اقتصادیاتِ اسلام

الف نظامی نے 'مطالعہ کتب' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 2, 2019

  1. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    14,482
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    اسلامی معیشت کے بنیادی اصول و ضوابط
    اسلامی معاشی تعلیمات کی روح کو نظام میں ڈھالنے والے بنیادی اصول و ضوابط درج ذیل ہیں
    1- ملکیتِ اموال سے مراد صرف امانت اور نیابت ہے
    2- زمین اور اس کی پیداوار میں اصلا تمام انسانوں کا حق برابر ہے
    3- جملہ اموال میں حاجت مندوں کا شرعی حق ہے
    4- اصل رزق اور بنیادی حقِ معاش میں تمام انسان برابر ہیں
    5- بنیادی حق المعاش کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے
    6- حرام ذرائع معیشت کا انسداد
    7- صرف اور خرچ میں اقتصاد قائم رکھنا شرعی فریضہ ہے
    8- ہر شہری کے لئے حتی المقدور کسب معاش ضروری ہے
    9- کفالتِ عامہ کے نظام کا اجراء اور تنفیذ ریاست کا فریضہ ہے
    10- احتکار و اکتناز کا انسداد
    11- اجتماعی مفاد کو انفرادی مفادات پر ترجیح حاصل ہے
    12- غیر سودی معیشت کا قیام

    بحوالہ:
    اقتصادیاتِ اسلام از ڈاکٹر محمد طاہر القادری ، صفحہ 143
     
    آخری تدوین: ‏دسمبر 2, 2019
    • زبردست زبردست × 1
  2. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    2,784
    سیدمحمدباقر صدر نے اقتصادنا میں اقتصادی مکتب اور علم اقتصاد کو ایک دوسرے سے جدا کرتے ہوئے کہا ہے کہ: علم اقتصاد معاشرے میں اقتصادی موارد کو کشف کرتا ہے اور ان کے عوامل اور آپس کے رابطے کو بیان کرتا ہے جبکہ اقتصادی مکتب لوگوں کی اقتصادی زندگی کو عادلانہ طریقے سے نظم دینے کو بیان کرتا ہے۔[12]

    ان کے عقیدے کے مطابق، اسلام میں اقتصادی مکتب کا ذکر ہوا ہے لیکن علم اقتصاد کا تذکرہ نہیں ہوا ہے۔ لہذا اسلامی اقتصاد اقتصادی زندگی کو نظم دینے کا عادلانہ طریقہ بیان کرتا ہے اور علمی اکتشافات کے پیچھے نہیں ہے؛ مثال کے طور پر، اسلام، حجاز میں ربا کے عناصر اور علتوں کے پیچھے نہیں تھا؛ بلکہ اسے ممنوع کیا اور مضاربہ کے نام پر ایک اور سیسٹم کی بنیاد رکھی

    اقتصادنا (کتاب)
     
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1

اس صفحے کی تشہیر