اسلام آباد میں مندر کی تعمیر روک دی گئی

اسلام آباد ملک کا دارالحکومت ہونے کی وجہ سے بین الاقوامی شہر ہونے کا درجہ رکھتا ہے۔ اسی لئے یہاں مندر، گرجا گھر اور دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کے قیام کیلئے زیادہ فراخدلی دکھانی ہوگی۔ یاد رہے کہ جناح سوپر مارکیٹ کے پاس ہی میں قادیانیوں کی ایک بڑی عبادت گاہ (مسجد) بھی موجود ہے۔
لیکن پانچ سو لوگوں کے لیے چھے سو سات سو لوگوں کی جگہ مختص کرنا تو فراخ دلی ہوا ۔
لیکن پانچ ہزار لوگوں کے لیے کیا ہوا ؟
نیٹ پریکٹس ؟
 

جاسم محمد

محفلین
لیکن پانچ سو لوگوں کے لیے چھے سو سات سو لوگوں کی جگہ مختص کرنا تو فراخ دلی ہوا ۔
لیکن پانچ ہزار لوگوں کے لیے کیا ہوا ؟
نیٹ پریکٹس ؟
مستقبل کے تناظر میں اسلام آباد کی ہندو کمیونٹی کی بڑھتی آبادی کے حساب سے زیادہ جگہ دی گئی ہے
 
مستقبل کے تناظر میں اسلام آباد کی ہندو کمیونٹی کی بڑھتی آبادی کے حساب سے زیادہ جگہ دی گئی ہے
یعنی مسلمان بمقابلہ ہندو ؟ واہ !!!
پھر تو یہ بھی دیکھنا چاہیئے کہ
پچھلے پانچ دس سالوں میں ہندو آبادی کا اس شہر میں کیا شرح نمو رہا ؟
 

عباس اعوان

محفلین
لیکن پانچ سو لوگوں کے لیے چھے سو سات سو لوگوں کی جگہ مختص کرنا تو فراخ دلی ہوا ۔
لیکن پانچ ہزار لوگوں کے لیے کیا ہوا ؟
نیٹ پریکٹس ؟
کیا سارے کا سارا رقبہ ٹمپل کا ہے ؟
یا اسی میں پارکنگ، صحن اوربرآمدہ وغیرہ بھی شامل ہیں ؟
 

سید ذیشان

محفلین
کیا سارے کا سارا رقبہ ٹمپل کا ہے ؟
یا اسی میں پارکنگ، صحن اوربرآمدہ وغیرہ بھی شامل ہیں ؟
پورا کامپلیکس ہے۔ شمشان گھاٹ بھی اس میں شامل ہے۔

ویسے پی ٹی آئی کے ایم این اے سے میں نے ڈان نیوز کے پروگرام میں سنا تھا کہ اسلام آباد میں 30000 ہندو رہتے ہیں۔ معلوم نہیں یہ تعداد کہاں سے آئی اور 5000 کی تعداد کا کیا سورس ہے؟
 
ویسے پی ٹی آئی کے ایم این اے سے میں نے ڈان نیوز کے پروگرام میں سنا تھا کہ اسلام آباد میں 30000 ہندو رہتے ہیں۔ معلوم نہیں یہ تعداد کہاں سے آئی اور 5000 کی تعداد کا کیا سورس ہے؟
اسلام آباد کی کل آبادی کتنی ہے ؟
 

سروش

محفلین
اسلام آباد میں 30000 ہندو رہتے ہیں۔
اگرایسا ہے تو فواراً اسلام آباد کا نام تبدیل کردیا جائے ، مستقبل میں تویہ ہندو اکثریتی شہر ہوگا ۔
اتنی تو آبادی مٹھی شہر کی نہیں ہے جو کہ کلی ہندو آبادی پر مشتمل شہر ہے ۔ کراچی جیسے شہر میں جہاں کی آبادی دو کروڑ سے زائد ہے ،کتنے ہی مندر ہیں (حتیٰ کہ قائد اعظم کے مزار کے پاس چورنگی کو آج تک گرومندر کہا جاتا ہے) یہاں بھی بمشکل ہندؤں کی اتنی آبادی ہوگی ۔
جاسم محمد مسئلہ مندر بنانے کا نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ 95٪ مسلم آبادی کے ٹیکس سے ہندوؤں کا مندر بنایا جارہا ہے ۔ دوئم یہ کہ اسی اسلام آباد شہر میں مسجد توحید کوجو کہ بمشکل 10 کنال رقبے پر ہے ، مسمار کیا گیا ۔ اس حوالے سے کوئی معلومات ہیں؟ چونکہ یہ اہلحدیث مسلک کی مسجد تھی ، آپ قطعی یہ نہیں کہہ سکتے کہ قبضہ کرکے یا غیر قانونی طور پر بنائی گئی ہوگی ۔
 
آخری تدوین:

جاسم محمد

محفلین
جاسم محمد مسئلہ مندر بنانے کا نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ 95٪ مسلم آبادی کے ٹیکس سے ہندوؤں کا مندر بنایا جارہا ہے ۔ دوئم یہ کہ اسی اسلام آباد شہر میں مسجد توحید کوجو کہ بمشکل 10 کنال رقبے پر ہے ، مسمار کیا گیا ۔ اس حوالے سے کوئی معلومات ہیں؟ چونکہ یہ اہلحدیث مسلک کی مسجد تھی ، آپ قطعی یہ نہیں کہہ سکتے کہ قبضہ کرکے یا غیر قانونی طور پر بنائی گئی ہوگی ۔
100 فیصد پاکستانی آبادی کے ٹیکس پر ملک کی اسٹیبلشمنٹ70 سالوں سے عیش کر رہی ہے۔ اس لئے اگر تاریخ میں پہلی بار 95 فیصد مسلم آبادی کے ٹیکس سے 4 فیصد ہندو اقلیت کیلئے ایک مندر بن بھی گیا تو کوئی قیامت نہیں ٹوٹ پڑے گی۔
 
مستقبل کے تناظر میں اسلام آباد کی ہندو کمیونٹی کی بڑھتی آبادی کے حساب سے زیادہ جگہ دی گئی ہے

گو میں مندر کی تعمیر کا کلی مخالف نہیں ہوں لیکن یہ
'مستقبل کے تناظر میں' انتہائی خطرناک جملہ ہے۔ پی ٹی آئی سرکار کو ایسا کونسا الہام ہوا ہے کہ مستقبل میں ہندو مذہب کے ماننے والوں کی تعداد اسلام آباد میں بڑھ جائے گی ؟
 

جاسم محمد

محفلین
ملک کے اعلی اداروں کے سربراہوں پر پابندی ہونی چاہیئے کہ ریٹائر ہونے کے بعد ملک سے مستقل باہر نہ جاسکیں ۔:LOL:
ECRtpn-EWs-AAEUbz.jpg

یہ چور ٹبر بھی لندن مفرور ہے
ETDTBGmXYAA73wF
 

جاسم محمد

محفلین
جب مندر کی تعمیر کیلئے نواز شریف حکومت نے مسلمان ٹیکس پیئر کے پیسوں سے اسلام آباد میں زمین دی تھی اس وقت یہ اسلامی فتوے کدھر تھے؟
The 20,000 square feet plot in H-9/2 was allotted to Hindu Panchayat by the Capital Development Authority (CDA) in 2017 on the orders of the National Commission for Human Rights
Groundbreaking of first Hindu temple in capital held - Newspaper - DAWN.COM
اب جبکہ اپنے ہی دور میں دی جانے والی زمین پر مندر کی تعمیر ہونے جا رہی ہے تو بجائے اس کا کریڈٹ لینے کے اپوزیشن بغض عمران میں الٹا حکومت کے خلاف ڈرامہ بازی کر رہی ہے۔ جبکہ یہی کرپٹ اپوزیشن اپنے دورحکومت میں ڈیم کیلئے دی جانی والی زمین کا کریڈٹ لینے میں ذرا بھی دیر نہیں لگاتی، جس پر آجکل ڈیم تعمیر ہو رہا ہے۔
 
آخری تدوین:
جب مندر کی تعمیر کیلئے نواز شریف حکومت نے مسلمان ٹیکس پیئر کے پیسوں سے اسلام آباد میں زمین دی تھی اس وقت یہ اسلامی فتوے کدھر تھے؟
The 20,000 square feet plot in H-9/2 was allotted to Hindu Panchayat by the Capital Development Authority (CDA) in 2017 on the orders of the National Commission for Human Rights
Groundbreaking of first Hindu temple in capital held - Newspaper - DAWN.COM
اب جبکہ اپنے ہی دور میں دی جانے والی زمین پر مندر کی تعمیر ہونے جا رہی ہے تو بجائے اس کا کریڈٹ لینے کے اپوزیشن بغض عمران میں الٹا حکومت کے خلاف ڈرامہ بازی کر رہی ہے۔ جبکہ یہی کرپٹ اپوزیشن اپنے دورحکومت میں ڈیم کیلئے دی جانی والی زمین کا کریڈٹ لینے میں ذرا بھی دیر نہیں لگاتی، جس پر آجکل ڈیم تعمیر ہو رہا ہے۔
پچھلی حکومت کے کسی سرکردہ رکن کا مندر کی مخالفت میں بیان دکھائیے۔
 

جاسم محمد

محفلین
پچھلی حکومت کے کسی سرکردہ رکن کا مندر کی مخالفت میں بیان دکھائیے۔
ظاہر ہے ن لیگ نے مخالفت نہیں کی کیونکہ ہندو مندر کیلئے مسلمان ٹیکس پیئر کے پیسوں سے زمین وہ خود الاٹ کر چکے تھے۔ البتہ یہ جو اسلامی جماعتیں اس حکومت پر مندر کو لے کر چڑھائی کر رہی ہیں۔ یہ مندر کو زمین الاٹ کرتے وقت کہاں چھپ گئی تھیں؟
 
ظاہر ہے ن لیگ نے مخالفت نہیں کی کیونکہ ہندو مندر کیلئے مسلمان ٹیکس پیئر کے پیسوں سے زمین وہ خود الاٹ کر چکے تھے۔ البتہ یہ جو اسلامی جماعتیں اس حکومت پر مندر کو لے کر چڑھائی کر رہی ہیں۔ یہ مندر کو زمین الاٹ کرتے وقت کہاں چھپ گئی تھیں؟
تحریر میں حوالہ پچھلی حکومت کے ایک وزیر کا دیا، لکھا 'اپوزیشن' اور اب 'ظاہر ہے' ۔

جیسا پیرِ یو ٹرن ویسے مرید۔ سبحان اللہ۔
 

جاسم محمد

محفلین
تحریر میں حوالہ پچھلی حکومت کے ایک وزیر کا دیا، لکھا 'اپوزیشن' اور اب 'ظاہر ہے' ۔

جیسا پیرِ یو ٹرن ویسے مرید۔ سبحان اللہ۔
اس وزیر کا حوالہ حکومت کے ہرتعمیراتی پراجیکٹ میں اپنا لچ تل کر کریڈٹ لینے پر دیا تھا۔ اب چونکہ یہ حکومت ہندو مندر اسی زمین پر تعمیر کرنے جا رہی ہے جو سابقہ ن لیگی حکومت نے الاٹ کی تھی۔ اس لئے اس کا کریڈٹ بھی ان کو لینا چاہئے۔ مگر نہیں لے رہے۔ یہی تو منافقت ہے۔ میٹھا میٹھا ہپ ہپ کڑوا کڑوا تھو تھو۔
 
اس وزیر کا حوالہ حکومت کے ہرتعمیراتی پراجیکٹ میں اپنا لچ تل کر کریڈٹ لینے پر دیا تھا۔ اب چونکہ یہ حکومت ہندو مندر اسی زمین پر تعمیر کرنے جا رہی ہے جو سابقہ ن لیگی حکومت نے الاٹ کی تھی۔ اس لئے اس کا کریڈٹ بھی ان کو لینا چاہئے۔ مگر نہیں لے رہے۔ یہی تو منافقت ہے۔
تو غلطی پی ٹی آئی کی ہوئی نا۔۔۔۔ پہلے چنتخب کو اس کا افتتاح کرنے تو بھیجے۔
 
Top