العوام کالانعام

ہم عرصہء دراز تک عربی زبان کا یہ مقولہ سمجھنے سے قاصر رہے کہ "العوام کالانعام" یعنی "عوام چوپائیوں کی مانند " سے کیا مراد ہےاور اسی کی حقیقی صورت کیا ہوسکتی ہے ۔ مگر کچھ چیزیں عملی طور پر اس طرح ظہور پزیر ہوتی ہیں کہ آپ سے آپ ان کی حقیقت انسان پر واضح ہوتی چلی جاتی ہے۔ اول اول تو سننے میں آیا کہ لاہور کی طرح کراچی میں بھی جنگلا گاڑی (میٹرو بس) چلے گی ۔ پھر جب حکومت کی جانت سے باقاعدہ اعلان ہوا تو بہت خوشی ہوئی کہ اس شہرمیں ٹریفک کے دہائیوں پر پھیلے مسائل میں کچھ کمی آئے گی۔ لاہور کے کچھ دوستوں نے وہاں چلنے والی جنگلا گاڑی کی تعریف کی جس سے اس بات کے امکانات روشن ہوئے کہ مستقبل میں ہم بھی یہی کلمات اپنے شہر کے بارے میں کہہ سکیں گے۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ میٹرو بس کےاثار کراچی کی سڑکوں پر نازل ہونا شروع ہوگئے۔ جگہ جگہ بھاری مشینیں کھڑی نظر آنے لگیں، دو ایک جگہ فٹ پاتھ پر تین ٹانگوں والے اسٹینڈ پر کیمرہ نما کوئی مشین بھی نظر آتی رہی، جس میں ماہرین تھوڑی تھوڑی دیر بعد جھانکتے اور کبھی انکار ، کبھی اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اپنے ساتھی سے کچھ گفتگو کرتے۔ پھر جس جگہ یہ حضرات اپنی ماہرانہ "تاکاجھانکی" مکمل کرلیتے تو وہاں سے کچھ فاصلے پر بڑی بڑی مشینوں سے زمین کا سینا چیرا جاتا۔ ایک نئی سڑک کی تعمیر کےچرچے تھےجو روائتی دو سڑکوں کے درمیان سے گزرے گی ، اللہ کا شکر ہے کراچی شہر میں بہت سی سڑکوں کے درمیان چوڑی راہداری موجود ہےجسے گرین بیلٹ کہا جاتا ہے۔ سرجانی ٹاؤن سے ناظم آباد تک پھیلی ہوئی اس گرین بیلٹ میں کبھی سفیدے کے بےشمار درخت پائے جاتے تھے۔ پھر اللہ جانے کیا ہوا کہ تمام درخت کاٹ دیئے گئےاور ان کی جگہ زیادہ پتوں والے قدرے چھوٹے پودے لگادیئے گئے۔ اب جب جنگلا گاڑی کی تعمیر شروع ہوئی تو ان پودوں سے بھی گئے۔ کیونکہ اسی جگہ اب میٹرو بس چلے گی۔

جنگلا گاڑی کیلئے سڑک کی تعمیر کا کام کس ادارے کو سونپا گیا ہے یہ ہمیں معلوم نہیں مگر واقعاتی ثبوت (circumstantial evidence) بتاتے ہیں کہ کوئی گھاگ ادارہ ہے ۔ کیونکہ جس مہارت سے عوام الناس کیلئے اہم ترین شاہراہوں پر ناگہانی حادثات کا اہتمام کیا گیا ہے ، وہ بغیر وسیع تجربے کے ممکن ہو ہی نہیں سکتا۔ ناتجربہ کاری کہیں نہ کہیں اپنے ثبوت ضرور چھوڑتی ہے، یعنی یہ ممکن ہے کہ سڑک پر گڑھے یوں پے در پے کھود دیئے جائیں کہ چلنے والے پہلے دوسرے گڑھے سے ہی ہشیار ہو جائیں اور باقی گڑھے بے کار جائیں، یا زیر تعمیر ستونوں سے موت کے پھندوں کی طرح لٹکتے سریوں کی پوری جھالر لٹکا دی جائے، جسے گاڑی والے دور سے دیکھ کر راستہ بدل لیں ،کوئی حادثہ نہ ہو اور لاکھوں کا سریہ ضائع جائے۔ لیکن کیا مجال ہے جو گرین لائن بس کی تعمیر میں کسی نوعیت کی ناتجربہ کاری کا ثبوت دیا گیا ہو۔ سڑکوں پر گڑھے ایسے متناسب فاصلے سے کھودے گئے ہیں کہ جب تک گاڑی والے کو یہ یقین نہ ہوجائے کہ آگے سڑک صاف ہے اور اسکی طبیعت میں مرگ ناگہانی سے غفلت پیدا نہ ہوجائے تب تک دوسرا گڑھا ظاہر نہیں ہوتا۔ زیر تعمیر ستونوں سے نیزوں کی مانند باہر نکلے ہوئے سریئے بھی زمین سے مختلف اونچائیوں سے ایسے اچانک نمودار ہوتے ہیں کہ اگر موٹر سائیکل والے کسی سرئیے سے اپنا سر بچا لیں ، تو ضروری نہیں کہ اگلا نشانہ پنڈلی کا ہی ہو، ہوسکتا ہے اگلے تین نیزے مسلسل پسلی ناپنے کیلئے "سیٹ" کئے گئےہوں۔ پھر اسی پر بس نہیں ، کنکریٹ سے بنی ایک ہاتھ اونچی اور دو ہاتھ چوڑی مضبوط دیواریں "بیرئیر" یعنی رکاوٹ کے طور پر استعمال کی جاتی ہے ، اس ناگہانی آفت کی تعمیر اور تنصیب میں کچھ امور کا بالخصوص خیال رکھا گیا ہے، اول تو یہ کہ انہیں سڑک کے انتہائی دائیں جانب والی تیز رو اور درمیانی رو کے مابین ایسے نصب کیا جاتا ہے کہ دونوں طرف برابر کا خطرہ ہو، دوسرے وہی پرانا اصول کہ یہ ایسے اچانک نمودار ہو کہ بچنے کی صورت نہ نکلے، پھر اِسے کنکریٹ سے مضبوط تعمیر کیا جاتا ہے کہ جیسے ہی کوئی گاڑی یا موٹر سائیکل اس سے ٹکرائے تو ہزاروں کیلئے عبرت بن جائے مگر یہ قاتلانہ رکاوٹ ٹس سے مس نہ ہو۔ اِن رکاوٹوں پر ٹائروں کے نشان اور خون کے دھبے اکثر دیکھے جاسکتے ہیں، پھر اِن کے اطراف میں بکھری ہوئی کچھ چیزیں بھی ان کا نشانہ بننے والوں کا پتا دیتی ہے، مثلاً گاڑیوں کے ٹوٹے ہوئے شیشے کسی کار کے ٹکرانے کا واضح اشارہ ہیں، ٹوٹا ہوا چشمہ اور ہیلمٹ کے ٹکڑےموٹر سائیکل کے حادثے کی دلیل ہیں، البتہ اگر اس رکاوٹ کے اطراف میں ٹوٹی ہوئی چوڑیاں، بچوں کی مڑی ہوئی چپلیں اور برقع کے جلے ہوئے ٹکڑے نظر آئیں تو سمجھ جائیں کہ موٹرسائیکل پر سوار کوئی غریب گھرانہ تھا جو اب کسی سرکاری اسپتال میں اسی نوعیت کے دوسرے مسائل سے نبرد آزما ہورہا ہوگا۔

بعض دوستوں کا کہنا ہے کہ ہم خواہ مخواہ کیڑے نکال رہے ہیں ، تعمیر و ترقی کیلئے قربانیاں دینی پڑتی ہیں، آخر اہرام مصر کی تعمیر میں بھی تو لاکھوں یہودی جان سے گئے ہوں گے یا نہیں ؟ جب کہ ہمارا کہنا یہ ہے کہ نہ تو ہم یہودی ہیں اور نہ ہی یہ اہرام ِ مصر تعمیر ہورہے ہیں۔ ایک سڑک کی تعمیر کا معاملہ ہے ، جس کیلئے تھوڑی سی انسان دوستی ، زندہ ضمیری اور انداز فکر میں مثبت تبدیلی کی ضرورت ہے، اہم شاہراہوں پر رکاوٹیں لگانے سے پہلے متبادل راستے کیوں درست نہیں کئے جاتے ؟ سڑک کاایک حصہ کھودنے سے پہلے دوسرے حصے کو وسیع کیوں نہیں کرلیا جاتا ؟اگر کہیں قدرتی متبادل راستہ موجود ہے تو سڑک بند کرنے سے پہلے اس راستے سے تجاوزات کیو ں نہیں ہٹا دی جاتیں؟ یہ عام تعمیری قاعدہ ہے ، کہ جو شے اصل کے متبادل کے طور پر استعمال کرنی ہے ، اصل پر بندش سے پہلے اس متبادل کو قابل ِ استعمال بنایا جائے۔اور پھر سب سے ضروری بات یہ کہ جب سڑک کی تعمیر ہو رہی ہو اس وقت احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کی جاتیں، گڑھوں سے بچنے کیلئے جو رکاوٹیں لگائی گئیں ہیں وہ گڑھوں سے زیادہ خطرناک ہیں، آخر پلاسٹک کی بنی ہوئی دیواریں بھی تو استعمال ہو سکتی تھیں، جو عموماََ پولیس والے "تلاشی لینے" کیلئے رکاوٹ کے طور پر استعمال کرتے ہیں جس سے اگر کوئی ٹکرابھی جائے تب بھی حادثہ اتنا بھیانک نہیں ہوتا جتنا ان مضبوط پتھر کی دیواروں سے ہوتا ہے۔تعمیراتی احتیاط میں انسانی جان کو اولیت دی جاتی ہے ۔دنیا بھر میں ایسا ہی ہوتا ، کیا یہ تعمیراتی ادارہ جسے یہ کام سونپا گیا ہے بنیادی قواعد سے بھی واقف نہیں؟ پورے ادارے میں کوئی ایسا شخص نہیں جسے اپنے کام کے "اسٹینڈرڈز" کا علم ہو؟ یا یہ سارا کام محض قرابت داری کی بنیاد پر چل رہا ہے ؟
انہیں سوالوں میں الجھے الجھے ذہن ایک دم اُس عربی مقولے کی طرف گیا "العوام کالانعام" (عوام ، چوپائیوں کی مانند) اس تناظر میں اس مقولے سے حکمران طبقے کی سوچ کی بھرپور عکاسی ہوتی نظر آئی۔ کتنے ہی نوجوان ہیں جو تحفط (سیفٹی) کے مضامین میں ڈگریاں لئے نوکری کی تلاش میں گھوم رہے ہیں مگر ایسی احتیاطی تدابیر کی ضرورت تو تب پڑے جب عوام کو انسان سمجھا جائے ، حکمرانوں کی نظر میں عوام تو چوپائے ہیں ، اور مویشیوں کیلئے اتنی زحمت کون کرے۔درحقیقت یہ طبقاتی سوچ ایک بہت بڑی بیماری ہے ، جس میں حکمران طبقہ تمام تر سہولیات اپنے گرد جمع رکھتا ہے ۔ تصور تو کیجئے ، اگر کوئی شخص ہاتھ میں ایک لوہے کی سلاخ پکڑے بلاول بھٹو زرداری سے دس فٹ کے فاصلے سے گزرنا چاہے، تو اس غریب کا کیا حال کیا جائے گا ؟​
 
آخری تدوین:

نایاب

لائبریرین
اک اچھی تحریر
کچھ پانے کے کچھ کھونا پڑتا ہی ہے ۔۔۔۔۔
انسان کے بارے تو یہ کہا جاسکتا ہے ۔ کیا مویشیوں پر بھی اس اصول کا اطلاق ہو سکتا ہے ۔؟
بہت دعائیں
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
آپ کی تحریر اور اس میں لکھے گئے کسی بھی نکتے سے کچھ اختلاف نہیں۔ لاہوریوں نے یہ قربانی یوں ہی آسانی سے دے دی کیا؟ ہزاروں کی تعداد میں درخت بیچے گئے۔ اوہ معذرت۔۔ مطلب کاٹے گئے۔ اور اسلام آباد بلیو ایریا تو گنجا ہوگیا۔ لاہور تو پہلے ہی گنجا تھا۔ رہے سہے درخت بھی جھڑ گئے۔ شنید ہے کہ کراچی میں یہ اہم پراجیکٹ ملک ریاض کی کمپنی کے پاس ہے۔ لاہور میں تو ظاہر ہے جس کے پاس تھا۔۔۔ اس کے پاس ہے۔ ابھی اورنج ٹرین کے نام پر جو "کت خانہ" کھلا ہوا۔ اس پر کیا بات کرنی۔

اہم نوٹ: یہاں گنج کو کسی بھی قسم کے استعارے کے طور پر استعمال نہ کیاجائے۔ بہت نوازش ہوگی۔
 

اے خان

محفلین
فکر انگیز تحریر!!
آپ اپنے سوالات وزیراعظم کو میل کرسکتےہیں جوابات جاننے کے لئے اگر وزیراعظم کا میل ایڈریس ہو آپ کے پاس:D
ویسے جنگلہ بس کے بجائے گنجہ بس کیا ٹھیک رہے گا؟:p
مجھے اندیشہ ہے کہ کہی یہ کام ادھورا نہ چھوڑ دیا جائے:whistle:
 
Top