اقتباس از 'رات کا شہزادہ': عمران سیریز۔ابن صفی

علی ہمایون نے 'جہان نثر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 2, 2017

  1. علی ہمایون

    علی ہمایون محفلین

    مراسلے:
    5
    یہ غریب آدمیوں کی بستی تو تھی نہیں کہ لوگ گھنٹوں سڑک پر کھڑے ہو کر اس واقعے کے متعلق چہ مگوئیاں کرتے۔ یہاں اس طبقے کی آبادی نہیں تھی جس کے افراد کسی آوارہ کتے کی اچانک موت پر بھی افسوس کرنے کے لئے اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ یہاں سے پولیس تھوڑی دیر قبل ایک آدمی کی لاش لے گئی تھی۔ لیکن اب ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے کوئی بات ہی نہ ہوئی ہو۔ بس تھوڑی دیر کے لئے مکانوں کی کھڑکیاں کھلی تھیں کچھ لوگ سڑک پر نکل آئے تھے اور پھر کچھ بھی نہیں۔ گویا پرندوں کے جھنڈ پر کسی شکاری نے گولی چلائی ایک گرا دوسرے اڑ گئے۔ اسکے بعد نیچے وہی زمیں اوپر وہی بیکراں نیلا آسمان۔اور دونوں کے درمیان وہی ازلی سناٹا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • غمناک غمناک × 1
  2. خالد محمود چوہدری

    خالد محمود چوہدری محفلین

    مراسلے:
    11,830
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    ہم ایسے ہی بے حس ہو گئے ہیں
     
    • متفق متفق × 1

اس صفحے کی تشہیر