احمدیہ جماعت انتخابی عمل سے دور

نکتہ ور

محفلین
یہ 'آئینی حیثیت' کی پخ ہی سرے سے بے وقوفانہ ہے۔ آئین اور اسمبلی کے جو کام ہیں وہ تو ڈھنگ سے ہوتے نہیں ہیں، اور چلے ہیں لوگوں کے دین ایمان اور اعتقادی 'غلط روش' کا فیصلہ کرنے۔
آئینی حیثیت کی پخ یہاں سے لی گئی ہے
لیکن پاکستان کے معروضی حالات کے مطابق فی الحال تو ایسا ممکن دکھائی نہیں دیتا کہ ملک میں احمدیہ برادری کی آئینی حثیت میں کوئی تبدیلی ہوسکے۔
اب ان دونوں میں سے کون سی تحریر بے وقوفانہ ہے؟ خود ہی فیصلہ فرمائیے:unsure: ۔
یعنی آپ خود کو بھی یہ معلوم نہیں ہے کہ جو مضمون آپ نے نقل فرمایا اس میں کس چیز کو بنیاد بنا کر سارے قصے کو طولانی دی گئی ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
جناب مجھے بی بی سی کی آخری سطر سے اختلاف نہیں، کیونکہ فی الحال معروضی حالات واقعی ایسے نہیں ہیں کہ آئین سے ایسی بے وقوفیوں کو نکال کر کچرے کے ڈبے میں ہمیشہ کے لیے پھینکا جا سکے۔ یاد ہوگا لاہور میں احمدیوں پر ہوئے حملے کے بعد نواز شریف نے احمدیوں کو صرف 'بھائی' کہہ دیا تھا، جس پر لوگ پاگل ہو گئے تھے اور بس نہیں چل رہا تھا کہ نواز شریف پر بھی کفر کا فتویٰ داغ دیں۔ یہ تو ہمارا عالم ہے۔۔
البتہ اس 'آئینی حیثیت' کے بے وقوفانہ ہونے میں مجھے کوئی شک نہیں۔
 
یہ مرزائیوں کا خود کردہ گناہ ہیں ، جن کا وہ ذلت آمیز خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ ویسے مرزائیوں کی مذہبی قیادت نے اپنے اسیروں کو کنویں کا مینڈک بنا رکھا ہے۔ اور عام قادیانیوں کو آزادانہ فیصلے کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔اس معاملےمیں خود مرزائی بھی ذمہ دار ہیں۔
 
بہرحال اس طرح کسی طبقے گروپ یا فرقے کا ناطقہ بند بھی نہین کرنا چاہیے کہ وہ کٹ کر بیٹھ جائے ۔
کم از کم ایک درجن سے زائد اپنے کولیگز کو میں جانتا ہوں جنہیں ایسی کسی آئسولیشن کا معاملہ درپیش نہیں ہے بس وہ عبادت بلاناغہ کرتے ہیں جمعے کو کہیں جاتے ہیں اور باقی دنوں میں اپنے ہی آفس میں۔
میں نے محسوس کیا کہ اعلیٰ اخلاق ان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔
بس اسلام کو غلط ملط نہ کریں آخر باقی مذاہب بھی تو ہیں لیکن وطنِ عزیز میں مسئلہ ہی بنیادی ادھورے آئین کا ہے۔
کیا مجھے کوئی بتا سکتا ہے کہ غیر مسلموں کی شادیوں کی رجسٹریشن کا کیا طریقہِ کار رائج ہے وطنِ عزیز میں؟

اور اس کے علاوہ سنی سنائی کے بجائے کوئی 7700 پہ کسی قادیانی کا شناختی کارڈ نمبر ایس ایم ایس کر کے پہلے شناخت کی تصدیق کر لیں پھر 8300 پہ ایس ایم ایس کر کے ووٹ کا حلقہ دیکھ لیں پتہ چل جائے گا ان کا فہرستوں میں اندراج ہوا ہے کہ نہیں۔
 

یوسف-2

محفلین
ایک تو یہ آئین بھی موم کی ناک ہے یار آئین کافر بنا اور آئین مسلمان کر رہا ہے یہاں دنیا کے اس عجیب الخلقلت آئین جیسا اپکو کہیں اور نہیں ملے گا دنیا کے کن کن ممالک کا ائین ایسا ہے کچھ مجھے بتائیں پلیز :cool: ائین نا ہو گیا کافر فیکٹری ہو گئی
بھائی میرے! آپ کا اسلام اور کافر سے کیا لینا دینا؟ کافر بنانے کی پہلی ”فیکٹری“ احمدیوں نے ”قائم“ کی تھی کہ جو مرزا غلام احمد کو نبی نہیں مانتا، وہ کافر ہے۔ اس کے جواب میں دنیا بھر کی امت مسلمہ نے ”جوابی فیکٹری“ لگائی کہ جو مرزا کو نبی مانتا ہے اور مرزا کو نبی ماننے والوں کو مسلمان سمجھتا ہے، وہ بھی کافر ہے۔ پاکستان کے آئین نے تو یہ فیکٹری سب سے آخر میں لگائی اور وہ بھی جملہ ارکان قومی اسمبلی کے سامنے احمدی جماعت کے سربراہ سے ”پوچھ“ کر لگائی کہ کیا آپ مرزا کو نبی نہ ماننے والوں کو کافر سمجھتے ہیں؟؟؟ اور جب اس نے تصدیق کردی کہ ہاں تمام غیر احمدی کافر ہیں، تب آئین پاکستان میں تیسری فیکٹری قائم ہوئی کہ احمدی کافر ہیں۔:)
اگر آپ ایک سچے ایتھیسٹ ہیں تو ”کافر بنانے کی فیکٹریوں“ کے معاملات سے دور ہی رہیں۔ لیکن اگر حقیقتاَ احمدی ہیں اور اسلام اور مسلمانوں کو گالیاں دینے اور ہر جگہ احمدیوں کی پشت پناہی کے لئے منافقت کا لبادہ اوڑھ کر ایتھیسٹ بنے ہوئے ہیں، تو اپنا ”مشن“ جاری رکھیں۔ اسلام، کفر اور منافقت پر قائم لوگ جلد ہی اپنی اپنی حقیقت سے آگاہ ہوجائیں گے۔ بس انہیں قبر میں اترنے کی دیر ہے۔ آپ بھی انتظار کیجئے ۔ قبر ہنوز دور نیست:D
 

یوسف-2

محفلین
آٹے میں نمک کے برابر چند لاکھ نفور کا اِس ملک میں کہاں ایسا زور چل سکتا ہے کہ وہ غیر احمدیوں کو ہلکان کرنے لگیں؟ ایسی باتیں صرف مخالف کا خوف پیدا کرنے کے لیے کی جاتی ہیں، ورنہ ان میں کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔
آپ بھٹو دور کا عہد بھول گئے، جب اسی اقلیت نے ربوہ اسٹیشن پر کراچی کے طلبا کی ٹرین پر حملہ کرکے انہیں ظالمانہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ ان کے ناک کان تک کاٹ دئیے تھے، مزید تفصیلات تب کے قومی اخبارات میں پوری پاکستانی قوم نے پڑھ رکھے ہیں ، جو تب پڑھے لکھے تھے اور اخبارات پڑھا کرتے تھے :D
 

حسان خان

لائبریرین
حسان خان صاحب ذرا مسلمان ہونے کی شرائط تو بیان کریں۔

مسلمان ہونے کی شرط (میرے نزدیک): جو خود کو مسلمان کہے اور سمجھے۔

یہ بتاتا چلوں کہ میری ذاتی حیثیت میں اسلام ایک عقائد کے مجموعے یعنی مذہب کے بجائے چودہ سو سالوں پر محیط ایک عظیم تمدن کا نام ہے، اور اُسی حوالے سے میں نے مسلمان ہونے کی شرط بیان کی ہے۔ :)
 

یوسف-2

محفلین
مسلمان ہونے کی شرط (میرے نزدیک): جو خود کو مسلمان کہے اور سمجھے۔

یہ بتاتا چلوں کہ میری ذاتی حیثیت میں اسلام ایک عقائد کے مجموعے یعنی مذہب کے بجائے چودہ سو سالوں پر محیط ایک عظیم تمدن کا نام ہے، اور اُسی تناظر میں مَیں نے مسلمان ہونے کی شرط بیان کی ہے۔ :)
واؤ کیا خوب ”تعریف“ کی ہے۔ آپ کے اور آنجہانی اندرا گاندھی کے وچار کتنے ملتے جلتے ہیں :p موصوفے پوچھا گیا تھا کہ ہندو ازم کیا ہے؟ جواب دیا: جو کچھ ہندو کرے، وہ ہندو ازم ہے :grin:
 

حسان خان

لائبریرین
آپ بھٹو دور کا عہد بھول گئے، جب اسی اقلیت نے ربوہ اسٹیشن پر کراچی کے طلبا کی ٹرین پر حملہ کرکے انہیں ظالمانہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ ان کے ناک کان تک کاٹ دئیے تھے، مزید تفصیلات تب کے قومی اخبارات میں پوری پاکستانی قوم نے پڑھ رکھے ہیں ، جو تب پڑھے لکھے تھے اور اخبارات پڑھا کرتے تھے :D

یہ تو اُس وقت کی بات ہے جب میں پیدا بھی نہیں ہوا تھا، اس لیے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ البتہ میں نے اپنی زندگی کے بیس سالوں میں احمدیوں پر ہی ظلم و ستم ہوتے دیکھا ہے، نہ کہ اس کے برعکس۔ آپ خود سوچیے کہ چند لاکھ بے سہارا احمدی دوسروں پر ستم کرنے کی کیا قوت رکھتے ہیں؟ اپنی مرضی سے اپنے شہر کا نام منتخب کرنے کی قوت تو اُن میں ہے نہیں، اور اُن کے خلاف خوف ایسے پھیلایا جاتا ہے کہ خدا کی پناہ!
 

حسان خان

لائبریرین
واؤ کیا خوب ”تعریف“ کی ہے۔ آپ کے اور آنجہانی اندرا گاندھی کے وچار کتنے ملتے جلتے ہیں :p موصوفے پوچھا گیا تھا کہ ہندو ازم کیا ہے؟ جواب دیا: جو کچھ ہندو کرے، وہ ہندو ازم ہے :grin:

ہندومت بھی تکنیکی لحاظ سے مذہب کے بجائے مختلف، حتیٰ باہم متناقض فلسفیانہ فکری دھاروں پر مبنی ایک چھتری ہے جس نے ایک ہندو تمدن کو جنم دیا ہے۔ اندرا گاندھی نے کچھ غلط نہیں کہا۔ :)
 

شیزان

لائبریرین
کسی کو
بھینس کے آگے بین بجانا
یا
دیوار سے سر ٹکرانا
کا عملی مظاہرہ دیکھنا ہے؟؟؟
تو اس دھاگے میں تشریف لائیں;)
 
[ARABIC]
ما شاء اللہ کان و ما لم یشاء لم یکن ولا حول ولا قوۃ الّا باللہ
[/ARABIC]
جا اللہ نے چاہا وہ ہوا، اور جو اللہ نہیں چاہتا، نہیں ہوتا اور اللہ کے بغیر نہ کوئی تبدیلی وقوع پذیر ہوتی ہے اور نہ کوئی قوت وجود رکھتی ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
[ARABIC]
ما شاء اللہ کان و ما لم یشاء لم یکن ولا حول ولا قوۃ الّا باللہ
[/ARABIC]
جا اللہ نے چاہا وہ ہوا، اور جو اللہ نہیں چاہتا، نہیں ہوتا اور اللہ کے بغیر نہ کوئی تبدیلی وقوع پذیر ہوتی ہے اور نہ کوئی قوت وجود رکھتی ہے۔

اب یہ بھی بتا دیجئے کہ اس محل پر اس کا کیا مطلب اخذ کیا جائے؟ :)
 
جو ہوا اور جو ہورہا ہے، اللہ کی مشئیت سے ہی ہورہا ہے

[ARABIC]وَلَوْلا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَفَسَدَتِ الأَرْضُ[/ARABIC]
اور اگر اللہ کچھ لوگوں کو کچھ اور لوگوں کے ذریعے دور نہ کرے، تو وہ زمین کانظام خراب کردیں گے۔
 

حسان خان

لائبریرین
جو ہوا اور جو ہورہا ہے، اللہ کی مشئیت سے ہی ہورہا ہے

اگر اس مطلب میں یہ لوں کہ احمدیوں کی تذلیل اور اُن پر ستم بھی خدا کی مشیت کا حصہ ہے، تو کیا آپ یہ ماننے پر تیار ہوں گے کہ مسلمان دنیا کی موجودہ زبوں حالی اور مغربی دنیا کی سماجی و مادی برتری بھی خدا کی مشیت کا حصہ ہے؟ اس مسئلے میں خدا کی مشیت کا فیصلہ تو کوئی نہیں کر سکتا ، کیونکہ اسلام کی مذہبی روایات کے مطابق بھی اب خدا کی مشیت کی خبر دینے والے رسولوں کا اختتام ہو چکا ہے، لہذا اب جو دنیا میں سامنے موجود ہے، اُسی کو دیکھتے ہوئے حکم لگایا جا سکتا ہے۔ اس میں تو یہی حقیقت محسوس ہوتی ہے کہ احمدیوں پر جبر کے ہم اور ہماری ریاست ذمے دار ہے، خدا کا یا اُس کی مشیت کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

خیر، یہ وہ تاثر ہے جو آپ کے مراسلے سے میں نے لیا۔ بشر ہوں، خطا کا احتمال ہے۔ اس لیے اگر آپ کا مطلب اس سے کچھ اور تھا تو پیشگی معذرت خواہ ہوتے ہوئے آپ سے درخواست کروں گا کہ اپنا مطلب واضح کر دیجئے۔
 

باباجی

محفلین
:)
کیا زبردست بات چیت ہورہی ہے
میرے کچھ بھائی ایک ایسی چیز کا دفاع کر رہے ہیں جسے اس کے بنانے والوں اور ماننے والوں نے اپنے زعم میں خود ہی غلط ثابت کردیا
اور ان کے مقابلے پر میرے کچھ بھائی ایک عظیم الشان عقیدے کا دفاع کر رہے ہیں جسے قیامت تک زوال نہیں ہے ۔
میرے ایک نوجوان بھائی ابھی کم عمر ہیں اور کنفیوزڈ ہیں انہیں ابھی تک کوئی راہ نہیں ملی جس پر وہ چل کر اپنی منزل پر بہنچ سکیں سکون پا سکیں
وہ تو صرف اپنی آنکھوں دیکھے واقعے کو ہی سچ مانتے ہیں لہٰذا مجھے تو لگ رہا ہے کہ اسلام بھی ان کے لیئے کسی دلچسپ واقعے کی طرح ہے جو شاید کبھی پیش آیا ہو ۔ اگر ان کی آنکھوں کے سامنے وہ سب ہوتا تو شاید یہ اسلام کو مان لیتے :)
میرے بھائی ماننا سیکھیں ورنہ آپ کو بہت مشکلات پیش آسکتی ہیں کہ آپ کے پیدا ہونے سے پہلے ہونے والے واقعات کیا واقعی جو آ پ کو بتایا گیا ہے سچ ہیں یا نہیں :)
اور اگر آپ جناب رسولِ مقبول ﷺ کو آخری نبی مانتے ہیں تو یہ بھی مانتے ہوں گے احمدی غلطی پر ہیں
اگر آپ ایسا نہیں سمجھتے تو پھر آپ کا احمدیوں کی حمایت کرنا سمجھ آتا ہے ۔
آپ کو کچھ کتب کے لنکس فراہم کروں گا زپ میں ، لازمی نہیں آپ ان کتب سے اتفاق کریں لیکن اس میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ احمدیوں کی اپنی لکھی ہوئی کتب اور اخبارات سے لیا گیا ہے ۔
اب آپ یہ نہ کہیئے گا کہ احمدی لکھ پڑھ نہیں سکتے اور بیچارے بہت غریب ہیں
اسی لیئے ان کا موجودہ خلیفہ انگلینڈ میں ومبلڈن کے مہنگے ترین علاقے میں ایک چھوٹے سے عظیم الشان محل میں رہتا ہے :)
ویسے یہ دھاگہ ایک لحاظ سے اچھا ہے کہ لوگوں کو کافی معلومات حاصل ہونگی آج کل کی نوجوان نسل کس رستے پر چل پڑی ہے اس بارےمیں اور احمدیوں کے بارے میں ۔
 
اگر اس مطلب میں یہ لوں کہ احمدیوں کی تذلیل اور اُن پر ستم بھی خدا کی مشیت کا حصہ ہے، تو کیا آپ یہ ماننے پر تیار ہوں گے کہ مسلمان دنیا کی موجودہ زبوں حالی اور مغربی دنیا کی سماجی و مادی برتری بھی خدا کی مشیت کا حصہ ہے؟ اس مسئلے میں خدا کی مشیت کا فیصلہ تو کوئی نہیں کر سکتا ، کیونکہ اسلام کی مذہبی روایات کے مطابق بھی اب خدا کی مشیت کی خبر دینے والے رسولوں کا اختتام ہو چکا ہے، لہذا اب جو دنیا میں سامنے موجود ہے، اُسی کو دیکھتے ہوئے حکم لگایا جا سکتا ہے۔ اس میں تو یہی حقیقت محسوس ہوتی ہے کہ احمدیوں پر جبر کے ہم اور ہماری ریاست ذمے دار ہے، خدا کا یا اُس کی مشیت کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

خیر، یہ وہ تاثر ہے جو آپ کے مراسلے سے میں نے لیا۔ بشر ہوں، خطا کا احتمال ہے۔ اس لیے اگر آپ کا مطلب اس سے کچھ اور تھا تو پیشگی معذرت خواہ ہوتے ہوئے آپ سے درخواست کروں گا کہ اپنا مطلب واضح کر دیجئے۔
دیکھئے ایک نظامِ قضا و قدر ہے، جسکے تحت یہ کہا جاتا ہے کہ پتہ بھی اللہ کے حکم کے بغیر نہیں ہلتا۔ جو کچھ واقعات پیش آئے اور جو آئندہ پیش آئیں گے ، انکے وقوع پذیر ہونے کی نسبت اللہ ہی کی طرف کی جاتی ہے
[ARABIC]واللہ خلقکم وما تفعلون[/ARABIC]
اور اللہ ہی نے تمہیں اور جو کچھ تم کرتے ہو انکو تخلیق کیا
اس Domain میں جب دیکھیں تو جو کچھ ہورہا ہے حق ہورہا ہے۔
لیکن جب Right اور Wrong یا جائز و ناجائز کی بات آتی ہے، تو اسکا تعلق بندے سے متعلق اللہ کے امر اور نہی سے ہے۔ یعنی مشروعیت۔ یہ درست اور غلط کی تقسیم شرع کے دائرے میں ہوتی ہے جب افعال کو بندوں سے منسوب کریں۔۔
مثلاّ اللہ نے آدم کو حکم دیا کہ یہ نہ کرنا۔۔۔یہ اسکی شرع تھی اسکی رضا تھی آدم کیلئے۔
لیکن اللہ کی مشئیت تھی کہ آدم وہ کام کریں تاکہ نظامِ خیر و شر کی ابتداء ہو، چنانچہ وہی ہوا جو ہونا تھا۔۔۔۔
واللہ اعلم بالصواب
 

حسان خان

لائبریرین
میرے ایک نوجوان بھائی ابھی کم عمر ہیں اور کنفیوزڈ ہیں انہیں ابھی تک کوئی راہ نہیں ملی جس پر وہ چل کر اپنی منزل پر بہنچ سکیں سکون پا سکیں
میری عمر یا میری 'نظریاتی الجھن' کو مذاق کا نشانہ بنائے بغیر آپ موضوع پر ہی بات کریں تو اچھا ہو گا۔ میں نے ایک بات کی ہے، لازمی نہیں ہے میری کہی گئی بات میں میری ذات کو بھی نقطۂ حوالہ بنایا جائے۔

اور اگر آپ جناب رسولِ مقبول ﷺ کو آخری نبی مانتے ہیں تو یہ بھی مانتے ہوں گے احمدی غلطی پر ہیں
اگر آپ ایسا نہیں سمجھتے تو پھر آپ کا احمدیوں کی حمایت کرنا سمجھ آتا ہے ۔
کم الفاظ میں کہوں، تو میرے نزدیک لوگوں کے لیے عموماً مذہبی سچائی اور دروغ وہی ہوتا ہے جس میں وہ پیدا ہوتے ہیں۔ مذہب سچائیوں کی جانچ پڑتال کے لیے کوئی سائنسی اور معروضی معیار نہیں ہے۔ احمدی ہو سکتا ہے میرے لیے یا آپ کے لیے غلط ہوں، لیکن احمدیوں کے نزدیک وہ سچائی کے حامل ہیں، اور اُنہیں ایسا اعتقاد رکھنے کی مکمل آزادی ہے، جس کا احترام میں اپنا اخلاقی فرض سمجھتا ہوں۔

آپ کو کچھ کتب کے لنکس فراہم کروں گا زپ میں ، لازمی نہیں آپ ان کتب سے اتفاق کریں لیکن اس میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ احمدیوں کی اپنی لکھی ہوئی کتب اور اخبارات سے لیا گیا ہے ۔
آپ کی عنایت کے لیے شکریہ، لیکن رہنے دیجئے۔ مجھ اُن کتب اور حوالوں کی ضرورت نہیں ہے۔ :)

اب آپ یہ نہ کہیئے گا کہ احمدی لکھ پڑھ نہیں سکتے اور بیچارے بہت غریب ہیں
اسی لیئے ان کا موجودہ خلیفہ انگلینڈ میں ومبلڈن کے مہنگے ترین علاقے میں ایک چھوٹے سے عظیم الشان محل میں رہتا ہے :)
اُن کا خلیفہ بھلے مریخ میں بھی محل بنا لے، تو بھی اس بات کا پاکستان میں ہونے والے احمدیوں پر جبر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
دیکھئے ایک نظامِ قضا و قدر ہے، جسکے تحت یہ کہا جاتا ہے کہ پتہ بھی اللہ کے حکم کے بغیر نہیں ہلتا۔ جو کچھ واقعات پیش آئے اور جو آئندہ پیش آئیں گے ، انکے وقوع پذیر ہونے کی نسبت اللہ ہی کی طرف کی جاتی ہے
[ARABIC]واللہ خلقکم وما تفعلون[/ARABIC]
اور اللہ ہی نے تمہیں اور جو کچھ تم کرتے ہو انکو تخلیق کیا
اس Domain میں جب دیکھیں تو جو کچھ ہورہا ہے حق ہورہا ہے۔
لیکن جب Right اور Wrong یا جائز و ناجائز کی بات آتی ہے، تو اسکا تعلق بندے سے متعلق اللہ کے امر اور نہی سے ہے۔ یعنی مشروعیت۔ یہ درست اور غلط کی تقسیم شرع کے دائرے میں ہوتی ہے جب افعال کو بندوں سے منسوب کریں۔۔
مثلاّ اللہ نے آدم کو حکم دیا کہ یہ نہ کرنا۔۔۔ یہ اسکی شرع تھی اسکی رضا تھی آدم کیلئے۔
لیکن اللہ کی مشئیت تھی کہ آدم وہ کام کریں تاکہ نظامِ خیر و شر کی ابتداء ہو، چنانچہ وہی ہوا جو ہونا تھا۔۔۔ ۔
واللہ اعلم بالصواب

بھائی جان، اس توضیح کے لیے شکریہ۔ لیکن مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آیا کہ احمدیوں پر بنائے دھاگے کے محل میں اس سے میں کیا مطلب اخذ کروں۔ اسے میری کند ذہنی کہہ لیجئے :)
 
Top