اسلام آباد ڈیکلریشن کا متن

الف نظامی

لائبریرین
اسلام آباد لانگ مارچ مع ڈیکلریشن پر عمل درآمد کے حوالے سے آنے والے دن انتہائی اہم و نازک ثابت ہوں گے، تاریخ مری ڈیکلریشن کے حوالے سے مختلف کہانی سنائی ہے مگر اس بارے لوگ امید رکھتے ہیں کہ اسلام آباد ڈیکلریشن پر حرفاً و روح کے مطابق عمل کیاجائے گا ، اس پر عملدرآمد کی صورت میں پاکستان کو اس سے فوائد حاصل ہوں گے ڈاکٹر طاہر القادری اوران کے پیروکاروں نے پارلیمنٹ کے سامنے پرامن احتجاج سے اپنا مقصد حاصل کرلیا ، اس دستاویز میں کئی اچھی چیزیں ہیں خصوصاً انتخابات میں حصہ لے کر اقتدار میں آنے والوں کی قبل ازیں انتخابات کلیئرنس اچھا شگون ہے
شارع جمہوریت پرمارچ یہاں ختم نہیں ہوا صدرآصف زرداری، وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، چوہدری شجاعت الطاف حسین ، اسفند یار ولی کو دیگر اپوزیشن لیڈروں سے مذاکرات کے لئے قدم آگے بڑھانے چاہئیں مثلا ً دو نکات کو انتخابات سے قبل طے کرنا ہیں اول نیب چیئرمین کی اتفاق رائے سے تقرری اور نگراں وزیراعظم کے نام پر اتفاق ! خصوصاً نگراں وزیراعظم پراتفاق ایسا اقدام ہوگا جس سے منصفانہ و شفاف انتخابات کے انعقاد کی راہ ہموار اورمعاملات حل ہو سکیں گے یہ دونکات تو مثال کے طورپر دیئے گئے ہیں تاہم مزید کئی چیزیں ایسی ہیں جن کو مل جل کر اور خوشگوارانداز میں حل کرنے سے ہمارے جمہوری کلچر کی جڑیں مضبوط ہو ں گی۔
 
ش

شہزاد احمد

مہمان
حکومتی اتحادیوں نے "مل ملا" کر علامہ صاحب کو "واپس" بھجوا دیا ۔۔۔ ان کا یہی "کارنامہ" بہت ہے ۔۔۔ اب کچھ نہیں ہونے جا رہا ۔۔۔ اب صرف عام انتخابات ہوں گے جن میں تمام بڑے سیاسی کھلاڑی شریک ہوں گے ۔۔۔
 

الف نظامی

لائبریرین
ڈیکلریشن کے متن کے مطابق قومی اور صوبائی اسمبلیاں 16 مارچ سے قبل تحلیل کردی جائیں گی تاکہ الیکشن کمیشن کو اُمیدواروں کی سکروٹنی کیلئے ایک ماہ کا وقت مل سکے۔ اگر اسمبلیاں آئینی مدت پوری کرنے کے بعد تحلیل ہوتیں تو آئین کے مطابق 60 روز کے اندر انتخابات کرانے پڑتے۔ اب معاہدہ کے مطابق 90 روز میں انتخابات ہوں گے۔ ڈیکلریشن کیمطابق آئین کے آرٹیکل نمبر 62، 63 ، 218/3 اور 1976ءکے عوامی نمائندگی ایکٹ کی شق 77 سے 82 اور سپریم کورٹ کے فیصلے پر مکمل عملدرآمد کیا جائیگا۔ الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کیلئے مذاکرات ہونگے اور نگران وزیراعظم کا انتخاب ڈاکٹر طاہرالقادری کی مشاورت اور مکمل اتفاق رائے سے ہوگا۔ اگر الیکشن کمیشن نے اپنی قومی ذمے داری پوری کی تو پاکستان کی انتخابی تاریخ میں پہلی بار ٹیکس چور، قرضہ خور، جعلی ڈگری ہولڈرز اور جرائم میں ملوث افراد انتخابات سے باہر ہوجائینگے اور نیک نام تعلیم یافتہ افراد کیلئے مواقع پیدا ہونگے۔ طاقتور کرپٹ عناصر اسلام آباد ڈیکلریشن کو منسوخ کرانے یا اس پر عملدرآمد نہ کرانے کی کوشش کرینگے۔ اب یہ پڑھے لکھے نیک نام افراد کی ذمے داری ہے کہ وہ عوامی ڈیکلریشن پر پہرہ دے کر کرپٹ عناصر کی سازشوں کو ناکام بنا دیں۔
 

الف نظامی

لائبریرین
حکومتی اتحادیوں نے "مل ملا" کر علامہ صاحب کو "واپس" بھجوا دیا ۔۔۔ ان کا یہی "کارنامہ" بہت ہے ۔۔۔ اب کچھ نہیں ہونے جا رہا ۔۔۔ اب صرف عام انتخابات ہوں گے جن میں تمام بڑے سیاسی کھلاڑی شریک ہوں گے ۔۔۔
تمام امیدواروں کو آرٹیکل 62 ، 63 کی چھلنی سے گزرنا ہوگا اور 218/3 اور 1976ءکے عوامی نمائندگی ایکٹ کی شق 77 سے 82 اور سپریم کورٹ کے انتخابی اصلاحات کے فیصلے پر عمل درآمد ہوگا۔ انقلاب کا سفر ابھی جاری ہے اور ہم معاہدے پر عمل درآمد ہونے تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
 
باشعور عوام کا اب یہ فرض بنتا ہے کہ جس کسی کے پاس بھی کسی امیدوار کی کرپشن، بددیانتی اور بدکرداری کے حوالے سے کچھ مصدقہ معلومات ہیں، وہ متعلقہ اتھارٹیز سے رجوع کرے تاکہ ایسے لوگوں کے الیکشن میں داخلے کا سدباب کیا جاسکے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہر سیاسی جماعت اپنا اپناایک ایسا خصوصی سیل تشکیل دے دے جسکا کام ہی مخالف جماعت کے امیدوار کی سکروٹنی کرنا ہو، تو شائد کسی حکومتی ادارے کو اس محنت کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ یہ لوگ خود ہی ایک دوسرے کا کچا چٹھہ کھول کر سامنے لے آئیں گے شرط یہ ہے کہ مک مکا نہ ہوچکا ہو۔۔۔۔;):)
 

شمشاد

لائبریرین
62، 63 کی چھلنیاں پہلے بھی تھیں اور اب بھی رہیں گی۔ لیکن گزرنے والوں کے پاس بہت سے ہتھکنڈے ہیں۔ گھوم پھر کر وہی لوگ پھر آ جائیں گے۔
جمشید دستی کی مثال سب کے سامنے ہے۔
 

الف نظامی

لائبریرین
62، 63 کی چھلنیاں پہلے بھی تھیں اور اب بھی رہیں گی۔ لیکن گزرنے والوں کے پاس بہت سے ہتھکنڈے ہیں۔ گھوم پھر کر وہی لوگ پھر آ جائیں گے۔
جمشید دستی کی مثال سب کے سامنے ہے۔
نہیں سر ، میری معلومات کے مطابق ان آرٹیکلز پر عمل درآمد کروانے کے لیے لائحہ عمل طے کر لیا گیا ہے اور اس دفعہ الیکشن کا منظر نامہ مختلف ہوگا۔
 

الف نظامی

لائبریرین
b3_UUGfh9.gif
 

الف نظامی

لائبریرین
سیکرٹری اطلاعات شفقت محمود کا کہنا تھا کہ توقع ہے کہ معاہدہ سے آئندہ انتخابات آزادانہ، منصفانہ، اور غيرجانبدارانہ بنانے ميں مدد ملے گی۔

اسلام ٹائمز۔ اسلام آباد سے جاری بيان ميں تحريک انصاف کے سیکرٹری اطلاعات شفقت محمود کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کے شرکاء خصوصاً خواتين اور معصوم بچوں کے عزم و استقلال اور پرامن احتجاج کو تحسین پيش کرتے ہيں۔ انہوں نے کہا کہ اس عظيم الشان اور پرامن مظاہرے نے ثابت کر ديا ہے کہ پاکستان کے عوام باشعور ہيں اور اپنے حقوق کے حصول اور ملک ميں مثبت تبديلی کيلئے پرعزم ہيں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کرپٹ اور آزمائے ہوئے سیاستدانوں سے نجات چاہتی ہے، شفقت محمود کا کہنا تھا کہ شفاف انتخابات کیلئے صدر زرداری کا استففعیٰ ضروری ہے کیوں کہ وہ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین ہیں اور ان کی موجودگی میں شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں۔​
 

عمراعظم

محفلین
جانتے ہیں دونوں ہم ،اس کو نبھا سکتے نہیں
’اس نے بھی وعدہ کر لیا، میں نے بھی وعدہ کر لیا۔
ویسے ہماری خواہش یہی ہےکہ یہ سچ ثابت نہ ہو۔،،،،،،، ہمارا قومی المیہ یہ ہے کہ ہم ہر ایشو پر جلد بازی اور جذباتیت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
 

عمراعظم

محفلین
شفقت محمود صاحب کی تمام باتیں درست لیکن معاہدہ تو ا’نہی لوگوں سے ہوا جو اِن تمام مسائل کے بانی ہیں۔ معا ہدہ پر دستخط بھی ’اسی وزیراعظم نے کئے جس کو گرفتار کرنے کے احکامات جاری ہو چکے تھے۔قادری صاحب کی تقاریر سے تو یہی لگتا تھا جیسے کہ یہ دھرنا تمام اہم مسائل ختم کروا کر ہی ختم ہو گا۔البتہ قوم کے ’ان لاکھوں لوگوں کی استقامت اور خلوص کو سلام پیش کیا جانا چاہیے جو انتہائی نامسائد حالات کے باوجود اپنے مقصد کے حصول کے لئے ڈٹے رہے۔
 

الف نظامی

لائبریرین
شفقت محمود صاحب کی تمام باتیں درست لیکن معاہدہ تو ا’نہی لوگوں سے ہوا جو اِن تمام مسائل کے بانی ہیں۔ معا ہدہ پر دستخط بھی ’اسی وزیراعظم نے کئے جس کو گرفتار کرنے کے احکامات جاری ہو چکے تھے۔قادری صاحب کی تقاریر سے تو یہی لگتا تھا جیسے کہ یہ دھرنا تمام اہم مسائل ختم کروا کر ہی ختم ہو گا۔البتہ قوم کے ’ان لاکھوں لوگوں کی استقامت اور خلوص کو سلام پیش کیا جانا چاہیے جو انتہائی نامسائد حالات کے باوجود اپنے مقصد کے حصول کے لئے ڈٹے رہے۔
لانگ مارچ نے حکومت کو معاہدہ کرنے پر مجبور کیا ہے اور ایسے لوگوں سے (یزیدوں ، ظالموں ، لٹیروں) سے بات منوانا تضاد نہیں ، حق کی فتح ہے۔

181125_550281991649005_595092028_n.jpg
مزید تفصیل کے لیے براہ کرم یہ دو روابط ملاحظہ کیجیے
ربط 1
ربط 2
 
سب خوش ائند ہے بھئی

سب اتفاق رائے ہوگیا۔
اب پی پی اور قادری کا مشترکہ امیدوار وزیراعظم بنے گا۔ مبروک ہو یہ یزیدیت-حسینیت اتحاد
 

arifkarim

معطل
لانگ مارچ نے حکومت کو معاہدہ کرنے پر مجبور کیا ہے اور ایسے لوگوں سے (یزیدوں ، ظالموں ، لٹیروں) سے بات منوانا تضاد نہیں ، حق کی فتح ہے۔
یہ تو الیکشن کے نتائج کے بعد ہی پتا چلے گا کہ یہ حقیقی تھا یہ محض ٹوپی ڈرامہ!
 
Top