اصغرخان کیس؛ پاک فوج کو ملوث افسران کیخلاف 4 ہفتے میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

جاسم محمد نے 'آج کی خبر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 11, 2019

  1. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    3,767
    اصغرخان کیس؛ پاک فوج کو ملوث افسران کیخلاف 4 ہفتے میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم
    ویب ڈیسک پير 11 فروری 2019
    [​IMG]
    ایف آئی اے رپورٹ کا جائزہ وزارت دفاع کے جواب کیساتھ لیا جائے گا، عدالت۔ فوٹو: فائل

    اسلام آباد: اصغرخان عملدرآمد کیس میں سپریم کورٹ نے پاک فوج کو ملوث افسران کے خلاف 4 ہفتے میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دیدیا۔

    سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں اصغرخان عملدرآمد کیس کی سماعت کی، اس موقع پر جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ فوجی افسران کیخلاف کورٹ مارشل کی کارروائی کیوں شروع نہیں ہوئی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ انکوائری میں شواہد سامنے آنے پر کورٹ مارشل ہوگا۔

    اس خبر کو بھی پڑھیں : اصغر خان کیس؛ ایف آئی اے نے سپریم کورٹ سے رہنمائی مانگ لی

    عدالت نے پاک فوج کو ملوث افسران کے خلاف 4 ہفتے میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ انکوائری مکمل کرکے رپورٹ پیش کی جائے جب کہ ایف آئی اے رپورٹ کا جائزہ وزارت دفاع کے جواب کیساتھ لیا جائے گا۔

    پس منظر؛

    اکتوبر 2012 میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے ایئرمارشل ریٹائرڈ اصغر خان کی درخواست پر 1990ء کے الیکشن میں دھاندلی سے متعلق کیس کا فیصلہ سنایا۔ عدالت نے 1990ء کے انتخابات میں دھاندلی اور سیاسی عمل کو آلودہ کرنے پر سابق آرمی چیف جنرل اسلم بیگ اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل اسد درانی کے خلاف وفاقی حکومت کو قانونی کارروائی کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم اس فیصلے پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

    عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کےلیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر ہوئی جسے اصغر خان عملدرآمد کیس کا نام دیا گیا اور گزشتہ سال مئی میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ان دونوں سابق اعلیٰ فوجی افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دیا۔
     
  2. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    3,767
    افواج پاکستان کب تک اس کیس کو لٹکائیں گی۔ کس کس جج کو خریدیں گی۔ یہ کیس بند کرنے کیلئے کتنی حکومتیں بدلیں گی؟
     
  3. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    5,932
    اس کیس میں سے شاید اب کچھ برآمد نہ ہو گا۔ جناب مشرف پر چلنے والے مقدمات کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ حکومتیں فوج کا دباؤ برداشت نہیں کر سکتی ہیں۔ موجودہ حکومت سے بھی زیادہ توقعات وابستہ کرنا کافی حد تک نادانی کی ذیل میں آئے گا۔
     
  4. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    3,767
    اسی لئے اس بار عدالت عمل درآمد بینچ میں از خود فوج سے جواب طلبی کر رہی ہے کہ اپنے کرپٹ افسران کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کر رہے۔
     
  5. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    5,932
    کافی برسوں سے ایک سڑک کھلوانے کے حوالے سے جس طرح کی مزاحمت سامنے آئی ہے اور جس طرح سے ججز تک کو منصب سے ہٹا دیا گیا ہے اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ شاید یہ سب کچھ رسمی کاروائی ہے۔ کچھ ہی عرصہ میں یہ کیس دب سا جائے گا؛ زیادہ تر یہی امکان ہے۔ فوج خود وہی کرے گی، جو کہ وہ کرنا چاہے گی۔ عدالت نے معاملہ فوج کی کورٹ میں ڈال کر گیم ایک طرح سے ختم کر دی ہے۔ سمپل!
     
  6. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    3,767
    بے شک ڈال دیں لیکن متعلقہ افسران کے خلاف کاروائی تو کریں۔ اس ملک میں سیاستدانوں کو تو سزا ہو جاتی ہے۔ مگر مقدس گائے کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ جب تک اس کا احتساب نہیں ہوتا فوج میں موجود کالی بھیڑوں کی صفائی نہیں ہو سکتی۔
     
  7. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    5,932
    مقدس گائے کی مدد سے جو حکومتیں برسراقتدار آتی ہیں، اُن کی کیا مجال کہ وہ کچھ کر پائیں۔ عدلیہ میں ایک آدھ جج غیر جانب داری سے فیصلہ کر بھی دے، تو تین چار 'محب وطن' ججز خاکی فرشتوں کے حق میں پورا دفتر لکھنے کے لیے بے تاب ہوئے جاتے ہیں۔ قصہ مختصر، یہ سب معاملات اب سیاسی نوعیت کے بن چکے ہیں؛ حاصل وصول کچھ نہ ہو گا، امکان غالب ہے!
     
    • متفق متفق × 1
  8. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    3,767
    میرے خیال میں عدالت عظمیٰ کو اس کیس میں سے سول حکومت کو الگ کر دینا چاہئے۔ انہوں نے جتنی تفتیش کرنی تھی کر لی اور رپورٹ بھی جمع کر ادی کہ کچھ نہیں ملا۔ اب عدالت کا کام ہے کہ فوجی اداروں سے تفتیش کروائے اور متعلہ افسران کو سزائیں دلوائے۔ اور اگر آرمی چیف یا کوئی اور بڑی مقدس گائے اس کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے تو اسے ہتک عدالت کے جرم میں عہدہ سے ہٹا دے۔ عدالت عظمیٰ پارلیمان کے بعد ملک کا سب سے سپریم ادارہ ہے۔ یہ اگر چاہیں تو سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ کرپٹ جرنیلوں کو الٹا لٹکا دیں۔ بس تھوڑی سی قوت حوصلہ اور بہادری پیدا کرنی ہوگی۔
     
  9. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    5,932
    ہارٹ اٹیک کرواؤ گے میاں! :)
     
  10. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    35,116
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Cheeky
    گھبرانا نہیں ہے
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  11. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    3,615
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    چڑھ جا بیٹا سولی مولا بھلی کرے گا
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  12. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    3,767
    ججوں کی خالی سیاسی بیان بازی سے کام نہیں چلے گا۔ ان کو سخت فیصلے کر کے ان پر عمل درآمد بھی کروانا ہوگا۔
    ابھی کچھ عرصہ قبل ہی جسٹس شوکت عزیز صدیقی ایک محفل میں فوج اور ایجنسیوں کے خلاف زبان درازی کرنے پر عہدہ سے فارغ کئے جا چکے ہیں۔ یہی کام وہ اپنے عدالتی فیصلوں میں کرتے تو شاید کوئی تبدیلی آجاتی۔
    سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش، صدر پاکستان نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹا دیا
     

اس صفحے کی تشہیر