1. اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں فراخدلانہ تعاون پر احباب کا بے حد شکریہ نیز ہدف کی تکمیل پر مبارکباد۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    $500.00
    اعلان ختم کریں

رئیس امروہوی اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

سید شہزاد ناصر نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 25, 2013

  1. چودھری مصطفی

    چودھری مصطفی محفلین

    مراسلے:
    406
    کہیں پڑھا تھا کہ یہ نظم اس وقت لکھی گئی تھی جب سندھی کو سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا تھا جس کے بعد لسانی فسادات سندھ میں پھیل گئےتھے۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  2. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    17,826
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    واہ بہت زبردست شراکت،
    اردو سے محبت کے اعلی اور عمدہ جذبات کا اظہار ،
    بہت خوب ۔:)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. سید شہزاد ناصر

    سید شہزاد ناصر محفلین

    مراسلے:
    9,328
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    میں تو سمجھا تھا کہ میں نے مکمل نظم پوسٹ کی ہے مگر ایک جگہ کچھ اضافہ دیکھا تو مناسب سمجھا مکمل نظم مکرر پوسٹ کر دوں
     
    • زبردست زبردست × 1
  4. سید شہزاد ناصر

    سید شہزاد ناصر محفلین

    مراسلے:
    9,328
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    کیوں جان حزیں خطرہ موہوم سے نکلے
    کیوں نالۂ حسرت دل مغموم سے نکلے
    آنسو نہ کسی دیدۂ مظلوم سے نکلے
    کہہ دو کہ نہ شکوہ لب محروم سے نکلے
    اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

    اردو کا غم مرگ سبک بھی ہے گراں بھی
    ہے شامل ارباب عزا شاہ جہاں بھی
    مٹنے کو ہے اسلاف کی عظمت کا نشاں بھی
    یہ میت غم قلعہ مرحوم سے نکلے
    اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

    اے تاج محل نقش بدیوار ہو غم سے
    اے قلعۂ شاہی یہ الم پوچھ نہ ہم سے
    اے ارض وطن فائدہ کیا شرح ستم سے
    تحریک یہ مصر و عرب و روم سے نکلے
    اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

    سایہ تو ہوا اردو کے جنازے پہ ولی کا
    ہوں میر تقی ساتھ تو ہمراہ ہوں سودا
    دفنائیں اسے مصحفی و ناسخ و انشاء
    یہ فال ہر اک دفتر منظوم سے نکلے
    اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

    بد ذوقی احباب سے گو ذوق ہیں رنجور
    اردوئے معلی کے نہ ماتم سے رہیں دور
    تلقین سر قبر پڑھیں مومن مغفور
    فریاد دل غالب مرحوم سے نکلے
    اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

    ہیں مرثیہ خواں قوم میں اردو کے بہت کم
    کہہ دو کہ انیس اس کا لکھیں مرثیہ غم
    جنت سے دبیر آکے پڑھیں نوحہ ماتم
    یہ چیخ اٹھے دل سے نہ حلقوم سے نکلے
    اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

    اس لاش کو چپکے سے کوئی دفن نہ کردے
    پہلے کوئی سر سید اعظم کو خبر دے
    وہ مرد خدا ہم میں نئی روح تو بھر دے
    وہ روح جو موجود نہ معدوم سے نکلے
    اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

    اردو کے جنازے کی یہ سچ دھج ہو نرالی
    صف بستہ ہوں مرحومہ کے سب وارث و والی
    آزاد و نذیر و شرر و شبلی و حالی
    فریاد یہ سب کے دل مغموم سے نکلے
    اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

    ڈوبے ہوئے اسرار خودی میں نہ نظر آئیں
    اقبال بھی فردوس معلیٰ سے اتر آئیں
    اردو کی یہ میت ہے یہ ماتم ہے ادھر آئیں
    شکوہ نہ لب شاعر معصوم سے نکلے
    اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

    ہیں بس کہ بہت تنگ دل و تنگ نظر ہم
    للہ بتا دیجیے اے قائد اعظم
    اردو کو کہاں دفن کرے ملت پُرغم
    جب روح حزیں اس تن مسموم سے نکلے
    اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

    اب فاش ہوئی سب پہ بد اقبالئ اردو
    اردو میں نہ ہو شرح زبوں حالئ اردو
    سندھی میں لکھو نوحۂ پامالی اردو
    اور مدح نہ الفاظ نہ مفہوم سے نکلے
    اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

    خطرہ ہے کہ جہاں کوئی ظلم نہ ڈھائیں
    خدام وطن شان تغافل نہ دکھائیں
    اس خاک سے یوں لاشۂ اردو کو اٹھائیں
    جس طرح کہ بلبل قفس بوم سے نکلے
    اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
     
  5. سید شہزاد ناصر

    سید شہزاد ناصر محفلین

    مراسلے:
    9,328
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
  6. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    2,870
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    درج ذیل ناراضگی، ہلکی پھلکی ہے، اس کو ہلکا پھلکا ہی لیں :)

    اردو ایک زندہ زبان ہے۔

    زندہ زبانوں کی یہ نشانی ہے کہ وہ آس پاس کی دوسری زبانوں کو کھا جاتی ہیں اور ان مدقوق زبانوں کی جگہ یہ زندہ زبانیں لے لیتی ہیں۔ دوسری زبانوں کے الفاظ ، تصریف و نحو ، زندہ زبانوں کو چار چاند لگا دیتے ہیں اور یہ بیرونی الفاظ اور اصول ، کچھ اس طرح زندہ زبان میں شامل ہو جاتے ہیں کہ لگتا ہے کہ یہ نئے الفاظ ، یہ نئے اصول، اس زندہ زبان کا ہی حصہ ہیں۔ اردو ایک زندہ زبان ہے۔ یہ ہندی بھی کھا گئی، اور پشتو، پنجابی، سندھی، سرائیکی، بلوچی کو آہستہ آہستہ کم اثر کرتی جارہی ہے۔ اس مظبوط اور طاقتور زبان کے اثرات عربی اور فارسی پر بہت ہی نمایاں ہیں ۔ آج آپ کو دبئی میں عرب بھی اردو بولتے نظر آئیں گے اور ہندوستان میں سنسکرت کے ڈسے ہوئے بھی اردو کا سہارا لیتے ہوئے نظر آئیں گے۔ میں جب دوسرے ممالک میں جاتا ہوں تو مزے سے اردو ریڈیو سٹیشن سن کر خوش ہوتا ہوں۔ ہالینڈ میں ، برطانیہ میں ، امریکہ میں ، ناروے اور سوئیڈن میں اور استرالیا میں مقامی اردو ستیژن کی کمی نہیں۔ یہ زبان دیوناگری اور نسخ ، نستعلیق دونوں میں لکھی جاتی ہے ۔ دنیا کی کوئی دوسری زبان دو طرح کے خط میں لکھی جاتی ہے تو بتائیے۔ کوئی وقت نہیں جاتا کہ اردو ، ایک زندہ زبان ، عربی، فارسی، کو بھی پنجابی ، سندھی، پشتو، سرائیکی، بلوچی کی طرح کھانا شروع کردے گی۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بڑھتی، پھولتی ، پھیلتی، جیتی ، جاگتی زبان کا جنازہ نکالنے کے نعرہ لگانے والے کے ساتھ میں کچھ ایسا سلوک کرنا چاہتا ہوں کہ سات سے ستارا نمبر کے لتروں کی عید پرسعید ہو جائے۔ :)

    اس زبان کو میں بہت ہی اچھی طرح پہچانتا ہوں ۔ اس کے نشیب و فراز، اس کی قوس و قزح، اس کی گولائیں اور اٹھانیں، اگر فاروق سرور خان نہیں پہچانتا تو پھر کون یہ دعوی کرسکتا ہے۔ :)
    ہم اس اردو میں انگریزی کی مارفولوجی بھی استعمال کریں گے اور عربی کے "قَوَاعِد اَللُّغَة اَلْعَرَبِيَّة "، تصریف، نحو، اَلاشْتِقَاق اور اَلْبَلَاغَة بھی استعمال کریں گے۔ روک سکتے ہو تو روک لو :)
    یہ اردو، اردو ہی رہے گی اور سر چڑھ کر بولے گی :)

    چلو بھاگو ادھر سے، بڑے آئے اردو کا جنازہ نکالنے والے۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر