اصولِ شاعری کے حوالے سے چند سوال۔۔۔؟

متلاشی نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 27, 2011

  1. متلاشی

    متلاشی محفلین

    مراسلے:
    2,456
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    یہاں اس پوسٹ پر آپ اساتذانِ سخن سے شاعری کے اصول و قواعد کے حوالے سے کسی بھی قسم کے سوال پوچھ سکتے ہیں ۔۔۔ سو ابتداء میں ہی کرتا ہوں ۔۔۔
    اساتذانِ سخن یہ بتائیں کہ جس طرح کسی بھی بحر میں کسی بھی مصرع کے آخر میں ایک ساکن حرف کی اضافت کی گنجائش موجود ہوتی ہے کیا اسی طرح ہر بحر میں کسی بھی مصرع کے شروع میں اکیلے متحرک لفظ لگانے کی اجازت ہے یا نہیں ؟
    مثلا اگر بحر فعلن والی ہے تو کیا کوئی شعر ’’جلا ہے ‘‘ سے شروع کیا جا سکتا ہے ۔۔۔۔! از راہِ کرم جواب مرحمت فرما کر مشکور فرمائیں ۔ شکریہ۔۔۔!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  2. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    نہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  3. متلاشی

    متلاشی محفلین

    مراسلے:
    2,456
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    شکریہ مگر میں نے کسی سے سنا تھا کہ اجازت ہے ۔۔۔۔؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  4. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    آپ نے جس کسی سے بھی یہ سنا ہے سراسر غلط سنا ہے کہ ہر مصرع کے آغاز میں ایک متحرک حرف شامل کیا جا سکتا ہے۔ ایسا نہیں ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  5. متلاشی

    متلاشی محفلین

    مراسلے:
    2,456
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    متحرک نہیں تو کیا ساکن کیا جا سکتا ہے۔۔۔۔؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  6. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,727
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    یوں بھی نہیں۔ جلا ہے‘ بہر ھال فعولن ہے، یہ کس طرح فعلن کے سانچے میں ٹھونسا جا سکتا ہے؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  7. متلاشی

    متلاشی محفلین

    مراسلے:
    2,456
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    شکریہ استاذ گرامی! تسلی ہوگئی۔۔۔!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  8. زلفی شاہ

    زلفی شاہ لائبریرین

    مراسلے:
    4,001
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    کیا مشد لفظ کی ضرورت کے تحت شد گرائی جا سکتی ہے۔جیسا کہ علامہ اقبال نے بچوں کی شد کو ایک جگہ پر گرایا ہے اور جس پر دوسرے دھاگے میں تبصرہ بھی کیا جا چکا ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  9. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,429
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    کسی بحر کے شروع میں ایک متحرک حرف کا ہرگز اضافہ نہیں ہو سکتا۔

    لیکن جہاں تک آپ کی مثال ًجلا ہےً سے میں سمجھا ہوں، آپ یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا سببَ خفیف کی جگہ رکن سببَ ثقیل سے شروع ہو سکتا ہے یا نہیں تو عرض ہے کہ کچھ بحروں میں پہلے رکن کے سببِ خفیف کو توڑنے کی اجازت ہے اور سببِ خفیف کی جگہ سببِ ثقیل کا آدھا یعنی 1 سکتا ہے، مثلاً بحر خفیف جس کے افاعیل فاعلاتن مفاعلن فعلن ہیں اس میں فاعلاتن کی فا کی جگہ صرف فَ آ سکتا ہے یعنی وزن فعلاتن مفاعلن فعلن آ سکتے ہیں مثلاً فیض

    آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے ﴿فاعلاتن مفاعلن فعلن﴾

    اور اسی غزل کا ایک مصرع

    نہ گئی تیرے غم کی سرداری ﴿فعلاتن مفاعلن فعلن﴾

    اسی طرح بحر رمل کی ایک مزاحف شکل ہے فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن اس میں بھی فاعلاتن کی جگہ فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن آ سکتا ہے۔مثلاً مومن

    ناوک انداز جدھر دیدہٴ جاناں ہونگے ﴿فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن﴾

    اور اسی غزل کا ایک مصرع

    وہی ہم ہونگے وہی دشت و بیاباں ہونگے ﴿فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن﴾
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 7
  10. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,429
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    مشدد الفاظ کی تشدید میں سے ایک حرف گرانے کی اجازت نہیں ہے۔

    آپ نے جو مثال دی ہے اس میں سے حرف نہیں گرایا گیا بلکہ اردو میں کئی ایک الفاظ ایسے ہیں جن کا تلفظ دو طرح سے ہے، تشدید کے ساتھ اور تشدید کے بغیر، انہی میں سے ایک لفظ بچوں یا بچے ہے یہ بچوں یا بچے بغیر تشدید بروزن فعِل یا فعو اور بچّوں یا بچّے تشدید کے ساتھ بروزن فعلن مستعمل ہے۔ اسی طرح کا ایک اور لفظ امید ہے، یعنی اُمید بغیر تشدید کے بر وزن فعول اور اُمّید میم کی تشدید کے ساتھ بروزن مفعول۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
  11. متلاشی

    متلاشی محفلین

    مراسلے:
    2,456
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    محترمی محمد وارث صاحب ایک اور سوال جس طرح فعلن کا زحاف فَعِلن استعمال ہوتا ہے یعنی 22 کی جگہ 211۔ کیا اسی طرح فعلن کا زحاف 112 یعنی فعلَنُ کے وزن پر ہو سکتا ہے ۔۔۔؟
    محترمی وارث صاحب کے علاوہ کوئی اور بھی اس کا جواب دے سکتا ہے ۔۔۔۔!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  12. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,429
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    جی مخصوص بحروں میں بالکل ہو سکتا ہے۔

    ایک تو بحر خفیف ہے جس کے پہلے رکن میں فاعلاتن کو فعلاتن اور آخری رکن میں فعلن، فَعِلن، فعلان اور فَعِلان چاروں میں سے کوئی بھی آ سکتا ہے۔ اس بحر کے اوزان پر میرا تفصیلی مضمون مثالوں کے ساتھ دیکھیے۔

    اسی طرح بحر رمل کی ایک شکل اوپر گزری ہے اس میں بھی آخری رکن فعلن 22 کی جگہ فَعِلن 211 آ سکتا ہے مثلاً مومن کی ایک غزل کے مصرعے میں نے اوپر لکھے ہیں، اسی غزل کا ایک اور شعر دیکھیے

    ایک ہم ہیں کہ ہوئے ایسے پشیمان کہ بس
    ایک وہ ہیں کہ جنھیں چاہ کے ارماں ہونگے

    اس میں پہلا مصرعے کا وزن فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فَعِلن ہے

    ایک ہم ہیں - فاعلاتن
    کہ ہُ ئے اے - فعلاتن
    سِ پشیما - فعلاتن
    ن کہ بس - فَعِلن

    جب کہ دوسرے مصرعے کا وزن فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن ﴿ع ساکن کے ساتھ﴾ ہے یعنی

    ایک وہ ہیں - فاعلاتن
    کہ جنھیں چا - فعلاتن
    ہ کِ ارما - فعلاتن
    ہونگے - فعلن

    پس ثابت ہوا کہ فعلن کی جگہ فعِلن آ سکتا ہے۔

    مزید برآں یہ کہ اس بحر میں بھی آخری رکن فعلن، فَعِلن، فعلان اورفَعِلان ہو سکتا ہے۔

    آپ کے سوال کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہونگا کہ کچھ بحروں میں رکن کے شروع میں فَعِلن کو فعلن کے ساتھ بھی بدلا جا سکتا ہے، شکل مختلف ہو سکتی ہے لیکن اصول یہی ہے۔

    مثلاً بحرِ کامل کہ اس کا وزن ہے

    مُتَفاعلن مُتَفاعلن مُتَفاعلن مُتَفاعلن

    آپ غور کریں کہ مُتَفا اصل میں فِعَلن ہی ہے، اور اس مُتَفا کے مُ تَ کو تسکینِ اوسط زحاف سے فع سے بدل سکتےہیں یعنی متفاعلن کو مستفعلن سے بدل سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر مولانا جامی کا مشہور شعر ہے ﴿جسے غلطی سے لوگ دوبیتی یا رباعی سمجھتے اور لکھتے ہیں حالانکہ وہ اس بحر کامل میں ایک شعر ہے﴾

    بلغ العلیٰ بکمالہ، کشف الدجیٰ بجمالہ
    حسنت جمیع خصالہ، صلوا علیہ و آلہ

    اس میں تمام ٹکڑے متفاعلن کے وزن پر چل رہے ہیں لیکن صلوا علیہ و آلہ میں صلوا علے مستفعلن کے وزن پر ہے۔

    بَ لَ غل عُ لا - متفاعلن
    ب کَ ما لِ ہی - متفاعلن
    کَ شَ فد دُ جیٰ - متفاعلن وعلی ہذا القیاس

    اور

    صلوا علیہ و آلہ

    صل لو ع لے - مستفعلن
    ہِ و آ لِ ہی - متفاعلن

    پس ثابت ہوا کہ متفاعلن کو تسکین اوسط زحاف سے مستفعلن بنایا جا سکتا ہے۔

    آمدم برسر مطلب فَعِلن کو فعلن بنایا جا سکتا ہے اور اسکا الٹ بھی صحیح ہے جو کہ آپ کا اصل سوال تھا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  13. متلاشی

    متلاشی محفلین

    مراسلے:
    2,456
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    مکرمی جناب وارث صاحب بہت بہت شکریہ اصل میں میں ایک غزل کہنا چاہ رہا تھا جس کا مطلع کچھ یوں تھا؟
    الفت میں بھی ہم رکھتے ہیں معیار الگ
    اپنی چاہت کے ہیں سب افکار الگ
    اور مقطع یوں ۔۔۔
    اندازِ بیاں گرچہ بہت خاص نہیں
    کہتے ہیں کہ ذیشاں کے ہیں اشعار الگ

    اب میں نے تو اسے فعلن کی پانچ رکنی بحر میں لکھا تھا ۔۔۔۔زحافات کا استعمال کر تے ہوئے ۔ اب پتہ نہیں یہ کونسی بحر ہے ؟ اس بحر کے بارے میں بتائیے جناب ۔۔۔۔! اعشاری نظام کے ساتھ اس کی تقطیع کر دیجئے ۔۔۔! شکریہ۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  14. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,429
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    اس کو بحر ہندی بھی کہتے ہیں فعلن کی تعداد مقرر کر کے انکی پابندی کی جاتی ہے اور کسی بھی فع یعنی 2 کو فَ عِ 11 میں توڑا جا سکتا ہے۔

    الفت میں بھی ہم رکھتے ہیں معیار الگ

    الفت - فعلن 22
    مِ بِ ہم - فَعِلن 211
    رکھ تِ ہِ - فع فَ عِ 2 11
    معیا - فعلن 22
    ر الگ - فَعِلن 211

    اپنی چاہت کے ہیں سب افکار الگ

    اپنی - فعلن 22
    چاہت - فعلن 22
    ک ہ سب - فَعِلن 211
    افکا - فعلن 22
    ر الگ - فَعِلن 211

    اندازِ بیاں گرچہ بہت خاص نہیں

    اندا - فعلن 22
    ز بیا - فَعِلن 211
    گرچ ب - فع فَ عِ 2 11
    ہت خا - فعلن 22
    ص نہیں - فَعِلن 211

    کہتے ہیں کہ ذیشاں کے ہیں اشعار الگ

    کہتے - فعلن 22
    ہ ک ذی - فَعِلن 211
    شا ک ہ - فع فَ عِ 2 11
    اشعا - فعلن 22
    ر الگ - فَعِلن 211

    ہر مصرعے میں پانچ فعلن ہیں جب کہ کچھ جگہ 2 ٹوٹا ہے 11 میں۔

    آپ کی سہولت کیلیے اس انداز میں تقطیع کی ہے، یہ اور طرح بھی ممکن ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  15. متلاشی

    متلاشی محفلین

    مراسلے:
    2,456
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    مکرمی جناب استاذ گرامی محمد وارث صاحب۔۔۔ اس قدر مفصل جواب دینے کا بہت بہت شکریہ۔۔۔۔۔!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  16. متلاشی

    متلاشی محفلین

    مراسلے:
    2,456
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    مکرمی وارث صاحب مجھے اس تقطیع میں تھوڑا شبہ ہو رہا ہے امید اس کا ازالہ فرمائیں گے۔۔۔
    یہاں جب اس مصرع کو روانی میں پڑھیں گے تو سب کی ب افکار کی ف کے ساتھ مل رہی ہے ، اور ایسا معلوم ہو رہا ہے جیسے یہ لفظ سبفکار ہو ۔ تو میرے خیال میں اسے یوں تقطیع کیا جائے گا۔۔۔۔
    اپنی۔ فعلن 22
    چاہت۔ فعلن 22
    کے ہ سَ۔ فع فَ عِ 112
    بف کا۔ فعلن 22
    رالگ۔ فَعِلن 211
    برائے مہربانی اس شبہ کا ازالہ فرما کا مشکور فرمائیں۔۔۔۔! شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  17. متلاشی

    متلاشی محفلین

    مراسلے:
    2,456
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    استاذ گرامی یہ اور کس طرح ممکن ہے وہ بھی وضاحت فرما دیں کہ حقیر کے علم میں اضافے کا کچھ سبب بنے ۔۔۔!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  18. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,429
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    آپ نے درست لکھا۔ اس عمل یعنی ملانے کو الف کا وصال کہتے ہیں، اور یہاں اس طریقے سے بھی تقطیع ہو سکتی ہے یعنی دونوں طریقوں سے جس سے وزن پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  19. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,429
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    اس کی تقطیع اس طرح بھی ممکن ہے ف ع کی جگہ ہم معروف رکن فاع اور فعولن لکھیں

    الفت میں بھی ہم رکھتے ہیں معیار الگ

    الفت - فعلن 22
    مِ بِ ہم - فَعِلن 211
    رکھ تِ - فاع 2 1
    ہِ معیا - فعولن 1 22
    ر الگ - فَعِلن 211

    اپنی چاہت کے ہیں سب افکار الگ

    اپنی - فعلن 22
    چاہت - فعلن 22
    ک ہ سب - فَعِلن 211
    افکا - فعلن 22
    ر الگ - فَعِلن 211

    اندازِ بیاں گرچہ بہت خاص نہیں

    اندا - فعلن 22
    ز بیا - فَعِلن 211
    گر چ - فاع 2 1
    بہت خا - فعولن 1 22
    ص نہیں - فَعِلن 211

    کہتے ہیں کہ ذیشاں کے ہیں اشعار الگ

    کہتے - فعلن 22
    ہ ک ذی - فَعِلن 211
    شا ک - فاع 2 1
    ہ اشعا - فعولن1 22
    ر الگ - فَعِلن 211
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  20. متلاشی

    متلاشی محفلین

    مراسلے:
    2,456
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    بہت بہت شکریہ استاذ گرامی جناب محمد وارث صاحب!
    ایک اور سوال وہ یہ کہ ہر بحر کے ہر افاعیل کی جگہ اس کا زحاف استعمال ہو سکتا ہے یا کچھ بحروں میں کچھ زحافات مخصوص ہیں کہ لگائے جا سکتے ہیں۔۔۔۔؟
    اور دوسرا سوال یہ کہ کیا ہر بحر میں 2 کو 11 میں توڑا جا سکتا ہے یا یہ کلیہ صرف فعلن پر ہی لاگو ہوتا ہے ۔۔۔؟
    امید ہے جواب دے کر مشکور فرمائیں گے۔۔۔!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر