اور کیسے کرے گا ۔۔
    امام صاحب نے فرمایا : بھائی بات سن لو پھر کچھ فیصلہ کرنا ۔۔ اس نے کہا کہیے: آپ نے فرمایا : ہوا یوں کہ میرے راستے میں ایک دریا ہے ۔ میں وہاں کشتی کے انتظار میں کھڑا تھا کہ اچانک پاس سے ایک درخت خود بخود اکھڑا اور پھر اس کی لکڑی کٹی اس کے تختے بنے اور پھر وہ خود بخود ایک کشتی بن گئی پھر وہ کشتی میری طرف آئی اور میں اس میں بیٹھ گیا وہ کشتی مجھے لے کر دوسرے کنارے پر آئی ۔۔ بس اس میں‌کچھ دیر ہو گئی ۔۔

    دہریہ ہنسنے لگا اور کہنے لگا ۔۔ یہ دیکھو مسلمانوں کا امام کتنا بڑا کذاب ہے ۔۔ حضرت نے کہا ہے کہ بنا بڑھئی کے کشتی بھی بنی اور بنا ملاح کے چلی اور حضرت کو کنارے پر پہنچا بھی گئی ۔۔
    امام اعظم نے کہا : بھئی یہی تو میں بھی کہنا چاہتا ہوں ۔۔ جب ایک کشتی بنا بنانے والے کے بن نہیں سکتی ، بنا چلانے والے کے چل نہیں سکتی ، تو اتنی بڑی کائنات بالکل درست طور خود بخود کیسے چل سکتی ہے ۔۔

    دہریہ انگشت بدنداں رہ گیا ۔ اور امام صاحب کے ہاتھ پر اسلام لے آیا ۔

    اگرچہ یہ ایک سادہ سا واقعہ ہے ۔۔ اس میں نہ تو فلسفے کی موشگافیاں ہیں اور نہ ہی سائنس کی تھیوریاں ۔۔ لیکن میرا خیال ہے کہ سمجھنے کے لیے یہ بھی بہت کا فی ہے ۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  4. arshadmm

    arshadmm محفلین

    مراسلے:
    266
    بالکل یہی بات ہے۔ چیونٹی اور انسان کا تقابل کرنا کیسا ہو گا ؟ اور پھر انسان محدود سے حواس خمسہ محدود سا دماغ/عقل۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اس کا بھی ایک محدود سا حصہ ساری زندگی میں‌ استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے تو ہمیں‌خود ضرورت ہے کہ ہم یقین کی دولت سے مالا مال ہوں اس درجے کا یقین کہ اس کی طاقت سے آپ کو کسی سے کچھ کہنے کی ضرورت بھی نہ پڑے۔۔۔۔۔ اللہ معاف کرے اور ہمیں یقین کی دولت سے نوازے ہمارے اپنے یقین کتنے ڈھلمل ڈھلمل سے ہیں، جسکی وجہ سے کتنے طے شدہ معاملے ہیں‌ کہ اب ان پر پھر ہمیں‌ بحث و مباحثے کرنے پڑتے ہیں‌ ایسی باتیں‌جو سورج کی طرح‌ روشن اور چمکدار ہیں‌ ان پر بھی ہمارے یقین کمزور ہو چکے ہیں‌۔ فلم خدا کیلئے اس کی کتنی واضح مثال ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. حسن نظامی

    حسن نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    564
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    علماء متقدمین اور خصوصا فقہاء نے یہ کہا ہے کہ اگر اللہ تعالی اپنی پہچان کے لیے نبیوں اور رسولوں کو نہ بھی بھیجتا تب بھی انسان کے لیے خدا کے وجود کو تسلیم کرنا ضروری ، فرض تھا ۔۔

    کیونکہ خدا کو تسلیم کرنا انسان کی فطرت میں ازل سے موجود ہے ۔۔ جب رب نے روحوں سے سوال کیا ۔۔ الست بربکم " کیا میں تمہارا رب نہیں "قالوا بلا " تو انہوں نے کہا ہاں "

    یہی وجہ ہے کہ سلیم الطبع اور عقلمند افراد ایک ایسی ہستی کے وجود کو تسلیم کرتے رہے ہیں جو سب سے برتر اور سب سے اعلی ہے ۔۔ ہر مذہب میں‌کسی نہ کسی صورت خدا کا وجود اسی بات کا ثبوت ہے ۔۔

    دراصل خدا کے وجود کو تسلیم کرنا ہی ہمارے لیے سود مند ہے ۔۔ کیونکہ انسان زیادہ دیر تک اپنی فطرت کے خلاف نہیں رہ سکتا اور اگر وہ ایسی کوشش کرے تو پریشان اور بے سکون ہو جاتا ہے ۔۔


    خدا کا وجود ماننا ہمارے لیے بہت بڑی تسلی کا باعث ہے ۔۔ ہم اس ذات پر یقین رکھ کر بے بسی جیسی لعنت سے بچ سکتے ہیں ۔۔ اور اپنی سی کوشش‌کر کے اس پر سب کچھ چھوڑ دیتے ہیں ۔۔ جس سے ہمیں بے فکری کی دولت حاصل ہوتی ہے ۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  6. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,728
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
    ڈبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں، تو کیا ہوتا؟
    (غالب)
     
  7. arshadmm

    arshadmm محفلین

    مراسلے:
    266
    یہ وہ مقام ہوتا ہے جہاں‌ دہریے خودکشی کرتے ہیں‌ پاگل ہو جاتے ہیں اور اللہ کا ماننے والا اللہ پر توکل کرنے والا اللہ کو رازق خالق ماننے والا ایک بے پایاں‌ اطمینان محسوس کرتا ہے کہ یہ اس کے رب کی مرضی ہے وہ اس کا ایک ادنی سے بھی ادنیٰ ایک ذرے سے بھی حقیر غلام ہے۔ اور پھر سکون سے سو جاتا ہے۔
    الا بذکر اللہ تطمئن قلوب
    خوب جان لو کہ دلوں کو اطمینان اللہ کی یاد ہی میں‌ ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,728
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    ہے دیر و حرم آئینہ تکرارِ تمنّا
    واماندگیِ شوق تراشے ہے پناہیں
    (غالب)
     
  9. حسن نظامی

    حسن نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    564
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    سخنور بہت خوب شعر کہا ۔۔ اگر اس کی تشریح بھی کر دیں تو موضوع کی مناسبت سے بہت خوب رہے گی ۔۔

    واماندگی شوق تراشے ہے پناہیں ۔۔
     
  10. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,728
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold

    حصور نظامی صاحب!‌بہت شکریہ لیکن میں حساس موضوعات پر تبصرہ نثر میں تو بالکل نہیں کرتا اسی لیے شعر لکھ دیتا ہوں - اگر نثر میں کروں گا یا اس شعر کی تشریح کروں گا تو شائد لوگ میرے پیچھے لٹھ لے کر پڑ جائیں - جس سے میں بہت ڈرتا ہوں - براہ مہربانی اس کی تشریح آپ غالب کی تشریحات کی کتب میں سے دیکھ لیں اور مجھے معاف رکھیے اور میری معذرت قبول کیجئے - بہت شکریہ!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. حسن نظامی

    حسن نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    564
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    ٹھیک ہے جناب جو مزاج یار میں آئے ۔۔۔۔ اگر آپ مجھ پر مہربانی کرنا چاہیں تو مجھے ذ پ کر دیں اس کی تشریح ۔۔۔ نوازش ہو گی ۔۔
     
  12. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,728
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    جناب حسن نظامی صاحب ! تشریح زپ کر دی ہے - اگر کوئی اور خدمت ہو تو ضرور یاد کیجئے گا - بہت شکریہ !
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  13. حسن نظامی

    حسن نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    564
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    بہت شکریہ سخنور لیکن میں آپ کو ذ پ کرنے کی کوشش کر رہا ہوں ۔۔ اور کامیاب نہیں‌ہو رہا ۔۔:mad:
     
  14. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,728
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    اب کوشش کیجئے - میرا خیال ہے اب آپ کامیاب ہو جائیں‌گے -
     
  15. کعنان

    کعنان محفلین

    مراسلے:
    865
    جھنڈا:
    England
    موڈ:
    Amused
    حَبْلِ الْوَرِيدِ

    سب نے بہت اچھے طریقے سے لکھا ھے اور اس پر جتنا بھی لکھا جائے کم ھے

    یہ سارے ترجمہ اس لیے دیے گئے ہیں کہ کچھ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اپنا ترجمہ لکھ دیا

    مسلمان کے کسی بھی قرآنی ترجمہ کو غلط نہیں کہنا چاہیے الفاظ کی ادائگی ہوتی ھے مفہوم ایک ہی ہوتا ھے


    بسم اللہ الرحمن الرحیم


    وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ

    سورة ق 50 الآية 16


    Tahir ul Qadri
    اور بیشک ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور ہم اُن وسوسوں کو (بھی) جانتے ہیں جو اس کا نفس (اس کے دل و دماغ میں) ڈالتا ہے۔ اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں


    Ahmed Ali
    اور بے شک ہم نے انسان کو پیدا کیا اور ہم جانتے ہیں جو وسوسہ اس کے دل میں گزرتا ہے اور ہم اس سے اس کی رگ گلو سے بھی زیادہ قریب ہیں


    Ahmed Raza Khan
    اور بیشک ہم نے آدمی کو پیدا کیا اور ہم جانتے ہیں جو وسوسہ اس کا نفس ڈالتا ہے اور ہم دل کی رگ سے بھی اس سے زیادہ نزدیک ہیں


    Shabbir Ahmed
    اور یہ حقیقت ہے کہ ہم ہی نے پیدا کیا ہے انسان کو اور ہم جانتے ہیں کہ کیا کیا وسوسے پیدا ہوتے ہیں اس کے دل میں۔ اور ہم زیادہ قریب ہیں اس کے اور اس کی رگِ جان سے بھی۔


    Fateh Muhammad Jalandhary
    اور ہم ہی نے انسان کو پیدا کیا ہے اور جو خیالات اس کے دل میں گزرتے ہیں ہم ان کو جانتے ہیں۔ اور ہم اس کی رگ جان سے بھی اس سے زیادہ قریب ہیں


    Mehmood Al Hassan
    اور البتہ ہم نے بنایا انسان کو اور ہم جانتےہیں جو باتیں آتی رہتی ہیں اُسکے جی میں اور ہم اُس سے نزدیک ہیں دھڑکتی رگ سے زیادہ


    Yousuf Ali
    It was We Who created man, and We know what dark suggestions his soul makes to him: for We are nearer to him than (his) jugular vein.

     
  16. محمود احمد غزنوی

    محمود احمد غزنوی محفلین

    مراسلے:
    6,435
    موڈ:
    Torn
    جان کی امان پاءوں تو کچھ عرض کروں؟،،،،،شعر تو اقبال کا ھی ھے لیکن خیال آفرینی بھرتری ھری کی ھے۔۔۔۔:)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  17. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,728
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold

    یہ مراسلہ آج ہی میں نے دیکھا۔ آپ نے بالکل درست فرمایا کہ شعر اقبال کا ہی ہے۔ اقبال نے بھرتری ہری لکھ کر ہمیں بہکا دیا تھا۔ :)
     
  18. ریحان

    ریحان محفلین

    مراسلے:
    209
    میرے تبصرے کی کوئی اہمیت نہیں بنے گی ۔۔ پر آپ سے کچھ کہنا چاہوگا

    اس دنیا میں ایتھسٹ موجود ہیں ۔۔۔ اللہ ہے کے نہیں یہ بحث ان کے ساتھ کرنی چاہیے ۔۔ ہم مسلمان ہیں ۔۔ اللہ پر یقین ہے ۔ پر ایک ایٹھیسٹ مجھ سے زیادہ پڑھا لکھا کوئی ۔۔ اسے یقین کیوں نہیں !ِ

    ہم نے یقین دلایا نہیں ۔۔ ہم جو آپس میں ہی ایک دوسرے کے ساتھ لگے رہتے ہیں ۔
     
  19. سید وصی الدین عظیم

    سید وصی الدین عظیم محفلین

    مراسلے:
    7
    یہ شعر علامہ اقبال ہی کا ھے، اُنہوں نے بھرتری ھری کو افکار کو نظم کیا ھے، بھرتریھری چھٹی ساتویں صدی عیسوی کا فلسفی ھے، اس کے افکار غالبا سنسکرت میں ھیں، اردو یا ھندی میں ھرگز نہیں۔ یہ اقبال کی دیانتداری ھے کہ اگرچہ شعر اُن ہی کا ھے لیکن چونکہ افکار ھری کے تھے لہذا انہیں نے اسے اُسی کے نام سے منسوب کیا۔ کلامِ اقبال میں بہت سے مفکرین اور فلسفیوں کی طرف اُن کے نام کے ساتھ اشارہ ملتا ھے، اقبال نے ھر جگہ اُن کے نام سے اشارہ کیا ھے، کہیں اُن پر تنقید کی ھے کہیں تعریف و توثیق۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • متفق متفق × 1
  20. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,728
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بہت پرانی بات کا اقتباس لے لیا ۔ جب ہم تحقیق کے سمندر میں نئے نئے غوطہ زن ہوئے تھے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر