اصل معیار خاندان ہے

ابن جمال

محفلین
’’ ہمارے ہاں نام نہاد جمہوریتوں میں بھی یہی رجحان ہے کہ چند ہی خاندان میدان سیاست کے شہسوار بنے ہوئے ہیں جہاں باپ کے بعد بیٹا ہی اپنے حلقے کا بے تاج بادشاہ بننے کی کوشش کرتا ہے۔ سول اور ملٹری بیوروکریسی میں بھی یہی رجحان پایا جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے کے علاوہ مغربی معاشروں میں بھی یہ امتیاز کافی حد تک پایا جاتا ہے اگرچہ اب اس میں کمی کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
ہمارے اخلاقی انحطاط کے باعث بہت سے دینی حلقوں میں بھی نسل پرستی کا رواج داخل ہوچکا ہے۔ ایک پیر کے وفات پانے کے بعد اس کے لائق ترین مرید کو حلقہ ارادت کا سربراہ بنانے کی بجائے بیٹے ہی کو سجادہ نشین کے طور پر چنا جاتا ہے۔ ایک مدرسے کے مہتمم کے انتقال کے بعد ، اس کے کسی لائق ترین شاگرد کی بجائے اس کا بیٹا ہی مدرسے کے امور کو سنبھالتا ہے۔
یہی رجحان اب دینی جماعتوں میں داخل ہوچکا ہے اور اکثر جماعتوں کے قائدین اپنی زندگیوں ہی میں اپنے بیٹوں کو بطور خاص اپنی خالی ہونے والی مسند کے لئے تیار کرتے ہیں۔ لوگوں میں بطور خاص اپنی اولاد کی محبت و عقیدت پیدا کی جاتی ہے۔ انہیں خاص طور پر اسٹیج پر لاکر پروجیکشن دی جاتی ہے۔ ان سے زیادہ صلاحیتوں کے حامل افراد کو دبایا جاتا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے اگر جماعت کے لئے ساری ساری عمر کی قربانی دینے والوں کو بھی قربانی کا بکرا بنانا پڑے تو اس میں کوئی عار محسوس نہیں کی جاتی۔ اس نسل پرستی کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو جماعت سے نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ اگر آپ ملک کی بڑی دینی جماعتوں کے اندرونی اختلافات اور جھگڑوں کا جائزہ لیں تو ان اختلافات کی بنیادی وجہ اسی نسل پرستی کو پائیں گے۔ اس اصول سے استثنا شاید صرف ایک یا دو جماعتوں ہی کو حاصل ہو۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس کار خیر میں وہ جماعتیں بھی شریک ہیں جن کی پوری جدوجہد ہی آمریت اور نسل پرستی کے خلاف آواز اٹھانے پر مبنی تھی۔

اگر کوئی ان سب چیزوں کو اسلام اور مساوات کے خلاف سمجھتا ہے تو اسے کھل کر ان چیزوں کے بارے میں آواز اٹھانا چاہئے تاکہ ہم نسل پرستی کی اس وبا سے محفوظ رہ سکیں۔ اگر غلطی سے ہم خود اس میں مبتلا ہوں تو توبہ کرکے اپنی اصلاح کریں‘‘۔

یہ مبشر نذیر صاحب کی ایک تحریر ’اسلام اورنسل پرستی‘کاایک اقتباس ہے جو واضح طورپر بتارہاہے کہ ہماری سیاسی اوردینی جماعتوں کی خرابی کہاں سے شروع ہوتی ہے۔حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ دینی جماعتیں جو بات بات پر اللہ اوراس کے رسول فرامین اوربزرگان دین کے واقعات کو دوہراتی ہیں وہ اس خاندانی وراثت میں اوربھی زیادہ آگے ہیں۔انہیں پتہ نہیں خلفائے راشدین کا عمل کیوں نہیں یاد آتا کہ ان میں سے کسی نے بھی اپنےبیٹے یاقریبی رشتہ دار کو اپناجانشیں نہیں بنایا۔
اس کی سب سے بڑی خرابی یہ ہوتی ہے کہ جب میرٹ کے بجائے اقرباء پروری اورخویش نوازی آتی ہے تو پھر تمام معاملات بگڑجاتے ہیں۔اورشاید یہ قرب قیامت کی بھی نشانی ہے جس کے بارے میں فداہ ابی وامی رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اذاوسدالامر الی غیراھلہ فانتظرالساعۃ‘‘جب معاملات ،ذمہ داریاں عہدے،نااہل لوگوں کے سپرد کئے جانے لگیں توقیامت کا انتظارکرنا۔فالی اللہ المشتکی۔
 
السلام علیکم
بہت فکر انگیز باتیں ہیں ۔ اس انداز سے جانشینی گو بہت سی خرابییوں کی جڑ ہے لیکن قیادت کی منتقلی اہلیت کار سے زیادہ اس بات کو چاہتی ہے کہ کس کی قیادت کے پرچم تلے جماعت زیادہ متفق یا مجتمع ہوسکے گی۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہ اگر باصلاحیت افراد میسر ہیں تو قیادت سے پرے رہ کر بھی اپنی صلاحیت کو جماعت کے لئیے نفع بخش بنا سکتے ہیں۔ اسکی بہت سی مشالیں آپ کو غیر منقسم بھارت کی جنگ آزادی میں مل جائیں گی۔ بہادر شاہ ظفر کا نام آسانی کے لئیے دے دیتا ہوں۔ ویسے خاندانی یا وراثتی طور سے عوامی تحریقات کی قیادت کی منتقلی کی کوشش یا سیاست تو واقعی متعدد خرابیوں کو سمیٹے ہوئے ہے۔
 

ابن جمال

محفلین
بنیادی چیز یہ ہے کہ ترقی میرٹ پر دی جائے اس سے ان کی جو لوگ قابل اورباصلاحیت ہوتے ہیں حوصلہ افزائی ہوتی ہے ورنہ دھیرے دھیرے پزمردگی چھاجاتی ہے اورنشاط کار ختم ہو جاتاہے۔
 

arifkarim

معطل
جی ہاں‌یورپ و امریکہ میں بھی اب ایک ہی خاندان سے منسلک افراد سیاست، بینکاری، صنعت کاری کا حصہ بننے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ عوام پر کنٹرول کو یقینی بنایا جا سکے!
 
Top