احمد شاہ ابدالی اور صابر شاہ فقیر

الف نظامی نے 'تاریخ کا مطالعہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 29, 2019

  1. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    14,598
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    سید سرفراز شاہ اپنی کتاب ارژنگِ فقیر میں لکھتے ہیں:

    احمد شاہ ابدالی فوج میں ایک سپاہی تھا۔ فوج نے کسی مہم کے دوران ایک جگہ پڑاو ڈالا۔ جب رات کا کھانا serve ہو رہا تھا تو ذرا کم اچھے حلیے والا شخص وہاں آیا اور کہا
    "میں بھوکا ہوں ، کھانا کھلا دو"
    فوجیوں نے ڈانٹ دیا کہ یہ تو لشکر کے لیے کھانا ہے۔ احمد شاہ ابدالی نے جب یہ سنا تو اپنے حصے کا کھانا اس فقیر کو دے دیا۔ کھانا کھانے کے بعد فقیر نے احمد شاہ ابدالی سے کہا
    "تم نے مجھے کھانا کھلایا ، بولو کیا مانگتے ہو۔ جو مانگو گے ملے گا"
    یہ سن کر سپاہیوں نے قہقہے لگائے کہ جس شخص کے پاس خود کھانے کچھ نہ ہو وہ کسی کو کیا دے سکتا ہے۔
    احمد شاہ ابدالی نے politely کہا
    "بہت مہربانی ، بس آپ میرے لیے دعا کر دیجیے گا"
    فقیر نے رخصت ہوتے وقت کہا
    "جاو! تمہیں بادشاہ بنا دیا"
    اس کی بات سن کر سپاہیوں نے ایک بار پھر قہقہے لگائے۔ اس مہم میں مقابلہ بہت سخت تھا۔ لشکر کا بڑا نقصان ہوا۔ احمد شاہ ابدالی نے بہت بہادری کا مظاہرہ کیا جس پر بادشاہ نے ترقی دے کر اسے ایک چھوٹے درجے کا صوبیدار بنا دیا۔ اس کے بعد احمد شاہ ابدالی نے اپنے troops کی اتنی اعلی کمانڈ کی کہ بادشاہ نے اسے ترقی دے کر کمانڈر انچیف بنا دیا حتی کہ ایک ایسا وقت آیا کہ جب اس نے بادشاہ کو ہٹا کر خود حکمرانی سنبھال لی۔ تب اسے اُس فقیر کی دعا یاد آئی۔ فقیر کا پتا کرایا تو پتا چلا کہ وہ پنجاب گئے ہوئے ہیں۔ اس وقت پنجاب پر سکھوں کی حکومت تھی اور سکھ مسلمانوں پر ظلم وستم ڈھا رہے تھے۔ فقیر سکھ مہاراجہ کے دربار میں گیا اور احتجاج کیا کہ مسلمانوں پر ظلم و ستم سے باز آجاو۔ سکھ مہاراجہ نے ظلم کہ انتہا کرتے ہوئے حکم دیا کہ ابلتی ہوئی چاندی اس فقیر کے حلق میں انڈیل دی جائے۔ جس سے اس فقیر کا انتقال ہو گیا۔
    جب یہ خبر احمد شاہ ابدالی تک پہنچی تو وہ غصے میں آ گیا کہ سکھ مہاراجہ نے میرے مرشد کے ساتھ ایسا بھیانک سلوک کیا۔ وہ افغانستان سے آیا اور پنجاب پر حملہ کیا۔ لاہور فتح کیا اور حکم دیا کہ تین دن تک سکھوں کا قتل عام کیا جائے۔ جب رات کو احمد شاہ ابدالی سویا تو اس فقیر کو خواب میں دیکھا جنہوں نے تنبیہ کی کہ تمہیں بادشاہ اس لیے تو نہیں بنایا گیا تھا کہ تم انسانوں کا قتل عام کرو۔ فورا اسے بند کرو۔ احمد شاہ ابدالی نے آنکھ کھلتے ہی قتل عام بند کرنے کا حکم دیا۔
    وہ فقیر صابر شاہ صاحب تھے جن کا مزار بادشاہی مسجد کی تقریبا back پر ہے
     
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  2. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,554
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    احمد شاہ ابدالی نے ہندوستان پر آٹھ حملے کیے تھے اور ہر حملے میں قتل و غارت کی پس ثابت ہوا کہ ابدالی نے اپنے "مفروضہ" مرشد کی بات نہیں مانی۔ مزید برآں یہ کہ چوتھے حملے کے وقت واپس جاتے ہوئے ابدالی نے امرتسر میں سکھوں کے "کعبہ" گولڈن ٹیمپل کو مسمار کر کے اس پر ہل چلوا دیئے تھے جس کا بدلہ سکھوں نے بادشاہی مسجد کو اصطبل بنا کر لیا لیکن پھر بھی اس کو مسمار نہیں کیا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 2
  3. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    14,598
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    محسن فارانی لکھتے ہیں:
    ملتان میں پیدا ہونے والا احمد شاہ ابدالی جب 1747ء میں نادر شاہ کے قتل پر قندھار میں تخت نشین ہوا تو اس نے افغانستان میں اپنی بادشاہت پر اکتفا کیا تھا لیکن جب ہندو مرہٹوں کے لشکر 1759ء میں دہلی پر قابض ہونے کے بعد اٹک تک پہنچ گئے اور ان کے پیشوا نے پونا میں اعلان کیا کہ
    جامع مسجد دہلی میں مہادیو کا بت نصب کیا جائے گا
    تب شاہ ولی اللہ‘ نواب شجاع الدولہ اور روہیلہ سردار حافظ رحمت خان نے احمد شاہ ابدالی سے درخواست کی تھی کہ وہ آ کر ہندوستان کے مسلمانوں کو ہندو مرہٹوں کے ظالمانہ تسلط سے بچائیں۔
    اس کے بعد ہی احمد شاہ ابدالی نے جنوری 1761ء میں پانی پت کی تیسری جنگ میں لاکھوں ہندو مرہٹوں کو شکست دے کر ہندوستان میں مسلم اقتدار کو سنبھالا دیا تھا۔

    اس کے بعد ابدالی نے پنجاب میں دہشت گردی کرتے ہوئے سکھوں کو کچلنے کے لئے آنا پڑا تھا اگر ابدالی اقتدار کا بھوکا ہوتا تو وہ 1761ء ہی میں شاہ عالم ثانی کو معزول کر کے دہلی پر قبضہ کر سکتا تھا مگر اس نے ایسا نہیں کیا اور مغلوں کو سنبھلنے کا موقع دیا۔

    اس نے صرف پنجاب اور کشمیر کو سکھوں کے کشت و خون اور لوٹ مار سے بچانے کیلئے اپنی سلطنت میں ضم کیا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کے پوتے زمان شاہ نے 1799ء میں کابل میں بغاوت ہو جانے کے باعث لاہور سے واپس جاتے ہوئے یہاں کی حکومت رنجیت سنگھ کو سونپ دی۔
    https://www.nawaiwaqt.com.pk/31-May-2009/96832
     
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  4. آصف اثر

    آصف اثر محفلین

    مراسلے:
    2,977
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    اگر سکھوں کا ظلم وستم اور جارحیت نہ ہوتی تو احمد شاہ ابدالی کبھی بھی ہندوستان کا رُخ کرکے سکھوں کو سیدھا نہ کرتا۔ برصغیر کے مسلمانوں پر احمد شاہ ابدالی کا احسان ہے کہ ان کی وجہ سے انہیں سکھوں اور مرہٹوں کی غلامی سے نجات نصیب ہوئی۔ جنگ میں سپاہی قتل نہ ہوں تو کون ہوں گے۔ لہذا قتل و غارت گری کا اعتراض خود بخود کالعدم ہوجاتاہے۔ ٹیمپل کا جواب نظامی صاحب کے مراسلہ میں موجود ہے۔
    البتہ حیرت اس بات پر ہے کہ جتنی بلاوجہ مذمت احمد شاہ ابدالی کی کی جاتی ہے، اتنی اصل ظالم نادر شاہ (ایران) کی نہیں کی جاتی کیوں کہ اعتراض کرنے والے اکثر وبیشتر افراد کی ہمدردیاں اور حمایت ایران کے ساتھ ہوتی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,554
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    یہ عجب ستم ظریفی ہے کہ غزنوی، ابدالی، نادر شاہ وغیرہم کے ہاتھوں مرنے والوں کے لیے ایک جواز ڈھونڈا جاتا ہے اور انہی علاقوں میں انگریزوں اور امریکنوں کے ہاتھوں مرنے والوں کے لیے کوئی اور جواز ڈھونڈا جاتا ہے۔ حالانکہ اگر انگریزوں اور امریکنوں نے قتل و غارت کی تو یہی کام اول الذکر حملہ آوروں نے بھی کیا!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. آصف اثر

    آصف اثر محفلین

    مراسلے:
    2,977
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    دراصل دونوں کے مقاصد میں خالق اور مخلوق کا فرق ہے۔ ایک طرف خدا کی زمین پر خدا کا نظام چاہتے ہیں جب کہ دوسری جانب ایک طبقہ سب کو، اپنا غلام بنانا چاہتا ہے۔ البتہ ایران کا نادر شاہ ہو یا ابدالی کے بعد اس کے نااہل جانشین ہوں، کسی بھی غلط شخص کا دفاع کرنا شرعا، اور اخلاقا درست نہیں۔
     
  7. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    14,598
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    زاہد الراشدی لکھتے ہیں:
    قندھار جانا ہو اور احمد شاہ ابدالیؒ کے مزار پر فاتحہ خوانی کے لیے حاضری نہ ہو، یہ میرے جیسے تاریخ کے طالب علم کے لیے ممکن ہی نہیں۔ گزشتہ دفعہ جب قندھار گیا تو احمد شاہ ابدالیؒ کے مزار پر بھی گیا۔ اس وقت مزار کے دروازے کھلے تھے اس لیے نیچے تہہ خانے میں اتر کر قبر کی پائنتی پر کافی دیر کھڑا رہا اور فاتحہ خوانی کے بعد تصور کی دنیا میں احمد شاہ باباؒ سے راز و نیاز میں مصروف رہا۔ مگر اس بار حضرت مولانا فداء الرحمان درخواستی کے ہمراہ حاضری ہوئی تو دروازے بند تھے اس لیے باہر کھڑے ہو کر فاتحہ خوانی کی اور ’’خلوت‘‘ میسر نہ ہونے کی وجہ سے راز و نیاز کا شوق بھی ادھورا رہ گیا۔

    احمد شاہ ابدالیؒ کو افغان عوام محبت و عقیدت سے احمد شاہ باباؒ کے نام سے یاد کرتے ہیں اور اسی عقیدت سے اس عظیم افغان فرمانروا کی قبر پر حاضری بھی دیتے ہیں جس نے اٹھارہویں صدی عیسوی میں قندھار میں افغان سلطنت کی بنیاد رکھی اور صرف ربع صدی کے عرصہ میں اس کی سرحدیں دریائے آمو سے دریائے سندھ تک اور تبت سے خراسان تک وسیع کر کے ۵۱ برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوگیا۔

    احمد شاہ ابدالیؒ ۱۷۲۴ء میں ملتان میں پیدا ہوا۔ افغانستان کے ابدالی قبیلہ کے پوپلزئی خاندان کی سدوزئی شاخ سے اس کا تعلق ہے۔ اس کا باپ سردار زمان خان مرحوم ہرات پر ایرانیوں کے قبضہ کی مزاحمت کرتا رہا مگر ناکام رہا اور ایرانی ہرات پر قابض ہوگئے۔ اس کے بعد سردار زمان خان کے بھائی ذوالفقار خان نے ایرانیوں کے خلاف بغاوت کی مگر وہ کامیاب نہ ہوا اور ۱۷۳۱ء میں ہرات پر ایرانی قبضہ مکمل ہوگیا۔ سردار زمان خان کا بیٹا احمد خان ایرانی فرمانروا نادر شاہ کی فوج میں بھرتی ہوا اور اپنی خداداد صلاحیتوں کے باعث ایک سپاہی کے منصب سے ترقی کرتے ہوئے صرف تئیس برس کی عمر میں سپہ سالار کے مقام تک جا پہنچا۔ مگر ۱۷۴۷ء میں قزلباشوں کے ہاتھوں نادر شاہ قتل ہوا توا حمد خان نے دیگر افغان فوجیوں کے ہمراہ وطن واپسی کی راہ اختیار کی، قندھار میں افغان سلطنت کی بنیاد رکھی، احمد شاہ کا لقب پایا، اور در دراں (موتیوں کا موتی) کا خطاب حاصل کیا جس کی وجہ سے اسے درانی کہا جاتا ہے۔ احمد شاہ ابدالیؒ نے ۱۷۷۳ء میں وفات پائی مگر اس دوران مسلسل معرکہ آرائی اور فوجی مہمات میں اس نے اپنی سلطنت کو دریائے آمو سے دریائے سندھ تک اور تبت سے خراسان تک وسیع کر لیا جس میں کشمیر، پشاور، ملتان، سندھ، بلوچستان، ایرانی خراسان، ہرات، قندھار، کابل اور بلخ کے علاقے شامل تھے۔

    احمد شاہ ابدالیؒ نے ہندوستان پر نو حملے کیے اور ایک مرحلہ پر لاہور اور سرہند پر قبضہ کر کے انہیں بھی اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔ مگر اس کا سب سے بڑا معرکہ پانی پت کی تیسری لڑائی ہے جس میں اس نے جنوبی ہند کے جنونی مرہٹوں کی بڑھتی ہوئی یلغار کا راستہ روکا اور شمالی ہند کے اس خطہ کو، جسے آج پاکستان کہلانے کا شرف حاصل ہے، ہمیشہ کے لیے مسلمانوں کے نام مخصوص کر دیا۔ یہ وہ دور تھا جب مغل بادشاہت زوال کا شکار تھی۔ اسے ایک طرف سمندر پار سے تجارت کے نام پر آنے والی کمپنیوں نے، جن میں برطانیہ اور فرانس کی ایسٹ انڈیا کمپنیاں سر فہرست تھیں، دھکیلنا شروع کر دیا تھا۔ دوسری طرف سے جنوبی ہند کے انتہا پسند ہندوؤں یعنی مرہٹوں کی فوج دہلی پر قبضہ کے لیے بے چین تھی۔ تیسری طرف پنجاب میں سکھوں نے اپنی قوت اور خودمختاری کے اظہار کا آغاز کر دیا تھا۔ اور اسی فضا میں ایرانی فرمانروا نادر شاہ نے دہلی پر حملہ کر کے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی اور وہ قتل عام کیا تھا کہ تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔

    اس وقت حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی علمی و دینی قیادت کا علم اٹھائے ہوئے تھے۔ انہوں نے دہلی کی طرف ہندو مرہٹوں کی یلغار کو شمالی ہند کے مسلمانوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہوئے مغل بادشاہت کو اس کے مقابل بے بس پا کر احمد شاہ ابدالیؒ سے مدد کی فریاد کی۔ مرہٹے بھی اپنے مقابلہ میں افغانوں کے وجود کو سب سے بڑا خطرہ سمجھتے تھے اور ۱۷۵۸ء میں پنجاب کو افغانوں سے خالی کرانے کی مہم میں پشاور تک یلغار کر چکے تھے۔ اس پس منظر میں افغانوں کی یہ ابھرتی ہوئی قوت ہی عالم اسباب میں شمالی ہند کے مسلمانوں کا سب سے بڑا سہارا بن سکتی تھی۔ چنانچہ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی دعوت پر احمد شاہ ابدالیؒ نے ۱۷۶۱ء میں مرہٹوں کے مقابلہ کے لیے ہندوستان پر لشکر کشی کی اور پانی پت کے میدان میں مرہٹوں کو تاریخی شکست سے دوچار کرنے کے بعد دہلی کی حکومت ایک بار پھر مغل بادشاہ محمد شاہ کے سپرد کر کے اپنے وطن واپس لوٹ گیا۔

    ’’تاریخ مختصر افغانستان‘‘ کے مصنف عبد الحئی حبیبی مرحوم کا کہنا ہے کہ احمد شاہ ابدالیؒ حنفی المذہب عالم تھا، دینی احکام کا پابند اور متشرع حکمران تھا۔ اور شعر و شاعری اور ادب کا اعلیٰ ذوق رکھتا تھا۔ پشتو میں احمد شاہ ابدالیؒ کا دیوان عبد الحئی حبیبی مرحوم نے ہی شائع کیا ہے جو اڑھائی ہزار سے زائد اشعار پر مشتمل ہے اور اس میں غزل، رباعی، قطعات، اور مخمس وغیرہ کی مختلف شعری اصناف شامل ہیں۔ تصوف و سلوک میں اپنے وقت کے دو بڑے شیوخ حضرت شاہ فقیر اللہ جلال آبادیؒ اور حضرت میاں محمد عمر پشاوریؒ سے اس کا ارادت کا تعلق تھا۔ اور سلوک و معرفت کے مسائل پر بھی اس کا شاعرانہ کلام موجود ہے جس کی شرح پشاور کے قاضی ملا محمد غوثؒ نے ’’شرح الشرح‘‘ کے نام سے لکھی تھی۔

    احمد شاہ ابدالیؒ کی فرمانروائی کا یہ پہلو تاریخ کی نظر میں عجیب اور ناقابل فہم ہے کہ اس نے مسلمان سرداروں اور حکمرانوں پر تسلط حاصل کرنے اور انہیں میدان جنگ میں شکست دینے کے باوجود ان کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کیا اور ان کے علاقوں پر مسلسل قبضہ برقرار رکھنے کی بجائے انہی کو مناسب شرائط پر ان کے علاقے لوٹا دیے۔ مؤرخ حبیبی مرحوم نے احمد شاہ ابدالیؒ کے اس طرز عمل کو تاریخی طور پر عجیب قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ دہلی، بخارا، خراسان، سندھ اور بلوچستان کے حکمرانوں کے ساتھ اس نے یہی معاملہ کیا۔ اور پانی پت کا معاملہ تو ہمارے سامنے ہے کہ مرہٹوں کی خوفناک شکست کے بعد اگر احمد شاہ ابدالیؒ دہلی میں بیٹھ جاتا اور ہندوستان پر اپنی حکمرانی کا اعلان کر دیتا تو دنیا کی کوئی طاقت اسے اس اقدام سے نہیں روک سکتی تھی۔ بلکہ تاریخ کے میرے جیسے طالب علم کی نظر میں اس وقت احمد شاہ ابدالیؒ کے دہلی میں بیٹھ جانے کی صورت میں نہ صرف فرنگیوں کے بڑھتے ہوئے قدم رک جاتے بلکہ سکھوں کی روز افزوں سرکشی بھی کنٹرول میں رہتی۔ لیکن احمد شاہ ابدالیؒ نے اپنی افتاد طبع اور اس کے ساتھ اپنے پیچھے قندھار میں بغاوت کے آثار دیکھ کر واپس لوٹ جانے کو ترجیح دی۔

    مؤرخ حبیبی مرحوم نے احمد شاہ ابدالیؒ کے اس طرز عمل پر بحث کرتے ہوئے حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا یہ ارشاد بھی نقل کیا ہے کہ ابدالیؒ کا یہ رویہ اس دنیا کے معاملات کے حساب سے نہ تھا۔ گویا حضرت شاہ صاحبؒ کے نزدیک احمد شاہ ابدالیؒ کا معاملہ تکوینیات اور عالم غیب سے تھا کہ وہ اپنے ذمہ عائد کی گئی ذمہ داری ادا کر کے اسی طرح واپس چلا گیا۔
     
    • زبردست زبردست × 2

اس صفحے کی تشہیر