افغانستان اور ڈرگز منی

مہوش علی

لائبریرین
طالبان جب حکومت میں آئے تھے، تو ایک وقت ایسا آیا تھا جب انہوں نے پوست کی کاشت زبردستی ختم کر دی تھی اور اس کو حرام فصل قرار دیا تھا۔
آج جب امریکہ افغانستان میں بیٹھا ہے تو یہ سوال اکثر میرے بلکہ ہم سب کے ذہنوں میں اٹھتا ہو گا کہ کیونکر امریکہ افغانستان میں پوست کی کاشت پر قابو نہیں پا سکا۔
اس سلسلے میں یو ایس ریچ آوٹ کے فواد صاحب تفصیلی ایک پوسٹ بھی کر چکے ہیں اور انہوں نے اعداد و شمار کے ذریعے بتایا تھا کہ افغانستان کے جن جن علاقوں میں طالبان کا کنٹرول ہے وہاں پر یہ کام سب سے زیادہ ہو رہا ہے جیسے صوبہ ہلمند وغیرہ۔
میرے سامنے اور بھی کچھ اخباری رپورٹز آ چکی ہیں۔

ایک رپورٹ یہ بی بی سی پر موجود ہے جو حال میں ہی شائع ہوئی ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی طالبان تحریک اور افغانستان کے طالبان کیسے اپنی تحریک کو جاری رکھنے کے لیے پیسے کا انتظام کر رہے ہیں۔

ایک پاکستان اخبار میں حکومتی اہلکار بھی طالبان تحریک پر ڈرگز منی استعمال کرنے کا الزام لگا رہے تھے۔


میرا سوال آپ لوگوں سے یہ ہے کہ بی بی سی کی یہ رپورٹ کس حد تک قابل اعتبار ہے؟
 

محمد سعد

محفلین
اگر کوئی مجھ سے پوچھے تو میں تو یہی کہوں گا کہ مغربی میڈیا کی اسلام اور مسلمانوں سے دشمنی بھی سب پر روزِ روشن کی طرح عیاں ہے اور یہ بھی سب جانتے ہیں کہ طالبان میں بہت سی خامیاں ہونگی لیکن کم از کم منافقت جیسی برائی ان میں نہیں پائی جاتی۔ تو ایسی صورتحال میں مجھے ان رپورٹوں پر یقین کرنے کی کوئی معقول وجہ نظر نہیں آتی۔
 

ساجداقبال

محفلین
افغانستان تو بہت دور ہے، پاکستان کی بات کریں۔ تیراہ، کرم ایجنسی اور دوسری ایجنسیوں‌ میں‌ دھڑلے سے اسکی کاشت ہوتی ہے۔ تیراہ سب سے بڑا پیداواری خطہ ہے اور محض‌ اتفاق ہے کہ وہاں‌ طالبان نامی مخلوق کا کوئی وجود نہیں(کیونکہ وہاں‌ لہو گرم رکھنے کیلیے آپس کی لڑائیاں ہی کافی ہیں)۔
آپ نے اس الزام کا ذکر نہیں‌ کیا جو طالبان کی پوست پر پابندی کی مد میں‌ لگایا جاتا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں‌ قیمت گر گئی۔ ایکطرف تو اسے افغانستان کی واحد نقد آور فصل قرار دیا جاتا ہے اور دوسری طرف ایسے ”حقائق نامے“۔
آپ اپنے مضمون میں ایک دلچسپ چیز مس کر رہی ہیں۔ بقول عالمی میڈیا یہی منشیات یورپ اور امریکہ پہنچتی ہے جہاں انکا استعمال ہوتا ہے۔ کبھی ایسی کوئی خبر جسمیں‌ وہاں کے کسی ”درآمد کنندہ“ کا ذکر ہو؟‌ اصل مال تو وہ کمائیں لیکن بدنامی صرف افغانوں کی ہو۔ اس رپورٹ‌ میں جمعہ خان کا تو ذکر ہے جو ایک معمولی کاشتکار ہے لیکن یورپ و امریکہ کے کسی بندے کا نہیں‌ جو سمگل کر کے وہاں بیچتا ہے۔
دیجیٹل آؤٹ ریچ کے فواد کا مقصد اپنے ملک کا مؤقف ظاہر کرنا ہوتا ہے جس کا وہ خود اقرار کرتے ہیں۔ سو ضروری نہیں کہ حقیقت بھی وہی ہو کہ اکثر سچ ہی کسی ملک کے مفاد میں نہیں ہوتا۔ اور بی بی سی جیسے اداروں کا کام اپنے ملک و اتحادیوں کے مفادات کا تحفظ ہے، ہم انہیں جانبداری کا الزام بھی نہیں دے سکتے۔
 

مہوش علی

لائبریرین
افغانستان تو بہت دور ہے، پاکستان کی بات کریں۔ تیراہ، کرم ایجنسی اور دوسری ایجنسیوں‌ میں‌ دھڑلے سے اسکی کاشت ہوتی ہے۔ تیراہ سب سے بڑا پیداواری خطہ ہے اور محض‌ اتفاق ہے کہ وہاں‌ طالبان نامی مخلوق کا کوئی وجود نہیں(کیونکہ وہاں‌ لہو گرم رکھنے کیلیے آپس کی لڑائیاں ہی کافی ہیں)۔
آپ نے اس الزام کا ذکر نہیں‌ کیا جو طالبان کی پوست پر پابندی کی مد میں‌ لگایا جاتا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں‌ قیمت گر گئی۔ ایکطرف تو اسے افغانستان کی واحد نقد آور فصل قرار دیا جاتا ہے اور دوسری طرف ایسے ”حقائق نامے“۔
آپ اپنے مضمون میں ایک دلچسپ چیز مس کر رہی ہیں۔ بقول عالمی میڈیا یہی منشیات یورپ اور امریکہ پہنچتی ہے جہاں انکا استعمال ہوتا ہے۔ کبھی ایسی کوئی خبر جسمیں‌ وہاں کے کسی ”درآمد کنندہ“ کا ذکر ہو؟‌ اصل مال تو وہ کمائیں لیکن بدنامی صرف افغانوں کی ہو۔ اس رپورٹ‌ میں جمعہ خان کا تو ذکر ہے جو ایک معمولی کاشتکار ہے لیکن یورپ و امریکہ کے کسی بندے کا نہیں‌ جو سمگل کر کے وہاں بیچتا ہے۔
دیجیٹل آؤٹ ریچ کے فواد کا مقصد اپنے ملک کا مؤقف ظاہر کرنا ہوتا ہے جس کا وہ خود اقرار کرتے ہیں۔ سو ضروری نہیں کہ حقیقت بھی وہی ہو کہ اکثر سچ ہی کسی ملک کے مفاد میں نہیں ہوتا۔ اور بی بی سی جیسے اداروں کا کام اپنے ملک و اتحادیوں کے مفادات کا تحفظ ہے، ہم انہیں جانبداری کا الزام بھی نہیں دے سکتے۔


ساجد بھائی،

یہ بات بالکل صحیح ہے کہ پوست کی کاشت ان تمام علاقوں میں طالبان کے آنے سے بہت پہلے سے جاری ہے۔

اس منشیات کے کاروبار کے سلسلے میں ضیاء الحق مرحوم کے ساتھی جنرل فضل بہت مشہور بھی تھے۔

پاکستان کی بہت بڑی غلطی تھی کہ علاقہ غیر کے نام پر اور ہزاروں سال پرانی روایات کے نام پر ان علاقوں پر کبھی قانون کی بالادستی قائم نہ کی گئی۔ اس لیے آہستہ آہستہ اس علاقے سے اٹھنے والی بیماریاں بڑھتی چلی گئیں۔ غیر قانونی اسلحہ، چوری کی کاریں، سمگلنگ کا مال [جس نے پاکستان کی صنعت کو انتہا سے زیادہ نقصان پہنچایا]، پوست کی کاشت اور منشیات کا کاروبار۔۔۔۔۔ یہ سب کی سب بیماریاں اس لیے پیدا ہوئیں کہ ان علاقوں میں قانون کی بالادستی قائم نہ کی گئی۔

اگر بیماری کا وقت پر علاج نہ کیا جائے تو پھیلتے پھیلتے یہ ناسور بن جاتی ہے۔ اور پھر وقت آیا کہ ان بیماریوں نے ناسور کی شکل اختیار کر لی اور بہت سے مسلح جتھے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گردنیں مارتے پھر رہے ہیں۔

/////////////////////////////

پاکستان کے انگلش اخبارات میں تین چار بار یہ خبریں میرے سامنے گذر چکی ہیں جہاں پاکستان کے حکومتی اہلکار طالبان تحریک کے نیٹ ورک کی تفصیلات بیان کر رہے ہیں اور انکے مطابق انکے پاس نئے نئے ماڈلز کی جیپیں موجود ہیں اور انکے ٹائر ہر دوسرے تیسرے مہینے بدلے جاتے ہیں، جو لوگ طالبان تحریک میں شامل ہو کر لڑتے ہیں انہیں باقاعدہ تنخواہ دی جاتی ہے اور اگر کوئی لڑائی میں مارا جائے تو اسکے گھر والوں کو امداد دی جاتی ہے۔ مزید یہ کہ ان کے اخراجات کا تخمینہ تین ارب روپے لگایا گیا تھا جو کہ ان پاکستانی ایجنسیز کے مطابق سمگلنگ کے مال اور منشیات کے پیسے سے پورا کیا جاتا ہے۔

بی بی سی کی خبر پر اگر مکمل یقین نہ بھی کیا جائے، تب بھی شک ضرور سے کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ وہ تمام مغربی اخبارات جنہوں نے طالبان کی اس قدم کو فورا سراہا تھا جب انہوں نے حکومت میں آنے کے کچھ سال بعد پوست کی کاشت پر پابندی لگا دی تھی۔ صرف بی بی سی کی بات نہیں، بلکہ یہی تمام مغربی اخبارات آج طالبان پر منشیات کے کاروبار میں ملوث ہونے کا الزام لگا رہے ہیں۔
 

Fawad -

محفلین
Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اس موضوع کے حوالے سے اسی فورم پر کچھ اعداد وشمار پوسٹ کر چکا ہے۔

اس وقت افغانستان ميں پورا ملک حکومت کے زير اثرنہيں ہے۔کچھ علاقوں پر طالبان کا قبضہ ہے اور باقی ماندہ علاقوں کا نظام مختلف قبائلی کونسلز کے زير اثر ہے۔ 1996 ميں اس وقت کی طالبان حکومت نے يہ فيصلہ کيا تھا کہ منشيات کا کاروبار خلاف اسلام ہے ليکن 2001 ميں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد جن صوبوں میں طالبان کا اثر ورسوخ باقی تھا، وہاں پر منشيات کی کاشت کا کام دوبارہ شروع کر ديا گيا۔ا

اس وقت دنيا ميں ہيروئين کی پيداوار ميں استعمال ہونے والی اوپيم کی کاشت اور سپلائ کا 90 فيصد کام افغانستان ميں ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی ايک حاليہ رپورٹ کے مطابق افغانستان ميں اوپيم کی مجموعی پيداوار کا 50 فيصد کام صرف ايک صوبے ہلمند میں ہو رہا ہے۔ افغانستان کے اس جنوبی صوبے کی مجموعی آبادی 2.5 ملين ہے اور يہ صوبہ اس وقت دنيا ميں غير قانونی منشيات کی پيداوار کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ اس صوبے ميں منشيات کی مجموعی پيداوار کولمبيا، مراکو اور برما سے بھی تجاوز کر چکی ہے حالانکہ ان ممالک کی آبادی ہلمند سے 20 گنا زيادہ ہے۔ اس سال ہلمند کے صوبے ميں منشيات کی پيداوار پچھلے سال کے مقابلے ميں 48 فيصد بڑھ گئ جس کے نتيجے ميں اس سال افغانستان ميں منشيات کی مجموعی پيداوار 8200 ٹن ہے جو کہ پچھلے سال کے مقابلے ميں 34 فيصد زيادہ ہے۔ اس کے علاوہ فغانستان ميں 477000 ايکڑ رقبے پر منشيات کی کاشت کی گئ جو کہ پچھلے سال کے مقابلے ميں 14 فيصد زيادہ ہے۔ يہ ايک نيا ريکارڈ ہے۔

11 ستمبر 2001 کے واقعے کے بعد جب برطانيہ نے افغانستان ميں امريکہ اور نيٹو افواج کا ساتھ دينے کا فيصلہ کيا تھا تو اس کا مقصد صرف القائدہ سے درپيش خطرات کا سدباب ہی نہيں تھا بلکہ افغانستان ميں منشيات کی روک تھام بھی ايک اہم مقصد تھا۔ ٹونی بلير نے اپنے بيانات ميں اس بات کا ذکر کئ بار کيا تھا کہ برطانيہ ميں درآمد کی جانے والی منشيات کا بڑا حصہ افغانستان کے راستے پہنچتا ہے۔

اقوام متحدہ ميں منشيات کی روک تھام کے ادارے کے سربراہ اينتونيو ماريہ کوستا کے مطابق پچھلے 100 سالوں ميں دنيا کے کسی ملک ميں اتنے بڑے پيمانے پر منشيات کی کاشت نہيں کی گی جتنی کہ افغانستان ميں کی گئ ہے۔ 100 سال پہلے يہ "اعزاز" چين کو حاصل تھا۔ اوپيم کے علاوہ ايک اور قسم کی منشيات کينبيز کی کاشت کا کام بھی بتدريج بڑھ رہا ہے۔ ايک سروے کے مطابق 2008 ميں افغانستان کے 18 فيصد علاقے ميں کينبيز کی کاشت کا کام کيا جائے گا جوکہ 172970 ايکڑ رقبہ بنتا ہے۔ يہ تعداد بھی پچھلے سال کے مقابلے ميں 5 فيصد زيادہ ہے۔ ہلمند کے صوبے ميں منشيات کی پيداوار کا سارا کام طالبان کی زير نگرانی ہو رہا ہے۔ اينتونيو ماريہ کوستا نے اپنی رپورٹ ميں نيٹو پر يہ بھی واضح کيا کہ منشيات کی اس پيداوار سے حاصل ہونے والی آمدنی براہراست دہشت گردی کے ليے استعمال ہو رہی ہے۔

اقوام متحدہ کی ايک حاليہ تحقيقی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے جنوبی علاقوں اور 72 فيصد مغربی علاقوں سے منشيات کی آمدنی کا سارا حصہ براہراست مقامی کمانڈوز، طالبان اور ديگر دہشت گرد تنظيموں تک پہنچ رہا ہے۔

افغانستان ميں اقوام متحدہ کی ترجمان کرسٹينا اوگز کے مطابق دہشت گردوں کی مالی امداد روکنے کے ليے افغانستان ميں منشيات کی روک تھام اور مقامی کاشت کاروں کو متبادل ذرائع آمدنی مہيا کرنے کے ليے انقلابی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

امريکہ نے اس سال افغانستان ميں منشيات کی روک تھام کے ليے 449 ملين ڈالرز مختص کيے ہيں۔ جبکہ برطانيہ نے منشيات کے متبادل کے طور پر روئ، چاول اور مرچوں کی کاشت کے ليے 60 ملين ڈالرز کی امداد دی ہے۔ صوبے کے نئے گورنر اسد الللہ وفا نے بھی پچھلے 8 ماہ ميں منشيات کی روک تھام کے حوالے سے بہت سے منصوبوں پر کام شروع کيا ہے۔ ليکن ابھی تک مقامی افغان کاشت کاروں کو منشيات کی پيداوار سے روکنے ميں خاطر خواہ کاميابی حاصل نہيں ہو رہی۔ قريب ايک تہائ کاشتکاروں نے يہ تسليم کيا ہے کہ انھيں ڈرگ مافيا سے منشيات کی کاشت جاری رکھنے کے ليے ايڈوانس رقم ملتی ہے۔ منشيات کے اس گھناؤنے کاروبار سے حاصل ہونے والی آمدنی ان دہشت گردوں تک پہنچ رہی ہے جو افغانستان اور پاکستان ميں معصوم لوگوں کو اپنی دہشت گردی کا نشانہ بنا رہے ہيں۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
 

قیصرانی

لائبریرین
فواد، کیا سی آئی اے یا امریکی حکومت کی طرف سے ان روابط کے بارے معلومات مل سکتی ہیں جن کی مدد سے یہ منشیات افغانستان سے یورپ یا امریکہ پہنچتی ہیں؟ اور یہ بھی کہ افیون یا پوست سے ہیروئن کی تیاری کا عمل "ان پڑھ اور جاہل" افغانیوں کو کس نے سکھایا اور اس میں استعمال ہونے والی مشینری کہاں سے آئی اور کہاں نصب ہے؟
 
اگر کوئی مجھ سے پوچھے تو میں تو یہی کہوں گا کہ مغربی میڈیا کی اسلام اور مسلمانوں سے دشمنی بھی سب پر روزِ روشن کی طرح عیاں ہے اور یہ بھی سب جانتے ہیں کہ طالبان میں بہت سی خامیاں ہونگی لیکن کم از کم منافقت جیسی برائی ان میں نہیں پائی جاتی۔ تو ایسی صورتحال میں مجھے ان رپورٹوں پر یقین کرنے کی کوئی معقول وجہ نظر نہیں آتی۔

اس صدی کا سب سے بڑا لطیفہ - ہا ہا ہا ہا ہا ۔۔۔
ان لوگوں کا کوئی دین و ایمان ہے؟
 

ساجداقبال

محفلین
فواد، کیا سی آئی اے یا امریکی حکومت کی طرف سے ان روابط کے بارے معلومات مل سکتی ہیں جن کی مدد سے یہ منشیات افغانستان سے یورپ یا امریکہ پہنچتی ہیں؟ اور یہ بھی کہ افیون یا پوست سے ہیروئن کی تیاری کا عمل "ان پڑھ اور جاہل" افغانیوں کو کس نے سکھایا اور اس میں استعمال ہونے والی مشینری کہاں سے آئی اور کہاں نصب ہے؟
میں‌ بھی یہی پوچھنا چاہوں‌ گا۔ کسی فوج کا دشمن کو شکست دینے کیلیے سب سے پہلا ہدف اسکی رسد ہوتی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ پاکستانی سرحد پر سے جانی رسد(بقول آپکے میڈیا کے 12 فیصد حملوں‌ کی وجہ) پر تو آپ بڑا واویلا مچاتے ہیں لیکن بقول آپکے ہلمند جو مالی رسد کا مرکز ہے وہاں‌ کوئی کاروائی نہیں‌کی جاتی؟
449 ملین ڈالرز؟ :grin: اونٹ کے منہ میں‌ زیرہ دیکر یہ سمجھنا کہ وہ رجھ کے بیٹھ جائیگا۔۔۔۔۔۔۔کیا کہیں‌ اسے؟ وہ بھی جب افغان اسٹیبلشمنٹ‌ کی چھان سے گزر کی یہ رقم مستحقین تک پہنچتی ہے۔ چھوڑئیے صاحب ایسے لالی پاپ کا زمانہ گزر چکا۔
 

ابوشامل

محفلین
طالبان کی بہت سی پالیسیوں سے اختلاف کے باوجود اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ انہوں نے اپنے دور حکومت میں دو کارنامے ایسے انجام دیے جو نہ اس سے پہلے کوئی کر سکا اور نہ آج تک کر سکا ہے ایک ملک میں امن و سکون اور دوسرا منشیات کا خاتمہ۔ میرے پاس حوالے اور اعداد و شمار تو نہیں لیکن ایک صاحب کی بات بہت دل کو لگی کہ طالبان کی حکومت کے خاتمے کی سب سے بڑی وجہ منشیات کا خاتمہ تھی کیونکہ اس کی سب سے بڑی مارکیٹ امریکہ ہے اور سب سے زیادہ پیدا کرنے والا ملک افغانستان جب افغانستان سے رسد بند ہو گئی اور، بقول ان کے، سی آئی اے کا سارا بجٹ ڈانوا ڈول ہو گیا جو دنیا بھر میں منشیات کے کاروبار کے دم سے ہی چل رہی ہے، تو امریکہ نے منشیات کی پیداوار کی بحالی کے لیے دیگر ڈرامے رچائے اور افغانستان پر قبضہ کر کے پوست کی کاشت کو بحال کیا۔ واللہ اعلم
 

ساجداقبال

محفلین
طالبان کی بہت سی پالیسیوں سے اختلاف کے باوجود اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ انہوں نے اپنے دور حکومت میں دو کارنامے ایسے انجام دیے جو نہ اس سے پہلے کوئی کر سکا اور نہ آج تک کر سکا ہے ایک ملک میں امن و سکون اور دوسرا منشیات کا خاتمہ۔ میرے پاس حوالے اور اعداد و شمار تو نہیں لیکن ایک صاحب کی بات بہت دل کو لگی کہ طالبان کی حکومت کے خاتمے کی سب سے بڑی وجہ منشیات کا خاتمہ تھی کیونکہ اس کی سب سے بڑی مارکیٹ امریکہ ہے اور سب سے زیادہ پیدا کرنے والا ملک افغانستان جب افغانستان سے رسد بند ہو گئی اور، بقول ان کے، سی آئی اے کا سارا بجٹ ڈانوا ڈول ہو گیا جو دنیا بھر میں منشیات کے کاروبار کے دم سے ہی چل رہی ہے، تو امریکہ نے منشیات کی پیداوار کی بحالی کے لیے دیگر ڈرامے رچائے اور افغانستان پر قبضہ کر کے پوست کی کاشت کو بحال کیا۔ واللہ اعلم
جی بالکل، یہ تو ثابت شدہ بات ہے کہ سی آئی اے منشیات کی سمگلنگ میں ملوث رہی ہے۔ ویتنام سے نگارگوا اور افغانستان تک۔
 

باذوق

محفلین
بلا تبصرہ

بلا تبصرہ
بشکریہ : طالبان اور پاکستان ۔ پیش لفظ

فی زمانہ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ہندوستان میں قدیم زمانہ سے جس پودے کی کاشت انسانی صحت کیلئے مفید بیج خشخاش یا خشخش حاصل کرنے کیلئے کی جاتی تھی ۔ انگریز سائنسدانوں نے اس پودے سے نشہ آور جنس افیون بنانے کی ترکیب ایجاد کی جس کے متعلق میں 13 دسمبر 2005ء کو لکھ چکا ہوں :
“اٹھارہویں صدی میں سبز چائے نے انگریزوں کے بنیادی مشروب ایل یا آلے کی جگہ لے لی ۔ انیسویں صدی کے شروع تک سالانہ 15000 مِٹرک ٹن چائے چین سے انگلستان درآمد ہونا شروع ہو چکی تھی ۔ انگریز حکمرانوں کو خیال آیا کہ چین تو ہم سے بہت کم چیزیں خریدتا ہے جس کی وجہ سے ہمیں نقصان ہو رہا ہے ۔ انہوں نے افیون دریافت کی اور چینیوں کو افیون کی عادت ڈالی جو کہ چائے کے مقابلہ میں بہت مہنگی بھی تھی ۔ پوست کی کاشت چونکہ ہندوستان میں ہوتی تھی اس لئے ہندوستان ہی میں افیون کی تیاری شروع کی گئی ۔ یہ سازش کامیاب ہو گئی ۔ اس طرح انگریزوں نے اپنے نقصان کو فائدہ میں بدل دیا ۔ انگریزوں کی اس چال کے باعث چینی قوم افیمچی بن گئی اور تباہی کے قریب پہنچ گئی” ۔
بیسویں صدی میں پوست کے اسی پودے سے یورپی سائنسدانوں نے ہیروئین بنائی اور اس کے کارخانے افغانستان کے دشوار گذار پہاڑی علاقوں میں لگائے ۔ اِن کارخانوں کی معمل [laboratories] یورپی ممالک سے بن کر آئی تھیں ۔ یہ کاروائی دراصل اس علاقے کے صحتمند لوگوں کے خلاف ایک سازش تھی جس طرح کہ چینیوں کے خلاف سازش کی گئی تھی لیکن اللہ کا کرنا کیا ہوا کہ خطرناک نشہ آور مادہ کی مقامی منڈی میں کوئی خاص مانگ نہ ہوئی اور اس کی ترسیل یورپ اور امریکہ کی طرف ہونے لگی ۔ جب امریکہ کو اس خطرہ کا احساس ہوا تو اُنہوں نے پوست کی کاشت پر بین الاقوامی طور پر پابندی لگانے کی مہم شروع کر دی ۔ جس کے نتیجہ میں اس علاقہ کے لوگ ایک سستے اور آسان نُسخہِ صحت خشخاش سے محروم ہو گئے ۔ لیکن اس حقیقت کو فراموش نہیں کیا جا سکتا کہ جب افغانستان پر مُلا عمر کا حُکم چلتا تھا تو ہیروئین کی افغانستان میں پیداوار صفر ہو گئی تھی اور اب جبکہ وہاں امریکا کا حُکم چلتا ہے دنیا میں ہیروئین کی کُل پیداواری مقدار کا 97 فیصد افغانستان میں تیار ہو رہی ہے ۔
 
امریکہ میں غیر سرکاری شعبہ میں قائم ورلڈواچ انسٹی ٹیوٹ کی دوہزار تین کی رپورٹ وائٹل سائنز کے مطابق اس وقت عالمی سطح پر تین سو سے پانچ سو ارب ڈالر سالانہ کی منشیات فروخت ہوتی ہیں جبکہ عالمی منڈی میں قانونی ادویات کی تجارت کا تخمیہ تین سو ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔

دنیا کے کم سے کم ایک سو بیس ممالک میں چرس، پینتیس میں افیم اور صرف چھ میں کوکا کی پیداوار کی جاتی ہے۔

نوے کی دہائی کے اواخر میں دنیا بھر میں پیدا ہونے والی افیم کا ستر فی صد افغانستان میں پیدا ہوتا تھا تاہم دو ہزار ایک میں طالبان نے پوست کی کاشت پر مکمل پابندی عائد کر دی جس کے نتیجہ میں افیم کی پیداوار تین ہزار دو سو چھہتر ٹن سے کم ہو کر ایک دم ایک سو پچاسی ٹن تک گِر گئی۔

تاہم افغانستان پر امریکی حملہ کے نتیجہ میں طالبان حکومت کے خاتمہ کے بعد سن دو ہزار دو میں افیم کی پیداوار میں زبردست اضافہ ہوگیا اور تین ہزار چار سو ٹن افیم پیدا ہوئی۔
طالبان حکومت کے خاتمے کا اثر پاکستان کے قبائلی علاقوں
پاکستان میں منشیات کے انسداد اور تحقیق کی کونسل (نارک) کے مشیر ذوالقرنین شاہ کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں میں بھی آٹھ سو میٹرک ٹن افیم پیدا ہوئی۔
مئی کے مہینے میں جب میں خیبر ایجنسی کے علاقے تیراہ کے باغ میلہ میں گیا تو وہاں درجہ اول کی چرس نو ہزار روپے فی کلو جبکہ گھٹیا درجے کی چرس کی قیمت ایک سو روپے فی کلو تھی۔ اسی طرح تر یا تازہ افیم کا بھاؤ بیس ہزار روپے کلو اور خشک کا بتیس ہزار روپے کلو تھا۔
اورکزئی ایجنسی کے ماموزی علاقے میں تقریباً دو سال پہلے
تک علماء کی وجہ سے بھنگ یا پوست کی کاشت ناممکن تھی مگر اس سال وہاں بھی پوست کی کھیتی ’لہلہا‘ رہی تھی۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد یا تو یہاں کے علماء خود کو کمزور محسوس کرنے لگے ہیں یا پھر انہوں نے خاموشی اختیار کر لی ہے۔
http://www.bbc.co.uk/urdu/news/030809_tirah_drags_ua.shtml

طالبان کی پالیسی ’کامیاب ترین‘
منشیات کے خلاف طالبان کی پالیسی دوسری حکومتوں کے نسبت سب سے زیادہ کامیاب رہی۔

یہ بات برطانیہ کی لفبرا یونیورسٹی کے ایک ماہر جرمیات پروفیسر گریہم فیرل کی ایک رپورٹ میں کہی گئی ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق منشیات کے خلاف افغانستان میں طالبان حکومت کی پالسی حالیہ برسوں کی کامیاب ترین پالیسی تھی۔

انیس سو نوے کی دہائی میں افغانستان دنیا کو ہیرؤین کی سب سے بڑی تعداد سمگل کرتا تھا۔ تاہم طالبان حکومت کی سخت انسداد منشیات پالیسی کے باعث دنیا میں ہیرؤین کی پیداوار میں پینسٹھ فیصد تک کمی آگئی تھی۔

جولائی سن دو ہزار سے طالبان کی یہ پالیسی عمل میں آئی اور ایک سال سے زیادہ رہی۔ ہیرؤین کو پوست سے بنایا جاتا ہے لیکن طالبان حکومت نے پوست کی کاشت پر مکمل پابندی لگادی تھی۔

پروفیسر فیرل نے بی بی سی کے ریّڈو پروگرام ’ورلڈ ٹوڈے‘ کو بتایا کہ طالبان پالیسی کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اس کو مقامی سطح پر چلایا۔

مذھبی رہنماؤں اور مقامی گروپوں کو اس پر عمل کرانے کی ذمہ داری سونپ دی گئی تھی اور اگر علاقے میں پوست کی کاشت ہوتی تو انہی افراد کو جوابدہ ہونا پڑتا اور ان کو سزا ہوجاتی تھی۔

پوست کاشت کرنے والے کاشتکاروں کو بھی سزا ہوتی تھی۔ ان کے منہ کالے کر دیے جاتے اور ان کو جیل بھیج دیا جاتا۔

طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد ملک میں پوست کی کاشت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔

پروفیسر فیرل کا کہنا ہے کہ طالبان کی پالیسی کی کامیابی سے بین الاقوامی سطح پر چلائی جانے والی انسداد منشیات پالیسی کے بارے میں کئی سوالات اٹھتے ہیں۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شائد طالبان جتنے سخت گیر طریقہ کار مناسب نہ ہوں۔
http://www.bbc.co.uk/urdu/regional/story/2004/01/040119_taleban_drugscontrol_wb_uk.shtml
 

Fawad -

محفلین
Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

جب افغانستان پر مُلا عمر کا حُکم چلتا تھا تو ہیروئین کی افغانستان میں پیداوار صفر ہو گئی تھی اور اب جبکہ وہاں امریکا کا حُکم چلتا ہے دنیا میں ہیروئین کی کُل پیداواری مقدار کا 97 فیصد افغانستان میں تیار ہو رہی ہے ۔


اقوام متحدہ کی ايک رپورٹ کے مطابق 90 کی دہاہی ميں افغانستان اوپيم کی پيداوار میں دنيا ميں دوسرے نمبر پر تھا۔ صرف سال 1998 ميں 41،720 ايکٹر رقبے پر 1350 ميٹرک ٹن اوپيم گم کاشت کی گئ۔

سال 1988 میں افغانستان نے اقوام متحدہ کے ڈرگ کنونشن کے تحت منشيات کی روک تھام کے ايک معاہدے پر دستخط کيے تھے ليکن طالبان سميت کسی بھی سياسی دھڑے نے اس معاہدے پر عمل نہيں کيا۔ سال 1998 کے آخر تک طالبان کا کنٹرول افغانستان کے 80 فيصد علاقے پر تھا۔ جون 1998 ميں جلال آباد ميں 1 ٹن اوپيم کو نذر آتش کرنے کے علاوہ سرکاری سطح پر ايسا کوئ قدم نہيں اٹھايا گيا جس کے تحت مورفين يا ہيروئين بنانے والی کسی ليبارٹری، يا ہيروئين کی ترسيل کی کسی کھيپ يا منشيات کی سمگلنگ ميں ملوث کسی گروہ کو مستقل طور پر اس مذموم کاروبار سے روکا جاتا۔ اقوام متحدہ اور کئ نجی و سرکاری تنظيموں کی بے شمار رپورٹوں سے يہ واضح تھا کہ يورپ ميں سمگل کی جانے والی 80 فيصد منشيات افغانستان ميں تيار کی گئ تھی۔ سال 1998 کے آخر تک افغانستان ميں پيدا کی جانے والی 95 فيصد منشيات طالبان کے زير اثر 80 فيصد علاقوں ميں تيار کيا جاتی تھی۔

افغانستان کی مختلف ليبارٹريوں ميں تيار کی جانے والی ہيروئين اور مورفين کی تياری کے ليے ايسڈيک اينہائيڈرئيڈ نامی عنصر کی بڑی مقدار درکار ہوتی ہے جو کہ عام طور پر يورپ، چين اور بھارت سے حاصل کيا جاتا ہے۔ منشيات کی ترسيل کے ليے افغانستان سے ملحقہ پاکستان، ايران، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کی سرحديں استعمال کی جاتی تھيں۔افغانستان ميں منشيات کے اس کاروبار کے منفی اثرات براہراست ان علاقوں ميں منشيات کی آسان دستيابی اور کھلے عام استعمال کی صورت ميں نمودار ہوئے۔

منشيات کے حوالے سے طالبان کی پاليسی يہ تھی کہ اس کی روک تھام صرف اسی صورت ميں ممکن ہے جب اقوام متحدہ نہ صرف طالبان کی حکومت کو سياسی سطح پر تسليم کرے بلکہ جن علاقوں ميں پوست کی کاشت کی جاتی ہے وہاں کسانوں کو متبادل کاروبار کے ليے مناسب فنڈز مہيا کيے جائيں۔ حالانکہ اس سے قبل طالبان کی جانب سے يہ اعلان کيا جا چکا تھا کہ منشيات کا استعمال اور اس کی پيداوار سے منسلک تمام کاروبار اسلام اور شريعت کے قوانين کے خلاف ہيں۔

سال 1997 ميں يو – اين – ڈی – سی – پی کے ڈائريکٹر آرلاچی نے طالبان کے ليڈر ملا عمر کے نام ايک خط لکھا تھا جس ميں ان سے يہ مطالبہ کيا گيا تھا کہ جن علاقوں ميں کسانوں کو متبادل کاروبار کی سہوليات فراہم کی گئ ہيں وہاں منشيات کی پيداوار کی روک تھام کو يقينی بنايا جائے۔ اس کے علاوہ ان سے يہ اجازت بھی مانگی گئ کہ يو – اين – ڈی – سی – پی کو ان علاقوں تک رسائ دی جائے جہاں طالبان کے بقول منشيات کے کاروبار پر بين لگا ديا گيا ہے۔ طالبان سے يہ مطالبہ بھی کيا گيا کہ منشيات کے کاروبار کو جڑ سے ختم کرنے کے ليے ضروری ہے نہ صرف ہيروئين کی تياری کی ليبارٹريوں کو ختم کيا جائے بلکہ ان گروہوں کا بھی خاتمہ کيا جائے جو منشيات کی تقسيم کے کاروبار ميں ملوث ہيں۔ طالبان کی جانب سے ان مطالبات کو اسی شرط پر تسليم کيا گيا کہ کسانوں کو متبادل کاروبار کے ليے فنڈز کی فراہمی کو يقينی بنايا جائے۔

http://www.dpf.org/library/taliban.cfm

http://query.nytimes.com/gst/fullpage.html?res=9507E1D9133CF932A25754C0A96F958260

http://www.un.org/ga/20special/featur/crop.htm

ليکن تمام تر يقين دہانيوں کے باوجود سال 2000 تک منشيات کی کاشت نہ صرف جاری رہی بلکہ کچھ نئے علاقے بھی اس کاروبار ميں شامل ہوگئے۔ 1998 ميں مئ کے مہينے ميں پوست کی کاشت کے موقع پر يو – اين – ڈی – سی – پی کی جانب سے طالبان کو مطلع کيا گيا کہ لغمان، لوگار اور ننگرہار کے صوبوں کے کچھ نئےعلاقوں ميں پوست کی کاشت کا کام شروع ہو گيا ہے۔ يہی وہ موقع تھا جب 1 جون 1998 کو جلال آباد کے شہر ميں طالبان نے سرعام ايک ٹن منشيات کو سرعام آگ لگا کر يہ دعوی کيا تھا اس سال منشيات کی تمام پيداوار کو تلف کر ديا گيا ہے۔ ليکن اعداد وشمار کچھ اور حقيققت بيان کر رہے تھے۔ سال 2000 کے آخر تک منشيات کو کنٹرول کرنے کے کسی ايک بھی پروگرام پر عمل درآمد نہيں کيا گيا۔

http://www.nytimes.com/2000/09/18/world/18AFGH.html?ex=1215748800&en=f470637e39d1c243&ei=5070

منشيات کی روک تھام کی کئ نجی تنظيموں کی رپورٹوں سے يہ واضح تھا کہ طالبان اور شمالی اتحاد کے بہت سے سينير اہلکار براہراست منشيات کی ترسيل سے مالی فوائد حاصل کر رہے تھے۔ سال 1997 میں طالبان کے ايک اعلی افسر نے يہ تسليم کيا تھا کہ پوست کی کاشت ميں ملوث کسانوں سے طالبان حکومت 10 فيصد "مذہبی ٹيکس" وصول کرتی تھی۔

افغانستان ميں منشيات کی پيداوار کے حوالے سے 90 کی دہاہی کے کچھ اعداد وشمار پيش ہيں۔


http://img354.imageshack.us/my.php?image=clipimage002af5.jpg

http://img55.imageshack.us/my.php?image=clipimage00213sk4.jpg


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
http://usinfo.state.gov
 

باذوق

محفلین
اقوام متحدہ کی ايک رپورٹ کے مطابق 90 کی دہاہی ميں افغانستان اوپيم کی پيداوار میں دنيا ميں دوسرے نمبر پر تھا۔ صرف سال 1998 ميں 41،720 ايکٹر رقبے پر 1350 ميٹرک ٹن اوپيم گم کاشت کی گئ۔

سال 1988 میں افغانستان نے اقوام متحدہ کے ڈرگ کنونشن کے تحت منشيات کی روک تھام کے ايک معاہدے پر دستخط کيے تھے ليکن طالبان سميت کسی بھی سياسی دھڑے نے اس معاہدے پر عمل نہيں کيا۔ سال 1998 کے آخر تک طالبان کا کنٹرول افغانستان کے 80 فيصد علاقے پر تھا۔ جون 1998 ميں جلال آباد ميں 1 ٹن اوپيم کو نذر آتش کرنے کے علاوہ سرکاری سطح پر ايسا کوئ قدم نہيں اٹھايا گيا جس کے تحت مورفين يا ہيروئين بنانے والی کسی ليبارٹری، يا ہيروئين کی ترسيل کی کسی کھيپ يا منشيات کی سمگلنگ ميں ملوث کسی گروہ کو مستقل طور پر اس مذموم کاروبار سے روکا جاتا۔ اقوام متحدہ اور کئ نجی و سرکاری تنظيموں کی بے شمار رپورٹوں سے يہ واضح تھا کہ يورپ ميں سمگل کی جانے والی 80 فيصد منشيات افغانستان ميں تيار کی گئ تھی۔ سال 1998 کے آخر تک افغانستان ميں پيدا کی جانے والی 95 فيصد منشيات طالبان کے زير اثر 80 فيصد علاقوں ميں تيار کيا جاتی تھی۔

افغانستان کی مختلف ليبارٹريوں ميں تيار کی جانے والی ہيروئين اور مورفين کی تياری کے ليے ايسڈيک اينہائيڈرئيڈ نامی عنصر کی بڑی مقدار درکار ہوتی ہے جو کہ عام طور پر يورپ، چين اور بھارت سے حاصل کيا جاتا ہے۔ منشيات کی ترسيل کے ليے افغانستان سے ملحقہ پاکستان، ايران، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کی سرحديں استعمال کی جاتی تھيں۔افغانستان ميں منشيات کے اس کاروبار کے منفی اثرات براہراست ان علاقوں ميں منشيات کی آسان دستيابی اور کھلے عام استعمال کی صورت ميں نمودار ہوئے۔

منشيات کے حوالے سے طالبان کی پاليسی يہ تھی کہ اس کی روک تھام صرف اسی صورت ميں ممکن ہے جب اقوام متحدہ نہ صرف طالبان کی حکومت کو سياسی سطح پر تسليم کرے بلکہ جن علاقوں ميں پوست کی کاشت کی جاتی ہے وہاں کسانوں کو متبادل کاروبار کے ليے مناسب فنڈز مہيا کيے جائيں۔ حالانکہ اس سے قبل طالبان کی جانب سے يہ اعلان کيا جا چکا تھا کہ منشيات کا استعمال اور اس کی پيداوار سے منسلک تمام کاروبار اسلام اور شريعت کے قوانين کے خلاف ہيں۔

سال 1997 ميں يو – اين – ڈی – سی – پی کے ڈائريکٹر آرلاچی نے طالبان کے ليڈر ملا عمر کے نام ايک خط لکھا تھا جس ميں ان سے يہ مطالبہ کيا گيا تھا کہ جن علاقوں ميں کسانوں کو متبادل کاروبار کی سہوليات فراہم کی گئ ہيں وہاں منشيات کی پيداوار کی روک تھام کو يقينی بنايا جائے۔ اس کے علاوہ ان سے يہ اجازت بھی مانگی گئ کہ يو – اين – ڈی – سی – پی کو ان علاقوں تک رسائ دی جائے جہاں طالبان کے بقول منشيات کے کاروبار پر بين لگا ديا گيا ہے۔ طالبان سے يہ مطالبہ بھی کيا گيا کہ منشيات کے کاروبار کو جڑ سے ختم کرنے کے ليے ضروری ہے نہ صرف ہيروئين کی تياری کی ليبارٹريوں کو ختم کيا جائے بلکہ ان گروہوں کا بھی خاتمہ کيا جائے جو منشيات کی تقسيم کے کاروبار ميں ملوث ہيں۔ طالبان کی جانب سے ان مطالبات کو اسی شرط پر تسليم کيا گيا کہ کسانوں کو متبادل کاروبار کے ليے فنڈز کی فراہمی کو يقينی بنايا جائے۔

ليکن تمام تر يقين دہانيوں کے باوجود سال 2000 تک منشيات کی کاشت نہ صرف جاری رہی بلکہ کچھ نئے علاقے بھی اس کاروبار ميں شامل ہوگئے۔ 1998 ميں مئ کے مہينے ميں پوست کی کاشت کے موقع پر يو – اين – ڈی – سی – پی کی جانب سے طالبان کو مطلع کيا گيا کہ لغمان، لوگار اور ننگرہار کے صوبوں کے کچھ نئےعلاقوں ميں پوست کی کاشت کا کام شروع ہو گيا ہے۔ يہی وہ موقع تھا جب 1 جون 1998 کو جلال آباد کے شہر ميں طالبان نے سرعام ايک ٹن منشيات کو سرعام آگ لگا کر يہ دعوی کيا تھا اس سال منشيات کی تمام پيداوار کو تلف کر ديا گيا ہے۔ ليکن اعداد وشمار کچھ اور حقيققت بيان کر رہے تھے۔ سال 2000 کے آخر تک منشيات کو کنٹرول کرنے کے کسی ايک بھی پروگرام پر عمل درآمد نہيں کيا گيا۔

منشيات کی روک تھام کی کئ نجی تنظيموں کی رپورٹوں سے يہ واضح تھا کہ طالبان اور شمالی اتحاد کے بہت سے سينير اہلکار براہراست منشيات کی ترسيل سے مالی فوائد حاصل کر رہے تھے۔ سال 1997 میں طالبان کے ايک اعلی افسر نے يہ تسليم کيا تھا کہ پوست کی کاشت ميں ملوث کسانوں سے طالبان حکومت 10 فيصد "مذہبی ٹيکس" وصول کرتی تھی۔

افغانستان ميں منشيات کی پيداوار کے حوالے سے 90 کی دہاہی کے کچھ اعداد وشمار پيش ہيں۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
فواد صاحب ! آپ کے اتنے سارے اعداد و شمار سے میں بس اتنا سمجھا ہوں کہ : نوے کی دہائی میں منشيات کی کاشت، پیداوار اور عالمی منڈی میں اس کے پھیلاؤ کے ضمن میں طالبان نے سرگرم کردار ادا کیا ہے۔
ایک دہائی گزر گئی۔ اور آج تک بھی (پچھلے چند ماہ سے متواتر) یہی نعرہ لگایا جا رہا ہے کہ :
طالبان ہیروئین کا وسیع پیمانے پر کاروبار کر رہے ہیں !

جنابِ محترم ! سوال یہ ہے کہ امریکہ کی جانب سے بزور طاقت اس کی روک تھام کیوں کر نہیں کی جاتی پھر؟؟
محترم افتخار اجمل صاحب نے اسی ضمن میں جو چند سوالات اٹھائے ہیں ۔۔۔ ذرا ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔۔
امریکا کا دعوٰی ہے کہ امریکا سیٹیلائیٹ اور بغیر پائلٹ کے جاسوس طیاروں کی مدد سے زمین پر پڑی ٹیبل ٹینس کی گیند دیکھ لیتا ہے اور کنکریٹ کے بنکر کے اندر پڑی اشیاء بھی اُسے نظر آ جاتی ہیں ۔ عراق کے ایک گنجان آباد شہر میں ایک مکان کے اندر پڑی ہوئی وڈیو کیسٹ بھی نظر آ گئی تھی جس میں اوسامہ بن لادن نے ورڈ ٹریڈ سینٹر کو گرانے کا اقبالِ جُرم کیا ہوا تھا ۔ اتنی زبردست ٹیکنالوجی ہونے کے باوجود کیا وجہ ہے کہ طالبان کے علاقہ میں امریکا کو ہیروئین کی لیباریٹریاں نظر نہیں آتیں ؟ تا کہ وہ اُنہیں تباہ کر سکے ۔

امریکی اداروں کا ہی دعوٰی ہے کہ دنیا میں ہیروئین کی کُل پیداواری مقدار کا 70 فیصد سے زائد افغانستان میں تیار ہو رہی ہے ۔ ہیروئین کی اتنی بڑی مقدار پیدا کرنے کیلئے پوست کے کھیت تو مِیلوں میں پھیلے ہوئے ہونا چاہئیں ۔ امریکا کو اپنی اعلٰی ٹیکنالوجی کی آنکھ سے پوست کے اتنے وسیع کھیت کیوں نظر نہیں آتے ؟ جبکہ گوگل ارتھ کی مدد سے مجھے اسلام آباد میں اپنے گھر کی چھت پر بنی 6 فُٹ چوڑی اور 7 فُٹ لمبی پانی کی ٹینکی بھی صاف نظر آ جاتی ہے ۔

یہ بھی کیونکر ممکن ہے کہ امریکا افغانستان میں چاروں طرف سے دشمنوں میں گھِرے ہوئے طالبان کو پوست کی کاشت کرنے سے روک نہیں سکتا ؟ کیا پوست بونا ۔ فصل کا تیار ہونا اور کاٹنا اتنے کم وقت میں ہوتا ہے کہ کسی کو پتہ ہی نہیں چلتا ؟ اور کیا پوست کی اتنی بڑی مقدار کی کھیت سے لیبارٹری تک نقل و حمل اُسے انرجی میں تبدیل کر کے فائبر آپٹکس کے ذریعہ کی جاتی ہے اور دوسرے سرے پر اُسے واپس پوست بنا لیا جاتا ہے کہ پوست کی اتنی بڑی مقدار کسی کو نظر ہی نہیں آتی ؟

متذکرہ بالا صورتِ حال سے تو یہ تآثر اُبھرتا ہے کہ ہیروئین کے کاروبار میں امریکی حکومت کے چہیتے ملوث ہیں اور پوست کی کاشت امریکا کے زیرِ اثر علاقہ میں ہوتی ہے اور ہیروئین بنانے کی لیبارٹریاں بھی امریکا کے زیرِ اثر علاقہ میں ہیں ۔
رہا پروپیگنڈہ کہ طالبان وسیع پیمانے پر ہیروئین بنا رہے ہیں اور اس کی کمائی سے دہشتگردی کر رہے ہیں ۔ یہ امریکا کی اپنے گناہوں پر پردہ ڈالنے کی مذموم بھیانک کوشش ہے ۔
 

Fawad -

محفلین
Fawad - Digital Outreach Team - US State Department

جنابِ محترم ! سوال یہ ہے کہ امریکہ کی جانب سے بزور طاقت اس کی روک تھام کیوں کر نہیں کی جاتی پھر؟؟[/SIZE]

محترم،

آپ کی رائے پڑھ کر يہ تاثر ملتا ہے کہ افغانستان ميں پوست کی کاشت کے خاتمے کا واحد حل يہ ہے کہ امريکہ سيٹلائيٹ کے ذريعے ان تمام کارخانوں، فيکٹريوں اور ليبارٹريوں کا پتا چلائے جہاں يہ کاروبار ہوتا ہے اور پھر ان کو تباہ کر دے۔

بدقسمتی سے يہ مسلہ اس سے کہيں زيادہ پيچيدہ ہے جس کے مستقل حل کے ليے حکومت کی ہر سطح پر جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ آپ اس مسلئے کی پيچيدگی کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہيں کہ سال 2006 ميں ايک عالمی تھنک ٹينک سينلسز کونسل نے ايک تفصيلی رپورٹ ميں باقاعدہ يہ سفارش کی تھی کہ افغانستان ميں پوست کی کاشت اس سطح پر پہنچ چکی ہے کہ اس مسلئے کا واحد حل يہ ہے کہ افغانستان ميں پوست کی کاشت کو قانونی تحفظ دے ديا جائے۔ امريکی حکومت نے اس تجويز کی شديد مخالفت کی تھی۔ سينلسز کونسل کی رپورٹ اور اس پر امريکی ردعمل کی تفصيل آپ اس ويب لنک پر پڑھ سکتے ہيں۔

http://www.state.gov/p/inl/rls/rpt/80734.htm

اس وقت امريکہ اور برطانيہ افغانستان ميں آئ – ايس – اے – ايف اور اقوام متحدہ کی کئ تنظيموں کے اشتراک سے پوست کی کاشت کی روک تھام اور اس کی ترسيل کی روک تھام کے ليے ايک تفصيلی منصوبے پر کام کر رہے ہيں۔

ميں آپ کو افغانستان کے نقشے کا ايک ويب لنک دے رہا ہوں جس ميں آپ ديکھ سکتے ہیں کہ اس وقت پوست کی کاشت کا زيادہ کام ان علاقوں ميں ہو رہا ہے جو طالبان کے زير اثر ہيں۔ ان علاقوں ميں افغان حکومت کی جانب سے کاشتکاروں کو کاروبار کے متبادل پروگرام کے فوائد سے روشناس کرانے ميں شديد مشکلات کا سامنا ہے۔

http://img530.imageshack.us/my.php?image=mapafghanpoppy600fa8.jpg

ماضی ميں اندس، تھائ لينڈ، برما اور بھارت ميں پوست کی کاشت کی حوالے سے چلائے جانے والی تحريکوں کے تجربے سے يہ بات واضع ہے کہ اس ضمن ميں کاميابی صرف اسی صورت ميں ممکن ہے جب اس ميں مقامی لوگوں کا اشتراک اور تعاون بھی شامل ہو۔ تاريخ شاہد ہے کہ ڈرگ کے کاروبار کی روک تھام کے ليے ضروری ہے انفرادی سطح پر کاشت کاروں کو کوئ متبادل ذريعہ معاش بھی فراہم کيا جائے۔

ليکن يہ بات بھی ياد رہے کہ اس ضمن ميں مقامی ڈرگ مافيا کے خلاف بے شمار کاروائياں بھی جاری ہيں۔ ڈرگ مافيا کے خلاف کئ مقدمات امريکی اور افغان عدالتوں ميں پيش کيے گئے ہيں سال 2007 ميں ڈرگز کے کاروبار کے ضمن ميں 278 مقدمات ميں سزائيں سنائ گئ ہيں۔ سال 2006 ميں 182 مقدمات کا فيصلہ کيا گيا۔ امريکی عدالت ميں چار ايسے اہم کرداروں کے خلاف مقدمات کا فيصلہ کيا گيا جو افغانستان ميں پوست کی کاشت اور طالبان کو فنڈز کی فراہمی ميں براہراست ملوث تھے۔ ان چار افراد کے نام يہ ہيں : خان محمد، حاجی بشير نورزئ، محمد عيسی اور حاجی باز محمد۔

افغان حکومت کی مستقبل قريب کی پاليسيوں ميں ڈرگز کی ترسيل اور اس سلسلے ميں مدد فراہم کرنے والے اہم کرپٹ افسران کے خلاف کاروائ بھی شامل ہے۔ حال ہی ميں بلخ، بدگشان اور نانگرہار ميں افغان حکومت کی جانب سے ڈرگ مافيا کے خلاف بڑی کاروائياں اسی سلسلے کی اہم کڑياں ہيں۔ ان تمام صوبوں ميں سال 2008 میں پوست کی کاشت ميں خاطرخواہ کمی متوقع ہے۔ اس ميں کوئ شک نہيں کہ افغانشتان کے کچھ صوبوں کے گورنرز اس مسلئے کے حل کے ليے ترجيحی بنيادوں پر کام کر رہے ہيں ليکن کچھ صوبے ايسے بھی ہيں جہاں پر امن وامان کی خراب صورت حال کے باعث اس ضمن ميں خاطر خواہ کاميابی حاصل نہيں ہو رہی۔ اس ضمن ميں امريکی حکومت مقامی انتطاميہ کو ہر ممکن امداد فراہم کر رہی ہے۔ افغانستان کے شمالی اور مشرقی پہاڑی علاقوں ميں وہ غريب کسان جو دو تين سال پہلے تک پوست کی کاشت پر گزر اوقات کرتے تھے اب امن وامان کی بہتر سہوليات اور متبادل کاروبار کے مواقعوں کے پيش نظر حکومت کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ ليکن افغانستان کے ان علاقوں ميں جہاں امن وامان کی صورت حال قابو ميں نہيں ہے وہاں پر ابھی بھی يہ کاروبار زور وشور سے جاری ہے۔ تحقيق سے يہ پتا چلتا ہے کہ افغانستان کے سب سے خوش حال صوبے ہلمند ميں سال 2007 کے دوران 41 فيصد خاندانوں کا ذريعہ معاش پوست کی کاشت سے منسلک تھا جب کہ ملکی سطح پر يہ شرع 4 فيصد ہے۔ افغان ريسرچ اور ايويلويشن يونٹ (اے – آر – ای – يو) کے مطابق ہلمند کے صوبے ميں ايک عام کسان يوميہ ايک ڈالر پر زندگی گزار رہا ہے۔

سال 2007 ميں يو – اين – او – ڈی – سی کے ايک سروے کے مطابق ان صوبوں کی تعداد 6 سے بڑھ کر 13 ہو گئ ہے جہاں پوست کی کاشت کا کاروبار يا تو ختم ہو گيا ہے يا محض برائے نام کيا جاتا ہے۔ ليکن ان مغربی صوبوں ميں پوست کی کاشت ميں اضافہ ہوا ہے جہاں سيکورٹی انتظاميہ کے کنٹرول ميں نہيں ہے۔ اس وقت پوست کی کاشت کا 70 فيصد کاروبار انھی علاقوں ميں ہو رہا ہے۔

يو – ايس – ايڈ کی جانب سے عام کسانوں کو اس کاروبار سے دور رکھنے کے ليے جو امداد دی گئ ہے اس کے اعداد وشمار کچھ يوں ہیں

اب تک 5۔1 ملين کسانوں کو کاشت کاری کے جديد اصولوں سے روشناس کرانے کے ليے ٹرينيگ دی گئ۔
مجموعی طور پر 49 ملين ڈالرز کے قرضے فراہم کيے گئے۔
معيشت کو استحکام دينے کے ليے 878 ملين ڈالرز کی امداد دی گئ۔
عام کاشت کاروں کی سہولت کے ليے قريب 1000 کلوميٹر تک سڑکيں تعمير کی گئيں۔

اسی طرح ڈی – ايف – آئ – ڈی کی جانب سے افغان حکومت کو سڑکوں کی تعمير، زراعت اور تعليم کے ضمن ميں صرف ہلمند کے صوبے کے ليے 40 ملين ڈالرز کی رقم مختص کی گئ ہے۔

يہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ افغانستان ميں پوست کی کاشت کے کاروبار کی روک تھام کی اصل ذمہ داری افغان حکومت پر عائد ہوتی ہے اور اس حوالے سے کی جانے والی کاروائ افغان حکومت کے تعاون سے مشروط ہے۔

اس ميں کوئ شک نہيں ہے کہ افغانستان ميں اس کاروبار کے مکمل خاتمے کے ليے کوئ جادوئ نسخہ نہيں ہے۔ مقامی غريب کاشت کاروں اور کسانوں کو کاروبار کے متبادل ذرا‏ئع مہيا کيے بغير اس مسلئے کو ديرپا بنيادوں پر حل نہيں کيا جا سکتا۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
http://usinfo.state.gov
 
ویسے طالبان کے متعلق میں ایک بات جو ان کے ہی اپنے گھر سے معلوم ہوئی ہے ، جانتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ طا لبان کی تین قسمیں ہیں
1: جو بظاہر طا لبان ہے مگر صرف اور صرف " سی آئی اے " کے لیے کام کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی مثال آج کل کے بیت اللہ محسود ہے ۔۔۔۔۔۔ اس بات کی گواہی اس کے چچا زاد بھائی کی ہے جو ابھی خیبر ایجنسی میں‌ ہی ایک تنظیم میں موجود ہے۔
2: جو صرف اور صرف سیدھے سادہ طا لبان ہیں ۔ جذبے کے تحت کام کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ اکثر خود کش بمبار بنے بیھٹے ہوئے ہیں ۔ عقیدے کی تصحیح پر توجہ نہیں‌دیتے ہیں۔ بس صرف امریکہ کی شدید مخالفت کو ہی جز ایمان تصور کرتے ہیں۔
3: وہ جو بظا ہر امریکہ کے لیے کام کرنے والے طا لبا ن ہیں ، مگر ان کا سارا پروگرام الٹ کرنے والے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ آئی ایس آئی میں بھی موجود ہیں۔
 
’انسدادِ منشیات میں رکاوٹ‘

انسداد منشیات سے متعلق ایک سابق امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ افغانستان کے صدر حامد کرزئی اور ان کی حکومت ملک میں منشیات کے خاتمے کی کوششوں میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔
گزشتہ ماہ تک انسدادِ منشیات کے بارے میں امریکی محکمۂ خارجہ کے لیے بطور کوارڈینیٹر کام کرنے والے تھامس شویک نے الزام لگایا ہے کہ صدر کرزئی سیاسی وجوہات کی بناء پر منشیات کا کاروبار کرنے والوں کو تحفظ فراہم کرتے رہے ہیں۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں تھامس شویک کا کہنا ہے کہ’منشیات سے متعلقہ رشوت ستانی کا سلسلہ افغان حکومت میں بہت اوپر تک جا پہنچا ہے‘۔

ان کا کہنا ہے کہ افغان صدر ملک کے جنوبی علاقوں میں منشیات کا کاروبار کرنے والے اہم افراد کے خلاف کارروائی کے لیے تیار نہیں تھے کیونکہ اسی علاقے سے انہیں سیاسی حمایت ملتی ہے۔ شویک کا کہنا ہے کہ انہیں افغان اٹارنی جنرل عبدالجبار ثابت سمیت سینیئر افغان حکام نے بتایا کہ صدر کرزئی نے بیس کے قریب رشوت خور افسران کے خلاف کارروائی رکوا دی۔
 
Top