اردو مرکبات کی کمپیوٹر ٹائپنگ سے متعلق تجاویز درکار ہیں۔

اردو تحریر میں بعض اردو مرکبات و تراکیب میں یہ مسئلہ درپیش ہوتا ہے کہ انہیں ایک ہی سطر میں کیسے لکھا جائے، مثلا شب و روز، دُکھ درد، صفحہ ہستی وغیرہ۔ کیا ان الفا کا مکمل طور پر ایک ہی سطر پر ہونا ضروری ہوتا ہے یا نہیں مثلا شب و روز میں شب سطر کے آخر میں آ جائے اور "و روز" اگلی سطر کے شروع میں چلی جائے۔ نیز ان الفاظ کو اکٹھا رکھنے کے لئے کون سی کلیدیں استعمال کی جائیں، مثلاً نو بریک سپیس، یا زیرو وِڈتھ وغیرہ۔ براہ کرم ان کی یونیکوڈ ویلیوز کے ساتھ فوائد و نقصانات کی وضاحت بھی کی جاوے۔ عین نوازش ہو گی۔ ایک مسئلہ جو ابھی تک موجود اردو فونٹس میں میں دیکھ چکا ہوں یہ ہے کہ عام طور پر جو سپیس کریکیٹر دبایا جاتا ہے اردو الفاظ کے درمیان ان کا سائز بہت کم ہوتا ہے جبکہ نو۔بریک سپیس زیادہ جگہ بناتا دیتا ہے۔ براہ کرم رہنمائی فرمائی جائے۔ شکریہ
 

ابو ہاشم

محفلین
میرا خیال ہے مرکبات کو ایک ہی سطر میں رکھنے کے لیے نو بریک سپیس (00A0) استعمال ہو گی ۔
زیرو وڈتھ سپیس (200B) 'ال' والے مرکبات میں استعمال ہو گی جیسے 'شفیقالرحمان' میں (یہاں 'شفیقالرحمان' میں زیرو وڈتھ سپیس استعمال کی گئی ہے)
 
میرا خیال ہے مرکبات کو ایک ہی سطر میں رکھنے کے لیے نو بریک سپیس (00A0) استعمال ہو گی ۔
زیرو وڈتھ سپیس (200B) 'ال' والے مرکبات میں استعمال ہو گی جیسے 'شفیقالرحمان' میں (یہاں 'شفیقالرحمان' میں زیرو وڈتھ سپیس استعمال کی گئی ہے)
مجھے زیر وڈتھ سپیس ورڈ میں لکھنی نہیں آتی۔ نو بریک سپیس تو کنٹرول +شفٹ +سپیس بار سے لکھی جاتی ہے۔
کوئی بتا دیں ذرا۔
 

ابو ہاشم

محفلین
شاید اردو محفل میں اس طرح شفیق الرحمان (اب سادہ سپیس کے ساتھ) صحیح نظر نہیں آ رہا ۔ورڈ میں جمیل نوری نستعلیق فونٹ کے ساتھ صحیح نظر آ رہا ہے۔
 
ایک مسئلہ جو ابھی تک موجود اردو فونٹس میں میں دیکھ چکا ہوں یہ ہے کہ عام طور پر جو سپیس کریکیٹر دبایا جاتا ہے اردو الفاظ کے درمیان ان کا سائز بہت کم ہوتا ہے جبکہ نو۔بریک سپیس زیادہ جگہ بناتا دیتا ہے
جی ایسا ہی ہے۔ بسا اوقات زیادہ فاصلے کی بنا پر کافی دشواری ہوتی ہے۔ نجانے کیا وجہ ہے۔
 

ابو ہاشم

محفلین
مجھے زیر وڈتھ سپیس ورڈ میں لکھنی نہیں آتی۔ نو بریک سپیس تو کنٹرول +شفٹ +سپیس بار سے لکھی جاتی ہے۔
کوئی بتا دیں ذرا۔
یہ تو کی بورڈ کی سیٹنگ پر منحصر ہے۔
یہ چونکہ عام استعمال میں نہیں اس لیے میں تو شغلاً ورڈ میں insert میں symbol میں جا کر استعمال کرتا ہوں
 

ابو ہاشم

محفلین
'بائی ڈیفالٹ کی' کا مطلب تو نہیں سمجھا
البتہ کسی بھی یونیکوڈ کیریکٹر کے بعد alt+x ٹائپ کریں گے تو اس کا کوڈ سامنے آ جائے گا اور اگر اس کے کوڈ کے بعد alt+x ٹائپ کریں گے تو کیریکٹر آ جائے گا۔ ورڈ میں تو یہ چلتا ہے باقی سافٹ ویئروں کا پتا نہیں
 
'بائی ڈیفالٹ کی' کا مطلب تو نہیں سمجھا
البتہ کسی بھی یونیکوڈ کیریکٹر کے بعد alt+x ٹائپ کریں گے تو اس کا کوڈ سامنے آ جائے گا اور اگر اس کے کوڈ کے بعد alt+x ٹائپ کریں گے تو کیریکٹر آ جائے گا۔ ورڈ میں تو یہ چلتا ہے باقی سافٹ ویئروں کا پتا نہیں
جی میں نے سیدھا سمبل سے جاکر لگا لیا۔ آپ والا طریقہ!
 

ابو ہاشم

محفلین
کسی بھی یونیکوڈ کیریکٹر کے بعد alt+x ٹائپ کریں گے تو اس کا کوڈ سامنے آ جائے گا اور اگر اس کے کوڈ کے بعد alt+x ٹائپ کریں گے تو کیریکٹر آ جائے گا
یہ مختلف قسم کے سپیس بھی یونیکوڈ کیریکٹر ہیں ان کا بھی کوڈ لکھ کر alt+x اکٹھا دبائیں گے تو متعلقہ سپیس لگ جائے گی
 

الف عین

لائبریرین
اردو تحریر میں بعض اردو مرکبات و تراکیب میں یہ مسئلہ درپیش ہوتا ہے کہ انہیں ایک ہی سطر میں کیسے لکھا جائے، مثلا شب و روز، دُکھ درد، صفحہ ہستی وغیرہ۔ کیا ان الفا کا مکمل طور پر ایک ہی سطر پر ہونا ضروری ہوتا ہے یا نہیں مثلا شب و روز میں شب سطر کے آخر میں آ جائے اور "و روز" اگلی سطر کے شروع میں چلی جائے۔ نیز ان الفاظ کو اکٹھا رکھنے کے لئے کون سی کلیدیں استعمال کی جائیں، مثلاً نو بریک سپیس، یا زیرو وِڈتھ وغیرہ۔ براہ کرم ان کی یونیکوڈ ویلیوز کے ساتھ فوائد و نقصانات کی وضاحت بھی کی جاوے۔ عین نوازش ہو گی۔ ایک مسئلہ جو ابھی تک موجود اردو فونٹس میں میں دیکھ چکا ہوں یہ ہے کہ عام طور پر جو سپیس کریکیٹر دبایا جاتا ہے اردو الفاظ کے درمیان ان کا سائز بہت کم ہوتا ہے جبکہ نو۔بریک سپیس زیادہ جگہ بناتا دیتا ہے۔ براہ کرم رہنمائی فرمائی جائے۔ شکریہ
بات تو درست ہے تکنیکی طور پر۔ لیکن ان سپیشل کیریکٹرس کو کوئی عام کمپوزر استعمال نہیں کرتا۔ اس لیے میں تو اسی کو ترجیح دیتا ہوں کہ عام سپیس ہی استمال کی جائے، چاہے باقی الفاظ دوسری سطر میں چلے جائیں۔ اس لیے میں ان کو واحد لفظ مانتا ہی نہیں، دو یا تین (شب، و، روز) مانتا ہوں۔
 
میرا خیال ہے مرکبات کو ایک ہی سطر میں رکھنے کے لیے نو بریک سپیس (00A0) استعمال ہو گی ۔
زیرو وڈتھ سپیس (200B) 'ال' والے مرکبات میں استعمال ہو گی جیسے 'شفیقالرحمان' میں (یہاں 'شفیقالرحمان' میں زیرو وڈتھ سپیس استعمال کی گئی ہے)
براہ کرم بتائیں گے کہ یہاں دو مختلف اقسام کی سپیس استعمال کرنے کی لاجک (منطق) کیا ہے؟
 

شکیب

محفلین
میرا خیال ہے مرکبات کو ایک ہی سطر میں رکھنے کے لیے نو بریک سپیس (00A0) استعمال ہو گی ۔
زیرو وڈتھ سپیس (200B) 'ال' والے مرکبات میں استعمال ہو گی جیسے 'شفیقالرحمان' میں (یہاں 'شفیقالرحمان' میں زیرو وڈتھ سپیس استعمال کی گئی ہے)
میں نے نوٹ پیڈ میں ٹائپ شدہ متن جب ورڈ میں پیسٹ کیا تو الفاظ کے درمیان کی اسپیس باقاعدہ دکھائی دے رہی تھی، جبکہ ورڈ میں ٹائپ شدہ متن صحیح نظر آ رہا تھا...
میں نے اس پیسٹ شدہ متن کے درمیانی اسپیس کو ورڈ میں کچھ الفاظ کے بعد مٹا کر پھر سے لگایا تو وہ بھی درست ہوگئے، میں نے سوچا کہ فائنڈ رپلیس سے اسپیس بدل کر دیکھتا ہوں، لیکن وہ متن جوں کا توں رہا...
آخر جب اسپیس کو زیرو وڈتھ جوائنر( اور بعد میں نو بریک اسپیس) سے رپلیس کیا تو درست کرننگ کے ساتھ سارے الفاظ "متحد" دکھائی دینے لگے لیکن، الفاظ کی تعداد =جملوں کی تعداد ہو چکی تھی، یعنی ورڈ ان اسپیسز کو گنتا ہی نہیں...
اب اس کا کیا حل نکالا جائے؟
 

زیک

تقریباً غائب
میں نے نوٹ پیڈ میں ٹائپ شدہ متن جب ورڈ میں پیسٹ کیا تو الفاظ کے درمیان کی اسپیس باقاعدہ دکھائی دے رہی تھی، جبکہ ورڈ میں ٹائپ شدہ متن صحیح نظر آ رہا تھا...
میں نے اس پیسٹ شدہ متن کے درمیانی اسپیس کو ورڈ میں کچھ الفاظ کے بعد مٹا کر پھر سے لگایا تو وہ بھی درست ہوگئے، میں نے سوچا کہ فائنڈ رپلیس سے اسپیس بدل کر دیکھتا ہوں، لیکن وہ متن جوں کا توں رہا...
آخر جب اسپیس کو زیرو وڈتھ جوائنر( اور بعد میں نو بریک اسپیس) سے رپلیس کیا تو درست کرننگ کے ساتھ سارے الفاظ "متحد" دکھائی دینے لگے لیکن، الفاظ کی تعداد =جملوں کی تعداد ہو چکی تھی، یعنی ورڈ ان اسپیسز کو گنتا ہی نہیں...
اب اس کا کیا حل نکالا جائے؟
زیرو وڈتھ جائنر کو کرننگ کے لئے استعمال کرنا صحیح نہیں ہے۔
 
جب اشعار لکھے جائیں اور ایم ایس ورڈ میں ڈسٹریبیوٹ ٹیکسٹ کیا جاتا ہے تو الفاظ کے درمیان میں سپیس برابر برابر بڑھ جاتی ہے۔ لیکن کچھ الفاظ ایسے ہوتے ہیں جن کا ایک ساتھ موجود ہونا بہتر ہوتا ہے مثلاً جل تھل،پت جھڑ وغیرہ۔ اس مقصد کے لئے کوئی خاص طریقہ ۔۔۔۔
 
آخری تدوین:

الف نظامی

لائبریرین
جب اشعار لکھے جائیں اور ایم ایس ورڈ میں ڈسٹریبیوٹ ٹیکسٹ کیا جاتا ہے تو الفاظ کے درمیان میں سپیس برابر برابر بڑھ جاتی ہے۔ لیکن کچھ الفاظ ایسے ہوتے ہیں جن کا ایک ساتھ موجود ہونا بہتر ہوتا ہے مثلاً جل تھل،پت جھڑ وغیرہ۔ اس مقصد کے لئے کوئی خاص طریقہ ۔۔۔۔
جل اور تھل کے مابین زیرو وڈتھ نان جوائنز یونیکوڈ کنٹرول کیریکٹر شامل کر کے دیکھیے۔

نوٹ پیڈ میں رائٹ کلک کریں
ایک مینو ظاہر ہوگا اس میں سے
انسرٹ یونیکوڈ کنٹرول کیریکٹر
پر کلک کریں اور zwnj شامل کر لیں
 
Top