1. اردو محفل سالگرہ شانزدہم

    اردو محفل کی سولہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

اصلا با ادب بانصیب بے ادب بے نصیب نہیں بلکہ باعدل بانصیب بے عدل بے نصیب ہے

سید رافع نے 'ہمارا معاشرہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 18, 2021

  1. سید رافع

    سید رافع محفلین

    مراسلے:
    2,451
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    پورے قرآن میں لفظ ادب کہیں نہیں آیا جبکہ لفظ عدل جابجا آیا ہے۔ اللہ کا طریقہ باعدل بانصیب ہے جبکہ بادشاہ باادب بانصیب کا طریقہ رائج کرتے ہیں۔ عدل کا تعلق علم سے ہے جبکہ ادب کا تعلق غفلت سے ہے۔ ادب عربی زبان کا لفظ ہے جو کہ مہمان نوازی کے لیے بولا جاتا ہے۔ عربوں میں مہمان نواز کو باادب کہتے تھے۔

    اسلام میں بنو امیہ کے بگڑے ہوئےعرب بادشاہوں نے باادب بانصیب کا طریقہ رائج کیا۔جو ان بادشاہوں کا ادب کرے، انکے سامنے شائستگی سے رہے چاہے اللہ ، اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یا اس امت کے صدیقین کی بات مانے یا نہ مانے ، یہ بادشاہ اس کو مال و دولت،عزت و اکرام اور مرتبے سے نوازتے تھے۔ جو ان سےاختلاف کرتا وہ بے ادب ہو کر بے نصیب ہو جاتا۔یہ بادشاہوں کا ایک قدیم طریقہ ہے کہ جو انکا ادب بجا لاتا وہ بانصیب ہو جاتا یعنی دنیاوی طور پر مالا مال ہو جاتا۔اور جو ان سے اختلاف رکھتا وہ بے وقت ہو جاتا۔

    اس سلسلے میں ملائکہ کے سجدے کا معاملہ ایک عظیم آیت ہے۔ ملائکہ جنوں کی زمین پر خوں ریزی دیکھ چکے تھے سو باوجود اس علیم ذات نے فرما دیا تھا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں ملائکہ کے فضیلت نما سوال کو "بے ادبی" نہ سمجھا گیا ۔ ملائکہ نے ایک بر مبنی عدل سوال کیا کہ "کیا تُو زمین میں کسی ایسے شخص کو (نائب) بنائے گا جو اس میں فساد انگیزی کرے گا اور خونریزی کرے گا؟ حالانکہ ہم تیری حمد کے ساتھ تسبیح کرتے رہتے ہیں اور (ہمہ وقت) پاکیزگی بیان کرتے ہیں"۔ملائکہ اللہ کے علیم ہونے سے غافل نہ تھے۔پھر بھی اپنی پاکی اور نائب کے فساد پر ایک عادلانہ دلیل قائم کی۔ یوں بھی ملائکہ نور سے اور آدم مٹی سے پیدا کیے گئے۔ نور مٹی سے افضل ہے۔ یہاں بھی ملائکہ کو "بے ادب " مان کر بے نصیب نہ کیا گیا۔ اس پر اس علیم ذات نے عادل ملائکہ کے علم میں اضافہ کیا اور فرمایا "میں وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے"۔ عدل قائم رہا۔ ملائکہ نے اپنے علم کے تحت عدل کیا۔ پھر جب علیم ذات نے انکے علم میں اضافہ کیا تو تمام ملائکہ نے مذید عدل کیا اور اللہ کے اصل علیم ہونے کے علم پر قائم رہے۔ آدم کو خلیفۃ اللہ مان لیا۔

    لیکن کیا وجہ ہے کہ علیم ذات نے ملائکہ کو ہی وہ علم بھی نہ سکھا دیا جو وہ نہ جانتے تھے تاکہ وہ ہی خلیفۃ اللہ بن جاتے؟ نورانی ملائکہ میں غفلت نہ تھی سو وہ صرف پاکی بیان کرنے کا علم ہی سہار سکتے تھے۔ جس کو اس ذات کی ہر وقت معرفت ہو وہ اسی میں منہمک ہو جاتا ہے۔ یہی حال آگ سے بنے جنوں کا تھا جو ملائکہ کو دیکھتے اور آسمان میں اڑتے پھرتے۔ جبکہ زمین پر نائب بنانے کے لیے لازم تھا کہ مخلوق علم الاسماء جانے۔چنانچہ آدم کو یہ علم عطا کیا گیا اور ملائکہ و جن اس علم سے محروم رہے۔اب اس علیم ذات کے بعد آدم ہی سب زیادہ علم رکھنے والے ظاہر ہوئے۔

    ابلیس بوجہ "بے ادبی" بے نصیب نہ ہوا بلکہ "بے عدل" ہونے کے باعث "بے نصیب" بنا۔ عدم سجدہ کے بعد کیا وجہ ہے کہ اس زبردست ذات نے "بے ادب بے نصیب" کے طریقے کو فروغ دینے کے بجائے ارشاد فرمایا:” (اے ابلیس!) تجھے کس (بات) نے روکا تھا"۔ یعنی یہیں معاملہ رک نہیں گیا کہ سجدہ نہ ہوا بلکہ عدم سجد ہ کی علّت پوچھی گئی۔ابلیس کا جواب غافلوں کا سا نہ تھا بلکہ ایک نامکمل عدل تھا کہ میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور آدم کو مٹی سے۔ آگ مٹی سے بہتر ہے لیکن نور آگ سے بھی بہتر ہے۔اس علم کو پہلے ہی فرشتوں کے سوال سے واضح کر دیا گیا تھا کہ مٹی کے آدم میں علم الاسماء کے تحمل کی اہلیت ہے۔ ابلیس نے علیم ذات کے اصل علم کو نہ مانا۔ اس علم کو نہ ماننے کی وجہ سے ابلیس غیر عادل بن گیا نہ کہ بے ادب۔ یعنی ابلیس کا ناماننا غفلت کی وجہ سے نہ تھا بلکہ علم آجانے کے بعد ناماننا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ملائکہ باادب ہونے کی وجہ سے بانصیب نہیں بلکہ باعدل ہونے کے سبب بانصیب ہیں۔ جبکہ ابلیس "بے ادب" ہونے کی وجہ سے بےنصیب نہیں بلکہ بےعدل ہونے کی وجہ سے بے نصیب ہے۔ اور یہ بے عدل ہونا علم آجانے کے بعد ہے۔ علم آنے سے قبل سوال بےادبی نہیں۔

    باعدل بانصیب ہونے کی ایک مثال یہ ہے کہ حضرت عمرنے ایک موقع پر اپنے اجتہاد سے مہر کی تحدید کرنی چاہی اور چار سو درہم سے زیادہ مہرمتعین کرنے پر روک لگا دی اور یہ فرمایا کہ اس سے زیادہ مہر نہ باندھا جائے ، اگر مہر کی زیادتی باعث اعزاز دینی ودنیوی ہوتی تو آپ صلی الله علیہ وسلم ایسا ضرور کرتے ، مگر آپ صلی الله علیہ وسلم کاعمل یہ رہا ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے بالعموم اپنی بیویوں اور صاحب زادیوں کا مہر بارہ اوقیہ چاندی سے زیادہ نہیں رکھا، اب چارسو درہم سے زیادہ جو مہر رکھے گا وہ زائد رقم بیت المال میں جمع کرے گا، اس پر قریش کی ایک خاتون نے اعتراض کیا اور کہا : اے عمر اس تحدید کا تمہیں کس نے اختیار دیا ہے؟ قرآن تو اس طرح کی حدبندی نہیں کرتا۔ قرآن میں تو آیا ہے:﴿واٰتیتم احداھن فنطاراً فلا تاخذوا منہ شیئاً﴾․ (تم نے اسے ڈھیر سا مال بھی دیا ہو تو اس میں سے کچھ واپس نہ لینا۔) ”قنطار“(خزانہ او رمال کثیر) کا لفظ مہر کی کثرت بتارہا ہے ، پھر تم کیسے حدبندی کرسکتے ہو؟ اس پر حضرت عمرنے برملا اعتراف کیا کہ عورت نے درست کہا او رمرد نے غلطی کی، خدایا! مجھے معاف رکھیے،ہر آدمی عمر سے زیادہ سمجھ دار ہے ، پھر فرمایا: اے لوگو! میں نے چار سو درہم سے زیادہ مہر رکھنے سے روکا تھا، مگر اب میں کہتا ہوں کہ جو شخص اپنے مال میں کم وبیش جتنا چاہے مہر رکھ سکتا ہے۔ یہاں بھی بوڑھی عورت ایک عادل کے سامنے علم پیش کرنے پر "بے نصیب" نہ ہوئی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر