الف بے پے کا کھیل 60 ویں قسط

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

طارق شاہ

محفلین
رہنے دے ذاکر صاحب کو ، کیا انھوں نے ہم کو چُپ شاہ بنانا ہے
ذکر کرنے کی وجہ ہی سے تواُن کا نام ذاکر پڑاہے
اب چلے دوسروں کے ذکر سے روکنے
 
آخری تدوین:

طارق شاہ

محفلین
سارے لوگوں کے ذکرِ ذکر سے یا ذکر کا ذکر کرنے سے ہمیں مکیش کا یہ گانا یاد آ گیا نجانے کس فلم کا ہے :
ذکر ہوتا ہے جب قیامت کا
تیرے جلووں کی بات ہوتی ہے
 

طارق شاہ

محفلین
طبیعت مائل بہ نغمہ و ساز تو نہیں تھی، ویسے ہی ذکر پر گانے کا ذکرِ خیر کردیا، ہاں اس ذکر، گانے، اور شامت پر یاد آیا کہ:

ہمارے بچپن میں کرایہ داروں سے مکان،عمارت، بلڈنگ، چال یا کمپاونڈ پہلے مار پیٹ
یا کورٹ کچہری سے خالی نہیں کرواتے تھے ، بلکہ وہیں یعنی کراچی شہر میں ہی ایک ہر فن مولا
گلوکارجو ہر قسم کے راگوں ، بھاگو (پکے، کچے، درمیانے،جلے سڑے) پر قدرت رکھتا تھا کی خدمات
حاصل کی جاتی تھیں ۔ یعنی انھیں وہاں لاکر بسا دیا جاتا تھا ۔
موصوف صبح صادق نہار منہ ہی ہائی پچ میں ریاض بلکہ جدہ، دمام شروع کردیتے تھے
( نہار منہ یوں کہ سب مکیں ان کا منہ بند کرنے کو اپنے گھر سے بطور رشوت کچھ نہ کچھ ناشتے کے لئے بھیجتے یا لاتے تھے )
برداشت کا مادہ بھی اللہ میاں نے سب میں یکساں نہیں رکھا ہے ، کچھ جلد ہی بھاگ جاتے تھے کچھ مکین ہوش حواس کھوکر
اور آخر میں گلوکار کو اس کے کارنامے اور سرخ روئی پر انعام و اکرام سے نواز کر رخصت کیا جاتا تھا ۔
موصوف فلمی اداکاروں سے بھی زیادہ اجرت یا معا وضہ لینےکے باوجود
مصروف رہا کرتے تھے کہ اِس قسم کے معاملات اور معاہدوں کی اُس زمانے میں کمی تھوڑی تھی ۔
۔۔ ہائے کیا زمانہ تھا
 
آخری تدوین:

شمشاد

لائبریرین
ظلم کرتے لوگ جو اس قسم کے گلوکاروں کو لا کر بسا دیتے تھے۔
اب خود ہی سوچیں ایک بندہ رات کی ڈیوٹی کر کے واپس آئے اور صبح میں سونا چاہ رہا ہے لیکن گلو کار کا قبضی راگ اس کو سونے ہی نہیں دے رہا۔ تو اس پر تو ظلم ہی ہوا ناں۔
 

الف عین

لائبریرین
قریب قریب ایک تہائی لمبی ہو چکی ہے یہ لڑی۔ اب میرا جی چاہ رہا ہے کہ نئی کھول ہی دوں۔ بعد میں شمشاد چاہیں تو بند کر دیں
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top