اردو میں ازبکستانی الفاظ!

احسان اللہ نے 'ادبیات و لسانیات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 17, 2018

  1. احسان اللہ

    احسان اللہ محفلین

    مراسلے:
    102
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    ازبکستانی الفاظ :
    اردو زبان میں چار ہزار الفاظ ایسے ہیں ،جو ازبکستانی ہیں
    مثال کے طورپر
    پلائو ،نان ،گوشت ،کباب اور سلاد" ازبک "لفظ ہیں
    اسی طرح
    ظہر اور عشاء کی نمازوں کے لیے بولے جانے والے لفظ" پیشی" اور "کفتاں" بھی ازبک ہیں
    چمچ کو پنجاب میں "کاشک" کہا جاتا ہے ،یہ بھی ازبک لفظ ہے
    یہ تمام معلومات جاوید چوہدری صاحب کے کالم سے لی گئی ہیں
    جاوید چوہدری صاحب مزید کہتے ہیں
    "پاکستانی علاقوں کے اسی فیصد لوگ ازبک صوفیا،علما ،شعرا اور جرنیلوں کی وجہ سے مسلمان ہوئے ہیں "۔
    از
    احسان اللہ کیانی
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  2. عباس اعوان

    عباس اعوان محفلین

    مراسلے:
    1,773
    جھنڈا:
    HongKong
    موڈ:
    Cool
    پلاؤ ، نان وغیرہ تو غالباً فارسی سے اردو میں آئے ہیں۔ ازبکستان میں فارسی سے گئے ہوں گے۔ چین کے اویغور لوگ بھی نان اور پلاؤ ہی کہتے ہیں۔
    پیشی ،کفتاں اور کاشک اردو اور پنجابی میں استعمال نہیں ہوتے۔ یہ الفاظ ہندکو میں استعمال ہوتے ہیں۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • متفق متفق × 1
  3. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    22,340
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    افسوس کہ جاوید چوہدری صاحب کی معلومات انتہائی ناقص ہیں۔ نمازوں کے جو نام پنجابی میں رائج ہیں وہ فارسی کے ہیں اور پنجابی میں ان کا بگڑا ہو تلفظ ہے جو کہ کچھ یوں ہیں:

    فارسی ۔ بگڑا ہوا پنجابی تلفظ

    نمازِ سحر گاہی (فجر) - سرگی
    نمازِ پیشین (ظہر) - پیشی
    نمازِ دیگر (عصر) - ڈیگر
    نماز شام (مغرب) - شاماں
    نمازِ خفتن (عشا) - کُفتاں
     
    • معلوماتی معلوماتی × 5
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 2
  4. عباس اعوان

    عباس اعوان محفلین

    مراسلے:
    1,773
    جھنڈا:
    HongKong
    موڈ:
    Cool
    نماشاں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • معلوماتی معلوماتی × 2
  5. فرقان احمد

    فرقان احمد مدیر

    مراسلے:
    4,050
    محترم حسان خان صاحب! آپ بھی رہنمائی فرمائیے۔ :)
     
  6. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    13,050
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    اگر اِس کی بجائے یہ کہا جائے کہ مُعاصر اردو اور مُعاصر اُزبکی میں چار ہزار الفاظ مشترک ہیں، تو بات درست ہو جائے گی۔ بلکہ اگر اُزبکی تُرکی کی کلاسیکی شکل 'چغتائی تُرکی' کو شامل کر لیا جائے تو اشتراکِ الفاظ چالیس پچاس ہزار تک پہنچ جائے گا کیونکہ اردو میں استعمال ہوئے تمام فارسی و عربی الفاظ چغتائی تُرکی میں بھی وُفور کے ساتھ استعمال ہوئے ہیں، اور وہ بھی کلاسیکی اردو کی طرح فارسی سے لسانی و ادبی و ثقافتی تغذِیہ کرتی رہی ہے۔ جس قطعۂ زمین پر موجودہ اُزبکستانی ریاست موجود ہے، وہاں ۱۹۲۰ء تک فارسی رسمی زبان تھی۔
    اردو کے چند تُرکی الاصل الفاظ سے قطعِ نظر، اُزبکی اور اردو میں جو مشترک الفاظ ہیں، اُن کا باعث فارسی ہے۔ اُزبکی تُرکی اور اردو میں عربی الفاظ بھی فارسی کے توسُّط سے وارد ہوئے ہیں۔
     
    آخری تدوین: ‏اپریل 17, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
    • معلوماتی معلوماتی × 4
  7. احسان اللہ

    احسان اللہ محفلین

    مراسلے:
    102
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    میں نے اسی لیے ۔۔۔اس بات کو ۔۔۔جاوید چوہدری صاحب ۔۔۔کی طرف ہی منسوب کیا تھا ۔۔۔۔شکریہ ۔۔۔محمد وارث صاحب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. احسان اللہ

    احسان اللہ محفلین

    مراسلے:
    102
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    ممکن ہے ۔۔۔ایسا ہو ۔۔۔۔جاوید چوہدری صاحب کو تحقیق کرکے لکھنا چاہیے تھا ۔
     

اس صفحے کی تشہیر