احمدی جواب دیتے ہیں

فرقان احمد

محفلین
کیونکہ قادیانیت کو ایک سیاسی مسئلہ ان علما کرام نے خود بنایا ہے۔ پہلے آئین میں ترمیم کے ذریعہ۔ پھر صدارتی آرڈیننس میں ان پر مذہبی پابندیاں لگا کر۔
اصل میں علما کرام چاہتے ہیں کہ یہ مسئلہ ہمیشہ اسی طرح قائم و دائم رہے تاکہ ان کی سیاسی دکانیں چلتی رہیں۔
یہ پہلے خود ہی ایک مذہبی مسئلہ کو سیاسی بناتے ہیں۔ اور جب ان کو عوام کی حمایت حاصل ہو جاتی ہے تو پھر جس کو چاہے قادیانی یا قادیانی نواز ڈکلیئر کرکے سیاست چمکاتے ہیں۔ وہ بیچارہ مسلمان اپنی صفائی میں عمرہ اور حج کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔
قادیانیت کا مسئلہ 1974ء میں پیدا نہیں ہوا تھا۔ یہ تصادم کی صورت حال بہت پہلے سے موجود تھی۔ کیا آپ وہ فسادات بھول گئے جو انیس سو پچاس کی دہائی میں ہوئے تھے۔ مسلمانوں کی اکثریت یہ سمجھتی تھی کہ قادیانی غیر مسلم ہیں اور یوں ہر گلی بازار میں فتنہ فساد کا بازار گرم تھا۔ مناظرے بازی عام تھی۔ ایک دوسرے پر حملے ہوا کرتے تھے۔ خون بھی بہا۔ معاملات عدالتوں میں گئے۔ آخر، ریاست کو ہوش آیا اور 1974ء میں اس مسئلے کو کافی حد تک حل کر لیا گیا۔ اب جب کہ آئینی اور قانونی طور پر، قادیانی گروہ کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا ہے تو وہ آئین میں رد و بدل یا اس کو ہی مکمل طور پر ختم کر دینا چاہتے ہیں۔ عام طور پر، ان کا یہ خیال ہے کہ کوئی ایسا آرمی چیف آ جائے جو قادیانیت نواز ہو کیونکہ ان کے نزدیک جمہوریے مکمل طور پر آئین کا ساتھ ہی دیں گے۔ یوں، آئین کی معطلی سے ان کے لیے ایک راہ کھل سکتی ہے۔ یا پھر، وہ چاہتے ہیں کہ کوئی بڑی سیاسی جماعت ان کی ہم نوا ہو جائے۔ یہ سینہ بہ سینہ خبریں ہیں جناب! :) پاکستان پر عالمی دباؤ تو وہ بڑھانا ہی چاہتے ہیں؛ یہ بات تو خیر سامنے کی ہے۔
 

زیک

تقریباً غائب
مسئلہ بالکل صاف اور واضح ہے۔پاکستان میں بسنے والی مسلم اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ اسلام کے نام پر کسی اور مذہب کا پرچار کیا جا رہا ہے اس لیے مسلم اور قادیانی کے مابین فرق موجود رہنا چاہیے۔ دیگر مذاہب کے معاملے میں ایسا ایشو موجود نہیں ہے۔ قادیانی خود کو مسلم تصور کرتے ہیں جب کہ مسلم اکثریت انہیں اسلام سے خارج سمجھتی ہے۔
چرچ آف کرائسٹ آف لیٹر ڈے سینٹس جسے عرف عام میں مورمن چرچ کہتے ہیں ان کے مسیحیت سے تعلق کا مطالعہ مسلمانوں کے لئے کافی مفید رہے گا۔
 

یاقوت

محفلین
یہ بتائیں۔۔۔۔ قادیانی کافر ہیں یا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
کیوں جی کوئی شک ہے آپ کو اتنی لمبی لڑی میں کیا ہم انکا دفاع کر رہے ہیں؟ہم اوپر واضح طور پر یہ بات لکھ چکے ہیں کہ امت مسلمہ کے ""تمام"" مکاتب فکر کے ہاں متفقہ طور پر قادیانی دائرہ اسلام سے خارج ہیں انکا اسلام سے کسی بھی قسم کا کوئی تعلق واسطہ نہ ہے ۔
 

فرقان احمد

محفلین
چرچ آف کرائسٹ آف لیٹر ڈے سینٹس جسے عرف عام میں مورمن چرچ کہتے ہیں ان کے مسیحیت سے تعلق کا مطالعہ مسلمانوں کے لئے کافی مفید رہے گا۔
بہتر ہو گا کہ پاسنگ اسٹیٹمنٹ کی بجائے موجودہ بحث کے ساتھ اس کی موافقت و مطابقت کے لیے کوئی نکتہ پیش کریں تاکہ ہر ایک کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ دراصل، ایک زمانہ گزرا کہ مغرب نے مذہب کی بنیاد پر جنگ و جدل سے گریز کے رویے اپنا لیے۔ یہاں ابھی ایسی صورت حال نہیں ہے۔ وہاں غالبا جوزف سمتھ سے مورمونیت کی تحریک یا مذہبی گروہ جڑا ہوا ہے اور وہاں انیسویں صدی سے اب تک مسیحت کے ساتھ اس کے تعلق کے حوالے سے علمی بحث ہوتی ہے۔ تاہم، ہمارے معاشرے میں ایسا نہیں ہے۔ یہاں علمی بحث بعد میں کی جاتی ہے اور اس سے قبل خون خرابے تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ اسی خون خرابے کے باعث ریاستی ادارے مداخلت پر مجبور ہوئے۔ مغرب میں جو کچھ ہو رہا ہے، اور جو کچھ یہاں ہو رہا ہے، اس میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ بہرصورت، آپ کے تبصرے کا شکریہ!
 

زیک

تقریباً غائب
بہتر ہو گا کہ پاسنگ اسٹیٹمنٹ کی بجائے موجودہ بحث کے ساتھ اس کی موافقت و مطابقت کے لیے کوئی نکتہ پیش کریں تاکہ ہر ایک کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ دراصل، ایک زمانہ گزرا کہ مغرب نے مذہب کی بنیاد پر جنگ و جدل سے گریز کے رویے اپنا لیے۔ یہاں ابھی ایسی صورت حال نہیں ہے۔ وہاں غالبا جوزف سمتھ سے مورمونیت کی تحریک یا مذہبی گروہ جڑا ہوا ہے اور وہاں انیسویں صدی سے اب تک مسیحت کے ساتھ اس کے تعلق کے حوالے سے علمی بحث ہوتی ہے۔ تاہم، ہمارے معاشرے میں ایسا نہیں ہے۔ یہاں علمی بحث بعد میں کی جاتی ہے اور اس سے قبل خون خرابے تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ اسی خون خرابے کے باعث ریاستی ادارے مداخلت پر مجبور ہوئے۔ مغرب میں جو کچھ ہو رہا ہے، اور جو کچھ یہاں ہو رہا ہے، اس میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ بہرصورت، آپ کے تبصرے کا شکریہ!
جوزف سمتھ کو جیل سے ایک ہجوم نے نکال کر 1844 میں قتل کیا تھا۔

نیویارک سے مڈویسٹ اور پھر وہاں سے یوٹاہ ٹیریٹری کا سفر ایل ڈی ایس کے ساتھ برے سلوک کی وجہ ہی سے تھا۔

یوٹاہ کو ریاست بنانے میں اتنی دیر کی ایک وجہ ایل ڈی ایس اور ان کی متعدد شادیوں کے خلاف تعصب بھی تھا۔ آخر ایل ڈی ایس نے ایک سے زیادہ شادیوں کو ختم کر دیا اور یوٹاہ ریاست بن گیا۔

ایل ڈی ایس چرچ کے عقائد کیتھولک یا پروٹسٹنٹ سے بہت مختلف ہیں۔ اس کے مقابلے میں سنی اور احمدی عقائد کا فرق بہت کم ہے۔ کچھ مسیحی مذہبی حلقوں میں یہ بحث آج بھی جاری ہے کہ ایل ڈی ایس مسیحی ہیں یا نہیں لیکن اکثر لوگوں کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ مذہب کی آزادی ہے اور ہر ایک اپنے مذہب کو فالو کرتا ہے یا کسی کو نہیں کرتا۔

اب امریکی سینیٹ میں ایل ڈی ایس سینیٹر ان کی آبادی کے تناسب سے زیادہ ہیں۔ لیکن اس کے کوئی اچھے یا برے نتائج نہیں آئے۔
 

جاسم محمد

محفلین
باقی رہی بات کہ وہ کسی کو قادیانی نواز ڈیکلیئر کرتے ہیں یا کہتے ہیں تو یہ سب ایسے ہی تو نہیں ہوتا اس کا ایک پورا پس منظر ہوتا ہے جسے وہ بیچارہ خود پیدا کرتا ہے اور پھر خود ہی صفائیاں دیتا پھرتا ہے۔جب ایک بات طے ہوچکی ہے تو کیا فائدہ اس کو چھیڑنے کا؟؟؟؟؟؟؟
یاد رہے کہ قادیانی ہونا یا قادیانیوں کی بطور اقلیت حمایت کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔ اس لئے کم از کم ان الزامات کی بنیاد پر سیاست کرنے کو میں جائز نہیں سمجھتا ۔
قادیانی بھی اس ملک کے آزاد شہری ہیں۔ یہ ملک انکا بھی اتنا ہی ہے جتنا دیگر پاکستانیوں کا۔
اگر کسی قادیانی کو اس کے مذہبی عقائد کی وجہ سے معاشرہ میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے (جیسے ڈاکٹر عاطف میاں کی اقتصادی مشارتی کونسل سے معزولی) تو اس کے خلاف آواز بلند کرنا ہر انصاف پسند پاکستانی کا فرض ہے۔ کجا یہ کہ اس بات پر سیاست شروع کر دی جائے کہ ایک قادیانی کو سرکاری عہدہ دیا ہی کیوں ؟
 

فرقان احمد

محفلین
یاد رہے کہ قادیانی ہونا یا قادیانیوں کی بطور اقلیت حمایت کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔ اس لئے کم از کم ان الزامات کی بنیاد پر سیاست کرنے کو میں جائز نہیں سمجھتا ۔
قادیانی بھی اس ملک کے آزاد شہری ہیں۔ یہ ملک انکا بھی اتنا ہی ہے جتنا دیگر پاکستانیوں کا۔
اگر کسی قادیانی کو اس کے مذہبی عقائد کی وجہ سے معاشرہ میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے (جیسے ڈاکٹر عاطف میاں کی اقتصادی مشارتی کونسل سے معزولی) تو اس کے خلاف آواز بلند کرنا ہر انصاف پسند پاکستانی کا فرض ہے۔ کجا یہ کہ اس بات پرواویلا کیا جائے کہ قادیانی کو سرکاری عہدہ دیا ہی کیوں ؟
ڈاکٹر عبدالسلام ہوں یا ڈاکٹر عاطف میاں، ایک دُنیا اُن کی معترف رہی، اور ان کی تعریف کا بنیادی حوالہ فزکس اور معیشت کے میدان میں اُن کی کامیابیاں رہیں۔ قادیانیت سے اُن کی کامیابی یا ناکامی کا براہ راست کوئی تعلق نہیں۔ تاہم، اتنا ضرور ہے کہ ان دونوں شخصیات نے بطور قادیانی، اپنی ایک شناخت برقرار رکھی اور اس شناخت کے حوالے سے خود بھی معروضات پیش کیں جن کا جواب دینا اُن کے ناقدین نے مناسب جانا۔ یہ ایک الگ معاملہ ہے۔ بطور ایک طبیعیات دان، ڈاکٹر عبدالسلام، اور بطور ایک معیشت دان، ڈاکٹر عاطف میاں کی صلاحیتوں سے انکار غلط رویہ ہے۔
 

جاسم محمد

محفلین
اب جب کہ آئینی اور قانونی طور پر، قادیانی گروہ کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا ہے تو وہ آئین میں رد و بدل یا اس کو ہی مکمل طور پر ختم کر دینا چاہتے ہیں۔ عام طور پر، ان کا یہ خیال ہے کہ کوئی ایسا آرمی چیف آ جائے جو قادیانیت نواز ہو کیونکہ ان کے نزدیک جمہوریے مکمل طور پر آئین کا ساتھ ہی دیں گے۔ یوں، آئین کی معطلی سے ان کے لیے ایک راہ کھل سکتی ہے۔ یا پھر، وہ چاہتے ہیں کہ کوئی بڑی سیاسی جماعت ان کی ہم نوا ہو جائے۔ یہ سینہ بہ سینہ خبریں ہیں جناب! :) پاکستان پر عالمی دباؤ تو وہ بڑھانا ہی چاہتے ہیں؛ یہ بات تو خیر سامنے کی ہے۔
یہ محض ایک بے بنیاد افواہ ہے کہ قادیانی آئین میں رد و بدل کر کے اس میں کی گئی قادیانی ترامیم کو ختم کرنے پر قادر ہیں یا ہو سکتے ہیں۔
2015 میں ایک انصافین نے قادیانیوں کے عالمی لیڈر مرزا مسرور سے اس بارہ میں سوال کیا تھا اور اس وقت اس نے عمران خان کے حوالہ سے کہا تھا کہ وہ اپنے پہلےالیکشن میں ان سے سے ووٹ مانگنے آئے تھے۔ لیکن انہوں نے ووٹ نہیں دیا کہ ان کو معلوم تھا کہ علما کرام کے موجود ہوتے ہوئے کوئی بھی سیاسی جماعت قادیانی ترامیم کا بال بیکا نہیں کر سکتی۔
اس لئے موجودہ قادیانی لیڈرشپ کوکم از کم اتنی سیاسی بصیرت آ چکی ہے کہ انہوں نے ان ترامیم کو ختم کرنے کا خواب دیکھنا چھوڑ دیا ہے۔
آپ جس بیرونی دباؤ کا ذکر کر رہے ہیں وہ قادیانیوں کے پاکستان میں بنیادی انسانی حقوق کے مسائل کی وجہ سے ڈالا جاتا ہے۔ باقی آئینی و قانونی محاذ پر قادیانی کچھ بھی تبدیل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔
 

جاسم محمد

محفلین
یہاں علمی بحث بعد میں کی جاتی ہے اور اس سے قبل خون خرابے تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ اسی خون خرابے کے باعث ریاستی ادارے مداخلت پر مجبور ہوئے۔ مغرب میں جو کچھ ہو رہا ہے، اور جو کچھ یہاں ہو رہا ہے، اس میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ بہرصورت، آپ کے تبصرے کا شکریہ!
میں تو حیران ہوں کہ ابھی تک اس دھاگے میں علمی بحث اتنے تحمل و برداشت سے کیسے جاری ہے۔ عموماً ایسے دھاگوں میں فوراً سے پہلے "مداخلت" کر دی جاتی ہے :)
کیا پاکستانیوں میں تحریک انصاف حکومت آنے کے بعد تحمل و برداشت کئی گنا بڑھ چکاہے؟ :)
 

جاسم محمد

محفلین
اس کے مقابلے میں سنی اور احمدی عقائد کا فرق بہت کم ہے۔
مسلم اور قادیانی عقیدہ میں ختم نبوت کے علاوہ اور کوئی بڑا اختلاف موجود نہیں ہے۔ البتہ دونوں شدید تکفیری رجحان رکھتے ہیں۔
مسلمان قادیانیوں کو عقیدہ ختم نبوت کے انکار پر کافر کہتے ہیں۔
جبکہ قادیانی مسلمانوں کو مرزا قادیانی کو نہ ماننے پر کافر کہتے ہیں۔
دونوں اطراف کٹرپن کا راج ہے۔
 

فرقان احمد

محفلین
یہ محض ایک بے بنیاد افواہ ہے کہ قادیانی آئین میں رد و بدل کر کے اس میں کی گئی قادیانی ترامیم کو ختم کرنے پر قادر ہیں یا ہو سکتے ہیں۔
2015 میں ایک انصافین نے قادیانیوں کے عالمی لیڈر مرزا مسرور سے اس بارہ میں سوال کیا تھا اور اس وقت اس نے عمران خان کے حوالہ سے کہا تھا کہ وہ اپنے پہلےالیکشن میں ان سے سے ووٹ مانگنے آئے تھے۔ لیکن انہوں نے ووٹ نہیں دیا کہ ان کو معلوم تھا کہ علما کرام کے موجود ہوتے ہوئے کوئی بھی سیاسی جماعت قادیانی ترامیم کا بال بیکا نہیں کر سکتی۔
اس لئے موجودہ قادیانی لیڈرشپ کوکم از کم اتنی سیاسی بصیرت آ چکی ہے کہ انہوں نے ان ترامیم کو ختم کرنے کا خواب دیکھنا چھوڑ دیا ہے۔
آپ جس بیرونی دباؤ کا ذکر کر رہے ہیں وہ قادیانیوں کے پاکستان میں بنیادی انسانی حقوق کے مسائل کی وجہ سے ڈالا جاتا ہے۔ باقی آئینی و قانونی محاذ پر قادیانی کچھ بھی تبدیل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔
قادیانی گروہ ترامیم کو ختم کرانے پر قادر ہے یا نہیں ہے، تاہم، اس کی خواہش تو ہو سکتی ہے، اور شاید ہے بھی۔ اور، اس حوالے سے، انہیں زیادہ توقع آمروں سے رہتی ہے کیونکہ اُن کے نزدیک وہ بہرصورت آئین کو معطل کرنے یا اُس کی بعض شقوں کو معطل کروانے کا اختیار رکھتے ہیں۔
 

فرقان احمد

محفلین
مسلم اور قادیانی عقیدہ میں ختم نبوت کے علاوہ اور کوئی بڑا اختلاف موجود نہیں ہے۔ البتہ دونوں شدید تکفیری رجحان رکھتے ہیں۔
مسلمان قادیانیوں کو عقیدہ ختم نبوت کے انکار پر کافر کہتے ہیں۔
جبکہ قادیانی مسلمانوں کو مرزا قادیانی کو نہ ماننے پر کافر کہتے ہیں۔
دونوں اطراف کٹرپن کا راج ہے۔
دراصل، ختم نبوت کا معاملہ نہایت کلیدی نوعیت کا ہے۔ :)
 

جاسم محمد

محفلین
قادیانی گروہ ترامیم کو ختم کرانے پر قادر ہے یا نہیں ہے، تاہم، اس کی خواہش تو ہو سکتی ہے، اور شاید ہے بھی۔ اور، اس حوالے سے، انہیں زیادہ توقع آمروں سے رہتی ہے کیونکہ اُن کے نزدیک وہ بہرصورت آئین کو معطل کرنے یا اُس کی بعض شقوں کو معطل کروانے کا اختیار رکھتے ہیں۔
قادیانیوں کی شاید یہ حسرت ہی رہے گی کہ کوئی جمہوری حکومت فوج سے لڑنے کی بجائے ان کے حق میں لڑ کر بھی گرے۔ :)
 

جاسم محمد

محفلین
دراصل، ختم نبوت کا معاملہ نہایت کلیدی نوعیت کا ہے۔ :)
اصل میں یہ شروعات قادیانیوں نے خود کی ہیں۔ مرزا قادیانی نے اپنی کتب میں جگہ جگہ لکھا ہے کہ جو اسے نہیں مانتا وہ (گالیاں دے کر) پکا کافر ہے۔
ایک ایسا نیا مذہب جس کی ابتداء ہی تکفیر اور دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کو برا بھلا کہنے سے شروع ہوئی ہو اسے کب تک برداشت کیا جاتا؟
 

فرقان احمد

محفلین
اصل میں یہ شروعات قادیانیوں نے خود کی ہیں۔ مرزا قادیانی کی کتب میں جگہ جگہ لکھا ہے کہ جو اسے نہیں مانتا وہ (گالیاں دے کر) پکا کافر ہے۔
یوں تو کوئی بھی کہتا پھرے کہ آپ مجھے نہ مانیں گے، تو کافر ہو جائیں گے۔ :) اس میں کتنی دیر لگتی ہے! :) آج کل بھی یو ٹیوب پر طوفان آیا ہوا ہے۔ ہر دوسرے تیسرے ہفتے میں اس فہرست میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ :)
 
Top