افغان طالبان نے ملا منصور کی ہلاکت کی تصدیق کردی ، ملا ہیبت اللہ اخونزادہ نئےامیر مقرر

افغان طالبان نے ملا منصور کی ہلاکت کی تصدیق کردی ، ملا ہیبت اللہ اخونزادہ نئےامیر مقرر

کابل: افغان طالبان نے ملا منصور کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کو نیا امیر مقرر کرنے کاا اعلان کردیا ہے۔
افغان میڈیا کے مطابق افغان طالبان نے اپنے امیر ملا اختر منصور کی ڈرون حملے میں ہلاکت کی تصدیق کردی ہے، ملا ہیبت اللہ اخونزادہ افغان طالبان کے نئے امیر ہوں گے جب کہ سراج الدین حقانی اور ملا عمر کے بیٹے ملا یعقوب ڈپٹی سپریم لیڈر مقرر کیا گیا ہے۔
ملا ہیبت اللہ اخونزادہ اس سے قبل ملا اختر منصور کے نائب تھے اور طالبان میں ان کی شہرت جنگجو کے بجائے ایک عالم دین کی ہے۔
واضح رہے کہ 21 مئی کو بلوچستان میں پاک ایران سرحد کے قریب امریکی ڈرون طیارے نے ایک گاڑی کو نشانہ بنایا تھا جس میں 2 افراد ہلاک ہوگئے تھے ، ہلاک ہونے والوں کی شناخت محمد اعظم اور ولی محمد کے نام سے ہوئی تھی ، امریکی اور افغان حکام کا کہنا تھاکہ حملے میں ہلاک ہونے والا ایک شخص افغان طالبان کے امیر ملا اختر منصور تھے تاہم طالبان اور پاکستان نے باضابطہ طور پر اس کی تصدیق نہیں کی تھی۔
http://www.express.pk/story/519658/
 
امریکہ کے اس عمل سے بہت سارے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

امریکہ کی افغانستان میں موجودگی کا اب کیا جواز ہے؟
کیا امریکہ بھی روس کی طرح افغانستان کو کالونائیز کرنا چاہتا ہے؟
یا امریکہ افغانستان کے عوام کی خواہش کے خلاف ، اپنی کٹھ پتلی حکومت افحانستان میں قائم رکھنا چاہتا ہے؟
کیا امریکہ فارسی بولنے والے ایران پرست حکومتی ٹولے کو پشو بولنے والے پاکستان پرست ٹولے پر فوقیت دیتا ہے؟
اگر روس ، چین، پاکستان طالبان کی مدد سے پھر ایک پراکسی وار لڑنے لگے اور طالبان کو زمین سے زمین پر حملے کرنے والے اور زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائیل اسی طرح فراہم کرنے لگے جس طرح روش کی افغانستان کی آمد کے وقت ہوا تھا تو پھر امریکہ کے جنگی مقاصد افغانستان میں کیا رہ جائیں گے اور امریکی فوجیوں کے خوامخواہ قتل کا کون ذمے دار ہوگا؟
کیا امریکہ کا اب امن قائم کرنے کا نعرہ بناء جنگ مخالفین کے قتل کی صورت اختیار کرگیا ہے؟
 

Fawad -

محفلین


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

افغانستان ميں امريکی اور نيٹو افواج کی موجودگی کا مقصد شروع دن سے يہی رہا ہے کہ دہشت گردی کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کيا جائے اور وہ دہشت گرد گروہ اور ان کے ليڈر جو اپنی مرضی کا نظام نافذ کرنے کے ليے خطے کے عام لوگوں اور منتخب عوامی نمايندوں اور اداروں پر جنگ مسلط کر کے ان پر حملے کر رہے ہيں، انھيں کيفر کردار تک پہنچايا جائے۔

يہ وہ مقصد ہے جس کی توثيق اقوام متحدہ کی جانب سے کی جا چکی ہے اور اس پر اقوام عالم اور خطے ميں ہمارے اتحادی اور فريق بھی متفق ہيں۔ اس تناظر ميں تشدد کے محرک افراد اور گروہوں کے خلاف ہماری جاری کاوشيں نا تو کوئ سازش ہے اور نہ ہی کسی مبينہ خفيہ ايجنڈے کی تکميل کے ليے کوئ پيچيدہ منصوبہ۔

امريکی حکومت نے ہميشہ افراد اور گروہوں کی حوصلہ افزائ کی ہے کہ وہ تشدد کا راستہ ترک کر کے سياسی دھارے ميں شامل ہوں اور سياسی تنازعات اور اختلافات کے پرامن کے ليے گفتگو کی جانب بڑھيں۔ خطے کے مختلف عسکری گروہوں اور ان کے قائدين کے پاس يہ آپشن موجود ہے کہ وہ اپنے ہتھيار ڈال کر امن کا راستہ اختيار کريں۔

تاہم جو عناصر بدستور پرتشدد انتہا پسندی کی ترغيب کو فوقيت دے رہے ہيں اور اپنے مقاصد کی تکميل کے لیے گنجان آباد علاقوں ميں زيادہ سے زيادہ بے گناہ شہريوں کو ہلاک کرنے کے ليے کم سن نوجوانوں کو خودکش حملہ آور بنا کر بطور ہتھيار استعمال کرنے کو درست سمجھتے ہيں، وہ ہمارے مشترکہ دشمن ہی رہيں گے۔

امريکہ کو ايسے کسی "امن مذاکرات" کو سبو تاز کرنے کی کوئ ضرورت نہيں ہے جو دہشت گردی کی اس لہر کو روک سکيں جس کا شکار صرف پاکستانی ہی نہيں بلکہ دنيا بھر ميں بے گناہ شہری ہو رہے ہيں۔ ليکن ديرپا امن صرف اسی صورت ميں ممکن ہے جب مجرموں کا تعاقب کيا جائے اور غير متشدد گروہوں کو قائل کيا جائے کہ جائز سياسی عزائم کے حصول کے ليے سياسی پليٹ فارم کا استعمال ہی واحد قابل عمل طريقہ کار ہے۔ يہ سوچ کہ مجرموں کے ساتھ ان حالات ميں غير مشروط معاہدے کيے جائيں جبکہ وہ بدستور اپنے خونی ايجنڈوں پر کاربند ہوں اور پھر ان کے مطالبات بھی تسليم کر ليے جائيں، ديرپا امن کی جانب نہيں بڑھا جا سکتا ہے۔انسانی تاريخ کے ارتقاء ہی سے ايک فعال نظام انصاف کے لیے يہی بنيادی اصول رہا ہے​

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

http://www.facebook.com/USDOTUrdu
USDOTURDU_banner.jpg
 
Top