اخلاص کی ثروت دے کردار کی رفعت دے

اوزان، خیال


  • Total voters
    1

ابن رضا

لائبریرین
گزارش برائے اصلاح بحضور جناب
الف عین، محمد یعقوب آسی، مزمل شیخ بسمل، مہدی نقوی حجاز، سید عاطف علی و دیگر اربابَ سخن


اخلاص کی ثروت دے کردار کی رفعت دے
گستاخ نگاہوں کو کچھ اشکِ ندامت دے

سرشار مجھے کر دے تو اپنی محبت سے
کچھ شوقِ اطاعت دے کچھ ذوقِ عبادت دے

شب وروز مرےگزریں تیری ثنا میں پیہم
کچھ ایسی عقیدت دے کچھ ایسی ارادت دے

پیمانۂ دل میرا لبریز ہو ایماں سے
کچھ ایسی بصارت دے کچھ ایسی حرارت دے

کچھ اشک ندامت کے پلکوں پہ سجا لوں میں
اے میری اجل مجھ کو بس اتنی سی مہلت دے

یہ میری طبیعت کیوں کج راہی پہ مائل ہے
صد شکرکروں تیرا گر مجھ کو ہدایت دے

چھٹکارا ملے دل کو لذّت سے گناہوں کی
کچھ ایسی طہارت دے کچھ ایسی طراوت دے

حرمت پہ ترے دِیں کی میں خود کو فنا کرلوں
کچھ ایسی جسارت دے کچھ ایسی شجاعت دے

سب تیری نوازش ہے ،ناچیز نہیں قابل
اب اور وثاقت دے، اب اور متانت دے

تو مجھ کو بچا لینارسوائی سے محشر کی
یہ میری گزارش ہے بس ایک ضمانت دے

ہے تیری رضا مجھ کو منظور مرے مولا
بس اپنی ہی چاہت دے ،کچھ اور نہ حاجت دے


ہزج مثمّن اخرب(مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن)
 
آخری تدوین:
غزل تو خیر میں اسے نہیں کہوں گا۔ مناجات البتہ کہہ لیں۔
حضور چند ایک کے علاوہ کسی شعر میں کوئی نیا خیال، اسلوب یا کسی خاص صنعت کا استعمال نظر نہیں آتا۔
اس مصرعے میں روانی کی کمی ہے جو ے کے گرنے سے وجود میں آ رہی ہے: مجھے اورثِقاہت دے مجھے اور متانت دے
اس میں تعقید لفظی موجود ہے یعنی الفاظ کی نشست درست مقام پر نہیں: احسان فراموشی ہے شیوہ بنا میرا
بس ایک گزارش ہے بس ایک ضمانت دے: اس مصرعے کو بدل کر یوں کر لیں تو بہتری آ جائے گی: میری یہ گزارش ہے بس ایک ضمانت دے۔ کیوں کہ بس ایک کا مقام نہیں ہے پہلی مرتبہ۔
نہ کو نا نہیں لکھا جاتا: بس اپنی ہی چاہت دے کچھ اور نا حاجت دے
 

طارق شاہ

محفلین
صاحب تصحیح تو اساتذہ حضرات کرہی دیں گے، میں یہ یہ گوش گزار کرنا چاہتا تھا کہ
بات یا جملے واضح ہونے ضروری ہیں تاکہ پتہ چلے کون کس سے کیا چاہ رہا ہے
یایہ کہ کس کے متعلق بات کی جارہی ہے، یا ذکر ہے
اور ساتھ ساتھ کوشش کریں کہ طرز روز مرہ میں یعنی جس طرح ہم گفتگو کرتے ہیں
اسی طرح سے لکھیں ( تعقید )


کردار کو احسن کر لہجے کو حلاوت دے
کچھ ایسی عنایت کر کچھ ایسی کرامت دے
کس کے متعلق ہے؟

یہ مجھ پہ عنایت کر کچھ ایسی کرامت دے

اسی طرح یہ:

"کب تک میں رہوں پھرتا گمراہی کے رستوں پر"

کو با آسانی کچھ اس طرح ، (یا کوشش سے اس سے بھی بہتر) کیا جاسکتا تھا کہ:

"پھرتا میں رہوں کب تک گمراہی کے رستوں پر"

ویسے ہی خیال اور معنویت تحریر میں لانے کے متعلق جو بہتر جانا لکھ دیا
بہت خوش رہیں اور لکھتے رہیں :):)
 
یہ مناجات ہے، بجا ارشاد ہے احباب۔
بحر میں کچھ خاص مسئلہ نہیں ہے، نہ زمین میں۔ پھر بھی یہ دل میں کھب نہیں رہی، یہ دیکھنا ہو گا کہ کیوں۔
مزید پھر عرض کروں گا۔ ان شاء اللہ۔
 

سید عاطف علی

لائبریرین
گزارش برائے اصلاح بحضور جناب
الف عین، محمد یعقوب آسی، مزمل شیخ بسمل، مہدی نقوی حجاز، سید عاطف علی و دیگر اربابَ سخن
سب تیری نوازش ہے ناچیز نہیں قابل
مجھے اورثِقاہت دے مجھے اور متانت دے
ہزج مثمّن اخرب(مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن)
ثقاہت ۔ کو غالبا" ۔۔۔ثقۃ ۔سے اخذ کیا گیا ہے۔۔۔اس کا مادّہ لغت المنجد اور المعانی کے مطابق ۔ و ث ق۔ملتا ہے۔لگتاہے اس لحاظ سے اردو کی ترکیب ثقا ہت کا استخراج شاید درست نہیں ہو گا ۔بہتر ہے کہوزن اور ساخت کےبرتاؤ کے اعتبار سے وثاقت کہہ لیا جائے۔واللہ اعلم۔
  1. الثِّقَةُ - ثِقَةُ :
    الثِّقَةُ : مصدر .
    وقد يوصف به ، [ يستوي فيه المفرد والمثنى والجمع بنوعيهما ] ، فيقال : هو ، وهي ، وهما ، وهم ، وهن : ثقة ، وقد يجمع في الذكور والإناث على ثِقاتٍ .
    المعجم: المعجم الوسيط
  2. ثقة :
    1 - مصدر وثق . 2 - من يوثق به ويعتمد عليه : « هو عالم ثقة ». للمفرد والجمع والمذكر والمؤنث .
    المعجم: الرائد
  3. وثق - يثق ، ثقة ووثوقا وموثقا و وثاقة:
    - وثق به : ائتمنه
    المعجم: الرائد
  4. ثقة - ثِقَةٌ :
    [ و ث ق ]. ( مصدر وَثَقَ ). لِلْمُفْرَدِ وَالْمُذَكَّرِ وَالْمُؤَنَّثِ وَالجَمْعِ .
 

ابن رضا

لائبریرین
مناجات کی تدوین شدہ صورت حاضر ہے


اخلاص کی دولت دے کردارکی رفعت دے
سرشار مجھے کر دے اعجازِ محبت دے

گردش میں رہوں کب تک گمراہی کے رستوں پر
کچھ شوقِ اطاعت دے کچھ ذوقِ عبادت دے

سجدے میں جبیں میری ہر آن جھکی جائے
کچھ ایسی عقیدت دے کچھ ایسی ارادت دے

پیمانۂ دل میرا لبریز ہو ایماں سے
کچھ ایسی بصارت دے کچھ ایسی حرارت دے

چند اشک ندامت کے پلکوں پہ سجا لوں میں
اے وقتِ اجل مجھ کو بس اتنی سی مہلت دے

شیوہ ہے مرا کیونکر احسان فراموشی
صد شکرکروں تیرا گر مجھ کو ہدایت دے

چھٹکارا ملے دل کو لذّت سے گناہوں کی
کچھ ایسی طہارت دے کچھ ایسی طراوت دے

حرمت پہ ترے دِیں کی میں خود کو فنا کرلوں
کچھ ایسی جسارت دے کچھ ایسی شجاعت دے

سب تیری نوازش ہے ناچیز نہیں قابل
اب اورثِقاہت دے اب اور متانت دے

تو حشر کی رسوائی سے مجھ کو بچا لینا
یہ میری گزارش ہے بس ایک ضمانت دے

ہے تیری رضا مجھ کو منظور مرے مولا
بس اپنی ہی چاہت دے کچھ اور نہ حاجت دے

 
آخری تدوین:

طارق شاہ

محفلین
مطلع ، دوسرے اور تیسرے شعر کی تبدیلی نوٹ فرمائیں

اخلاص کی دولت دے کردارکی رفعت دے
سرشار مجھے کر دے اعجازِ محبت دے

گردش میں رہوں کب تک گمراہی کے رستوں پر
کچھ شوقِ اطاعت دے کچھ ذوقِ عبادت دے

سجدے میں جبیں میری ہر آن جھکی جائے
کچھ ایسی عقیدت دے کچھ ایسی ارادت دے
رضا صاحب!
توجہ دلانے پر ہی دیکھیں کچھ نہ کچھ امپرؤ کرنا نظر آیا آپ کو اور دانست میں قدرے کر بھی دی
اسی طرح جو بھی لکھیں اسے کچھ کچھ عرصے بعد دیکھتے رہیں کہ آیا کیا ترمیم برائے خوب
کی جاسکتی ہے، تین چار بار اس طرح دیکھنے سےتحریر ضرور حسب منشا اور قابلِ نمائش ٹھہرے گی
شاعری میں اگر اتنی پختگی ہو، یعنی یہ کہ کسی نہ کچھ کہا اور دوسرے ہی لمحے صحیح کرکے پیش کردیا والی صلاحیت
اگر ہم میں ہو، تو ہم یہاں نہ ہوں :):)
مطلب ہرچیز پر وقت لگانا ضروری ہے ، ورنہ یہ کہ جتنی منہ اتنی باتیں ، دوسری اہم بات یہ بھی ذہن میں رہے ،
(خاص طور سے انٹرنیٹ پر) کہ خواہ کسی نے کتنا ہی خراب کیوں نہ لکھا ہو اسے
تعریف کرنے والا میّسر ہو ہی جاتا ہے
بہت خوش رہیں برادر خرد اور لکھتے رہیں
 
آخری تدوین:
گزارش برائے اصلاح بحضور جناب
الف عین، محمد یعقوب آسی، مزمل شیخ بسمل، مہدی نقوی حجاز، سید عاطف علی و دیگر اربابَ سخن

کردار کو احسن کر لہجے کو حلاوت دے
کچھ ایسی عنایت کر کچھ ایسی کرامت دے

کب تک میں رہوں پھرتا گمراہی کے رستوں پر
کچھ شوقِ اطاعت دے کچھ ذوقِ عبادت دے

سجدے میں جبیں میری ہر آن جھکی جائے
کچھ ایسی عقیدت دے کچھ ایسی محبت دے

پیمانۂ دل میرا لبریز ہو ایماں سے
کچھ ایسی بصارت دے کچھ ایسی حرارت دے

چند اشک ندامت کے پلکوں پہ سجا لوں میں
اے وقتِ اجل مجھ کو بس اتنی سی مہلت دے

احسان فراموشی ہے شیوہ بنا میرا
صد شکرکروں تیرا گر مجھ کو ہدایت دے

چھٹکارا ملے دل کو لذّت سے گناہوں کی
کچھ ایسی طہارت دے کچھ ایسی طراوت دے

حرمت پہ ترے دِیں کی میں خود کو فنا کرلوں
کچھ ایسی جسارت دے کچھ ایسی شجاعت دے

سب تیری نوازش ہے ناچیز نہیں قابل
مجھے اورثِقاہت دے مجھے اور متانت دے

تو حشر کی رسوائی سے مجھ کو بچا لینا
بس ایک گزارش ہے بس ایک ضمانت دے

ہے تیری رضا مجھ کو منظور مرے مولا
بس اپنی ہی چاہت دے کچھ اور نا حاجت دے

ہزج مثمّن اخرب(مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن)

یقیناً ایک اچھی کوشش ہے۔ کہیں کہیں گرائمر کے قوانین ٹوٹتے، لڑکھڑاتے، ڈگمگاتے نظر آتے ہیں جو لکھتے رہنے سے وقت کے ساتھ ختم ہو جائیں گے۔ یوں بھی میں تو سب سے پوچھتا ہوں کہ :::
کوڈ:
Where is the Grammar in poetry??

تو جناب لکھتے رہیں اور اصلاح لیتے رہیں۔ :)
 

ابن رضا

لائبریرین

یقیناً ایک اچھی کوشش ہے۔ کہیں کہیں گرائمر کے قوانین ٹوٹتے، لڑکھڑاتے، ڈگمگاتے نظر آتے ہیں جو لکھتے رہنے سے وقت کے ساتھ ختم ہو جائیں گے۔ یوں بھی میں تو سب سے پوچھتا ہوں کہ :::
کوڈ:
Where is the Grammar in poetry??

تو جناب لکھتے رہیں اور اصلاح لیتے رہیں۔ :)
جی قبلہ کوشش کرتے رہنا ہمارا کام ہے اور حوصلہ افزائی آپکا
 

ابن رضا

لائبریرین
رضا صاحب!
توجہ دلانے پر ہی دیکھیں کچھ نہ کچھ امپرؤ کرنا نظر آیا آپ کو اور دانست میں قدرے کر بھی دی
اسی طرح جو بھی لکھیں اسے کچھ کچھ عرصے بعد دیکھتے رہیں کہ آیا کیا ترمیم برائے خوب
کی جاسکتی ہے، تین چار بار اس طرح دیکھنے سےتحریر ضرور حسب منشا اور قابلِ نمائش ٹھہرے گی
شاعری میں اگر اتنی پختگی ہو، یعنی یہ کہ کسی نہ کچھ کہا اور دوسرے ہی لمحے صحیح کرکے پیش کردیا والی صلاحیت
اگر ہم میں ہو، تو ہم یہاں نہ ہوں :):)
مطلب ہرچیز پر وقت لگانا ضروری ہے ، ورنہ یہ کہ جتنی منہ اتنی باتیں ، دوسری اہم بات یہ بھی ذہن میں رہے ،
(خاص طور سے انٹرنیٹ پر) کہ خواہ کسی نے کتنا ہی خراب کیوں نہ لکھا ہو اسے
تعریف کرنے والا میّسر ہو ہی جاتا ہے
بہت خوش رہیں برادر خرد اور لکھتے رہیں
جی شکریہ جناب حوصلہ افزائی کے لیے
 

ابن رضا

لائبریرین
غزل تو خیر میں اسے نہیں کہوں گا۔ مناجات البتہ کہہ لیں۔
حضور چند ایک کے علاوہ کسی شعر میں کوئی نیا خیال، اسلوب یا کسی خاص صنعت کا استعمال نظر نہیں آتا۔
اس مصرعے میں روانی کی کمی ہے جو ے کے گرنے سے وجود میں آ رہی ہے: مجھے اورثِقاہت دے مجھے اور متانت دے
اس میں تعقید لفظی موجود ہے یعنی الفاظ کی نشست درست مقام پر نہیں: احسان فراموشی ہے شیوہ بنا میرا
بس ایک گزارش ہے بس ایک ضمانت دے: اس مصرعے کو بدل کر یوں کر لیں تو بہتری آ جائے گی: میری یہ گزارش ہے بس ایک ضمانت دے۔ کیوں کہ بس ایک کا مقام نہیں ہے پہلی مرتبہ۔
نہ کو نا نہیں لکھا جاتا: بس اپنی ہی چاہت دے کچھ اور نا حاجت دے

توجہ فرمانے کا شکریہ، خوش رہیں اور اسی طرح حوصلہ افزائی کرتے رہیں
 

الف عین

لائبریرین
طراوت کے بارے میں سید عاطف علی کی تحقیق کیا کہتی ہے؟
تبدیل شدہ شکل پر میری رائے۔۔
مطلع کا دوسرا مصرع مجھے پسند نہیں آیا۔
دوسرا۔۔گمراہی کے راستے بھی ہوتے ہیں؟ گمراہی میں بھٹکا جاتا ہے، گردش نہیں کی جاتی۔ یہ مصرع مزید بہتر بنائیں۔
تیسرا۔ جبیں جھکی جائے کی جگہ ’جھکی رہے‘ کا محل ہے۔
پانچواں۔ چند اشک کی جگہ ’کچھ اشک‘ زیادہ چست و رواں ہے۔ وقتِ اجل؟ اس کی جگہ اجل کو ہی تخاطب درست نہیں؟
اگلا۔ شیوہ، میں سمجھتا ہوں کہ مثبت صفت ہونی چاہئے۔ احسان فراموشی کی نہیں۔ محمد یعقوب آسی کیا فرماتے ہیں؟
طراوت کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہہ رہا۔
اور
تو حشر کی رسوائی سے مجھ کو بچا لینا
یہاں وقفہ غلط جگہ ہے۔ جب شعر کے دو حصے ہوں، تو درمیان میں وقفہ ایسا ہو کہ بات دونوں حصوں میں مکمل ہو۔مثلاً
تو مجھ کو بچا لینا رسوائی سے محشر کی
 
ثقاہت ۔ کو غالبا" ۔۔۔ ثقۃ ۔سے اخذ کیا گیا ہے۔۔۔ اس کا مادّہ لغت المنجد اور المعانی کے مطابق ۔ و ث ق۔ملتا ہے۔لگتاہے اس لحاظ سے اردو کی ترکیب ثقا ہت کا استخراج شاید درست نہیں ہو گا ۔بہتر ہے کہوزن اور ساخت کےبرتاؤ کے اعتبار سے وثاقت کہہ لیا جائے۔واللہ اعلم۔
  1. الثِّقَةُ - ثِقَةُ :
    الثِّقَةُ : مصدر .
    وقد يوصف به ، [ يستوي فيه المفرد والمثنى والجمع بنوعيهما ] ، فيقال : هو ، وهي ، وهما ، وهم ، وهن : ثقة ، وقد يجمع في الذكور والإناث على ثِقاتٍ .
    المعجم: المعجم الوسيط
  2. ثقة :
    1 - مصدر وثق . 2 - من يوثق به ويعتمد عليه : « هو عالم ثقة ». للمفرد والجمع والمذكر والمؤنث .
    المعجم: الرائد
  3. وثق - يثق ، ثقة ووثوقا وموثقا و وثاقة:
    - وثق به : ائتمنه
    المعجم: الرائد
  4. ثقة - ثِقَةٌ :
    [ و ث ق ]. ( مصدر وَثَقَ ). لِلْمُفْرَدِ وَالْمُذَكَّرِ وَالْمُؤَنَّثِ وَالجَمْعِ .

سید صاحب کے ارشادات کے تسلسل میں: ۔
وَثَق یَثِقُ ثَقَۃً ۔۔ و ۔۔ وُثُوقاً و مَوْثَقاً بفلانٍ (بھروسا کرنا)
صفت فاعلی: واثق، صفتِ مفعولی: موثوق بہ
وَثُقَ یوثُقُ وثاقۃً الشیٔ (قوی اور مضبوط ہونا) وثُق الرجلُ (رجل فاعل: مضبوط ہونا، رجل مفعول: معتبر کہنا) وثُق الامرَ ( مضبوط کرنا) اَوْثَقہٗ اِیثاقاً (رسی سے باندھنا)
واثَقَہٗ وِثاقاً و مُواثقۃً (معاہدہ کرنا) توَثَّقَ (مضبوط ہونا) فی الامرِ (وثیقہ لینا) تواثَقَ القوم (باہم عہد و پیمان ہونا)اِستَوثَقَ منہُ (وثیقہ لینا) مِنَ الاموال (حفاظت میں مبالغہ کرنا)
الثِقَۃ (قابل بھروسا۔ لفظ واحد مذکر مؤنث واحد جمع سب کے لئے مستعمل ہے اور کبھی ثقات کے وزن پر مذکر مؤنث دونوں کے لئے جمع لاتے ہیں)
اور کہا جاتا ہے: فلانٌ اخو ثِقَۃٍ (فلاں بہادر ہے اور اس کی بہادری پر بھروسا کیا جاتا ہے)
الوَثاق، الوِثاق: باندھنے کی چیز جیسے رسی وغیرہ ۔ج: وُثُق۔ الوَثِیق: مضبوط۔ ج: وِثاق۔ الوثِیقہ: مؤنث قابل اعتماد۔ج: وثائق۔ ارضٌ وثیقۃٌ (بہت گھاس والی زمین)
الاَوثَق (اسم تفضیل) مؤنث وُثْقٰی۔ اور اسی سے ہے اِستمسَکَ بِالعُروَۃِ الوُثْقٰی (اس نےمضبوط حلقہ پکڑا) المَوثِق و المِیثاق (عہد) ج: مَوَاثِق، مَیاثِق، مَوَاثِیق، مَیَاثِیق۔
۔۔۔۔۔۔۔ ’’مصباح اللغات‘‘ مرتّبہ عبدالحفیظ بلیالوی

لفظ ’’ثقاہت‘‘ سے احتمال مادہ (ث ق ہ) کا ہوتا ہے جو مجھے نہیں ملا۔
بہ این ہمہ احادیث پر مباحث کے ضمن میں یہ لفظ ’’قابل اعتماد ہونا‘‘ کے معانی میں مستعمل ہے۔
’’وثاقت‘‘ بہتر لفظ ہے کہ اصل سے مربوط ہے۔
 
آخری تدوین:
حمد، نعت، مناجات ۔۔ ان کے معاملے میں میری توقعات خاصی مختلف ہیں کہ میں یہاں جذبات اور محسوسات کی طرف زیادہ مائل ہوں۔
شوکتِ لفظی اور تبحرِ علمی بجا، مگر میرے نزدیک ان تینوں اصناف کا اصل حق یہ ہے کہ الفاظ میں (چاہے وہ کتنے سادہ ہوں) دھڑکنیں اور آنسو سمو دیے جائیں۔ و ما توفیقی الا باللہ۔
 
مظفرآباد کے زلزلے کے حوالے سے ایک نظم کہی تھی۔ اس کی آخری دو سطریں:
’’آنسووں کے خدا
قلبِ انساں میں بھی ہو بپا زلزلہ‘‘

۔۔۔۔۔۔
ایک اور نظم سے :
’’ اور میرے حرف سارے
اس حبیبِ کبریا کے بابِ عزت پر
کھڑے ہیں دست بستہ
بے زباں، بے جرأتِ اظہار
حاشا! کوئی گستاخی نہ ہو جائے‘‘

۔۔۔۔۔۔۔
 

ابن رضا

لائبریرین
طراوت کے بارے میں سید عاطف علی کی تحقیق کیا کہتی ہے؟
تبدیل شدہ شکل پر میری رائے۔۔
مطلع کا دوسرا مصرع مجھے پسند نہیں آیا۔
دوسرا۔۔گمراہی کے راستے بھی ہوتے ہیں؟ گمراہی میں بھٹکا جاتا ہے، گردش نہیں کی جاتی۔ یہ مصرع مزید بہتر بنائیں۔
تیسرا۔ جبیں جھکی جائے کی جگہ ’جھکی رہے‘ کا محل ہے۔
پانچواں۔ چند اشک کی جگہ ’کچھ اشک‘ زیادہ چست و رواں ہے۔ وقتِ اجل؟ اس کی جگہ اجل کو ہی تخاطب درست نہیں؟
اگلا۔ شیوہ، میں سمجھتا ہوں کہ مثبت صفت ہونی چاہئے۔ احسان فراموشی کی نہیں۔ محمد یعقوب آسی کیا فرماتے ہیں؟
طراوت کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہہ رہا۔
اور
تو حشر کی رسوائی سے مجھ کو بچا لینا
یہاں وقفہ غلط جگہ ہے۔ جب شعر کے دو حصے ہوں، تو درمیان میں وقفہ ایسا ہو کہ بات دونوں حصوں میں مکمل ہو۔مثلاً
تو مجھ کو بچا لینا رسوائی سے محشر کی
بہت شکریہ استاد محترم
درجذیل پر غور فرمائیں۔

اخلاص کی ثروت دے کردار کی رفعت دے
گستاخ نگاہوں کو عفّت کی کرامت دے
یا
گستاخ نگاہوں کو کچھ جذبۂ عفّت دے
یا
گستاخ نگاہوں کو کچھ اشکِ ندامت دے

سرشار مجھے کر دے تو اپنی محبت سے
کچھ شوقِ اطاعت دے کچھ ذوقِ عبادت دے

شب وروز مرےگزریں تیری ثنا میں پیہم
یا
دن رات مرے تیری حمدوثنا میں گزریں
کچھ ایسی عقیدت دے کچھ ایسی ارادت دے

پیمانۂ دل میرا لبریز ہو ایماں سے
کچھ ایسی بصارت دے کچھ ایسی حرارت دے

کچھ اشک ندامت کے پلکوں پہ سجا لوں میں
اے میری اجل مجھ کو بس اتنی سی مہلت دے

یہ میری طبیعت کیوں کج راہی پہ مائل ہے
صد شکرکروں تیرا گر مجھ کو ہدایت دے

چھٹکارا ملے دل کو لذّت سے گناہوں کی
کچھ ایسی طہارت دے کچھ ایسی طراوت دے

حرمت پہ ترے دِیں کی میں خود کو فنا کرلوں
کچھ ایسی جسارت دے کچھ ایسی شجاعت دے

سب تیری نوازش ہے ،ناچیز نہیں قابل
اب اور وثاقت دے، اب اور متانت دے

تو مجھ کو بچا لینارسوائی سے محشر کی
یہ میری گزارش ہے بس ایک ضمانت دے

ہے تیری رضا مجھ کو منظور مرے مولا
بس اپنی ہی چاہت دے ،کچھ اور نہ حاجت دے
 
آخری تدوین:

ابن رضا

لائبریرین
مظفرآباد کے زلزلے کے حوالے سے ایک نظم کہی تھی۔ اس کی آخری دو سطریں:
’’آنسووں کے خدا
قلبِ انساں میں بھی ہو بپا زلزلہ‘‘

۔۔۔ ۔۔۔
ایک اور نظم سے :
’’ اور میرے حرف سارے
اس حبیبِ کبریا کے بابِ عزت پر
کھڑے ہیں دست بستہ
بے زباں، بے جرأتِ اظہار
حاشا! کوئی گستاخی نہ ہو جائے‘‘

۔۔۔ ۔۔۔ ۔
استادِ محترم مذکورہ مناجات میں اپنی تجاویز برائے اصلاح سے خصوصاً فیض یاب فرمائیں
 

سید عاطف علی

لائبریرین
طراوت کے بارے میں سید عاطف علی کی تحقیق کیا کہتی ہے؟
عربی مادہ ---ط ر ی--- اور فارسی دونوں میں درست ملتا ہے۔
عربی میں تائے مربوطہ ۃ کے ساتھ ہے جس کا اردو متبادل ت ہے ۔طراوۃ بمعنی ۔تری تازگی شادابی اور راحت نعومت ۔
فارسی میں ۔ ریفریشنگ ۔ کے معنی میں مل رہا ہے۔ طراوت کردن ۔ ریفریشنگ ۔ یہاں ہردو طرح استعمال صحیح لگ رہا ہے۔واللہ اعلم۔
 

الف عین

لائبریرین
گستاخ نگاہوں کو کچھ اشکِ ندامت دے
اچھا مصرع ہے۔ باقی اشعار درست ہو گئے ہیں۔
البتہ یہ ووٹنگ کا نظام درست نہیں بناتے۔ آپشنس میں کس کو کوئی چنے؟
 

ابن رضا

لائبریرین
گستاخ نگاہوں کو کچھ اشکِ ندامت دے
اچھا مصرع ہے۔ باقی اشعار درست ہو گئے ہیں۔
البتہ یہ ووٹنگ کا نظام درست نہیں بناتے۔ آپشنس میں کس کو کوئی چنے؟
جی بہت شکریہ استاد محترم۔ ’البتہ یہ ووٹنگ کا نظام درست نہیں بناتے‘ یہ بات سمجھ میں نہیں آئی یا میرے لیے نئی ہے۔
 
Top