1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $413.00
    اعلان ختم کریں

اس نے زلفوں کو ہواؤں میں اچھالا ہو گا

سعید احمد سجاد نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 12, 2019 7:57 شام

  1. سعید احمد سجاد

    سعید احمد سجاد محفلین

    مراسلے:
    283
    محترم سر الف عین
    عظیم
    محمد ریحان قریشی
    اور دیگر احباب سے اصلاح کی درخواست ہے

    فیصلہ کر، کہ مرے غم کا مداوا ہو گا
    یا سرِ بزم کوئی اور تماشا ہو گا

    روح تک زخم لگے جب کبھی رستے ہونگے
    کون اس وقت بھلا میرا مسیحا ہو گا

    آج خوشبو سے معطر ہیں فضائیں کتنی
    اس نے زلفوں کو ہواؤں میں اچھالا ہو گا

    بس تری نام کی مجھ سے ہے شناسائی بھی
    کل تلک میں نے بھرم یہ بھی گنوایا ہو گا

    ایک بار اپنی زباں سے بھی گواہی دے دے
    مجھ سے نفرت کا بہانہ کوئی ڈھونڈا ہو گا

    شکریہ
     
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,455
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    بس ان اشعار کو پھر دیکھیں
    روح تک زخم لگے جب کبھی رستے ہونگے
    کون اس وقت بھلا میرا مسیحا ہو گا
    ... پہلا مصرع واضح نہیں، شاید یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ روح تک زخم لگے ہیں اور یہ زخم جب رِستے (اسے رستے بھی پڑھا جا سکتا ہے) ہوں گے۔

    آج خوشبو سے معطر ہیں فضائیں کتنی
    اس نے زلفوں کو ہواؤں میں اچھالا ہو گا
    زلفیں اچھالی جاتی ہیں؟ محترمہ وِگ لگاتی ہوں تو بات دوسری ہے!
    باقی درست لگ رہی ہے
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  3. سعید احمد سجاد

    سعید احمد سجاد محفلین

    مراسلے:
    283
    فیصلہ کر، کہ مرے غم کا مداوا ہو گا
    یا سرِ بزم کوئی اور تماشا ہو گا

    روح تک زخم لگے جو وہ اگر رِسنے لگے
    کون اس وقت بھلا میرا مسیحا ہو گا


    آج خوشبو سے معطر ہیں فضائیں کتنی
    اس نے زلفوں کو ہواؤں میں سنوارا ہو گا


    بس تری نام کی مجھ سے ہے شناسائی بھی
    کل تلک میں نے بھرم یہ بھی گنوایا ہو گا

    ایک بار اپنی زباں سے بھی گواہی دے دے
    مجھ سے نفرت کا بہانہ کوئی ڈھونڈا ہو گا

    سر دونوں اشعار بہتر کرنے کی کوشش کی ہے
     
  4. عظیم

    عظیم محفلین

    مراسلے:
    6,428
    پہلے شعر کے پہلے مصرع میں ابھی بھی 'ہیں' کی کمی محسوس ہو رہی ہے
    روح تک زخم لگے ہیں جو، اگر رِسنے لگے
    بہتر رہے گا
    دوسرے شعر میں 'ہواؤں' کی وجہ سے یوں لگتا ہے کہ اس نے زلفوں کو ہواؤں میں اڑتے ہوئے سنوارا ہو گا۔
    اس نے زلفوں کو کہیں پھر سے سنوارا ہو گا
    بہتر ہو سکتا ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  5. سعید احمد سجاد

    سعید احمد سجاد محفلین

    مراسلے:
    283
    شکریہ عظیم بھائی مشورے دونوں اشعار میں بہت بہتر ہیں
     
  6. سعید احمد سجاد

    سعید احمد سجاد محفلین

    مراسلے:
    283
    عظیم بھائی کو کہیں سے تنافر آ جائےگا
     
  7. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,455
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اس نے زلفوں کو کہیں پھر سے سنوارا ہو گا
    الفاظ بدل کر تنافر دور کیا جا سکتا ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. سعید احمد سجاد

    سعید احمد سجاد محفلین

    مراسلے:
    283
    فیصلہ کر، کہ مرے غم کا مداوا ہو گا
    یا سرِ بزم کوئی اور تماشا ہو گا

    روح تک زخم لگے ہیں جو اگر رِسنے لگے
    کون اس وقت بھلا میرا مسیحا ہو گا


    آج خوشبو سے معطر ہیں فضائیں کتنی
    ہاں کہیں زلفوں کو پھر اس نے سنوارا ہو گا


    بس تری نام کی مجھ سے ہے شناسائی بھی
    کل تلک میں نے بھرم یہ بھی گنوایا ہو گا

    ایک بار اپنی زباں سے بھی گواہی دے دے
    مجھ سے نفرت کا بہانہ کوئی ڈھونڈا ہو گا

    سر الف عین نظر ثانی کیجیے گا
     

اس صفحے کی تشہیر