افسانچہ: بلا عنوان

محمد وارث

لائبریرین
شکریہ وارث بھائی

-------------

وارث بھائی اگر ابن سعید بھائی موجودہ تحریر میں کردار نگاری کو دوبارہ پیش کریں تو میں پڑھنا چاہوں گی ۔ البتہ مجھے جو خیال آیا تھا یہ کہ ایسا کرنے سے اس تخلیق کی صنفی حیثیت شاید برقرار نہ رہے / متاثر ہو ۔
آپ کے خیال میں کس حد تک / کس طرح ؟


شکریہ آپ کا۔

ویسے سعود صاحب نے بھی خود بھی تحریر کر دیا ہے کہ شاید وہ بھی اس کو نہ چھیڑیں، اور میری رائے بھی اس کو تبدیل کرانے کیلیئے نہیں تھی :)۔ میری نظر میں ضروری نہیں ہے کہ افسانہ طویل ہو یا ناول میں ہی جاندار کردار تخلیق کیئے جا سکتے ہیں، مجھے یہ خیال اس لیئے بھی آیا تھا کہ اس میں "ماں" کے کرادر کو مزید خوبصورت بنایا جا سکتا تھا اور بچے کے کردار کو بھی، جس کیلیئے شاید کچھ اور واقعات بیان کرنے پڑتے لیکن یہی کام کردار کے متعلق چند مزید "بیانات" سے بغیر اس کو طول دیئے بھی ہو سکتا ہے اور اختصار تو 'مختصر افسانے' کا حسن ہے ہی۔

لیکن میں عرض کر چکا کہ موجودہ حیثیت میں بھی یہ افسانہ بہت خوبصورت ہے :)
 
بہت شکریہ شگفتہ اپیا!

مسئلہ یہ ہے کہ اپنی تحریر میں خامیاں تلاش کر پانا بہت مشکل کام ہے۔ بعض دفع جب اپنی تحریر برسوں بعد دیکھی جائے تو کئی قسم کے احساسات بیک وقت حملہ آور ہوتے ہیں۔ مثلاً "ارے میں ایسا لکھتا تھا!" یا "ارے تب پختہ کار نہیں تھا تو ایسی ہی اول جلول تحریریں ہوتی تھیں!" یا شاید "چھوڑیئے یہ بھی کوئی تحریر تھی!" وغیرہ وغیرہ۔ :)

خیر میں عرض یہ کر رہا تھا کہ جن خامیوں کو ابھی میں نے شدت سے محسوس کیا ہے وہ ہیں،
بیانیہ انداز (جس میں ماحول کے بجائے داستان گو بولتا ہے) جو کہ قصوں میں ٹھیک لگتا ہے افسانے میں نہیں۔
مبتدیوں جیسے لکھے ہوئے مکرر فقرے۔
دور دیہات کا ماحول وہیں کے انداز میں (کچھ قارئین کو اس ماحول کی لا علمی کے باعث سمجھنے میں دشواری)۔
اختصار کے لئے ماحول اور کردار بیانی پر کم توجہ وغیرہ وغیرہ۔

خیر!
بہتر ہوگا کہ احباب ناقدانہ نگاہ ڈالیں اور ممکنہ سدھار کی جانب رہنمائی کریں تو شاید میں اسے دوبارہ تحریر کرنے کے بارے میں سوچوں۔
اور کوئی صاحب اس زمین پر اپنے انداز اور لب و لہجے کا رس ڈال کر نیا ورژن پیش کریں تو بھی ایک مزیدار تجربہ ہو سکتا ہے۔ :)

والسلام!

--
سعود ابن سعید
 
ابن سعید بھائی

آپ کی یہ تحریر کیا پہلا ڈرافٹ تھا ؟

نہیں خیر اسے پہلا ڈرافٹ تو نہیں کہہ سکتا کیوں کہ یہ اب سے سال بھر پہلے کی تخلیق ہے۔ اور کئی مہینوں سے رومن میں لکھی ہوئی میرے ہوم پیج پر پڑی تھی۔

اس بھاگتی دنیاں میں فرصت کہاں رہ گئی اتنی کہ ایک بار ڈرافٹ تیار کیا جائے پھر اس میں فنی خوبیاں پیدا کی جائیں۔ جب جو وقت ہاتھ لگ گیا کچھ تحریر کر دیا یہی غنیمت تھا۔

ایک تو اردو ادب سے ربط کسی استاد کی نگرانی میں تو ہوا نہیں بس ذاتی شوق کے چلتے چند تحریریں پڑھ کر ادیب بننے کی کوشش کروں تو حماقت ہی کہی جائے گی۔ دوسرے یہ کہ اب تو ٹیکنولوجی کی دناں میں اتر گیا ہوں تو آس پاس اردو کا ماحول ہی نظر نہیں آتا۔ اس میں اپنے زبان کی عزت بچا سکوں یہی بہت ہے۔
 
وارث بھائی کے بارے میں میری رائے یہ ہے کہ یہ محفل کے شعبہ ادب کے بہت بڑے نباض ہیں۔ یہ بات اور ہے کہ تشخیص کے بعد کبھی جی میں آیا تو مرض کا پتہ دے دیا، کبھی کوئی علاج تجویز کر دیا اور بسا اوقات (جب مرض سنگین ہو) صرف تعریف (تسلی) سے کام چلا لیا۔ :)
 

عندلیب

محفلین
کہانی کا مرکزی خیال جاندار ہے ، اس میں یقیناَ کوئی شک نہیں ہے۔ البتہ "دو چونیوں" کی ترکیب پریم چند کے دور اور ان کے اسٹائل کی یاد دلاتی ہے۔
سعود بھائی ، "چونی" (پچیس پیسے) کا دور تو غالباَ انڈیا میں پندرہ سال پہلے ختم ہو چکا ہے :rolleyes:۔ کم سے کم ایک روپیے کے دو سکے تو استعمال کر لینا تھا آپ ;)۔
اور اس جملے میں دو خامیاں ہیں میری نظر میں :
ماں شاید آخری حربے کے ساتھ اپنے دودھ کے اخلاص کی پرکھ کا تہیہ کر لیتی ہے۔
آخری حربے کے طور پر ۔۔۔۔ آنا چاہئے تھا شائد۔
اور دودھ کے اخلاص کی پرکھ ۔۔۔۔۔ کوئی درست ترکیب نہیں لگتی۔ البتہ بطور متبادل ترکیب، دودھ کی صداقت کی پرکھ کسی حد تک مناسب کہلائی جا سکتی ہے۔
وارث صاحب کے اس خیال سے مجھے بھی اتفاق ہے کہ ، زبان و بیان میں بہتری کی گنجائش بہرحال موجود ہے۔

تیسرا افسانہ کب لا رہے ہیں آپ منظر عام پر ؟ :)
 
سلام مسنون اپیا!

حالانکہ پچیس پیسوں والی بات میں نے اسمئلیز کے ساتھ ہی دیکھی ہے :) ۔ پھر بھی وضاحت ضرور کروں گا کہ اس افسانچے کا مرکزی خیال تخیلی نہیں ہے بلکہ مشاہدے کی چیز ہے۔ لہٰذا کہانی کو اسی دور میں بیان کرنے کی ضرورت ہے جب اس نے جنم لیا ورنہ اب تو شاید اس ماں کے سرہانے کولر اور ایک عدد موبائل فون رکھنا پڑ جاتا۔ اور ہاں چونیوں کے متروک ہوئے ابھی اتنا عرصہ تو نہیں ہوا، اس میں بھی آپ نے قدرے مبالغہ آمیزی کی ہے۔ :) (ہا ہا ہا ہا ہا ہا)

اب آتے ہیں جملے کی خامیوں کی جانب تو اس میں یقیناً میں کوتاہ علم ہوں اور ایسی غلطیاں تو ایک نہیں کئی ہونگی۔ ویسے آپ کی صلاح اچھی ہے۔ پر میں یہ سوچ رہا ہوں کہ اس جملے کو دو ٹکڑوں میں توڑ دوں تو شاید ابہام دور ہو جائے۔

اخلاص لفظ کا (عربی میں) ایک معنی ہوتا ہے آمیزش اور ملاوٹ سے پاک۔ اسی معنی میں استعمال کیا تھا یہاں۔ خیر احباب جیسا کہیں۔

بہت شکریہ اپیا آپ کی تعریف اور تنقید کا۔ :)
 
کسی کا جواب موصول نہیں ہوا کہ لفظ اخلاص یہاں اپنے مفہوم کو واضح کر رہا ہے یا مبہم ہے؟ اگر ایسا ہے تو کسی لفظ متبادل کو استعمال کر لیتا ہوں۔ :)
 

شمشاد

لائبریرین
سعود بھائی کاکا میرا مطلب ہے افسانہ کتنے دن کا ہو گیا ہے؟ اب تک تو اس کا کوئی اچھا سا نام رکھ لینا چاہیے تھا۔
 
شمشاد بھائی میں پیش لفظ میں لکھنا بھول گیا تھا کہ یہ رسالوں میں بلا عنوان چھپنے والا افسانہ نہیں ہے جس کے لئے بہترین عنوان ارسال کرنے والے چار لاکھ خوش نصیبوں میں مبلغ ایک لاکھ روپے برابر برابر تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ بلکہ اس کا عنوان ہی بلا عنوان ہے اور تمہید میں اس کی وجہ بھی بیان کی ہے۔ :)
 

تعبیر

محفلین
میں نے کچھ دن پہلے ہی تمھارے دونوں افسانے پڑھے تھے ژوم اور یہ والا بھی تب کمنٹ نہیں دیا اب دے رہی ہوں :) بہت خوب

اتنے ساری صلاحیتیں ایک ہی انسان میں :eek: میں نے گاؤں کبھی نہیں دیکھا اسکی منظرکشی اتنی عمدہ تھی کہ میں نے وہ سیر بھی کر لی۔
اسکا نام یقین یا تربیت بھی ہو سکتا ہے نا :confused:
 
بہت شکریہ اپیا! :)

اور آپ نے اس خوبی سے ایسے لوگوں کے احساسات کی ترجمانی کر دی جنہیں کبھی گاؤں دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا۔

ویسے آپ کے دیے ہوئے دونوں‌ ہی عنوانات موضوع کی پوری عکاسی کرتے ہیں۔
 

حجاب

محفلین
سارہ ، مجھے کب سے کہتی رہی ہے ۔۔ بے پر کی پڑھو ، میں نہیں گئی اُدھر ، اب جانا پڑے گا :) شکریہ سعود پڑھوں گی جلد ہی ۔۔
 

سارہ خان

محفلین
چلو اچھا ہی ہوا کہ مل گیا۔ خوب محفل گردی کیا کرو، پھر ہی نئی نئی چیزیں ملیں گی۔


کبھی کبھی فرصت میں اسلامک سیکشنز کی پرانی پوسٹس پڑھتی ہوں معلومات میں اضافے کے لیے ۔۔ کل دوسرے سیکشنز پر بھی نظر ڈالی تو کافی کچھ نظر آیا جو میں نے نہیں پڑھا ہوا ۔۔:sad2:
 

تیشہ

محفلین
جی ایک اور ہے ژوم نام سے۔

اس کے بعد جو بھی لکھا سب میری بے پر کی میں مل جائے گا۔

اور ہاں پسندیدگی کا شکریہ اور سارہ بٹیا کا بھی شکریہ جو انھوں نے اسے کھود نکالا۔




ابن ِ بھیا ، نائس پکس :happy: میں کمنٹس لکھنا چاہتی تھی مگر نہیں لکھا جارہا تھا ،میرا جی میل اکاونٹ بھی نہیں ہے :worried: سو چُپ کرکے آپکی دیکھ آئی ۔ میرے میاؤں جی نے بھی دیکھی ہیں میرے پیچھے کھڑے کھڑے ہی :battingeyelashes:
نائس ۔ :party:
 
Top