اشعار جو اپنے خالق کو پیچھے چھوڑ گئے

الف عین

لائبریرین
انہیں راستوں پہ چل کر اگر آ سکو تو آؤ
مرے گھر کلے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے
تیغ الہ آبادی
جو بعد میں پاکستان میں پہجرت کے بعد مصطفیٰ زیدی بن گئے۔
 

فرخ منظور

لائبریرین
انہیں راستوں پہ چل کر اگر آ سکو تو آؤ
مرے گھر کلے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے
تیغ الہ آبادی
جو بعد میں پاکستان میں پہجرت کے بعد مصطفیٰ زیدی بن گئے۔

اعجاز صاحب معذرت کے ساتھ لیکن صحیح شعر یوں ہے -

انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آسکو تو آؤ
مرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے
 

فرخ منظور

لائبریرین
اگر کوئی بتا سکے کہ یہ شعر کس کا ہے؟

تو اسے اپنی تمناؤں کا مرکز نہ بنا
چاند ہرجائی ہے ہر گھر میں اترتا ہوگا
 

فرخ منظور

لائبریرین
اور یہ شعر کس کا ہے؟

گلِ نرگس کا گلدستہ بدستِ غیر کیوں بھیجا
جو آنکھیں ہی دکھانا تھی تو خود آکے دکھا جاتے
 

الف عین

لائبریرین
اشعار اچھے سہی لیکن میں ان اشعار کو جمع کرنا چاہ رہا تھا جو بے حد مشہور ہیں اور ضرب المظلبھی بن چکے ہیں لیکن شاعر کا نام لوگ بھول چکے ہیں۔ اکثر اشعار جو احباب نے پیش کیے ہیں، کم از کم میں نے سنے بھی نہیں!!
 

الف عین

لائبریرین
زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے
یہ شعر ثاقب کانپوری کا ہے،۔
ثاقب ابو الخیر کشفی کے والد تھے، کشفی صاحب کا حال ہی میں پاکستان میں انتقال ہوا ہے۔
 

فرخ منظور

لائبریرین
قریب ہے یار روزِ محشر، چھپے گا کشتوں کا خون کیونکر
جو چُپ رہے گی زبانِ خنجر، لہو پکارے گا آستین کا

(امیر مینائی)
 

فرخ منظور

لائبریرین
نہ چھیڑ اے نکہتِ بادِ بہاری راہ لگ اپنی
تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بیزار بیٹھے ہیں

بھلا گردش فلک کی چین دیتی ہے کسے انشا
غنیمت ہے کہ ہم صورت یہاں دو چار بیٹھے ہیں

(میر انشااللہ خان انشا)
 
Top